نقطہ نظر

شاہ سلمان ! آپ کی جرأت کو سلام

محمد وسیم

سعودی عرب کے سابق شاہ مرحوم عبداللہ بن عبدالعزیز کی وفات کے بعد جب 80 سالہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سعودی عرب کی حکومت سنبھالی تو لوگوں کو گمان ہوا کہ شاہ عبداللہ کی وفات کے بعد سعودی عرب کمزور ملک ہوجائے گا- سعودی عرب چہار جانب سے خطرات سے گهرا ہوا تھا ، جغرافیائی اور نظریاتی طور پر سعودی عرب پر حملے ہو رہے تھے ، داعش کا خطرہ ، القاعدہ کا خطرہ ، ایران کا خطرہ ، روس اور امریکہ کا خطرہ ، عالمِ اسلام کی صفوں میں پل رہے ابو لولو ، شیعہ اور روافضوں کا خطرہ، غرض کہ مملکتِ توحید سعودی عرب پر خطرات کے بادل چھائے ہوئے تھے ، امریکہ سعودی عرب پر پابندیاں لگا رہا تھا ، روس سعودی عرب کو پتھروں کے زمانے میں پہونچانے کی دھمکیاں دے رہا تھا ، ایران سعودی عرب میں مداخلت کرنے کے لئے تیار بیٹها تها- تو ادھر عالمی میڈیا بهی نئی سعودی حکومت سے بہت زیادہ مطمئن نہیں تها- مگر وقت نے ثابت کر دیا کہ اللہ تعالیٰ نے سعودی عرب کی سرزمین سے حرمین شریفین ، سعودی عرب اور عالمِ اسلام کا ایک محافظ بهیجا- جسے آج دنیا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے نام سے جانتی ہے

شاہ سلمان کے حکومت سنبھالنے کے بعد امریکی صدر اوباما 26 جنوری 2015 کو ہندوستان کا دورہ مکمل کر کے سعودی عرب کی راجدھانی ریاض پہنچا ، تو دنیا نے عہدِ نبوی کا ایک نمونہ دیکھا- کہ شاہ سلمان سپر پاور امریکہ کے صدر اوباما کا استقبال کرنے کے بجائے اذان کی آواز سن کر بارگاہِ الٰہی میں سجدہ ریز ہونے کے لئے پہونچ گئے- اور دنیا کو پیغام دیا کہ طاقت و قوت کا اصل مالک تو اللہ ہے ، ادھر ایران اور اس کے اتحادیوں نے سعودی عرب کو کمزور کرنے کے لئے یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کی حمایت کر کے سعودی عرب کے لئے خطرہ پیدا کر دیا، مگر شاہ سلمان بن عبدالعزیز موقع کی نزاکت کو سمجھ گئے، عرب ممالک کو متحد کیا اور 26 مارچ 2015 کو رات کی تاریکی میں یمن میں فوجی کارروائی کر کے حوثی شیعہ باغیوں اور ایران کے ناپاک عزائم کو مٹانے کا عزم مصمم کر لیا ، مزے کی بات تو یہ ہے کہ سعودی عرب کے خلاف یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کی حمایت میں ایران و روس کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ کی 40 تنظیمیں بھی سرگرم ہیں – مگر حق یہاں بهی غالب ہو کر رہے گا.. ان شاء اللہ

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سعودی عرب نے اپنے تاریخی خطاب میں کہا کہ ہم نے 25 لاکھ شامی مسلمان بهائیوں کو مستقل پناہ دے رکھی ہے، ان کی تعلیمات اور رہنے سہنے کے آرام دہ انتظامات ہیں ، ان کے لئے سعودی عرب میں روزگار کے مواقع بھی فراہم کئے گئے ہیں ، اس کے بعد انسانیت کی بهلائی کے لئے 7.5 ملین ڈالر کی امداد کا اعلان بهی کیا ، شام کے قاتل صدر بشار الاسد کے بارے میں سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اسے آج نہیں تو کل جانا ہی ہوگا ، وہ شام کے سنی مسلمانوں کا قاتل ہے اور قاتل کو حکمرانی کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ، ایران نے جب اندرونی میل جول سے امریکہ سے ایٹمی معاہدہ کر لیا تو سعودی عرب سمیت عرب ممالک نے شدید احتجاج کیا اور خطے کے لئے نقصان دہ بتایا ، سعودی عرب نے امریکی دوغلی پالیسی پر تنقید کی اور امریکہ سے لاتعلقی کا اظہار کیا ، مگر امریکی انتظامیہ نے معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے عرب ممالک کے اعتماد کو حاصل کرنے کی کوشش کی ، اس کے علاوہ سعودی عرب نے قطر کی ایران دوستی اور دہشت گرد گروہوں کی حمایت کے خلاف جس طرح سے کاروائی کی ہے ، انتہائی جرءت مندانہ قدم ہے

قارئینِ کرام ! کفر و شرک پر مبنی مملکتیں، داعش ، القاعدہ ، حزب الات اور غلط افکار و نظریات پر مبنی گروہوں اور جماعتوں سے سعودی عرب کو خطرات لاحق تهے، سعودی عرب پر حملے کئے گئے، خانہء کعبہ پر میزائل داغی گئی اور ایران نے سعودی عرب کے ہر شہر کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی- تب مسلم مملکتیں اور دنیا کے مسلمان کہاں تهے ؟ کیوں نہیں جماعت و جمعیت اور مذہبی شخصیات نے سعودی عرب سے ہمدردی کی ؟ کیوں نہیں اس کی حمایت میں دو لفظ بولے ؟ سعودی عرب کی اس مشکل گھڑی میں یہ سب کہاں تهے ؟ آج جب قطر اور سعودی عرب کے درمیان سیاسی غلط فہمی ہو گئی ہے ، تو تم بڑے دانشور بن گئے ؟ عالمِ اسلام کا سب سے بڑا ہمدرد بن گئے ؟ قطر اور سعودی عرب کے درمیان معاملات کو تم نے اسلام اور کفر سے جوڑ دیا ؟ مگر پهر بهی اللہ کی مدد سے تن تنہا سعودی عرب نے ہر قسم کے دشمنوں کا ڈٹ کر نہ صرف مقابلہ کیا ہے بلکہ ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں بهی ملا دیا ہے-

ان تمام اقدامات کی روشنی میں میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ اس روےء زمین پر اگر کوئی ملک اسلامی تعلیمات کے مطابق عمل پیرا ہے تو وہ صرف اور صرف سعودی عرب ہے- آخر میں میں دنیا کے تمام موحد مسلمانوں کی طرف سے دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنانے ، ان کے عزائم کو خاک میں ملانے اور عالمِ اسلام کے حق میں کئے گئے جرءت مندانہ فیصلوں پر ہر دلعزیز شخصیت شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سعودی عرب کو ہر قسم کی سازشوں اور فتنوں سے محفوظ رکھے… آمین

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close