گوشہ خواتیننقطہ نظر

شریعت کا سورج اور مخالفت کا شرارہ

ڈاکٹر سلیم خان

شریعت کی حمایت اور تین طلاق بل کی مخالفت میں نکلنے والے جلوس کی تیاریوں  کے دوران ایک مرتبہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے دفتر مسافر خانہ میں مولانا محمود دریابادی سے ملاقات کے لیے جانا ہوا تو انہوں نے بتایا کہ ابھی کچھ دیر بعد مومن پورہ  کے اندرشریعت بیداری کے تعلق سے ایک خطاب عام ہونے والا ہے۔ جماعت اسلامی کی خواتین کو مطلع کرنے کی خاطر جلسہ گاہ کا پتہ پوچھا گیا تو سلیم موٹروالا نے بتایا یہ عوامی ادارہ میں ہے۔ میرے لیے یہ حیرت کا جھٹکا تھاکیونکہ  جو دفتر قائم ہی شریعت کی مخالفت کے لیے ہوا تھا اسی میں تین طلاق بل کے خلاف مظاہرے کی تیاری کا  جلسہ  ہو اس سے بڑی ستم ظریفی اور کیا  ہوسکتی ہے؟ میں سوچ میں پڑگیا کہ آخر ان  نام نہاد روشن خیال طبقہ  پر ایسا برا وقت کیونکر آ گیا؟  یہ تو ایسا ہی ہے کہ  جیسے کل کو  خدا نخواستہ انجمن اسلام کے اندر الحاد و اباحیت کی ترویج  کا کام   شروع ہوجائے ۔

اس سوال کا جواب مجھے  جلوس کے دودن بعد مل گیا جب جاوید آنند اور فیروز مٹھی بوروالا کی قیادت میں انڈین مسلم فور سیکولر ڈیموکریسی  کے تحت  مسلم پرسنل بورڈ کے خواتین مخالف  موقف کو بے نقاب کرنے کی خاطر منعقد کی جانے والی  ایک پریس کانفرنس  کا دعوتنامہ نظروں سے گزرا۔  اس پریس کانفرنس میں ۱۳ افراد کو اظہار خیال کی دعوت دی گئی تھی ان میں اگر کنونیر اور نائب کنونیر کو جوڑ لیا جائے تو ۱۵ ہوجاتے ہیں۔ ان ۱۵ لوگوں میں سے ۸ مرد ہیں اور ۷ خواتین ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جس مظاہرے کی مخالفت  نے ان حضرات کو  میدان عمل میں اتارا گیااس میں صرف خواتین  نے خطاب کیا۔ مردوں میں سے ایک نے شکریہ اور دوسرے نے دعا کی۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے مسلم پرسنل لاء کے اجلاس میں خواتین کی نمائندگی  سیکولر مساواتِ نسواں والوں سے بہتر تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس کے باوجود پرسنل بورڈ کو پدرانہ قرار دے کر اس کا مذاق اڑانا  درست ہے؟

ان بیچاروں کی حالت غیر کا ایک ثبوت عوامی ادارے کی مثال سے سامنے آگیا دوسرا ثبوت مراٹھی پترکار سنگھ کے انتخاب سے واضح ہوتا ہے۔ مراٹھی پترکار سنگھ کا بڑے سے بڑا ہال مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رضا کاروں کے لیے ناکافی تھا۔ خواتین کے مظاہرہ تو خیر دوپہر دو بجے سے تھا لیکن صبح دس بجے سے انجمن اسلام میں والنٹیرس کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ خواتین رضاکاروں سے کریمی لائبریری کھچاکھچ بھر گئی تھی۔ انجمن کے نیچے گروانڈ میں تقریباً ایک ہزار مرد رضاکار موجود تھے۔ والنٹیرس کے انچارج سعید خان سے جب  پوچھا  گیاکہ اتنے سارے لوگوں کو کیوں بلا لیا تو ان کا جواب تھا جتنے ادھر ہیں اس سے زیادہ باہر سڑکوں اور راستوں پر چلچلاتی دھوپ میں انتظامات کے لیے تعینات  ہیں۔

