نقطہ نظرہندوستان

سنگھ پریوار کی دعوتِ افطار!

عبدالعزیز

  آر ایس ایس کی دو سو سے زائد ذیلی تنظیمیں ہیں جو جارحیت اور بربریت کی علمبردار ہیں ۔ ان میں سے ایک ’مسلم راشٹریہ منچ‘ ہے جو آر ایس ایس کے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے مسلمانوں کو لبھانے اور رام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس میں مسلمان نما کچھ لوگ بھی کار کرتا (رضاکار) ہیں جو آر ایس ایس، بی جے پی کی ہر پالیسی اور پروگرام کا گن گاتے ہیں اور سنگھ پریوار کی تمام تنظیموں کو غیر فرقہ وارانہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ خواہ بابری مسجد کا انہدام ہو یا 2002ء میں مسلمانوں کا گجرات میں قتل عام ہو۔ آج کے حالات میں ذبیحہ گائے ہو یا جانوروں کی خریدو فروخت کی پابندی ہو یا جو لوگ گائے یا گوشت کے نام پر ذبح کر دیئے جاتے ہیں ، سب کو جائز اور صحیح قرار دیتے ہیں اور بار بار کہتے ہیں کہ ہندستان میں رہنا ہے تو ہندو سنسکرتی کو سویکار کرنا (ماننا) ہوگا۔ شہنواز و نقوی تو یہاں تک کہتے ہیں کہ جس کو گائے کا گوشت کھانا ہو عرب چلا جائے یا پاکستان۔

 آر ایس ایس کے راشٹریہ منچ کے ساتھ ’’مسلم‘‘ کا لفظ بھی چپکا ہوا ہے۔ یہ ایسے جیسے قاتل، غنڈے، بدمعاش، دہشت گرد ، شراب وغیرہ کے ساتھ لفظ مسلم لگا دیا جائے اور یہ کہا جائے کہ مسلم قاتل، مسلم غنڈہ، مسلم بدمعاش، مسلم دہشت گرد، مسلم شرابی۔ دشمن ہو یا دوست اس کی دعوت قبول کرنے میں اسلام کے نزدیک کوئی رکاوٹ یا ممانعت نہیں ہے۔ صرف حرام اور حلال کی قید ہے۔ دشمن بھی نیک نیتی کے ساتھ دعوت دے تو اسے قبول کرنا چاہئے۔ راشٹریہ منچ کے کنوینر نامہ نگاروں کو4جون کی دعوت افطار کا مقصد بتاتے ہوئے بہت اچھی اچھی باتیں کہیں ۔ انھوں نے فرمایا کہ نفرت، کدورت، دشمنی اور عداوت کسی دو فرقوں یا کئی فرقوں میں رہنے سے ملک کی ترقی اور فلاح نہیں ہوسکتی۔ باہمی رنجش، خلفشار، انتشار سے ملک کا ماحول بھی خراب ہوتا ہے اور ملک بدنام بھی ہوتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ کدورتوں اور نفرتوں کو ختم کردیا جائے اور خلفشار و انتشار کو کسی طرح بھی بڑھاوا نہ دیا جائے۔

 معاملہ یہ ہے کہ وعظ و نصیحت (Sermon) تو بہت اچھی ہے مگر جو آر ایس ایس اور بی جے پی کا ایجنڈا ہے کہ یہ کھاؤ، یہ نہ کھاؤ، یہ پہنو اور یہ نہ پہنو، اس کلچر اور قانون پر چلو اور دوسرے کلچر اور قانون اور قاعدہ کو چھوڑ دو ۔ مودی اور یوگی کی پالیسیوں سےOrganised Sector  اور Unorganised Sector پچیس تیس لاکھ سے زیادہ مسلمان بے روزگاری اور بیکاری کے شکار ہیں ۔ کیا راشٹریہ منچ ایسے لوگوں کو روزہ افطار کرانا چاہتی ہے جو نفسی نفسی کے شکار ہیں ؟ معلوم ہے کہ غریب اور کمزور مسلمانوں کا نام منچ کی فہرست میں نہیں ہے۔ مسلم ملکوں کے سفیروں کا نام ہے۔ الیاسی اور وحیدالدین خان جیسے سنگھ پریوار کے بھگتوں کا نام ہے۔ ایسے اور بھی الیاسی اور خان ہوں گے جو رواداری اور محبت اور بھائی چارہ کے نام پر جائیں گے اور مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والوں کے ساتھ بیٹھ کر روزہ کھولیں گے تاکہ ان کو سند مل جائے کہ مسلمان سنگھ پریوار کے کالے یا سیاہ کرتوتوں سے ناراض نہیں ہیں ۔ مشہور شاعر راحت اندوری نے سچ کہا ہے  ؎

