ملی مسائلنقطہ نظر

زنداں و سلاسل سے صداقت نہیں دبتی

جماعت اسلامی  کو حریت کا موجد قرار دیا جارہا ہے  لیکن  پھر سوال یہ ہے کہ حریت پر پابندی کیوں  نہیں لگائی گئی؟

ڈاکٹر سلیم خان

مرکزی حکومت کا مسئلہ یہ ہے کہ  وہ دعویٰ تو بہت بڑاکرتی ہے مگر خوبی یہ ہے کہ  وہ ازخود ان کے خلاف دلائل بھی  فراہم کردیتی ہے۔ اس کی تازہ مثال جماعت اسلامی ( جموں کشمیر) پر پابندی ہے۔ جماعت  اسلامی (جے اینڈ کے) پر پابندی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ سب سے پہلے ۱۹۷۵ ؁ میں اس پر دو سال کے لیے  پابندی لگی۔ یہ ایمرجنسی کا زمانہ تھا۔ اس دوران جیل میں بھیجے جانے والے آنجہانی   مرارجی دیسائی اور اٹل بہاری واجپائی آگے چل کر وزیراعظم بنے  اور  جارج  فارنانڈیس  و لال کرشن اڈوانی کو وزیر دفاع اور وزیرداخلہ کے عہدے پر فائز کیا گیا۔ ان لوگوں کو بھی اسی طرح ملک کے لیے خطرہ بتایا گیا تھا جیسے اب جماعت اسلامی (جموں کشمیر) کو بتایا جارہا ہے۔ ایمرجنسی کے خاتمہ پردیگر تنظیموں کے ساتھ یہ پابندی اٹھادی گئی۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ   اندراگاندھی نے اپنا اقتدار    بچانے کے لیے ایمرجنسی اور پابندی لگائی تھی اور اب مودی جی   بھی ان کی تقلید کررہے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اندراگاندھی نے  اپنے مقصدمیں کامیاب نہیں ہوئی تھیں اور قوی امکان ہے کہ مودی جی کا بھی وہی حشر ہوگا۔

 جماعت اسلامی (جموں کشمیر) کو ۱۹۸۰؁ میں دوسری بار تین سال کے لیے ممنوع قرار دیا گیا۔ ممنوع قرار دینے سے اگر جماعت ختم ہوگئی ہوتی تو مودی سرکارکو زحمت کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ جماعت جیسے  پہلےقائم تھی  اسی طرح قائم و دائم  رہی۔  اس پابندی کے خلاف وادی کی سبھی جماعتوں نے صدائے احتجاج بلند کی۔ میر واعظ عمر فاروق نے اسے بدترین آمریت قرار دیا۔  اس پابندی کی مذمت  حریت کے علاوہ ان  دو جماعتوں  نے بھی کی  جن کے ساتھ مل کر  بی جے پی نے جموں کشمیر کے اندر  تین سال حکومت کی  تھی۔ سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے  ٹویٹ کیا ’’جمہوریت  نظریات کی جنگ ہے۔ جماعت اسلامی (جے کے) پر پابندی لگا کر اسے معتوب کرنا قابل مذمت ہے۔ یہ  ایک سیاسی مسئلہ کو حل کرنے میں حکومت ہندکی زور زبردستی اور قوت کے استعمال  کی  مثال ہے‘۔ محبوبہ مفتی کی بات درست ہے۔ نظریات کو طاقت کے استعمال سے کچلا نہیں جاسکتا۔

’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘ کا نعرہ لگا کر اقتدار سنبھالنے والی مودی جی نے کشمیر  میں امن قائم کرنے کے کئی مواقع گنوائے۔ انہوں نے اٹل جی کا نعرہ ’کشمیریت، جمہوریت اور انسانیت‘ لگایا تو سہی نہیں لیکن اس پر مخلصانہ عمل در آمد نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اٹل بہاری واجپائی کے زمانے میں کشمیر کے حالات اتنے  نہیں بگڑے  کہ انہیں کوئی سرکار برخواست کرنی پڑی ہو یا کسی پر پابندی لگانے کی نوبت آئی ہو۔ ۲۰۱۴ ؁ کے اواخر میں  بی جے پی نے پہلی بار وادی کے اندر اپنے بہت سارے امیدوار کھڑے کیے۔ امیت شاہ کوتوقع رہی ہوگی کہ کانگریس مکت بھارت میں  اس کے رائے دہندگان بی جے پی کی جھولی میں آجائیں گے  لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بی جے پی کے سارے امیدواروں کی ضمانت ضبط ہوگئی لیکن جموں میں اسے بہت بڑی کامیابی حاصل ہوئی اور اس نے پہلی بار ۲۵ نشستیں حاصل کیں۔  مودی جی کو توقع تھی کہ مفتی محمد سعید مرکزمیں ایک آدھ وزارت کے عوض جموں کشمیر میں بی جے پی وزیراعلیٰ کے تحت اپنی  بیٹی کو نائب وزیراعلیٰ بنادیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ مفتی سعید تو دور  محبوبہ مفتی بھی اس پر راضی نہیں ہوئی۔ اس کے بعد پیوپلس کانفرنس کی مدد سے پی ڈی پی میں بغاوت برپا کرکے حکومت سازی کی کوشش کی گئی  جسے نیشنل کا نفرنس نے محبوبہ کی حمایت کرکے ناکام بنادیا۔  بالآخر  مرکزی حکومت  نے محبوبہ مفتی کی سرکار برخواست  کردی۔

