نقطہ نظر

شاہی خرچے

محمد ریاض علیمی

کہتے ہیں کہ بڑے لوگو ں کی بڑی باتیں ہوتی ہیں۔ بعض لوگوں کے بڑے پن کا حال یہ ہوتا ہے کہ معمولی معمولی چیزوں پر بھی ہزاروں، لاکھوں بلکہ کروڑوں ڈالر خرچ کرکے اپنے بڑے پن کا اظہار کرتے ہیں۔ مختلف ممالک کے شاہی خاندانوں کے شاہی خرچوں کی تفصیل ملاحظہ کیجیے:برطانوی شاہی خاندان کے شہزادے ہیری اور سابق امریکی اداکارہ میگھن مارکل کی شادی دنیا کی دس مہنگی ترین شادیوں میں شمار کی گئی۔ یہ شادی ۱۹ مئی ۲۰۱۸ء کو منعقد ہوئی۔ امریکا اور برطانیہ میں ایک شادی پر ہونے والا اوسط خرچہ 34ہزار ڈالر تک ہوتا ہے اور یہ بھی کافی بڑی رقم مانی جاتی ہے۔ ونڈسر کے سینٹ جارجز چیپل میں شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کی شادی کی تقریب پر 4 کروڑ 58 لاکھ ڈالرز (سوا 5 ارب پاکستانی روپے سے زائد) کا خرچہ ہوا جو کہ امریکا یا برطانیہ میں ایک شادی کے اوسط خرچے سے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔

دولاکھ 90 ہزار ڈالر کے شادی کارڈ تیارکرکے بھیجے گئے۔ ڈیڑھ لاکھ ڈالر کے پھول،71ہزار6سو ڈالر کا کیک،چودہ ہزارڈالرمیک اپ اور بالوں کی تیاری پر خرچ ہوئے۔ دلہن میگھن مارکل کے عروسی لباس کی قیمت ۴ لاکھ ۳۰ ہزار ڈاکر بتائی گئی۔ کھانے پر ۶ لاکھ چھاسی ہزار ڈالرز کا خرچہ کیا گیا۔ اسی طرح فرانس کے صدر فرانسوا اولاندے(Franois Hollande) کے متعلق شاہی خرچوں کے متعلق فرانسیسی اخبار کی ر پورٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ وہ ہر مہینے اپنے نائی کو بال کٹوانے کا دس ہزار ڈالر معاوضہ دیتے ہیں۔ انہوں نے 2012ء سے 2017ء تک یہی روش اپنا رکھی تھی۔فرانسیسی عوام نے صدر کے اس اقدام پر غم وغصے کا اظہارکرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے ٹیکسز کا بہت غلط استعمال کیا جارہا ہے۔ اس پر حکومت نے یہ مؤقف اپنایا تھا کہ اس کام کے لیے زیادہ رقم اس لیے دی جاتی ہے کہ نائی چوبیس گھنٹے موجود ہوتا ہے اور وہ اسے جس وقت بھی بلایا جائے سیلون بند کرکے آجاتا ہے۔

اگست 2017ء میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان کی شاہ خرچیاں بھی منظر عام آئیں تھیں۔ انہوں نے مراکش میں دنیا کی سب سے مہنگی تعطیلات منانے کااعزاز اپنے نام کیا تھا۔ ایک ماہ کی چھٹیوں میں سوملین ڈالر کے شاہانہ اخراجات کرڈالے،، ان کے ساتھ ایک ہزار سے زائد ملازمین کی فوج بھی تھی جنھوں نے لگژری ہوٹلز میں قیام کیا۔ شاہ سلمان کے ساتھ دوسو قیمتی کاریں بھی لائی گئیں تھیں۔نیز انہوں نے 174ایکڑ کے شاندار محل میں قیام کیاتھا۔ تھائی لینڈ کے بادشاہ بھومی بول آدل یادیج (Bhumibol Adulyadej)کو طویل ترین بادشاہی کرنے کا اعزاز حاصل رہا ہے۔ وہ 68برس تخت شاہی پر براجمان رہے۔ دنیا کے سب سے مالدار شاہی حکمران ہونے کا اعزاز بھی انہیں کو حاصل ہے جن کی دولت کا تخمینہ 35ارب ڈالر لگایا گیا تھا۔ ان کا انتقال 13اکتوبر 2016کو ہوا۔ ان کی آخری رسومات ایک ہفتہ تک جاری رہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق تھائی لینڈ کے بادشاہ کی آخری رسومات دنیا کی مہنگی ترین رسومات تھی۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی آخری رسومات پر 9کروڑ ڈالر(تقریباً9ارب روپے)خرچ آیا۔ آخری رسومات کے موقع پر دارالحکومت بنکاک میں اڑھائی لاکھ سے زائد شہری سیاہ لباس پہن کر سڑک کنارے جمع تھے جہاں سے سنہری رتھ میں بادشاہ کا تابوت گزرا۔اس رتھ کو 200سے زائد فوجی دھکیل رہے تھے۔اس موقع پر ڈھول اور بانسریاں بجا کر بادشاہ کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ بادشاہ کی آخری رسومات میں چالیس سے زائد ممالک کے شاہی خاندان کے افراد اور دیگر حکمران شخصیات نے شرکت کی۔ بادشاہ کی موت کا غم ایک سال تک منانے کا اعلان کیا گیاتھا۔ نیز مقامی میڈیا کے مطابق ملکی اور غیر ملکی ٹی وی چینلز، اخبارات اور ویب سائٹس کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ایک ماہ تک اپنی نشریات بلیک اینڈ وائٹ رکھیں، سرکاری ملازم بھی سیاہ ملبوسات زیب تن کریں۔ یہ تو تھیں چند ممالک کی جھلکیاں۔ اب ذرا اپنے وطن کے شاہوں کی شاہی خرچیاں بھی دیکھیے۔

