نقطہ نظر

شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی کی حقیقت

اکرام الہی

فراڈ جعل سازی دھوکہ دہی بدعنوانی کرپشن جیسے الزاموں کا سامنا کرنے والے وسیم رضوی نے اپنے کیریئر کا آغاز  پرانے شہر لکھنؤ کے کشمیری محلہ کے میونسپل کارپوریٹر کی حیثیت سے کیا جس وقت وہ سماجوادی پارٹی کے ایک رکن تھے۔

رفتہ رفتہ وہ اپنے تعلقات اور روابط کو بروئے کار لاتے ہوئے وقف بورڈ کے چیئرمین بن گئے (اس عہدہ پر براجمان شخص کو سرکاری طور پر ایک وزیر کی سہولیات میسر ہوتی ہیں) کچھ دن بعد جب اسے محسوس ہوا کہ سماجوادی حکومت جانے والی ہے تو اس کا رجحان مایاوتی کی طرف بڑھنے لگا چنانچہ جب مایاوتی برسر اقتدار آئی تو مایاوتی نے رضوی کو اس کے عہدہ پر برقرار رکھا۔

اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے اوقاف میں کافی بدعنوانی اور ہیر پھیر کو انجام دیا جس کے پیش نظر شیعہ سماج کے لوگوں نے اس کے خلاف زبردست احتجاج ومظاہرے بھی کیے سرکار سے اس کو برخواست کرنے اور ان تمام بدعنوانیوں کی cbi جانچ کرانے کا مطالبہ  کیا اس کو برخواست کرنے کے مطالبہ کو لیکر اکتوبر 2011 میں مسام رضوی نے لکھنؤ میں ایک زبردست ریلی نکالی مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا کچھ مہینوں بعد 2012 میں سرکار بدل گئی اور ساتھ ساتھ نیت اور وفاداری بھی چنانچہ رضوی کی وفاداری ایک پھر  سپا سرکار سے وابستہ ہوگئی مگر مولانا کلب جواد اور شیعہ کمیونٹی کے مسلسل احتجاج اور غم وغصہ کو دیکھتے ہوئے سپا سرکار نے رضوی کو اس کے عہدے سے بر خواست کردیا مگرساتھ میں اکھلیش سرکار نے یہ بھی اعلان کیا کہ جب تک نیا چیئرمین مقرر نہیں ہوجاتا تب تک رضوی اپنے عہدے پر بحال رہیں گے مگر لوگوں کی سخت ناراضگی اور شدید احتجاج کے بعد سپا سرکار نے بالآخر رضوی کو چھ سال کے لیے برطرف کر دیا رضوی نے حکومت کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی اور خود کو عہدہ پر بحال کرنے کی درخواست کی مگر ہائی کورٹ نے اس کی درخواست رد کردی اور سرکار کو از سر نو الیکشن کرانے کا حکم دیا مگر رضوی نے اس فیصلے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں اکھلیش سرکار کے خلاف عرضی دائر کردی مگر جب سپریم کورٹ کی طرف سے بہت دنوں تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور مولانا کلب جواد کو تاخیر کے سبب وقف کی اراضی میں ہیر پھیر کا خدشہ ہوا تو مولانا کلب جواد نے رضوی کی گرفتاری کے لیے احتجاجی ریلی نکالی اور اس کی گرفتاری کی مانگ کو لے کر زبردست مظاہرہ کیا حتی کہ 2015 میں سپریم کورٹ نے رضوی کو اس کے سابقہ عہدہ پر برقرار کرنے کا حکم جاری کیا اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ سرکار کی طرف سے کوئی وکیل نہیں پیش ہوا اس لیے وکیل کے پیش نہ ہونے کے سبب فیصلہ وسیم رضوی کے حق میں کیا گیا ہے۔

