نقطہ نظر

سوشلزم – ایک مطالعہ

 سراج احمد برکت اللہ فلاحیؔ

        Socialism (اشتراکیت)ردعمل کے طور پر وجود میں آئی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی بے اعتدالی اور ظلم وزیادتی کے نتیجہ میں پیدا شدہ عوامی اضطراب نے بیسویں صدی آتے آتے یکبارگی انقلاب کی شکل اختیار کرلی، تو اشتراکیت کا وجود ہوا۔ البتہ اس کی آواز بہت پہلے اٹھائی جاچکی تھی۔

        دوراول کی پالیسیوں کی تنسیخ وترمیم، بنیادی اور لازمی اصولوں سے انحراف، خوش نما وعدوں کی عدم تکمیل، فکری ونظری تضادات، عوامی بے چینی، اصول فطرت کی مخالفت اور اس کے برے نتائج، اشتراکی رہ نماؤوں کا اپنے نظام اور اپنی ریاست سے بے وفائی اور متعدد چوٹی کے ذمہ داروں کا قتل وغیرہ ایسے امور ہیں جنہوں نے اشتراکیت کو آخر کار اصولی طور پر ناکام کردیا اور اس کے فروغ کی کوئی سبیل باقی نہ رہی۔ سوویت یونین کے زوال کے بعد اس کی سیاسی طاقت بھی جاتی رہی لیکن ایک معاشی نظریہ کے اعتبار سے دنیا کے معاشی نظریات میں اب بھی خاصی اہمیت کا حامل ہے اور رائج معاشی نظام میں سرمایہ داری کے بعد اشتراکیت ہی ہے۔ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مغرب کے بعض علاقے ہی نہیں مشرق وسطی کے بہت سے ممالک میں بھی اشتراکیت کا عمل دخل کچھ نہ کچھ ضرور ہے۔ خصوصاً جمہوری ممالک اس کے اثرات سے محفوظ نہیں کہے جاسکتے  اور رائج معاشی نظام میں سرمایہ داری کے بعد اشتراکیت ہی ہے۔

        کہاجاتا ہے کہ اسلام کی صداقت، اہمیت اور خصوصاً اس کا امتیازی مقام اس وقت تک نہیں سمجھاجاسکتا ہے جب تک کہ چودہ صدیوں قبل کی اس تاریکی کو نہ سمجھ لیا جائے جس میں اسلام کی روشنی آنے سے پہلے انسانیت بھٹک رہی تھی۔ غرض کہ دین قیم کو جاننے کے لیے ادیانِ باطلہ کا جاننا بھی ضروری ہے۔ نیز اضداد کے مطالعہ سے مثبت اشیاء کے علم میں اضافہ ہوتا ہے، بلکہ کسی مثبت چیز کے حقائق کو مکمل اور صحیح طور سے جاننے کے لیے اس کے اضداد کا علم ہونا لازمی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں صرف توحید کے بیان پر بس نہیں کیا گیا بلکہ شرک کے مظاہر اور اس کی قباحتوں کو جگہ جگہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

        ان حقائق کی روشنی میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ دینی علوم حاصل کرنے والے مدارس کے طلبہ کو سوشلزم کا کم ازکم ہلکا تعارف اور اس کی مختصر تاریخ کا علم ہونا ضروری ہے۔ جدید جاہلیتوں اور ان کی قباحتوں ومضمرات سے واقفیت ہو تو اسلام کی حقانیت اور زیادہ کھل کر سامنے آتی ہے اور اطمینان قلب اور شکرورجا کاجذبہ پیدا ہوتا ہے۔ زیر نظر تھریر فی الواقع حاصل مطالعہ ہے۔ اس میں سوشلزم کا عمومی مطالعہ اور اس کی مبادیات کو اختصار سے بیان کیا گیا ہے۔ ( تفصیل کے لیے اس موضوع پر لکھی گئی کتابوں کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ جیسے سوشلزم یا اسلام : پروفیسر خورشید احمد، اسلام یا سوشلزم : وحید الدین خان، اسلام یا سوشلزم : ڈاکٹر سید اسعد گیلانی، چراغ راہ سوشلزم نمبرکراچی 1967ء، اسلام اور جدید معیشت وتجارت: جسٹس محمد تقی عثمانی، اسلام اور جدید معاشی نظریات؛ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، سود : مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، اسلام اور جدید مادی افکار؛ محمد قطب مصریؒ، سوشلزم : فریڈرک اینگلو، اجرتی محنت اور سرمایہ : کارل مارکس)

        دنیا میں اس وقت جو معاشی نظریات رائج ہیں، ان میں دو نمایاں ہیں : ایک سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) جس کو عربی میں ’’ الرأسمالیۃ ‘‘کہتے ہیں۔ دوسرا اشتراکی نظام (Socialism) جس کو عربی میں ’’الاشتراکیۃ‘‘ کہتے ہیں اور اس کی انتہائی سورت اشتمالیت (Communism) ہے جسے عربی میں ’’الشیوعیۃ ‘‘ کہا جاتا ہے۔ دنیا میں جو کچھ کاروبار، تجارت یامعاملات ہورہے ہیں وہ انہی دو نظاموں کے ماتحت ہورہے ہیں۔ اس لیے بھی سوشلزم کو سمجھنا اور جاننا ضروری ہے۔

تعریف:

        سوشلزم کی تعریف اس طرح کی گئی ہے: ایسا نظام جس میں مالک اور مزدور کو سیاسی اور اقتصادی حقوق یکساں میسر ہیں، سماج ہی سبھی ذرائع، جائداد اور منافع کا مالک ہوتا ہے۔ یہ کسی ایک آدمی کی ملکیت نہیں ہوتی، معمولی معاشی اصلاحات، مختلف النوع معاشی وسیاسی خیالات اور تمام وسائل دولت، ذرائع پیداوار اور اشیاء صرف کو بجبر ریاست کی تحویل میں لے لینا وغیرہ کو اس کے مفہوم میں شامل سمجھاجاتا ہے۔ البتہ اس کی تعریف کی تعیین میں بڑا اختلاف ہے۔ سوشلزم کی آج تک کوئی ایسی واضح اور متعین تعریف نہیں کی جاسکی ہے جسے تمام اشتراکی مفکرین اور اس کے علم بردار رہنماؤوں نے بالاتفاق تسلیم کرلیا ہو۔ اس کے بنیادی اصولوں میں ہمیں استقرار دکھائی نہیں دیتا ہے۔ ہر نئے آنے والے مفکر اور رہنما نے نئے انداز میں سوشلزم کا تعارف کرایا ہے۔ کسی نے کوئی اصول اس کے مفہوم سے خارج کردیا تو کسی نے ایک نئی چیز کو اصولی حیثیت دے دی۔ غرض سوشلزم کے ساتھ خود اس کے حامیوں نے بڑا ستم ڈھایا ہے۔ پروفیسر جوڈ (Joad)کے الفاظ میں ’’سوشلزم اس ٹوپی کی مانند ہے جو اپنی شکل وصورت کھوچکی ہے اور یہ اس لیے کہ ہر کوئی اسے اپنے سر پر منڈھنے میں مصروف ہے۔ ‘‘ (سوشلزم یا اسلام: پروفیسر خورشید احمد، مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی۔ 1982ء ص :18)