عصمت اللہ نیازی لکھتے ہیں:نواز شریف جب ستانوے میں وزیر اعظم بنے تو ان کے ساتھ خصوصی جہاز میں کراچی تک کا سفر کرنے کا موقع ملا۔ صبح کی پرواز تھی جس میں ناشتہ دیا گیا تو سات مختلف ڈشیں تھیں جو ہمیں ناشتہ میں دی گیں، جس میں لسی اور سری پاے بھی شامل تھے۔ آگے لکھتے ہیں کہ یہ ایک پرواز کی داستان ہے، اگر پچھلے پانچ سال کی خصوصی پروازوں کی داستان نکلوا لیں تو سب کے ہوش ٹھکانے آ جائیں گے۔

شاہوں کی شاہانہ اداؤں کا ایک اور واقعہ دیکھیے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب سابق سفیر کرامت اللہ غوری الجزائر میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔ جب بے نظیر بھٹو وزیر اعظم بنیں تو الجزائر کے دورے پر تشریف لے گئیں۔ اس سفر میں ان کے شوہر آصف زرداری بھی ساتھ تھے۔ کرامت اللہ صاحب اپنی کتاب ’’ بارشناسائی‘‘ میں یہ واقعہ ذکر کرتے ہیں کہ وہاں باورچیوں نے مجھ سے فرمائش کی کہ بھنڈی فراہم کی جائے کیونکہ زرداری صاحب کو بھنڈی بہت پسند ہے اور بھنڈی کے بغیر ان کا مینیو مکمل نہیں ہوسکتاتھا۔ میں نے معلوم کروایا بھنڈی شہر میں تو کیا ملک بھر میں بھی دستیاب نہیں تھی۔الجزائر میں صرف موسم کے پھل اور ترکاریاں ہی ملتی تھیں، بھنڈی کا موسم نہیں تھا لہٰذا اس کی فراہمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ میں نے اور میرے عملے نے جب باورچیوں کی فرمائش پوری کرنے سے معذوری ظاہر کی تو وہاں کھلبلی مچ گئی۔ بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ زرداری صاحب کی فرمائش پوری نہ ہو۔لہٰذا پیرس میں پی آئی اے کے مینیجر کو فون کیا گیا اور وہاں سے اگلی فلائٹ سے دو کلو بھنڈیاں ڈپلو میٹک کارگو کے عنوان سے الجزائر میں وارد ہوئیں۔ اگلی صبح وی وی آئی پی فلائٹ کے مینیو میں بھنڈیاں نمایاں تھیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب زرداری صاحب اقتدار میں نہیں تھے۔

اندازہ لگائیے کہ اقتدار میں آنے سے پہلے ان کے اتنے ناز نخرے اٹھائے جارہے تھے تو ان کے اقتدار میں آنے کے بعد کتنے ناز نخرے اٹھائے گئے ہوں گے اورانہوں نے کتنی عیاشیاں کی ہوں گی۔ اس کی بھی ایک مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔ اکتوبر ۲۰۱۶ء میں زرداری صاحب کے متعلق خبر آئی کہ انہوں نے اپنے بیرونی ملک دوروں میں ویٹرز کو 61لاکھ روپے دیے تھے۔ رپورٹ کے مطابق زرداری صاحب نے دورۂ چین کے دوران ویٹرز، سکیورٹی سٹاف کو 26 لاکھ ادا کیے۔ اسی طرح چین کے دوسرے دورے میں ہوٹل میں خدمت کرنے والے ڈرائیور اور ویٹرز کو ساڑھے 9 لاکھ روپے دیے۔ اپنے دورۂ ترکی، نائیجیریا اور سعودی عرب کے دوران سروس اسٹاف کو 20 لاکھ روپے ادا کیے تھے جبکہ اپنے آخری دورۂ سعودی عرب کے دوران ڈرائیور، ویٹرز، ہاؤس اور سکیورٹی اسٹاف کو 5 لاکھ روپے ادا کیے۔ زرداری صاحب نے یہ رقم کس مد میں دی، کیوں دی، اور کہاں سے دی؟ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ زرداری صاحب کا ملازمین پر نوازشات کا عالم یہ تھا تو معتقدین، محبین اور مقربین پر کتنی نوازشات کی ہوں گی۔ یہ تو چند جھلکیاں ہیں۔ مزید واقعات پھر کبھی۔ سیاستدانوں اور حکمرانوں کی تاریخ بھری پڑی ہے کہ انہوں نے کس طرح عوام کا پیسہ بے دریغ ہوکر خرچ کیا۔ بہرحال پاکستان انہی شاہانہ خرچوں کی وجہ سے معاشی طور پر کمزور ہوتا جارہاہے۔ اگر واقعی نئی حکومت ان اخراجات پر قابو پالے تو اس کے نتائج حیران کن ہوں گے اور ملک ترقی کی طرف گامزن ہوگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close