اس موقع پر مولانا کلب جواد نے سماجوادی حکومت پر الزام لگایا کہ اس میں سرکار کی سازش ہے کہ اس نے سپریم کورٹ میں اپنا وکیل نہیں بھیجا اکھلیش سرکار کا سپریم کورٹ میں وکیل نہ بھیجنا رضوی کے تملق  اور اعظم خان کے اثر و رسوخ کی وجہ سے تھا کیوں کہ رضوی کو اعظم خان کی حمایت و سرپرستی حاصل تھی بتادیں کہ سماجوادی پارٹی کے صدر ملائم سنگھ یادو وزیر اعلی اکھلیش یادو  شیوپال یادو اور سماجوادی پارٹی کے دیگر بڑے لیڈران وسیم رضوی کے خلاف تھے اور اس پر استعفے دینے کا دباؤ ڈال رہے تھے صرف اعظم خان اس کا بچاؤ کررہے تھے اور اس کو تحفظ دینے پر مصر تھے۔

یہاں تک کہ مئی 2015 میں چیئرمین کی مدت پوری ہونے کے سبب دوبارہ انتخاب ہوا جس میں حیرت انگیز طور پر رضوی پھر منتخب ہوگیا جس کے بعد شیعہ کمیونٹی کا شدید رد عمل سامنے آیا دھرنوں اور مظاہروں کا ایک سلسلہ چل پڑا مسلم مہیلا جاگرک مورچہ نامی نسوانی تنظیم نے اس کے منتخب ہونے کے خلاف لکھنؤ چھوٹے امام باڑہ کے سامنے بھوک ہڑتال شروع کر دی  کچھ دنوں کے بعد امام باڑہ کا گیٹ بھی بند کر دیا اس کے کچھ دن بعد مولانا کلب جواد نے بڑا امام باڑہ کا بھی گیٹ بند کرنے کا حکم دے دیالیکن سرکار نے پھر بھی وسیم رضوی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی چنانچہ  سرکار کی بے حسی کو دیکھتے ہوئے مولانا کلب جواد نے جیل بھرو تحریک کا اعلان کر دیا ہزاروں لوگوں نے اپنی گرفتاری پیش کی کہا جاتا ہے کہ جگہ نہ ہونے کے سبب لوگوں کو ریلیز کردیا گیا اس کے بعد بھی دھرنوں اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا اس کے باوجود بھی سرکار نے کوئی ایکشن نہیں لیا جس کی وجہ سے شیعہ کمیونٹی نے الیکشن میں سماجوادی پارٹی کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

بتادیں کہ اس وقت رضوی نے مولانا کلب جواد پر بی جے پی سے رقم لیکر کام کرنے کا الزام لگایا تھا اس کا بیان تھا کہ یہ لوگ رقم لے کر بی جے پی کی سرکار لانا چاہتے ہیں اور بی جے پی سماج کو فرقہ وارانہ بنیاد پر باٹنے   اور ووٹ تقسیم کرنے کی کوشش کر ہی ہے اور کلب جواد بی جے پی کے آلہ کار ہیں۔

اور مولانا کلب جواد کو مذہبی ٹھگ تک کہہ دیا تھا(ابھی بی جے پی کے متعلق رضوی کی کیا رائے ہے یہ جاننا کافی دلچسپ ہوگا)

 اس موقع پر اعظم خان نے مولانا کلب جواد کو زعفرانی مولانا بھی کہہ دیا تھا ۔

ان تمام احتجاج کے باوجود بھی وسیم رضوی اعظم خان کے اثر و رسوخ کے سبب چئیرمین کے عہدے پر برقرار رہا۔