        سوشلزم کو بالکل سادہ الفاظ میں یوں سمجھ سکتے ہیں کہ ’’ اس کی بنیاد اس نظریہ پر ہے کہ تمام وسائل ثروت سوسائٹی کے درمیان مشترک ہیں۔ اس لیے افراد کو فرداً فرداً ان پر مالکانہ قبضہ کرنے اور اپنے حسب منشاء ان میں تصرف کرنے اور ان کے منافع سے تنہا متمع ہونے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اشخاص کو جو کچھ ملے گا وہ محض ان خدمات کا معاوضہ ہوگا جو سوسائٹی کے مشترک مفاد کے لیے وہ انجام دیں گے۔ سوسائٹی ان کے لیے ضروریات زندگی فراہم کرے گی اور وہ اس کے بدلہ میں کام کریں گے۔ (سود، سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی۔ اکتوبر 1994ء ص 15)

        سرمایہ داری کے عہد میں ظلم وزیادتی کے خلاف اجتماعی مفاد، قومی مفاد، اور قوم وملک کی ترقی کی آواز اٹھی اور دھیرے دھیرے سماج اور ریاست کو مرکزی اہمیت دینے کا تصور ورنما ہوا اور افراد کو اجتماعی وقومی مفاد کا پابند بنادیا گیا۔ یہ آواز تیز ہوتی گئی اور بالآخر ایک مکمل تحریک کے وجود پر جاکر منتج ہوئی۔ چوں کہ اس کے افراد سرمایہ داری کی بنیاد ’ بے قید انفرادی ملکیت اور آزاد کاروبار‘کو ختم کرنا چاہتے تھے اور فرد کی جگہ اجتماع کے مفاد کو اصل اہنما اور مرکز توجہ بنانا چاہتے تھے۔ اس لیے اس نئی فکر کو سوشلزم کا نام دیا گیا۔ البتہ سوشلزم صرف ایک نظام فکر اور اجتماعی نظریہ ہی نہیں بلکہ ایک عملی اجتماعی تحریک اور ایک نظام مملکت بھی ہے۔

پس منظر:

        سوشلزم کو ٹھیک سے سمجھنے کے لیے اس کے پس منظر کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ سوشلزم کے پس منظر کا بیان مغربی تہذیب وتمدن کے پس منظر کا ذکر کیے بغیر ناکمل رہے گا۔ اس لیے یہاں اس پر تھوڑی سی روشنی ڈالی جارہی ہے۔

        مغرب کی نئی زندگی کا اغاز اس فکری اور ذہنی رو سے ہوا جسے نشأۃ ثانیہ کہتے ہیں اور جو عبارت تھی قرون وسطیٰ کے مذہبی جبروتشدد کے نظام کے خلاف بغاوت سے۔ سب سے پہلے فکری میدان میں آزادی اورحریت پسندی رونما ہوئی۔ جس کا سب سے نمایاں مظہر پرانے ادب کا احیاء تھا۔ یہ تہذیب دراصل یوروپ کے مذہبی دور کے مقابلہ میں اس سے قبل کی دنیا سے ذہنی وابستگی کی علامت تھی۔ پرانی دیو مالاؤں اور یونانی ورومی اصنامی ادب سے رجوع کیا گیا۔ جو آگے چل کر فکرو ذہن کے ہر میدان میں مذہب کی دی ہوئی اقدار سے انحراف اور ان کے خلاف متشددانہ بغاوت کی روش اختیار کرگئی۔

        پھر یہ لبرزم فلسفہ کے میدان میں رونما ہوا اور الہامی ہدایات سے بے نیاز ہوکر محض عقل کے سہارے سفر حیات طے کرنے کا دعویٰ پیش کیا گیا۔ عقلیت اور انسان پرستی کی تحریکات اسی رجحان کی علم بردار تھیں۔ اس کے بعد اس کا اظہار اخلاق ومعاشرت کے دائرے میں ہوا اور روایتی اخلاق کے مقابلہ میں ایک قسم کی بے قیدی، آزادی پسندی اور بے راہ روی کی کیفیت رونما ہوئی۔ پھر اس جدید حریت پسندی کا اظہار خود مذہب کے دائرے میں ہوا اور اس نے تحریک اصلاح مذہب کو جنم دیا۔ بحیثیت مجموعی جو نیا نقطہٗ نظر ابھرا اس میں آخرت کو اساس بنانے کے بجائے صرف اس دنیا کے سود وزیاں کو بنیاد بنانے کا رویہ تھا۔ نئی اقدار کا محور ومرکز صرف اور صرف جلب دنیا، حصول منفعت اور لذت پسندی اور مادہ پرستی قرار پائی۔

        اس کے اظہار کا اگلا میدان سیاست تھی۔ یہاں اس نے انفرادیت کا روپ دھار لیا۔ بادشاہت اور استبدادی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا گیا۔ فرد کے حقو ق کے لیے لڑائی لڑی گئی اور بالآخر عوام کی حاکمیت کی بنیاد پر لادینی جمہوری نظام قائم کیا گیا۔ سیاست ہی کا ایک اور پہلو ہمہ گیر بین الاقوامی ریاست تھی۔ اس کے خلاف بھی تحریک رو نما ہوئی اور بین الاقوامیت کی جگہ قومیت کا محدود جغرافیائی تصور رونما ہوا۔ بالآخر معیشت کے دائرے میں اس نئی رو کا اظہار ہوا اور صنعتی انقلاب کے سہارے جدید سرمایہ داری رونما ہوئی جس میں فرد کو معاشی سعی وجہد کی بے قید آزادی دی گئی، سرمایہ کو اصل فیصلہ کن قوت بنادیا گیا اور ذاتی نفع کا حصول معیشت کی رہنما طاقت بنا۔ حکومت کی مداخلت کو محدودتر کردیا گیا۔ اس کے نتیجہ میں شدید قسم کی معاشی انفرادیت رونما ہوئی۔ سائنس اورٹیکنالوجی کی تمام قوتیں انفرادیت پسند تہذیب کو پروان چڑھانے کے لیے استعمال ہوئیں۔