سیاست میں رواداری ضروری ہے

روزہ نہیں تو افطاری ضروری ہے

 بے روزہ داروں کی افطاری میں کچھ روزہ دار بھی چلے جاتے ہیں ۔ اگر ایسے غیر مسلم بے روزہ دار جو اپنے یہاں افطار پارٹی کرتے ہیں اور ان کا مقصد صرف روزہ افطار کرانا نہیں ہوتا بلکہ وہ روزہ کی حقیقت اور اسلام کی حقانیت کو سمجھنا چاہتے ہیں اور ہندو مسلمان کے اندر جو غلط فہمیاں ہیں ان کا ازالہ بھی مطلوب ہوتا ہے۔ دو فرقوں کے درمیان خلیج کو پاٹنے کی بھی نیت ہوتی ہے تومیرے خیال سے ایسے لوگوں کی دعوت افطار داعی کی حیثیت سے قبول کرنا چاہئے۔ ایسے لوگ اگر افطار کی دعوت دیتے ہیں تو ایسے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینا چاہئے۔ یہ ایک اچھا اور سنہرا موقع ہوتا ہے۔ بہت سے غیر مسلم بھائی روزہ، رمضان اور اسلام کی دیگر باتیں بھی سمجھنا چاہتے ہیں ۔ طلاق اور تین طلاق جیسے مسائل سے بھی واقف ہونا چاہتے ہیں ۔ ایسی دعوت میں دعوتِ اسلام دینے کی نیت سے جانا چاہئے۔

مسلم راشٹریہ منچ میں تو یقینا اچھی باتیں ہوں گی مگر ان اچھی باتوں سے جو خوف و ہراس کا ماحول ہر روز پیدا کیا جارہا ہے کم نہ ہوگا۔ ممکن ہے کہ اس میں موہن بھگوت بھی آئیں جو مسلمانوں کو گھر واپسی کی دعوت دیتے ہیں ۔ کہا جارہا ہے کہ نریندر مودی بھی آسکتے ہیں جبکہ وہ افطار کی پارٹیوں کا بائیکاٹ کرچکے ہیں ۔ گزشتہ سال صدارتی بھون کی افطار پارٹی سے بھی وہ دور رہے۔ مسلمانوں کی کسی نشانی اور علامت سے انھیں گریز اور نفرت ہے۔ ان کا آنا شاید مشکل ہے۔ ہاں وہ عرب امارات یا سعودی عرب میں شاہوں اور شیخوں کو خوش کرنے کیلئے مسجد تک کو دیکھنے چلے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ مل بیٹھ کر کھاتے ہیں ۔ افغانستان سے لاہور نواز شریف کے ساتھ ناشتہ کھانے بھی چلے گئے تھے… مگر یہ سب ہندستان کے باہر۔ یہاں مسلمانوں کے کسی باوقار ادارہ یا جماعت کے دفتر میں قدم رکھنا پسند نہیں کرتے۔

ہمارے استاد محترم اعزاز افضل صاحب نے بڑے پتے کی بات کہی ہے  ؎

کچھ دیے رات کو رہزن بھی جلا دیتے ہیں

ایسے بے سمت اجالوں کو نظر میں رکھئے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close