2017 یوپی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد رضوی کے خلاف احتجاج جاری تھا کہ اکھلیش حکومت چلی گئی اور نئی حکومت برسر اقتدار آگئی اس کے آقاؤں کا اور پناہ دینے والوں کا دور ختم ہو چکا تھا۔ جبکہ بی جے پی نے انتخاب کے دوران ہی شیعہ کمیونٹی سے وقف بورڈ کی سی بی آئی جانچ کرانے کا وعدہ بھی کیا تھا مزید یہ کہ محسن رضا کو جو خود بھی رضوی کے خلاف احتجاج کا ایک حصہ تھا وزیر برائے اقلیتی امور بنا دیا  گیا جو رضوی کے لیے خطرہ کی گھنٹی اور برے دن آنے کا پیش خیمہ تھا اور ایسا ہوا بھی 19 مارچ کو یوگی CM بنتے ہیں اور مارچ ختم ہونے سے پہلے ہی رضوی کے خلاف حضرت گنج تھانہ میں ایف آئی آر درج ہوجاتی ہیں ذرائع کے مطابق یہ ایف آئی آر محسن رضا کے اشارہ پر دائر کی گئی تھی یعنی کیس مضبوط تھاچونکہ یہ ایف آئی آر ایک صوبائی وزیر کے اشارہ پر درج کیا گیا تھا اس لیے اس پر ایکشن ہونا ضروری اور ملزم کو سزا ملنا یقینی ہوچکا تھا نیز مارچ ہی میں میرٹھ کے ڈی ایم نے رضوی کے خلاف کیس درج کرنے کا حکم دیا چنانچہ کنکڑ کھیڑہ تھانے میں اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی جس میں الزام تھا کہ وسیم رضوی نے میرٹھ میں وقف بورڈ کی پچاس کروڑ کی زمین کو صرف پندرہ کروڑ روپے میں بیچ دیا چونکہ یہ ایف آئی آر ڈی ایم کے حکم پر درج کی گئی تھی اس لیے رضوی کا پھنسنا یقینی اور بچنا بہت مشکل تھا ۔

اپریل

رضوی نے اپنے بچاؤ کے لیے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی اور اپنی گرفتاری پر روک لگانے اور ایف آئی آر واپس لینے کی درخواست کی مگر الہ آباد ہائی کورٹ نے اپریل میں اس کی درخواست رد کردی اور اس پر عائد کردہ مقدمات کو اس پرحسب سابق  برقرار رکھا۔

مئی

محسن رضا نے بیان دیا کہ بی جے پی نے جس سی بی آئی جانچ کا وعدہ کیا تھا وہ بہت جلد شروع ہونے والا ہے نیز انہیں دنوں محسن رضا نے وقف بورڈ کے دفتر کا دورہ کیا تھا اور بد انتظامی کی وجہ سے وقف بورڈ کو تحلیل کرنے کی سفارش کی اور اس کا اعلان کیا تھا۔

جون

جون میں یوگی سرکار نے وسیم رضوی سمیت شیعہ وقف بورڈ کے چھ ممبران کو برطرف کر دیا اس کےبعدسے ہی محسن رضا اور سرکار کی طرف سے مسلسل کئی دنوں تک سی بی آئی جانچ کی یقین دہانی کی جاتی رہی اور اس کا اعلان ہوتا رہا اسی خوف سے رضوی نےرنگ بدلنا شروع کر دیا۔

چنانچہ 23 جون کو کورٹ نے سرکار کے اس فیصلہ پر روک لگا دی اور تمام برطرف افراد کو ان کے سابقہ پوسٹ پر پھر سے بحال کرنے کا حکم دیا

رضوی پر عائد کردہ مقدمات کی تفصیل

رضوی پر ملک کے مختلف تھانوں میں فراڈ جعل سازی دھوکہ دہی کرپشن اور بدعنوانی کے سیکڑوں مقدمات درج ہیں سہارنپور آگرہ لکھنؤ کانپور بریلی میرٹھ کے تھانوں میں اس کے خلاف متعدد مقدمات درج ہیں جو اخباروں کی زینت بھی بن چکے ہیں رضوی پر دفعہ 420/476/406/509/468/471 جس میں سے دفعہ 420 غیر ضمانتی ہے جس میں سزا کی کم ترین مدت تین سال ہے جسے بڑھا کر عمر قید میں بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے اور ساتھ میں جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے۔

دفعہ 467 جس میں سزا کی کم ترین مدت دس سال ہے یا عمر قید کی سزا بھی دی جاسکتی ہے مو جرمانہ  دفعہ 506 جس میں سات سال سزا مع جرمانہ یا بلا جرمانہ ۔ دفعہ 409 جس میں تاحیات یا دس سال کی قید مع جرمانہ۔