        لبرزم کی اس تحریک نے جہاں مذہبی اور سیاسی استبداد سے پیدا ہونے والی بہت سی خرابیوں کو دور کیا اور نئی تحقیقی قوتوں کو جنم دیا۔ وہیں اس نے متعدد نئے مسائل اور پیچیدگیاں بھی پیدا کردیں۔ نیا انسان اخلاق، مذہب، قانون اور رواج کے تمام بندھنوں کو توڑ کر بالکل مادر پدر آزادی کے تباہ کن راستہ پر لگ گیا اور ظلم واستحصال کا ایک نیا اور خراب تر دور شروع ہوگیا۔ معیشت کے میدان میں یہ بگاڑ سب سے زیادہ شدید تھا۔

        اس کے خلاف جو ہمہ گیر ردعمل رونما ہوا، اس میں انفرادیت پسندی کی جگہ اجتماع پرستی نے لے لی۔ مغربی تہذیب کی باقی تمام بنیادوں کو توجوں کا توں محفوظ رکھا گیا البتہ فرد کو اجتماعی مفاد کا پابند بنانے کی شکلیں تجویز ہونے لگیں۔ فرد کی جگہ سماج کو مرکزی اہمیت دینے کا تصور رونما ہوا۔ اس کا اپنی انتہائی شکل میں اظہار سوشلزم کی تحریک میں ہوا۔

        سوشلزم مغربی تہذیب کی اساس یعنی عقلیت، لامذہبیت اور مادیت سے ابھرا اور اس کی کچھ بے اعتدالیوں جیسے قومیت، انفرادیت اور سرمایہ داری کی ذریعہ تصحیح وتکمیل کی کوشش میں مصروف ہوگیا۔ (سوشلزم یا اسلام : پروفیسر خورشید احمد، مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی۔ 1982ء ص 20تا23)

        مختصر یہ کہ سرمایہ داری کی بے اعتدالیوں، اس کے ظلم واستحصال اور خصوصاً مزدور طبقہ کے ساتھ ناروا سلوک کو لے کر انیسویں صدی شروع ہونے سے کچھ پہلے مخالفت کی اِک ہوا چلی۔ بیسویں صدی میں مخالفت کی یہ لہر بہت تیز ہوگئی۔ اب اس کے ساتھ اس احساس نے بھی جنم لیا کہ معاشی زندگی میں بنیادی تبدیلیاں کی جائیں۔ اسی احساس نے جب میدان عمل میں قدم رکھا تو سوشلزم کا وجود ہوا۔

سوشلزم کے بنیادی اصول :

        سوشلزم کے بنیادی اصول 4؍ ہیں۔

1۔ اجتماعی ملکیت (Collective Property)

         سوشلزم کا اصول ہے کہ ذرائع پیداوار جیسے زمین، مشین، آلات، کارخانے اور ایسی تمام چیزیں جن سے دولت کی پیداوار ہوتی ہے سب سماج اور اجتماع کی مشترک ملکیت ہیں         ۔ فرد کو ذرائع پیداوار کی ملکیت کا حق نہیں ہے اور نہ وہ ان پر مالکانہ تصرف کرسکتا ہے۔ ہاں پہننے کے کپڑے، استعمال کے برتن، گھر اور اس طرح کی دوسری ضروری چیزیں انفرادی ملکیت میں رہیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔

        تمام ذرائع پیداوار قومی ملکیت بنادیے جائیں گے اور قومی اداروں کے تحت ان کا نظام چلے گا، جن میں قوم کے جملہ افراد بحیثیت کارکن کام کریں گے۔ انہی میں ان قومی اداروں کے منافع تقسیم ہوں گے اور انہی کارکنوں کے ووٹوں سے وہ منتظمین منتخب ہوں گے جو ساری معیشت کا نظام سنبھالیں گے۔ پوری آبادی کو کام کرنے والا طبقہ بنادیا جائے گا۔ ازروئے قانون اجرت پر کام کروانے پر پابندی ہوگی۔ پھر کچھ ہی سالوں میں نتیجہ یہ ہوگا کہ حکومت اور جبر کے بغیر زندگی کے سارے شعبے باہمی رضامندی، مشاورت اور تعاون سے چلتے رہیں گے۔ سوشلزم کا یہی وہ اصول ہے جسے مارکس نے پیش کیا تھا۔

2۔  منصوبہ بندی (Planning)

        اس اصول کا مطلب یہ ہے کہ جملہ بنیادی معاشی فیصلے حکومت کی منصوبہ بندی کے تحت طے پاتے ہیں۔ تمام معاشی ضروریات اور معاشی وسائل کے اعدادوشمار جمع کیے جاتے ہیں اور یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کون سے وسائل کس چیز کی پیداوار میں لگائے جائیں ؟ اور کون سی چیز کس مقدار میں پیداکی جائے؟ وغیرہ

        منصوبہ بندی کا یہ اصول سوشلزم نے پیش کیا ہے لیکن آج کی پوری معاشی دنیا بشمول سرمایہ دارانہ نظام میں یہ اصول رائج اور عام ہوچکا ہے اور تقریبا تمام ممالک میں معیشت حکومت کے زیرانتظام آچکی ہے یا بتدریج لائی جارہی ہے۔

3۔ اجتماعی مفاد(Collective Interest)

        یہ سوشلزم کا تیسرا اصول ہے۔ اشتراکی نظام معیشت میں ساری معاشی سرگرمیاں باقاعدہ طور پر منصوبہ بندی کے تحت اجتماعی مفاد کو پیش نظر رکھ کر انجام دی جاتی ہیں۔ اجرت کی تعیین، تنخواہ اور پیداوار کا تناسب ہر جگہ اجتماعی مفاد کو مقدم رکھا جاتا ہے۔

4۔ آمدنی کی منصفانہ تقسیم (Equitable distribution of Incom)