شریعت کے یہ  بے لوث محافظ  اپنے دین اور اخروی فلاح کی خاطر  میدان عمل میں آئے تھے۔ ان کو کسی اخبار میںاپنی تصویر چھپوانے کا  شوق نہیں تھا۔ ان کا اجر تو ان کے رب  کے پاس  محفوظ ہے۔ میدان میں خواتین کی آمد کا سلسلہ ایک بجے سے شروع ہوگیا تو کئی رضاکار نماز سے فارغ ہوکر بغیر کچھ کھائے پیے آزاد میدان پہنچ گئے اور شام ۶ بجے تک حسنِ انتظام میں لگے رہے۔ ان رضاکاروں نے ثابت کردیا کہ اتنا منظم جلسہ تو صرف مسلمان ہی کرسکتے ہیں۔ آسمان گیتی نے یہ منظر بھی حیرت سے دیکھا کہ سخت دھوپ کے عالم  جانباز اور دلیر   مسلم  خواتین نے   اپنے ننھے منے  بچوں کو گود میں لے کر آزاد میدان کی جانب رواں دواں ہیں۔ بزرگ مائیں جن کے لیے چلنا پھرنا دوبھر ہے اپنی بیٹیوں کے سہارے  جوق  درجوق شریعت کی خاطر چلی آرہی ہیں۔ ایک طوفان ہے جو تھمنے کا نام نہیں لیتا۔ یہ مظاہرہ تمام سیکولر جماعتوں تو کجا فسطائیت پسندوں کے لیے بھی ایک چیلنج ہے کہ وہ جس مسئلہ پر چاہیں صرف  ممبئی شہر سے اتنی تعداد میں بے غرض اور بے لوث  خواتین کو جمع کرکے دکھا دیں جبکہ ان کی  آبادی مسلمانوں کی بہ نسبت کئی گنا  زیادہ ہے۔ یہ دین کی محبت ہے جو تمام تر مصائب و مشکلات کے باوجود بڑھتی ہی جاتی ہے۔

ایک سوال یہ بھی ہے اس قدر نامور افراد لوگوں کی مدد سے انڈین مسلم فور سیکولر ڈیموکریسی   نے اپنی  محفل مراٹھی پترکار سنگھ کے چھوٹے سے ہال میں کیوں سجائی ؟ اس کا آسان سا جواب تو یہ ہے کہ وہاں پریس والے بڑے آرام سے آجاتے ہیں اور اخبارات و ٹیلی ویژن پر بڑی بڑی خبر چھپ جاتی ہے۔ یک گونہ اطمینان ہوجاتا ہے کہ ہم نے بہت بڑا میدان مارلیا لیکن یہی اطمینان و سکون ان بیچاروں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اس اطمینان نے انہیں سہل پسند بنادیا ہے۔ یہ لوگ اخبارات میں اپنی تصاویر کو دیکھ کر اور بیانات کو پڑھ کر خوش ہوجاتے ہیں۔ عوام سے رابطے کی  مشقت اٹھانا تو دور اس کی  ضرورت  تک محسوس نہیں کرتے۔ اسی سبب سے ان کا دائرہ ٔ عمل سکڑتا جارہا ہے۔  مزدوروں کے فلاح و بہبود کے بلند باگ نعروں کے باوجود  سنگھ پریوار کی بھارتیہ مزدور سنگھ ہندوستان کی سب سے بڑی مزدور تنظیم بن گئی ہے اور  عالمی لیبر یونین میں ہندوستانی مزدوروں کی نمائندگی کرتی ہے یہاں تک کہ اسے چین بھی بلایا جاتا ہے۔ کسانوں کے اوپر سے بھی ان پکڑ ختم ہوگئی ہے  اور بھارتیہ کسان سنگھ کے ساتھ چلے گئے ہیں۔