رضوی پر ان  جیسےسنگین اور بڑے  دفعات درج ہیں جن میں زیادہ تر  غیر ضمانتی ہیں اکثر  میں اقل ترین سزا سات یا دس سال ہے مع جرمانہ یا بلا جرمانہ اور اسے عمر قید میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

شیعہ کمیونٹی کے غیض وغضب اور مسلسل احتجاج کو دیکھ کر یقینی طور پر کہا جاسکتا کہ شیعہ کمیونٹی کے لوگ بغیر عمر قید کی سزا دلائے اسے بخشنے والے نہیں ہیں جس شخص نے قریب ایک دہائی پوری کمیونٹی کو نچائے رکھا علماء کو سڑکوں پر نکلنے اور ریلی کرنے پر مجبور کر دیا ان کی بہو بیٹیوں کو بھوک ہڑتال پر مجبور کیا وہ کیسے اس آدمی کو اس کے انجام تک پہنچائے بغیر مان سکتی ہے اس کے آقاؤں نے اسے بے سہارا اور لاوارث چھوڑ دیا سرکار سے اسے کوئی امید نہیں تھی کورٹ نے اسے دھتکار دیا تھا۔

حتی کہ شیعہ کمیونٹی نے 2017 کے یوپی الیکشن میں سماجوادی حکومت کی حمایت اسی لیے نہیں کی کہ اس حکومت نے وسیم رضوی کو اس کے عہدے سے نہیں ہٹایا تھا یہی وجہ ہے کہ یوپی الیکشن میں ملائم سنگھ کی بہو بی جے پی امیدوار کے مقابلے میں لکھنؤ سے ہار گئی تھی۔

  جب تک اکھلیش کی حکومت تھی تب تک اعظم خان اس کو پناہ اور تحفظ دیتے رہے تھے مگر جب سے یوپی میں بی جے پی کی حکومت آئی رضوی کے برے دن شروع ہوگئے اس کی پریشانیاں دن بدن بڑھنے لگی اور اس کو یقین ہوگیا کہ جانچ کے لیے بہت جلد سی بی آئی تشکیل دی جائے گی اور اس سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے تو اس نے بڑی چالاکی سے آرایس ایس کا دامن تھام لیا اور انہیں کا راگ الاپنے لگا چنانچہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح اس نے اپنی جان بچانے کے لیے الٹے سیدھے بیان دیے اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی آر ایس ایس کے ایجنڈوں کی وکالت اور اس کے لیے کوشش کرنے لگا اور اپنے مفاد کے لیے پوری قوم کا سودا کرنے کی ٹھان لی اپنے بچاؤ کے لیے ملت اور شعار ملت کو ڈھال بنایا اور اپنی جان بچانے کے لیے کس طرح ملت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ۔

جون تک کے حالات آپ پڑھ چکے ہیں کہ رضوی پر دن بدن شکنجہ کستا جارہا تھا اور قریب تھا کہ اسے سزا ملتی مگرجون کے بعد سے اب تک اس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا اب تک اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور بلاخوف و جھجک آزاد گھوم رہا ہے آخر کیوں اور کیسے؟ اس کا جواب آپ کو آنے والے سطور پڑھ کر ضرور مل جائے گا ۔

جولائ

میں اس نے بیان دیا کہ بابری مسجد شیعوں کی ملکیت ہےکیوں کہ اس کو میر باقی  نے بنایا تھا اس لیے سنیوں کا اس پر کوئی حق نہیں ہے لہذا سنیوں کو اپنی دعویداری چھوڑدینی چاہیے۔

اگست

اگست میں اس نے بیان دیا کہ بابری مسجداجودھیا کے آس پاس کسی مسلم اکثریتی علاقے میں تعمیر کی جائے اور مندر اسی جگہ بنایا جائے۔

ستمبر

ستمبر میں رضوی نے بیان دیا کہ رام کا معاملہ حل نہ ہونے کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس میں پاکستان کا ہاتھ ہے اس کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان بابری مسجد کے لیے مسلم تنظیموں کی امداد کرتا ہے۔

