نقطہ نظر

زعفرانی رنگ میں رنگتا ہندوستان

محمد اسعد فلاحی

 ملک کی حفاظت کے لیے بی جے پی کا نیا فارمولہ شروع ہو گیا ہے۔ اب ملک کی حفاظت کے لیے فوج کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ صرف ’راشٹر رکشا مہا یگیہ‘ کی جانب سے منعقد ہونے والے یگیہ اور ہوَن کنڈ ہی دشمنوں کو مار گرانے کے لیے کافی ہیں۔ یہ کسی عام آدمی نے نہیں بلکہ دیش کے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کا کمال ہے۔ انھوں نے اس رتھ یاترا کو زعفرانی جھنڈی دکھا دی ہے۔ زعفرانی جھنڈی کا سنگھ میں وہی تصور ہے جو ہمارے یہاں ہری جھنڈی کا ہے۔ یہ مہا یگیہ 18 سے 25 مارچ مغلوں کی عظیم الشان نشانی لال قلعے کے میدان میں ہوگا۔ اس مہا یگیہ کا مکمل انتظام ’شری یوگنی پیٹھم‘ کی جانب سے ہو رہا ہے۔
 
اس مہا یگیہ کے لیے ملک کے مختلف کی سرحدوں سے خصوصا، چاروں دھام، بدری ناتھ، ددوارکا دھیش، جگن ناتھ پوری اور رامیشور سے مٹی اور پانی لائے جائیں گے۔ یہ خبر آج کے ’روزنامہ خبریں اردو‘میں سروج سنگھ نے اور 14؍ فروی 2018 کے این ڈی ٹی وی کی ویب سائٹ پر پریہ درشن نے اس کو رپورٹ کیا ہے۔ پریہ درشن نے مہا یگیہ کے تعلق سے بہت سے سوالات اٹھائے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ کیا اب یگیہ اور ہَوَن سے ملک کی حفاظت ہوگی؟ آخر راج ناتھ سنگھ کے دماغ میں قومیت کا وہ کون سا نقشہ ہے جس کی حفاظت وہ یگیہ سے کرنا چاہتے ہیں؟ دھیان سے دیکھیں تو اس حکومت کے وقت ملک پر بیرونی چوٹ بھی بڑھی ہے اور اس اندرونی درار بھی. فوج کی سرجیکل اسٹرائک کو سیاسی استعمال کی کوشش نے الٹی نتائج پیدا کئے اور زخمی پاکستان کچھ زیادہ حملہ آور ہو گیا. دہلی میں بیٹھے نیتا شوخیاں بگھار رہے ہیں اور سرحد پر عام لوگ بھی مارے جا رہے ہیں اور فوجی بھی. بتایا جا رہا ہے کہ ہماری جانب سے بھی جم کر جواب دیا جا رہا ہے. لیکن فوجیوں کی شہادت پر ہونے والی یہ سیاست دونوں ممالک کے حکمرانوں کو راس آتی ہے.
 
فوجی بیش قیمتی ہوتے ہیں. وہ ملک کے لئے جان دینے کا جذبہ رکھتے ہیں، لیکن قوم پرستی کی کسی سیاسی منصوبے میں ان کو جان دینے پر مجبور کرنا ان کو بیکار کرنا ہے، ان کی شہادت پر سیاست کرنا ہے. اسی طرح ملک کے مختلف حصوں میں کہیں گؤركشا کے نام پر، کہیں لو جہاد کے نام پر، کہیں کسی اور بہانے مختلف فرقہ پرست تنظیمیں قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتی رہی ہیں.
 
حکومت سے یہ بھی پوچھنا چاہئے کہ 21 ویں صدی میں جب کہ دنیا میں یونیورسٹیوں کو بہتر بنانے کی ہوڑ مچی ہوئی ہے، ایک سے بڑھ کر ایک سائنسی تحقیقات ایجاد ہو رہی ہیں، ایسے میں پھر ہم ویدک دور کے یگیہ کیوں کر رہے ہیں؟ یہ ملک کو کس صدی میں لے جانے کی کوشش ہے؟ بی جے پی کے وزیر اور ممبر پارلیمنٹ ویدک ثقافت کا حوالہ دیتے ہیں. لیکن کیا انہوں نے یہ تاریخ پڑھی ہے کہ ویدک زمانے کی کامیابیاں کس طرح صفر ہوتی چلی گئیں؟
 