ایسا اس لیے ہوا کہ اس تحریک کے دانشور  ہندوستان کی زمینی حقائق سے کٹ گئے۔ یہ لوگ بھول گئے اس ملک میں  مذہب بیزاری عوامی  ناراضگی پر منتج ہوتی  ہے۔ انسان کے جسم کے اندر ایک روح بھی موجود ہوتی ہے۔ خدا کے بغیر یہ کائنات بے معنیٰ ہوجاتی ہے۔ یہاں بورژوا اور بالشوئک طبقات سے بڑی  سماجی حقیقت ذات پات کا نظام ہے۔  ان حقائق سے چشم پوشی کی بہت بڑی قیمت ان لوگوں  نے ماضی میں چکائی اور اب بھی چکا رہے ہیں۔  فسطائیت کے خلاف ان کا اخلاص شکوک و شبہات سے بالاتر ہے مگر اپنی کم فہمی کے سبب یہ نادانستہ اپنی ان کا  آلہ ٔ کار بھی بن جاتے ہیں۔

 اس سے قبل ڈاکٹر ذاکر نائک کے معاملے میں ان سے یہی غلطی ہوئی۔ فسطائی قوتوں نے جب اپنے سیاسی مفادات کے حصول کی خاطر انہیں  جبر و تسلط کا نشانہ بنایا تو بغض معاویہ  میں  آزادیٔ رائے کے مجاہدحکومت کے ہمنوا  بن گئے اور آگے چل کر جب انٹر پول نے ڈاکٹر صاحب کے خلاف ریڈ کارنر نوٹس واپس لے کرطمانچہ مارا تو  سرکار کے ساتھ دوسرا گال ان عقلمندوں کا تھا۔  تریپورہ  اور بنگال کے بعد اب کیرالہ میں سرخ پرچم ہنوز لہرا رہا ہے اگر سی پی ایم بھی  ان دانشوروں  کا مشورہ مان کر پرسنل لاء بورڈ اور شریعت کے خلاف کمر کس لے تو وہ بھی بہت جلد اتر جائے گا۔ ان لوگوں کو چاہیے کہ گھسے پٹے انداز میں مخالفت کا پرچم بلند کرنے کے بجائے  ٹھنڈے دماغ سے خود احتسابی کریں اور مناسب حال حکمت عملی بنائیں ورنہ  وہ دن دور نہیں جب  ان کا شمار آثار قدیمہ ہونے لگے۔

تحریکات کی مثال گاڑی کی طرح ہے۔ باہر سے اس کے چار پہیے نظر آتے ہیں مگر اندر ڈرائیور کے سامنے بھی ایک اسٹیرنگ وہیل ہوتا ہے۔ ان پانچوں کے اشتراک سے گاڑی چلتی ہے۔ بہت ساری تحریکات میں صرف پہیے چلتے ہیں اس کے باوجود وہ اپنی منزل کی جانب کسی طرح  رواں دواں رہتی ہیں  لیکن کچھ تحریکیں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ جن میں صرف اسٹیرنگ وہیل چلتا ہے پہیے ساکت و جامد رہتے ہیں ۔ اس لیے کہ ان کے انجن میں (عوامی قوت کا)  ایندھن نہیں ہوتا۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ طویل جمود کے سبب اس گاڑی کا انجن زنگ زدہ ہوجاتا ہے۔ اسی کے ساتھ  کھڑی گاڑی کے ڈرائیور کے دماغ میں زنگ لگ جاتا ہے۔ اس قسم قدیم گاڑیوں کو  کبھی کبھار کسی اور گاڑی پر سوار کرکے نمائش گاہ میں لے آیا جاتا ہے۔ جہاں لوگ اس کے ساتھ تصویر کھنچواتے ہیں۔ اس کے مالک سے سوالات کرتے ہیں۔ وہ اپنے فرسودہ ماضی کو خوبصورت پیرائے میں پیش کرتا ہے اور نمائش کے خاتمہ پر پھر اس گاڑی کو دوسری کسی گاڑی پر لاد کر گیرج میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ وینٹیج کاروں کی نمائش  (Vintage Car Exhibition) سے قبل اوربعد یہ عمل دوہرایا جاتا ہے۔ ایسا ہی کچھ ان بیچاروں کے ساتھ بھی ہورہا ہے۔ کیا ان کی یہ خستہ حالی قابلِ رحم نہیں ہے؟  رب ذوالجلال  حاملین شریعت اسلامی  کو اس عبرتناک  انجام سے محفوظ و مامون سے  رکھے۔

مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close