اکتوبر

اکتوبر میں رضوی نے رام مندر مسئلہ پر شری شری روی شنکر سے ملاقات کرکے رام مندر اسی جگہ بنانے کی وکالت کی اور سپورٹ کی یقین دہانی کرائی۔

اسی ماہ اس نے بیان دیا کہ وہ رام کی مورتی کے لیے چاندی کے دس تیر تحفہ میں دے گا۔ اسی مہینہ اس نے وزیراعظم کو خط لکھ کر ہمایوں کا مقبرہ توڑ کر قبرستان بنانے کی مانگ کی اس نےاپنے خط میں لکھا کہ مغلوں نے ہندؤں کے تین ہزار مندروں بزوروجبر منہدم کردیا۔

اس نے بیان دیا کہ تاج محل عبادت کی نشانی نہیں ہےاس کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ مسجد سے کوئی تعلق نہیں ہے لہذا اس میں نماز (جمعہ) کا کوئی مطلب نہیں ہے مزید اس نے کہا کہ مغل عیاش تھے انہوں نے ہندوستان کی تہذیب کو تہس نہس کیا ہندوستانیوں پر بہت ظلم کیا ان کی تاریخ کالی ہے ان کی کالی تاریخ ہمیں اپنے بچوں کو نہیں پڑھانی چاہیے۔

نومبر

ایودھیا جاکر رام مندر بنانے کی راہ ہموار کرنے کے لیے اکھاڑا پریشد والوں کے ساتھ ایک میٹنگ کی اس میٹنگ میں بابری مسجد کے مدعی اقبال انصاری بھی شریک تھے لیکن اس کی بکواس اور بدتمیزی کے سبب مجلس کے درمیان سے ہی اٹھ گئے اقبال انصاری نے بتلایاکہ  رضوی بدتمیزی پر اتر آیا اور کہنے لگا کہ سنیوں کا کچھ بھی نہیں ہے اورنہ اس مسئلہ میں سنیوں کو بولنے کا حق ہے۔

رام مندر کے سلسلے میں اسی مہینے اس نے یوگی سے بھی ملاقات کی جو کہ بیس منٹ تک چلی۔

اس پورے مہینے وہ ایودھیا اور رام مندر میں مصروف رہا اور ڈرافٹ تیار کر نے میں لگا رہا۔

دسمبر

لوک سبھا سے طلاق ثلاثہ کا قانون بننے کے بعد اس نے بیان دیا کہ سزا کی مدت تین سال سے بڑھا کر دس سال کردی جائے۔

جنوری 2018

رضوی نے پی ایم مودی کو خط لکھ کر درخواست کی کہ تمام مدارس بند کر دیے جائیں مدارس میں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے مدارس کا نصاب تعلیم طالب علموں میں شدت پسندی اور آتنک واد کو فروغ دیتا ہے اس لیے مدارس کو بند کردینی چاہیے نیز اس نے لکھا کہ ان مدارس کی فںڈنگ ہندوستان کے علاوہ بنگلہ دیش اور پاکستان سے ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ کچھ دہشت گرد تنظیمیں بھی ان مدارس کو فنڈز دیتی ہے نیز اس نے اپنے خط میں شاملِی اور مرشدآباد کے کچھ مدارس پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہاں دہشت گردی کی عسکری ٹریننگ دی جاتی ہے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ گولہ بارود بھی منتقل کیا جاتا ہے۔

آپ کو بخوبی اندازہ ہوگیا ہوگا کہ آخر وسیم رضوی پر اب تک کوئی کارروائی کیوں نہیں ہورہی ہے اس کی فائل کیوں دب چکی ہے کیوں وہ بے خوف و خطر ہر طرح کی بکواس کرنے کے لیے آزاد ہے ۔ یہ وہ ننگ حرم ہے جو چرا کر بیچ کھاتا ہے۔

گلیم بوذر و دلق اویس و چادر زہرا

(علامہ اقبال بتصرف)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close