        سوشلزم کا اصول ہے کہ پیداوار سے جو کچھ آمدنی حاصل ہو وہ افراد کے درمیان منصفانہ طور پر اس طرح تقسیم کی جائے گی کہ غریب وامیر میں فاصلے نہ ہوں، آمدنیوں میں توازن ہو، اگر مکمل مساوات نہ ہوسکے تو کم ازکم تنخواہوں اور اجرتوں کے درمیان تفاوت بہت زیادہ نہ ہونے پائے۔ (اسلام اور جدید معیشت وتجارت، مولانا تقی عثمانی )

سوشلزم اور کمیونزم میں فرق:

        سوشلزم کی مزید وضاحت کے لیے سوشلزم اور کمیونزم دونوں کا فرق بیان کیا جارہا ہے۔ یہ بات پیچھے گزچکی ہے کہ کمیونزم دراصل سوشلزم ہی کی انتہائی اور آخری شکل ہے۔ بنیادی مقصد اور اساسی افکاروخیالات میں اتفاق پایا جاتا ہے اور بسااوقات دونوں ایک دوسرے کی جگہ استعمال بھی ہوتے ہیں۔ پال ہیولے سی لکھتا ہے :’’ سوشلزم اور کمیونزم کی اصطلاحات اپنے معاشی معنی میں تقریباً ہم معنی ہیں۔ اس لیے کہ دونوں نظاموں کا جن کا فرق کیفیت کا نہیں کمیت کا ہے، آخری مقصد انفرادی ملکیت کی جگہ قومی ملکیت اور آزاد کاروبار کی جگہ سرکاری منصوبہ بندی ہے۔ ‘‘ (سوشلزم یا اسلام : پروفیسرخورشید احمد، مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی۔ 1982ء ص52)

        البتہ جب ہم باریکی سے ان کا جائزہ لیتے ہیں تو بعض امور میں ان کے درمیان فرق دکھائی دیتا ہے۔ تقریبِ فہم کی خاطر انھیں سطور ذیل میں درج کیا جارہا ہے:

        1۔ سوشلزم کے مقابلہ میں کمیونزم نسبتاً قدیم اصطلاح ہے کیوں کہ پرانے لٹریچر میں یہ لفظ ملتا ہے جب کہ سوشلزم کا استعمال انیسویں صدی کے شروع میں ہوا ہے۔

        2۔ ایک اہم فرق مطلوبہ مقاصد کے حصول کے لیے دونوں کے مجوزہ طریقۂ کار میں ہے۔ سوشلزم کا کہنا ہے کہ اجتماعی ملکیت قائم کرنے کے لیے جمہوری طریقے اپنائے جائیں گے، رائے عامہ ہموار کرکے سیاسی اقتدار پر قبضہ کیا جائے گا اور قانون سازی کے ذریعہ بتدریج جائیدادوں، صنعتوں اور تجارتوں کو بعض حالات میں بلا معاوضہ اور بعض حالات میں معاوضہ ادا کرکے اجتماعی ملکیت بنالیا جائے گا۔ اندرا گاندھی نے اسی طریقۂ کار سے معاشی اصلاحات کرنے کی کوشش کی تھی۔

        کمیونزم کا طریقۂ کار انقلابی اور جبری ہے۔ اس کا خیال ہے کہ جمہوری طریقوں سے یہ تغیر نہیں ہوسکتا۔ نادار اور محنت پیشہ طبقہ کو لے کر ملکیت رکھنے والے طبقوں سے جنگ کی جائے گی اور ان کی ڈکٹیٹر شپ ختم کی جائے گی، جائیداد وغیرہ زبردستی چھین لی جائے گی اور جو بھی مزاحمت کرے گا اسے موت کے گھاٹ ارات دیا جائے گا۔ سارے طبقات ختم کرکے سب کو ایک ہی طبقہ یعنی اپنے ہاتھ سے کام کرکے روٹی کمانے والا طبقہ بنادیا جائے گا۔ پھر جب انقلاب مکمل ہوجائے گا تو حکومت اور جبر کے بغیر سارے شعبے باہمی رضامندی اور مشاورت سے چلتے رہیں گے۔ ہندوستان میں Nexlite Group اور نیپال کے ماؤنواز اسی طریقۂ کار کے حامی ہیں۔

        3۔ سوشلزم کے مجوزہ طریقۂ کار سے آج تک کہیں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور نہ اس نے ابھی تک اپنا کوئی نمونہ پیش کیا ہے، البتہ کمیونزم کے کے مجوزہ طریقۂ کار سے آنے والا روس کا سرخ انقلاب دنیا نے دیکھا۔ اہل روس نے کمیونزم کی اصطلاح اختیار کی تھی لیکن روس کا دستور روس کو ایک سوشلسٹ ریاست ہی کہتا ہے۔

        4۔ سوشلزم کے پیشِ نظر اشیائے صرف میں اجتماعی ملکیت نہیں ہے اور نہ یہ ریاستی ادارہ کے بالکل فنا ہوجانے کا قائل ہے جب کہ کمیونزم اپنی انتہائی شکل میں اس کا بھی دعویٰ کرتا ہے کہ جب انقلاب مکمل ہوجائے گا توبلا کسی حکومتی ادارہ یا جبر کے عوام اپنی پسند اور مشاورت سے تمام معاشی سرگرمیاں انجام دیں گے۔

        5۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سوشلزم اولین اور عبوری دور ہے اور کمیونزم اس کا آخری اور تکمیلی دور، ورنہ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ اسی لیے سوشلزم میں قومی ملکیت کے نفاذ کے باوجود ریاست باقی رہتی ہے اور کمیونزم میں بتدریج غیر طبقاتی معاشرہ وجود میں آتا ہے اور ریاست یا کوئی آلہ ٔجبر باقی نہیں رہتا۔

        6۔ دونوں میں ایک اصولی فرق یہ ہے کہ سوشلزم میں اجرت کی تعیین میں کارکردگی کو ملحوظ رکھا جائے گا اور کمیونزم میں پیداوار کی فراوانی متصور ہوتی ہے لہٰذا ہرشخص کو اس کی ضرورت کے مطابق دیا جائے گا۔

سوشلزم کا ارتقاء اور عروج :

