نقطہ نظر

شریعت میں مداخلت – ہم کیا کریں؟

کل ایک علمی مجلس میں شرکت کا موقع ملا، جس کا انعقاد آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی دعوت پر انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہوا تھا اور جس کا موضوع تھا : "شریعت میں حکومتی اور عدالتی مداخلتوں پر قومی مشاورت "۔

ملک میں عرصہ سے مسلم پرسنل لا کے خاتمہ اور یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی آواز اٹھتی رہی ہے اور عدالتوں سے خلاف شریعت فیصلے آتے رہے ہیں۔حال میں سپریم کورٹ نے ایک کیس میں اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ مسلم عورتوں پر بہت مظالم ہو رہے ہیں، جن میں سے تین طلاق اور تعدد ازواج دو مسائل اہم ہیں۔اس موضوع پر غور کرنے کے لئے یہ مجلس منعقد کی گئی تھی ۔
پروگرام میں مختلف طبقات کے بہت چنیدہ افراد کی شرکت تھی۔علماء میں مولانا عطاء الرحمن قاسمی (دہلی) ،مولانا سید اطہر علی اور مولانا مفتی انعام اللہ مظہر ی(ممبئی) ، دینی جماعتوں کے ذمے داروں میں جناب نصرت علی (جماعت اسلامی)مولانا اصغر علی امام (اہل حدیث) مولانا محمود مدنی (جمعیۃ العلماء) جناب نوید حامد، (مشاورت)مولانا توقیر رضا (اہل سنت) مسلم پرسنل لا بورڈ کے نمائندوں میں ڈاکٹر قاسم رسول الیاس،محترمہ عظمی ناہید،ڈاکٹر اسماء زہرا، صحافیوں میں قاسم سید (خبریں) آصف عمر(چوتھی دنیا) سید فیصل علی، سپریم کورٹ کے وکلاء میں شکیل سید،شاہ رخ، فوزیہ شکیل، دانش وروں میں پروفیسر اختر الواسع، جناب تسلیم رحمانی، پروفیسر حسینہ حاشیہ، ڈاکٹر عذرا وغیرہ۔جناب مجتبی فاروق، سکریٹری مشاورت کنوینر تھے۔
ابتدا میں مولانا محمد رابع حسنی ندوی (صدر مسلم پرسنل لا بورڈ) مولانا محمد سالم قاسمی (سابق صدر مشاورت) اور مفتی محمد مکرم کے خطوط پڑھ کر سنائے گئے، پھر شرکاء نے گفتگو میں حصہ لیا۔
تمام مقررین کا یہ احساس تھا کہ اسلام نے عورتوں کو حقوق عطا کیے ہیں، لیکن مسلم سماج میں وہ بہت سے حقوق سے محروم ہیں اور ان پر ظلم ڈھائے جاتے ہیں، چنانچہ وہ عدالتوں کا سہارا لیتی ہیں، اس لیے ضرورت ہے کہ بڑے پیمانے پر اصلاح معاشرہ کی مہم چلائی جائے۔یہ تجویز دی گئی کہ بڑی تعداد میں شرعی پنچایتیں اور دار القضاء قائم کیے جائیں، جہاں مسلم خاندانوں کے تنازعات حل کیے جائیں، اس طرح مسلم خواتین کا رجوع ملکی عدالتوں کی طرف کم ہوگا۔ طے کیا گیا کہ ملکی عدالتوں میں جو خلاف شریعت فیصلے ہو رہے ہیں، ان کے معاملے میں ماہر وکلاء کی خدمات حاصل کی جانیں۔
مجلس میں ایک موضوع یہ چھایا رہا کہ ملکی عدالتوں کا رجحان اب بہ یک وقت دی گئی تین طلاقوں کو ایک طلاق ماننے کا ہے، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر وہ یہ کہہ رہی ہیں کہ طلاق میں بیوی کی مرضی اور عدالت کی شمولیت ضروری قرار دی جائے۔دوسری طرف جہالت عام ہونے کی وجہ سے مرد سمجھتے ہیں کہ جب تک تین طلاق نہ دی جائیں، وہ واقع ہی نہیں ہوگی۔ان حالات میں مسلمان عورت ہی مسائل کا شکار ہوتی ہے، اس لیے کیوں نہ اس رائے پر اتفاق کر لیا جائے کہ ایک موقع پر دی گئی تین طلاقیں ایک طلاق ہی مانی جائیں گی۔
یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان تجاویز کو قلم بند کر کے مسلم پرسنل لا بورڈ کو بھیج دیا جائے، کہ ان مسائل پر غور اور فیصلہ کرنے کا وہی مجاز ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Close