نقطہ نظر

سیکولر بنام فرقہ پرست

شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو جب سیکولر، فرقہ پرست لفظ کا سامنا نہ ہوا ہو۔ کبھی کبھی لگتا ہے کہ یہ دو لفظ ہماری اردوداں طبقہ کی زندگی کا حصہ بن گئے ہیں۔ اقلیتیں خاص طورپر مسلمان ان لفظوں کو سننے، پڑھنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ اب وہ ان لفظوں کی طرف زیادہ توجہ نہیں دیتے۔ ان کے ذہن کے کسی گوشے میں یہ رچ بس چکے ہیں۔ شاید اسی لئے ہرکام، قدم اٹھانے سے پہلے اسے ان لفظوں کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے۔ پڑھے لکھے لوگ بھی ان لفظوں کو مقدر سمجھتے یا پھر سنجیدگی کا اظہار نہیں کرتے۔ نہ جانے کیوں مجھے یہ ہمیشہ کھٹکتے رہے ہیں۔ ان لفظوں میں سازش کی بومحسوس ہوتی ہے۔ ایک طرح کی غلامی یا حقوق میں کسی طرح کی کمی کااحساس ہوتا ہے۔ اہل وطن کے مختلف طبقوں، ذاتوں، گھرانوں سے رابطے، ان کے ساتھ رہنے،سہنے اور باتیں کرنے سے اندازہ ہوا کہ ان کی زندگی میں دور دور تک ان لفظوں کا کوئی سایہ نہیں ہے۔
یونانی زبان کے لفظ سیکولرزم کا مطلب مذہب کو ریاستی امور سے علیحدہ رکھنا ہے۔ مفکرین کے مطابق سیکولرزم مذہب کا انکارنہیں لیکن حکومت کا نظریاتی طورپر کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوناچاہئے۔ مذہب انسان کاانفرادی معاملہ سمجھا جائے۔ سماجی واجتماعی امور میں اس کا کوئی دخل نہ ہو۔ حکومت تمام مذاہب کا احترام کرے۔ اس کی بنیاد پر کسی کے ساتھ کوئی بھید بھاؤنہ ہو۔ آزادی کے بعد ہمارے ملک میں حکمرانی کیلئے اسی نظریے کو دستوری طورپر قبول کیاگیا۔ حالانکہ اس وقت آئین میں یہ لفظ شامل نہیں تھا لیکن دستور کے ابتدائیہ میں جو بیان درج تھا وہ اسی طرف اشارہ کرتا تھا۔ اس میں کہا گیا تھاکہ ہم بھارت کے لوگ آزادی، انصاف، برابری اور بھائی چارے کی بنیاد پر ایک خود مختار جمہوری ریاست کے قیام کااعلان کرتے ہوئے اس دستور کو اپناتے ہیں۔ مسز اندراگاندھی نے 42ویں دستوری ترمیم کے تحت 1976میں سیکولرزم لفظ کااضافہ کیا۔
سیکولر جمہوری ملک ہونے کے ناطے یہ سمجھا جاتا ہے کہ ریاست کااپنا کوئی مذہب نہیں ہوگا۔ ریاست تمام مذاہب کااحترام کرتے ہوئے ان مذاہب کی ترویج اور تبلیغ کی اجازت دے گی۔ آئین میں بنیادی حقوق کے باب کی دفعہ14سے 32میں برابری، امتیازی سلوک نہ کیا جانا، آزادی، استحصال سے حفاظت، مذہبی آزادی، تہذیبی وتعلیمی حقوق، حق ملکیت وغیرہ کا ذکر ہے۔ لیکن اس سے یہ وضاحت نہیں ہوتی کہ حکومت کااپنا کوئی مذہب نہیں ہوگا۔ شاید اسی لئے آئین میں سیکولرزم لفظ کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ البتہ دستور میں جگہ جگہ ایسی صراحتیں موجود ہیں جو ہندومذہب کو فوقیت دیتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ پرمپرا، روایتوں کو قانون میں اہمیت دینا اور ریزرویشن کی دفعہ341صاف طورپر اس کی نشان دہی کرتی ہے ۔ ملک سیکولر ہونے کے باوجود سرکار کا جھکاؤ ہندومذہب کی طرف رہتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ ہندوووٹوں کی اکثریت ہے۔ لیکن پھربھی اگر دستور کے تضادوں کو دور کرصحیح سے لاگو کیاجائے تو اقلیتوں وکمزور طبقات کی حالت بہتر ہو جائے گی ۔