        سوشلزم کی تاریخ پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔ یہ تحریک بڑے پیمانے پر، پرزور عوامی حمایت میں اور بہت عزم وحوصلہ لیے ہوئے اٹھی۔ اس میں شامل لوگوں کے اندر اپنے مقصد کی راہ میں بڑی بڑی قربانیاں دینے کا جذبہ اور ہمت تھی، لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ منصوبہ بندی، علمی وعملی رہ نمائی اور حقائق سے آگہی کا کوئی معقول نظم یہ تحریک نہ کرسکی اور یونہی عوامی رہنمائی میں اس نے اپنا سفر شروع کیا۔ سرمایہ دارانہ نظام کی بے اعتدالیوں اور کم زوریوں کو بہ حسن وخوبی معلوم تو کیا اور مرض کی صحیح تشخیص تو کی، لیکن اس کی اصلاح کے لیے کامیاب طریقہ کار اور اس کے علاج کے لیے صحیح تدبیر نہ کرسکی۔ ’’یہ نظریہ بڑے دعؤوں کے سا تھ پیش کیا گیا۔ مگرحقیقت یہ ہے کہ وہ اتنا بودااور لغو تھا اور اس کے اندر اتنے تضادات تھے کہ فوراََ ہی اس کا تا ر پود بکھر گیا۔ جب اس کو عملی زندگی میں لایا گیا، تو قدم قدم پر اس کی غلطیاں نمایاں ہونے لگیں۔ لوگوں نے دیکھا کہ اس کے اصولوں کو حقیقی صورت حال پر منطبق کرنا ممکن نہیں ہے ‘‘۔ (سوشلزم ایک غیر اسلامی نظریہ وحید الدین خان، مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی، اگست 1972ء ص 28)

        اشتراکیت کی پہلی آواز اٹھارہویں صدی میں اٹھی جب ’’بابیوف‘‘نے ایک خفیہ جماعت بناکر اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا، لیکن 1797ء میں اسے اور اس جماعت کے کار کنوں کو پھانسی دے دی گئی۔ اس حادثہ سے اشتراکیت نے اور زیادہ زور پکڑا۔ اب فرانس میں کام کے مطابق محنتانہ، کا نعرہ لگایا گیا، مزدوروں کے لیے ووٹ کا حق اور کارخانوں کے انتظام میں حصہ داری کی مانگ رکھی گئی، پھر مزدوروں کو زیادہ مزدوری اور دیگر سہولتوں پر مبنی نظام کی مانگ کی جانے لگی۔ 1848ء میں ’’کارل مارکس ‘‘کی کوششوں سے سیاسی نظام کی تبدیلی کے ساتھ سماجی اور اقتصادی ڈھانچے میں اصلاح کا مطالبہ لے کر تحریکیں وجود میں آئیں۔ اب اشتراکیت کی آواز دور دور تک پہونچ چکی تھی۔ مارکس، انجلز اور دوسرے اشتراکیوں کی کوششوں سے 1864ء میں پہلی ’’انٹر نیشنل ‘‘کا کام ہوا۔ لندن میں برطانیہ، فرانس، اٹلی، جرمنی، پولینڈاور سوئزر لینڈ کے مزدوروں کے نمائندوں نے شرکت کی اور مشترکہ طورپر ’’دنیا کے مزدور ایک ہوجائو‘‘ کا نعرہ دیا، 28مارچ 1871ء میں پیرس میں ایک قومی مجلس بھی قائم کردی گئی جس میں مزدوروں اور نچلے طبقے کی پوری نمائندگی تھی۔ اس لیے اسے ’’پیرس کمیون‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتاہے۔ اسے مزدوروں کا پہلا انقلاب بھی کہا گیا۔ اب اشتراکی طرزکے نظام کے قیام کی کوششیں بہت بڑے پیمانے پر شروع کی گئیں۔ لیکن 21تا 28مئی 1871ء کی لڑائی میں جرمنی اور فرانس کی فوج نے سوشلزم کے حامیوں اور مزدوروں پر بہت مظالم ڈھائے۔ انہیں ملک بدر کردیا گیا۔ جس کی وجہ سے ’’پیرس کمیون‘‘کا خاتمہ ہوگیا۔ اسی کے ساتھ سوشلزم رہنمائوں کی آپسی اختلاف کی وجہ سے 1876ء میں پہلی ’’انٹرنیشنل ‘‘ میں بھی پھوٹ پڑ گئی اور اتحاد ختم ہوگیا۔ لیکن جلدہی 21جولائی 1889ء میں فرانس انقلاب کے صدسالہ تقریب کے دوران پیرس میں دوسری ’’انٹرنیشنل ‘‘ کی تشکیل ہوئی۔

        یہ مارکس کا زمانہ تھا۔ انیسویں صدی کی دوسری دہائی میں یہ پیدا ہوا۔ 1848ء میں سوشلزم کے میدان میں ابھر کر سامنے آیا اور اس صدی کے آخر تک اس کا سرگرم رہنما اور زبردست حامی رہا۔ اس نے مشکلات کے اس دور میں نہ صرف یہ کہ سوشلزم کو باقی رکھا بلکہ اسے مضبوط اور مستحکم بنیادفراہم کی۔ مارکس نے اشتراکی اصولوں کو علمی ونظری بنیادوں پر پیش کیا اور اشتراکی افکار وخیالات کو دلائل کے زور پر بیان کیا۔ حسن اتفاق سے مارکس کو اینجلز کی شکل میں ایک ایسا قلمی رفیق مل گیا تھا جس نے اس کا بہت کامیا ب تعاون کیا۔ اس طرح دونوں نے اشتراکیت کو ترقی دی اور آگے بڑھایا۔ اسے ایک جامع نظریہ اور ایک متبادل نظام کی حیثیت عطا کی۔ ان کی کوششوں سے سوشلزم عوامی تحریک بن گئی۔ اس زمانہ میں اشتراکیت پر کتابیں لکھیں گئیں۔ مارکس نے اپنی مشہور کتاب ’’سرمایہ ‘‘لکھی۔ اشتراکی منشور شائع کیا اور بہت بڑے پیمانے پر سوشلزم کی ترجمانی وتشہیر کا کام ہوا۔

         1914ء میں جنگ عظیم اول کا آغاز ہوچکا تھا۔ زار حکومت سے پریشان عوام نے ’’لینن‘‘ کی قیادت میں 1917ء میں نیا انقلاب شروع کیا اور کامیابی ملی۔ اب روس میں پہلی باراشتراکی طرز کی نئی حکومت قائم کردی گئی۔ یہاں سے دور عروج شروع ہوتاہے۔ جسے لینن نے روسی انقلاب کا دوسرا دور کہا ہے۔ وہ لکھتاہے :