بی جے پی اگر اس تگڑم بازی کے بجائے  وادی کشمیر میں اپنے حلیفوں کے ذریعہ فلاح و بہبود کا کام کرکے جماعت اسلامی (جموں کشمیر) کے حامیوں کا اعتماد حاصل کرنے کی  کوشش کرسکتی تھی۔ اس  صورت میں  جماعت اتنی کمزور ہوجاتی کہ اس پر پابندی لگانے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی لیکن وہ اس میں ناکام رہی۔ کوئی سیاسی نظریہ جب میدان عمل میں پوری طرح ناکام ہوجاتا ہے تو اس کے حاملین زور زبردستی پر اتر آتے ہیں۔ بی جے پی جب  فکری سطح پر اشترا کی دانشوروں کا مقابلہ  نہیں کرسکی تو شہری نکسلواد کی اصطلاح گھڑی گئی اور اپنے خلاف اٹھنے والی  آوازوں  کو دبانے کی خاطر حقوق انسانی کا کام کرنے والوں کو  باغی اور دہشت گردوں کا حامی قرار دے دیا گیا۔ ملک بھر میں  شہری نکسلواد کے نام پر جو غنڈہ گردی کی گئی اسی کا اعادہ جموں کشمیر میں جماعت اسلامی (جے کے) پر پابندی لگا کر کیا گیا ہے لیکن حیرت ہے اس کے خلاف ساری زبانیں گنگ ہیں ممکن ہے یہ سرحدی تناو کا اثر ہو۔

مودی جی کےاقتدار میں آنے سے  قبل یہ کہا  جارہا تھا  کہ ان کے خوف سے پاکستانی جنگجو ہندوستان کا رخ کرنے کی جرأت نہیں کریں گے اور اپنے آپ امن قائم ہوجائےگا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس کے بعد بی جے پی کے نائب وزیراعلیٰ سے جوتوقع کی گئی وہ بھی غلط ثابت ہوئی۔ نوٹ بندی کے حوالے سے کہا گیا کہ اس سے علٰحیدگی پسندوں شہ رگ کٹ جائے گی اور کشمیری مزاحمت دم توڑ دے گی مگر اڑی کا سانحہ ہوگیا۔ اس کے بعد سرجیکل اسٹرائیک کے بعد یہ سمجھ لیا گیا کہ اب سرحد پار سے کی جانے والی شورش ختم ہوجائے گی۔ پتھربازی کا جواب چھروں کی بندوق سے دے کر کشمیریوں کو ڈرانے کی کوشش کی گئی مگر پلوامہ کا حملہ ہوگیا۔ اب سرکار پر کچھ کرنے کا دباو بڑھ گیا۔ حکومت  نے پاکستان کو پسندیدہ ممالک کی فہرست سے خارج کیا۔ حریت کے رہنماوں  کا تحفظ ختم کردیا اور دوسرا سرجیکل اسٹرائیک کرڈالا لیکن پھر ابھینندن کی گرفتاری سے اس کے اثرات زائل ہوگئے۔ اب کیاکیا جائے تو جماعت اسلامی ( جے کے) پر پابندی عائد کردی گئی اور یہ خبر پھیلائی گئی کہ حزب المجاہدین کو جماعت نے جنم دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ  حزب المجاہدین تو عرصۂ دراز سرگرمِ عمل ہے لیکن حکومت کو اس بات کا انکشاف اچانک  پلوامہ کے بعد اور انتخاب سے قبل کیوں ہوا؟

جماعت اسلامی  کو حریت کا موجد قرار دیا جارہا ہے  لیکن  پھر سوال یہ ہے کہ حریت پر پابندی کیوں  نہیں لگائی گئی؟  سوال یہ   بھی ہے کہ    اگر حریت کوئی خطرناک تنظیم ہے تو جب بھی کشمیر میں گفت و شنید کے ذریعہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے  سرکاری  و غیر سرکاری نمائندے حریت سے گفتگو  کیوں کرتے ہیں ؟ اس پابندی میں ہڑبڑاہٹ کا اندازہ اس کی الٹی  ترتیب سے لگایا جا سکتا  ہے۔ کسی تنظیم پر پابندی لگانے سے قبل اس کا قصور بتایا جاتا ہے اور بعد میں گرفتاریاں ہوتی ہیں۔ مثلاً پہلے ہندو مہا سبھا کو گاندھی جی کے قتل کا ملزم ٹھہرایا گیا۔ پھر پابندی لگی اوت اس کے بعد گرفتاریاں عمل میں آئیں۔  اس بار یہ ہوا کہ ممنوع قرار دینے سے قبل گرفتاریاں عمل میں آئیں اور بعد میں مختلف ذرائع سے  ایسی وجوہات بتائی جارہی  ہیں جن میں کوئی دم نہیں ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ ٹریبونل یا عدالت میں جب اسے چیلنج کیا جائے گا تو پابندی ختم ہوجائے گی اور اگر ایسا نہیں بھی ہو تو زندہ تحریکات کے اوپر  پابندیوں کا کوئی خاص اثر نہیں ہوتا اس لیے کہ وہ انسانوں کے قلب وذہن میں بستی ہیں۔ اس کا اندازہ کانگریس کو نہیں ہوسکتا اس لیے کہ اس پر کبھی پابندی نہیں لگی لیکن سنگھ پریوار کو ہونا چاہیے اس لیے اس کو دو مرتبہ  ممنوع قرار دیا جاچکا ہے۔ ترکی  میں برسوں کی پابندی اسلام  پسندوں کے اثرات زائل نہیں کرسکی  ۔    ویسے بقول  شاعر؎

اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے

جتنا بھی دباوگے اتنا ہی یہ پھیلے گا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close