فرقہ واریت یا فسطائیت سیکولرزم کے برعکس دوسری اصطلاح ہے۔ اس سے مراد ہے کسی فرقے یا سرکار کااپنے نظریے کو جابرانہ طریقے سے سماج پر تھوپنا۔ اس میں اس کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو کچلنا، دبانا اورکمزور کرنا بھی شامل ہے۔ مخالفوں سے نپٹنے کیلئے طاقت کے استعمال کو بھی یہ نظریہ جائزقرار دیتا ہے۔ ڈکٹیٹرشپ اس نظریہ کا حصہ ہے۔ بھارت میں آر ایس ایس، وشو ہندوپریشد کو فسطائی نظریہ کا حامی مانا جاتا رہا ہے۔ کیوں کہ یہ ہندتوا کو ہی قومی نظریہ مانتے ہیں۔ اس کی بالادستی یا ملک کو ہندوراشٹر بنانے کیلئے انہوں نے ہر طرح کے حربے اختیار کرنے کو روا رکھا ہے۔ جبکہ یہ خود کو سماجی وثقافتی تنظیم بتاتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی ہر تنظیم اپنے کو سماجی تنظیم کے طورپر ہی پیش کرتی ہے اور نیشنلزم، راشٹرواد کے نام پرآگے بڑھتی ہے۔
سیاسی جماعتوں کی بات کریں تو بھاجپا، شیوسینا کو ہندتو کے نظریہ کی حامی پارٹی سمجھا جاتا ہے۔ یایوں کہا جائے کہ ان کے علاوہ باقی پارٹیاں سیکولرزم میں یقین رکھتی ہیں۔ ملک میں لمبے عرصے تک انہیں سیکولر پارٹیوں کی حکمرانی رہی ہے۔ جس میں سے پانچ دہائی سے زیادہ صرف کانگریس کا راج رہا۔ کانگریس اتنی مضبوط تھی کہ دوسرے تمام دل مل کر بھی اسے ٹکر نہیں دے پاتے تھے۔ کانگریس مخالف آل کہا جاتا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اس کے زمانے میں فرقہ وارانہ (فسطائی) طاقتوں کو استحکام کیسے ملا۔ 36ہزار گاؤں میںآر ایس ایس کی شاخائیں کیسے قائم ہوئیں۔ ہزاروں کی تعداد میں فرقہ وارانہ فسادات کیوں ہوئے۔کسی بھی فساد کے ذمہ داروں کو سزا کیوں نہیں ملی ؟۔ جن کا جانی و مالی نقصان ہوا انہیں معقول معاوضہ کیوں نہیں دیا گیا خاص طور پر مسلمانوں کو ؟ہزاروں فساد ہونے کے با وجود فسادات مخالف قانون کیوں نہیں بنایا ؟ مسلمان جواس ملک کے ذمہ دار، قابل اعتماد و احترام ، باوقعت پارٹنر تھے، جنہوں نے ملک تقسیم کئے جانے کے باوجود بھارت میں رہنا منظور کیا۔ پھر وہ بے وقعت، بے وزن، غیر ذمہ دار اور ناقابل بھروسہ کیسے ہوگئے؟ کیوں ہوئے اور کس نے کیا؟پولس اور انتظامیہ میں ان کی بھرتی پر پابندی کس نے لگائی ؟تقسیم کے زخم کو آج تک کس نے زندہ رکھا ہے ؟ یہ سارے کام لمبے عرصے تک حکومت کرنے والی اس سیکولر پارٹی نے کئے جسے مسلمان اپنا ہمدرد سمجھتے رہے ہیں۔ بقول ڈاکٹر تسلیم رحمانی’’ کانگریس پارٹی نے ہی غیر اعلان شدہ طورپر آر ایس ایس کی ہر خواہش کی تکمیل کی ہے اور ملک کی اقلیتوں کے مذہبی امور میں مداخلت، ان کی زبان، تہذیب، تمدن، روایات اور مذہب ہرایک کو قابل نفرت اور قابل تنقید بناکر عوام کے سامنے پیش کیاہے‘‘۔یعنی فرقہ واریت کو اس پارٹی نے سیکولرزم پرنہ صرف ترجیح دی بلکہ اسے اپنے اقتدار میں بنے رہنے کیلئے ٹول کے طورپر استعمال کیا۔
جے پرکاش نے کانگریس مکت بھارت کانعرہ بلند کیا تومسلمان اس کے ساتھ کھڑے نظرآئے۔جبکہ اس پورے موومنٹ کوجن سنگھ پیچھے سے لیڈ کررہاتھا۔ جنتا پارٹی کی سرکار بنی تواس میں جے پی کے بجائے مرارجی دیسائی وزیراعظم بنے اور اٹل جی اس میں وزیرخارجہ۔ اس تحریک کی وجہ سے ملک میں آر ایس ایس کی قبولیت میں اضافہ ہوا۔ وی پی سنگھ نے تو بھاجپا کے ساتھ ہی مل کر سرکار بنائی تھی۔ چندرشیکھر ہمیشہ سنگھ کے قریب رہے۔ شردپوار بھاجپا کی مہاراشٹر سرکار کو بلاشرط حمایت کی پیش کرچکے ہیں۔ اب نتیش کمار نے سنگھ مکت بھارت کانعرہ دیا ہے۔ اس پر اردو کے مشہور روزنامے نے لکھا’’ سیکولرپارٹیوں کا محاذ ملک کیلئے ضروری ہے‘‘ سوال یہ ہے کہ یہ کن پارٹیوں کی بات کررہے ہیں آج کون سی پارٹی ہے جسے سیکولر کہا جائے ۔پارٹیاں اور سیاسی شخصیات اقتدار میں بنے رہنے کے لئے کبھی سیکولرزم کا مکھوٹا لگا لیتے ہیں تو کبھی فرقہ پرستوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں (سوائے کمیونسٹوں کے) رہا نتیش کمار کا تو کیا انہیں سیکولر کہا جائے گا ؟جو بھاجپا کی سرکارمیں وزیرریل اور پھر بہار میں اس کی مدد سے سرکار چلاچکے ہیں۔ دراصل سیکولر اور فرقہ پرست دونوں لفظ مبہم ہیں۔ اس لئے یہ طے کرنا مشکل ہے کہ کون سیکولر ہے اورکون فرقہ پرست۔ کوئی شخص بھاجپا یاشیوسینا میں ہے تو فرقہ پرست لیکن وہی جب کانگریس، سماج وادی پارٹی، آرجے ڈی یاجے ڈی یو میں آجاتاہے تو راتوں رات کیسے سیکولر بن جاتا ہے۔ یہ دونوں لفظ ووٹوں کی سیاست کی ایجاد ہیں۔ ورنہ بات یہ ہونی چاہئے کہ کون آئین کے مطابق سرکار چلائے گا اورکون آئین کا سہارا لے کر اپنے من کی۔
غورکرنے کی بات یہ ہے کہ مسلمان ایسی صورت میں کیا کریں۔ ایک مثال آپﷺ کی مدنی زندگی سے ملتی ہے کہ جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے ہوں وہاں مسلمان کس طرح رہیں اورکیسے دوسروں سے مراسم قائم کریں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مسلمان اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کریں۔ اس کااحساس کمیٹی یا پارٹی بناکر کرایا جاسکتا ہے۔ دونوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ ایک تجربہ کرناٹک میں متحدہ محاذ بناکر کیاگیا، محاذ کے اندر مسلمانوں کے سبھی طبقات وتنظیموں کی نمائندگی رکھی گئی۔ اس محاذ نے اپنی ریاست کی سبھی پارٹیوں سے بات کی ان سے تحریری معاہدہ کیا۔ پھراس کے حق میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی گئی جس نے محاذ کی شرائط کو قبول کیا ۔ جماعت اسلامی کی ا پنی پارٹی الیکشن لڑرہی تھی لیکن انہوں نے محاذ کے فیصلے کے احترام میں اپنی پارٹی کو ووٹ دینے کی اپیل نہیں کی۔ دوسری مثال کانشی رام نے پارٹی بناکر پیش کی ہے۔ دلت غیر اعلان شدہ طریقہ پر اپنی پارٹی بی ایس پی کو ووٹ دینے لگے۔ کانشی رام ان کو یہ سمجھانے میں کامیاب ہوگئے کہ اپنی ووٹ کی طاقت کا احساس کرائے بغیر جمہوری ملک میں کچھ حاصل نہیں کیاجاسکتا۔ ایسا بھی نہیں ہواکہ دلتوں نے باقی تمام پارٹیوں سے ناطہ توڑلیاہو۔ بلکہ اولیت اپنی پارٹی کو دینی شروع کی چاہے ان کی پارٹی کاامیدوار جیتے یا ہارے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ کوئی بھی دل دلتوں کو فراموش نہیں کرسکتا۔
مسلمانوں کو سیکولر اورفرقہ پرست کے سحر سے نکل کر ووٹ کی طاقت کو پہچاننا ہوگا۔اپنی ریاست کے لحاظ سے فیصلہ لینا ہوگاکہ وہ کمیٹی بناکر پریشر گروپ بنیں یاپارٹی بناکر الیکشن لڑیں۔ جو بھی ہو اس میں ملت کے سبھی طبقوں اور تنظیموں کو شامل کیاجائے تبھی یہ ممکن ہے کہ مسلمانوں کو ان کا دستوری حق عزت کے ساتھ مل سکے اور وہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق ملک کی خدمت کرسکیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close