        ’’دوسرا دور اکتوبر 1917ء کے بعد شروع ہوتاہے جب کہ مفلس کسانوں، نیم مزدور وں اور تمام مظلوموں کو ساتھ لے کر سرمایہ داروں کے خلاف جدوجہد کی گئی، جس میں دیہات کے امراء، دولت مند، کسان اور نفع خور سبھی شامل ہیں۔ اس دوسرے دور میں روسی انقلاب سوشلسٹ انقلاب بنا۔ جب کہ اقتدار براہ راست محنت کش طبقہ یعنی بالشویک پارٹی کے ہاتھ میں آگیا ‘‘ (سوشلزم اور اسلام، وحید الدین خان، مکتبہ الرسالہ نئی دہلی، 1985ء ص 53)

        1917ء کے بعد جب سوویت یونین کو استحکام ملاتو اشتراکیت نے ایک جامع نظریہ اور اجتماعی تحریک کے ساتھ نظام کی حیثیت اختیا رکرلی۔ یہ ایک سماج اور ایک تہذیب ہے اور پورے نظام مملکت میں اپنے اصولوں کی کارفرمائی دیکھنے کامتمنی اور مدعی ہے۔

        یہی وجہ ہے سوشلزم نے ایک مکمل نظا م کے تقریباََ جملہ مسائل سے تعرض کیا ہے اور تمام انسانی وسماجی امور میں اپنی تعلیمات اور اپنے تصورات کو رائج اور عام کیا۔ انسان اور اس کی تخلیق، کائنات اور اس کا تصور، بنیادی انسانی حقوق، تعلیمی ومعاشی تصوراور سماجی تعلیمات وغیرہ کو اشتراکیت نے نئے انداز میں پیش کیا۔ یہی نہیں بلکہ اس نے اپنے تصورات اور اپنی تعلیمات کو اس قدر مستحکم اور اتنا زیادہ عام کیا کہ بعد کے جملہ عمرانی علوم اور افکار کو اس نے کسی نہ کسی حد تک ضرور متاثر کیا اور آج بھی اس کے گہرے اثرات دیکھے جاسکتے ہیں۔

        بیسویں صدی کا درمیانی دور اشتراکیت کے عروج کا زمانہ ہے۔ اس وقت کے مخصوص حالات اور خصوصاََ ترکی خلافت کے سقوط کے بعدکسی طاقتور حریف کے نہ ہونے کی وجہ سے اشتراکیت کو سوویت یونین کی شکل میں کافی زور ملا اور کئی ممالک نے سوشلزم کو اپنایا۔ سقو ط خلافت عثمانیہ کے بعد اسلامی جمہوری کہلانے والی آزاد ریاستوں میں بھی سوشلسٹ پارٹیوں کا وجود ہوا۔ پاکستان، مصر، شام، انڈونیشیا اور دیگر ممالک میں مختلف ناموں سے بسااوقات ان پارٹیوں نے حصہ لے کر کامیابی بھی حاصل کیں۔

اشتراکی مفکرین:

        کسی تحریک کے وجود پانے کے پیچھے حالات اور تقاضے محرک ضرور ہوتے ہیں، لیکن اسے عملی میدان میں آنے اور مطلوبہ مقاصد کو حصول کی طرف بڑھنے بلکہ کامیاب آغاز کے لیے علمی وفکری رہنماء، مفکرین اور علم بردار ہوتے ہیں اور ان کا ہونا اتناہی ضروری ہے جتنا کسی نصب العین کے حصول میں قربانی، جدوجہد، افرادی قوت، صرف مال اور اتلاف جان ضروری ہے۔

        اشتراکی تحریک کے مفکرین کی تعداد بہت ہے۔ اختصار کے پیش نظر ذیل میں بعض مشہور رہنما اور مفکرین کا نام دیا جارہاہے۔ جنہوں نے اشتراکیت کے فروغ میں قابل ذکر حصہ لیا ہے۔ کارل مارکس، فریڈرک انجلز، رابرٹ اوون، پال ایم سویزی، کیریوہنٹ، ہیوے سی، لینن، لاسکی، خروشیف، اسکار لانگے، اوٹو لینٹر، وغیرہ کا نام اس ضمن میں لیا جاسکتاہے۔

اشتراکی ممالک :

        اس ضمن میں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ سوشلزم کا اصل اور بنیادی میدان کار معاشیات ہے۔ اس کا تعلق معاشی امورومسائل، معیشت کی تنظیم اور اس کی ترقی وکامیابی سے ہے، نظام مملکت اور نظام حکمرانی سے نہیں۔ البتہ معیشت کی تنظیم کو لے کر اس پر اشتراکیت اپنے اثرات ضرور ڈالتی ہے۔ معیشت کی اصلاح وترقی کے نام سے اس نے جو کوششیں شروع کی تھی، وہ ایک نئے نظام مملکت پر جاکر منتہی ہوتی ہیں۔

        اگر تاریخی جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ یہی حال جملہ باطل نظریات کا ہے۔ آغاز کسی مختصر ایشو اور خوش نما وعدہ سے ہوتا ہے لیکن جب پر اور پیر پھیلانے کی قوت آجاتی ہے تو سب پر اور زندگی کے تمام شعبے میں اپنی مرضی کو بجبر نافذ کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہر مذہب، ہر نظریہ اور ازم کا دعویٰ ہے کہ وہ مکمل نظام حیات ہے اور اس کے پاس جملہ شعبہ ہائے حیات سے متعلق رہ نمائی اور تعلیمات ہیں۔

        اشتراکی ممالک میں روس اور چین کو کافی شہرت ملی۔ روس جو اپنے وقت میں سپرپاور رہ چکاہے اور آج بھی اس کا شمار ترقی یافتہ ممالک میں ہوتاہے۔ 1922ء سے 1991ء  تک وہاں دستو ر کے مطابق اشتراکیت کے اصول نافذ رہے۔ روس کو ترقی اور شہرت اسی زمانے میں ملی اور کم وقت میں تیز رفتاری کے ساتھ ترقی کرنے والے مما لک میں اس کا شمار کیا جاتاہے۔ 1917ء میں سرخ انقلاب کا آغاز ہوا اور 1922ء تک جنگی حالت رہی۔ پھر 30؍دسمبر1922ء میں باقاعدہ سوشلسٹ ریاست کا اعلان ہوا۔ اسے دو ادوار میں تقسیم کیا گیاہے :

        پہلا دور 1922ء تا 1944ء، یہ ابتدائی اور ارتقائی دور کہلاتاہے۔ اس دور میں گویا پہلی بار سوشلسٹ اصول وافکار اور اس کے عملی مظاہرے سے دنیا کو متعارف کرایاگیا۔