مہا یگیہ کا مقصد کیا ہے؟
 
سروج سنگھ لکھتے ہیں کہ ملک میں نہ تو اس وقت خانہ جنگی کا ماحول ہے اور نہ ہی انتخابات کا ۔ ملک میں عام انتخابات 2019 میں ہونا ہین، پھر اس مہا یگیہ کا مقصد کیا ہے؟ اس سلسلے میں مہیش گری کہتے ہینکہ آٹھ قرارداد لیے جائیں گے۔ جس کے بعد ملک اپنے آپ ہی مھفوظ ہو جائے گا۔
 
سات قرار دادیں
 
1۔ عورت کی عزت و احترام
2۔ آئین کی حفاظت
3۔ ہر زہری کو ووٹ کرنے کا حق
4۔ ماحول بچانے کا
5۔ سوچھ بھارت رکھنے کا
6۔ بد عنوانی سے نجات کا
7۔ دہشت گردی سے نجات کا
 
یہاں سوچنے والی بات یہ ہے کہ یہ ساری قوانین اس سے بہتر شکل میں ملک کے دستور میں موجود ہیں۔ تو پھر الگ سے ان کو نافذ کرنے کی ضرورت کیوں کر پیش آنے لگی؟ کیا ان ان لوگوں کا یقین دستور میں نہین یا وہ اپنا الگ دستور بنانا چاہتے ہیں۔ بہر حال بات جو بھی ہو لیکن یہ ملک کے لیے اچھا نہیں ہے۔ بظاہر جو بھی نارے لگائے جائیں اور لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لیے جو بھی میٹھی میٹھی قرادین پاس کی جائیں، لوگ جانتے ہیں کہ ان کے پیچھے کون سے عوال کر فرما ہیں اور وہ ملک کو کس راہ پر لے جانا چاہتے ہیں۔
 
ملک کی تاریخ میں شاید ایسا کبھی نہیں ہوا کہ بندوقوں اور توپوں کا مقابلہ ہون اور یگیہ سے کیا گیا ہو۔ پھر بھی مہیش گری کا دعویٰ ہے کہ بھارت۔چین جنگ کے دوران سابق وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے بھی یگیہ کروایا تھا۔ اس وقت اکیس کنڈ میں ہون ہوا تھا اور اس یگیہ کے اختتام کے فورا بعد ہی چین کی فوج سرحد چھوڑ کر بھاگ گئی تھی۔ بہر حال اس کا جواب تو تاریک داں اور کانگریس والے ہی دے سکتے ہیں کہ ایسا ہوا تھا یا نہیں؟ البتہ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس کے بعد سے چین نے بارہا ہندوستان پر حملہ کیا ہے اور خود بی جے کے دور حکومت میں ایسا ہوا ہے۔ تو اس وقت کیوں ہون کنڈ اور یگیہ کا استعمال نہیں کیا گیا؟
 
مطلب صاف ہے کہ بی جے پی نے ہمیشہ مذہب کی سیاست کی ہے۔ گؤ رکشا، لو جہاد، حتیٰ کے ملک کی فوج کو بھی اس نے سیاست کے لیے استعمال کر لیا تو اب ہون کنڈ اور یگیہ کی سیاست کیا بڑی بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بے جے پی اس وقت ملک کے ہر محاظ پر ناکام ہے۔ اور وہ اپنی اس ناکامی کو چھپانے کے لیے اسی چرح کے مذہبی ہتکنڈے استعمال کرتی رہے گی۔
 
بابری مسجد اور تاج محل کے بعد اب لال قلعے کی باری ہے۔ اب جلدی ہی سنگھ کے کسی گیان دیو کا اونٹ پٹانگ بیان آئے گا کہ لال قلعہ پہلے فلانا دیوی کا مندر تھا، جسے شاہ جہاں نے قبضہ لیا تھا اور اسے قلعے میں تبدیل کر دیا تھا۔ ۔ اور اس کے بعد آندھی طوفان کی طرح ملک کی گودی میڈیا کی بحث کا سلسلہ شروع ہوگا، جس میں ملک کے اہم مدعے بادلوں کی طرح ہواؤں میں اڑ تے نظر آئیں گے اور آپ کو صرف قلعہ قلعہ دکھائی دیکھا۔ یہی بی جے پی کا کمال ہے۔ 2019 تک بی جی پے کا یہی پلان ہے۔ آپ تاریخی مقامات کی تاریخی دستاویزات دکھاتے دکھاتے تھک جائیں گے مگر وہ نئے نئے مدعے نکال کر لانے میں نہیں تھکیں گے۔
یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد اسعد فلاحی

معاون تصنیفی اکیڈمی، مرکز جماعت اسلامی ہند

متعلقہ

Close