        دوسرا دور 1944ء تا 1991ء، یہ روس کی ترقی کا دور ہے۔ تقریباََ تیس ممالک نے اپنے یہاں سوشلزم کے اصولوں کو نافذ کیا۔ سوویت یونین (USSR)کا قیام عمل میں آیا لیکن جس تیز رفتاری سے روس نے ترقی کی تھی اتنی ہی جلد ی زوال بھی آیا کیونکہ سوشلزم کے اصولوں میں اصلاً انسان کی معاشی ضرورتوں اور مسائل کا واقعی حل نہ تھا اور اس کے اصول فطرت کے اصولوں سے متناقض بھی تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آخر زمانے میں خود اہل روس بھی اس سے متنفر ہوئے اور بغاوت کا اعلان کردیا۔ میخائل گوربا چوف نے وہ کتابیں لکھیں جن میں سوشلزم کو کنڈم کیا اور پھر ایسے حالات بنتے گئے کہ 26؍دسمبر1991ء کو سوشلزم نظام کے خاتمہ کا اعلان کردیا گیا۔

        دوسرا مشہور ملک چین ہے۔ موجودہ سوشلسٹ ممالک میں اس کا نام سب سے نمایاں ہے۔ روس کے مقابلے میں اس کی ترقی اور تمدن کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ چین نے اس وقت نام پیدا کرلیا تھا جب کہ روس اور دیگر ممالک(باستثناء اسلامی ممالک )تہذیب وتمدن سے ناآشنا تھے، لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتاکہ چین نے اشتراکیت کے عہد میں کافی ترقی کی ہے۔ دنیا کے بڑے ممالک میں شمار ہونے والا یہ ملک آج بھی یہ سوشلزم کا علمبردار ہے۔ چین میں یکم اکتوبر 1949ء سے سوشلزم نظام نافذ ہے۔ ایسا محسوس ہوتاہے کہ اس کی پالیسیوں میں خود انحصاری کا رجحان غالب ہے۔ دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں سے ممکنہ استفادے سے یہ ملک کتراتارہاہے اور محض اپنی قوت کے بل پر ترقی کی طرف گامزن ہے۔ یہ ترقی اس کی غیرت کی دلیل تو ہوسکتی ہے لیکن زمانہ کی تیز رفتاری کا ساتھ نہیں دے سکتی۔ بصورت دیگر یہ بات کہی جاسکتی تھی کہ امریکہ کے قریبی زوال کے بعد چین کے ابھر نے کا امکان یقینی ہے۔

        چین کے علاوہ موجودہ سوشلسٹ ممالک کی تعداد چار ہے (1)کیوباجہاں یکم جنوری 1959ء سے (2)شمالی کوریاجہاں 9؍دسمبر 1948ء سے (3) ویتنام جہاں 2؍جولائی 1976ء سے اور لائوس جہاں 2؍دسمبر 1975ء سے سوشلزم نظام نافذ اور جاری ہے۔ اختصار کے پیش کے نظر ان ممالک کی تفصیل نہیں دی گئی ہے۔ ان کے علاوہ متعدد ایسے ممالک ہیں جہاں سوشلزم اصول نافذ رہے ہیں اور سوویت یونین میں شامل رہ چکے ہیں۔ ذیل کی سطروں میں ان کی فہرست دی جارہی ہے اس بھی ذکر ہے کہ کب سے کب تک وہاں سوشلزم اصول نافذ رہے تاکہ قارئین کو سوشلزم کی تاریخ کا اندازہ بھی ہوجائے۔

1۔ افغانستان یکم جنوری 1946ء؁ تا 1991ء؁

2۔ البانیہ۔ یکم جنوری 1946ء؁ تا 30 ؍اپریل 1991ء؁

3۔ انگولا۔ 11؍نومبر 1975ء؁ تا 27؍اگست 1992ء؁

4۔ بینن۔ 30؍نومبر 1975ء؁ تا یکم مارچ 1990ء؁

5۔ بلغاریہ۔ 15؍ستمبر1946ء؁ تا دسمبر 1990ء؁

6۔ کانگو۔ 3؍جنوری 1970ء؁ تا 15؍مارچ 1992ء؁

7۔ چیکو سلواکیہ۔ 11؍جولائی 1960ء؁ تا 29؍مارچ 1990ء؁

8۔ ایتھوپیا۔ 10؍ستمبر 1987ء؁ تا 27؍مئی 1991ء؁

9۔ تسولیا۔ یکم دسمبر 1939ء؁ تا 12؍مارچ 1940ء؁

10۔ جرمنی۔ 7؍اکتوبر1949ء؁ تا 3؍اکتوبر 1990ء؁

11۔ یونان۔ 24؍دسمبر 1947ء؁ تا 28؍اگست 1949ء؁

12۔ گرینیڈا۔ 13؍مارچ 1979ء؁ تا 25؍اکتوبر 1983ء؁

13۔ ہنگری۔ 20اگست 1949ء؁ تا 23؍اکتوبر 1989ء؁

14۔ جمہوریہ کمبوڈیا۔ 17؍اپریل 1975ء؁ تا 7؍جنوری 1979ء؁

15۔ سوویت ہنگری۔ 21؍مارچ تا 6اگست 1919ء؁

16۔ منگولیا۔ 24؍نومبر1924ء؁ تا 12؍فروری 1992ء؁

17۔ موز مبیق۔ 25؍جون 1975ء؁ تا یکم دسمبر 1990ء؁

18۔ یولینڈ۔ 82؍جون 1945ء؁ تا 19؍جولائی 1989ء؁

19۔ رومانیہ۔ 30؍دسمبر 1947ء؁ تا 22؍دسمبر1989ء؁

20۔ صومالیہ۔ 20؍اکتوبر1970ء؁ تا 12؍جنوری 1991ء؁

21۔ تیونین۔ 14؍اگست1921ء؁ تا 11؍اکتوبر1944ء؁

22۔ جمہوریہ ویتنام۔ 2؍ستمبر1945ء؁ تا 2؍جولائی 1976ء؁

23۔ یمن 30؍نومبر1967ء؁ تا 22؍مئی 1990ء؁

24۔ یوگو سلاویہ۔ 29؍نومبر 1943ء؁ تا 27؍اپریل 1992ء؁

        ہندوستان میں سوشلسٹ عناصر 1947ء سے قبل ملک میں سوشلزم کے بعض مویدین اور ہم خیال لوگ تھے۔ البتہ سوشلسٹ اجتماعیتوں کا پتا نہیں چلتا۔ ایک سوشلسٹ پارٹی قائم کی گئی تھی لیکن اس کے صدر ایم این رائے کو حکومت نے داخل زنداں کردیا اور پارٹی کا وجود ختم ہوگیا۔ ملک کے سیکولر ڈیموکریسی بنائے جانے کے اعلان کے بعد چند ہی برسوں میں سوشلسٹ عناصر نے جنم لیا۔ بعض سرکردہ رہنمائوں نے بھی سوشلسٹ خیالات کا اظہار کیا۔ جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی نے سوشلزم کی تائید کی۔ حالانکہ ہندوستان کی عمومی پالیسی یہ تھی کہ روس اور امریکہ کسی کی حمایت نہ کی جائے اور نہ ان کے خیالات کو قبول کیا جائے بلکہ الگ سے ایک بلاک بنایا جائے اور ایک نئے معاشی نظام سے دنیا کو روشناس کرایا جائے۔ ہندوستان نے مصر وغیرہ کے تعاون سے ایسا کرنے کی کوشش بھی کی تھی لیکن یہ خواب پورا نہ ہوسکا۔ کچھ عرصہ بعد ہندوستان میں متعدد ایسی پارٹیاں وجود میں آئیں جو سوشلزم میں یقین رکھتی ہیں۔ ذیل میں بعض ایسی ہی پارٹیوں اور نام نہاد سیاسی رہنمائوں کی فہرست دی جارہی ہے جس اندازہ ہوگا کہ آج بھی بھارت میں ایسے لوگ پائے جارہے ہیں جو سوشلزم کا نام لیتے ہیں اور اسی حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ سوشلسٹ پارٹیوں میں راشٹریہ لوک دل اور راشٹریہ جنتا دل، سماج وادی پارٹی اور جنوب بھارت کی اہم پارٹی (D.M.K) وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح سوشلسٹ افکار رکھنے والوں میں جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی کے علاوہ مشہور مفکر پروفیسر رام منوہر لوہیا، ملائم سنگھ یادو، لالو پرساد یادو، راشٹریہ لوک دل کے رہنما اجیت سنگھ، بی جے پی سے وابستہ سابق وزیر خارجہ جارج فرنانڈیز، سشما سوراج اور یشونت سنہا اور اسی طرح مشہور سماجی رہنما سوامی اگنی ویش وغیرہ کا نام لیا جاسکتاہے۔ موخر الذکر رہنما ویدک سوشلزم کے قائل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ویدوں میں سوشلسٹ تعلیمات موجود ہیں۔

        کمیونسٹ پارٹیاں بھی کئی ایک ہیں جیسے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (S.P.I) (جنرل سکریٹری اے پی بردھن ) کمیونسٹ پارٹی (C.P.M) (سکریٹری پرکاش کرات)، ، RSP، Forward Block، Naxalite Block، اور MCCوغیرہ۔ یہ سب ملک کی مشہور پارٹیاں ہیں جو ملک کی سیاست میں کسی نہ کسی حد تک اثر انداز ہوتی رہتی ہیں۔ G Naxalite، موجودہ اخبارات کی سرخیوں میں رہاہے۔ اس پارٹی کے تعلق سے کم ہی لوگوں کو یہ بات معلوم ہے کہ اس کے رہنما انتہائی ذی علم، عالی دماغ اور صاحب تجزیہ ہیں اور اس کی پالیسیاں بڑی دور اندیشی اور حکمت عملی پر مبنی ہوتی ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس اعتبار سے کم ازکم ہندوستان کی سطح پر یہ پارٹی تما م پارٹیوں سے ممتاز ہے تو غلط نہ ہوگا۔

         یہاں ایک بات قابل ذکرہے وہ یہ کہ ملک میں موجودان سوشلسٹ حضرات کو سوشلزم افکار سے یاتو گہری وابستگی نہیں یا پھر سچی وفاداری نہیں کیونکہ ایک سوشلسٹ خیالات رکھنے والا شخص ان پارٹیوں میں بھی شامل دکھائی دیتاہے جن کے خیالات اور افکار ومقاصد سوشلزم سے یکسر مختلف ہیں۔

        خلاصہ کلام یہ ہے کہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی جدید جاہلیت کی صدی تھی۔ اس میں مغربی تہذیب کو عروج حاصل ہوا۔ بہت سے باطل نظریات کو فروغ ملا۔ ان میں عقلیت پسندی، مادہ پرستی، لادینیت، سیکولرزم، نیشنلزم اور جمہوریت خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔ سوشلزم بھی اسی دور کی پیداوار ہے اور جدید جاہلیت کا حصہ ہے۔ بعض استحصالی ذہن رکھنے والی شخصیتوں اور مفکرین کی پشت پناہی میں اس نظریہ نے دنیا کے ایک بڑے حصے کو متاثر کیا۔ حتیٰ کہ مسلم ممالک کی سیاسی پالیسیوں میں سوشلسٹ افکار درآئے، لیکن خود اس نظریہ اور اس کے اصولوں میں استحکام نہ ہونے کی وجہ سے اس کی بنیادیں متزلزل ہوگئیں۔ جس کی عملی مثال اور حقیقی شہادت خود سوویت یونین کا ختم ہوجانا ہے۔ سوشلسٹ ممالک کی دی گئی فہرست سے اندازہ ہوتاہے کہ ستر اسی سال میں سوشلسٹ انقلاب آیا، سوویت یونین کا قیام ہوا اور اسی مختصر عرصہ میں سب کا وجود مٹ گیا۔ دو ڈھائی سو ممالک کے درمیان صرف 5 ممالک ایسے رہ گئے جہاں سوشلزم کے نفاذ کا سرکاری اعلان ہے۔ اگر ان کا سوشلزم کے بنیادی اور قدیم اصولوں کی روشنی میں گہرائی سے جائزہ لیں تو شاید حقیقت کچھ اور نظر آئے گی۔ قریبی تنا ظر میں مائونوازوں اور نیکشلائٹ گرو پ کے تعلق سے یہ دیکھیں کہ عوام ان کو کس نظر سے دیکھتی ہے، تو سچائی دگر گوں ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقت پسند حضرات اب اسے فرسودہ اور ناقابل عمل نظریہ کی حیثیت سے جانتے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سرا ج احمد برکت اللہ فلاحی

مضمون نگار سہ ماہی پیغام کے سب اڈیٹر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close