نقطہ نظر

صاحب کا دورۂ امریکہ

محمد آصف اقبال

صاحب ابھی ابھی امریکہ کا دورہ کر کے آئے تھے اور ان کے آنے کے بعد لوگ ان کے استقبال میں مصروف ہو گئے۔کچھ مفکرین ان کے دورہ امریکہ کی روداد جاننا چاہتے تھے تو کچھ ان سے اس بات کی گزارش کر رہے تھے کہ وہ نہ صرف ہمیں بلکہ عوام کو بھی اپنے سفر کی روداد بیان کریں تاکہ لوگ بھی آپ کے دورہ امریکہ سے لوٹنے پر ان کے خیالات و احساسات سے واقف ہو سکیں۔ فائدہ ؟فائدہ یہ ہوگا کہ لوگ اُن چیزوں کو اختیار کریں گے جن کو انھوں نے اختیار کیا اوریہی سبب ہے کہ وہ آج بلندیوں پر ہیں۔ لوگ ان کے علم اور فن کا لوہا مانتے ہیں اور دنیا پر ان کی دھاک ہے۔اہل علم اگر کہیں پائے جاتے ہیں تو یہیں امریکہ اور یورپ میں اور آرزوئیں اور خواہشات کا اگر کوئی مینارہ ہے تو یہی امریکہ اور یورپ۔اوریہ سب اس وجہ سے ہوا کہ یہاں پائے جانے والے کامیاب ترین،با صلاحیت افراد اپنے مشن میں جی جان سے جٹے ہوئے ہیں اور کامیابی کی منازل طے کرتے آتے ہیں۔

پہلے تو صاحب کا تعارف کرایا گیا اور وہ سر جھکائے اپنے تعارف کو بہت ہی انکساری کے ساتھ سنتے رہے۔ ویسے واقعی وہ تھے بھی اُس تعارف کے حقدار۔ اور چونکہ صاحب دنیا کے بہت سے ملکوں کا سفر کر چکے تھے اس لیے بھی وہ دنیا دیکھے ہوئے لوگوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ بہر حال! صاحب نے بتانا شروع کیا کہ ہم جس ملک اور قوم سے وابستگی رکھتے ہیں اس کے پچھڑے ہونے کے کیا اسباب ہیں اور وہ جو کامیاب ہیں ان کی کامیابی کی کیا وجوہات ہیں۔ وجہ نمبر ایک: وہ اپنے ملک سے بے انتہا محبت کرتے ہیں، اس کے حق میں ہر فیصلہ کرتے ہیں خواہ ان کی ذات ہی کوکیوں نہ نقصان پہنچ جائے اور ہم! تو ہمارا حال یہ ہے کہ ہمیں نہ اپنے ملک سے محبت ہے اور نہ ہی ملک کی خاطر اپنی ذات کو کسی پریشانی میں مبتلا کرنے کی خواہش۔۲) وہ علم کے میدان میں ہم سے بہت آگے ہیں، وہ تجربات کی دنیا میں قدم بڑھاتے ہیں، ان کا معاملہ یہ ہے کہ اگر کوئی چیز عقلی بنیادوں پر غلط ثابت ہو جائے تو پھر اس کے پیچھے نہیں پڑے رہتے اور ہم۔ہمارا معاملہ اس کے برعکس ہے، ہم تو،توہم پرستی کا شکار ہیں ،ہم پردقیانوسی فکر کا غلبہ ہے یہی وجہ ہے کہ ہمیں علمی عروج آج تک حاصل نہیں ہوسکا۔۳) وہ ٹیکنالوجی اور سائنس اور اسی طرز کی دیگر چیزوں میں ہم سے بہت آگے نکل چکے ہیں اور ہم۔ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہمیں ٹیکنالوجی کی الف بے بھی نہیں معلوم۔۴)وہ معاشرتی بنیادوں پر،سماجی بنیادوں پر اور خاندانی بنیادوں پر ترقی یافتہ لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ پرانے رسم و رواج، جاہلانہ مذہبی عقائد و نظریات کے خلاف ہیں ،ساتھ ہی انسان کی نفسانی خوہشات کے علمبردار کہ جس کے ذریعہ وہ لوگ ہیجانی کیفیات کا شکار نہیں ہوتے۔ اور ہم تو ہمارا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔

مختصر یہ کہ وہ اپنے ملک اوراہل ملک سے محبت کرتے ہیں اور ان کے حق میں ہر فیصلہ لیتے ہیں۔ ان کو اگر کسی سے اپنے ملک اور اہل ملک کا خطرہ محسوس ہوتا ہے وہ ان کے خلاف سخت کاروائی کرتے ہیں اور ان لوگوں کو کچل کر رکھ دیتے ہیں۔ اور سب سے بڑی خوبی یہ کہ وہ کسی بھی معاملہ میں جھوٹ سے کام نہیں لیتے، جو کرتے ہیں ڈنکے کی چوٹ پر کرتے ہیں جو کہتے ہیں ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں۔ اور دیکھو نا! یہ تو ہمارے رسول نے بھی فرمایا ہے کہ جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔لیکن ہمارا طرز عمل اس کے برخلاف ہے۔ ہم تو مسلمان ہیں اور پھر بھی جھوٹ میں مبتلا رہتے ہیں تو بتائو ہم کیسے ترقی کر سکتے ہیں ؟ہم تو دنیا وی معاملات میں بھی اور مذبہی بنیادوں پر بھی وہ کچھ نہیں کر رہے جو کامیابی دلانے والی ہیں تو بتائو میرے بھائیوں ! بتائو!ہم کیسے کامیاب ہوں گے اوردنیا کیسے ہماری بات مانے گی، ہماری حیثیت دنیا کیسے تسلیم کرے گی اور کیسے ہم دنیا میں سرخرو ہوں گے؟ لہذا اگر ہمیں کامیاب ہونا ہے تو ہمیں اُن کی طرز زندگی اختیار کرنا ہوگی، ان کی خوبیوں کو اختیار کرنا ہوگا اور ان توہمات اور دقیانوسی باتوں سے گریز کرنا ہوگا۔انسان کو آزادی اظہار کی آزادی دی گئی ہے ہمیں بھی وہ دینا ہوگی۔ہمیں نفسانی خواہشات کو دبانے والے بیانات بند کرنا ہوں گے۔میرے بھائیوں ! کیا تم مجھے نہیں جانتے؟ کیا تم مجھے نہیں پہچانتے؟ کیا میں تمہارا اور اپنی قوم و ملت کا دشمن ہوں؟ نہیں ایسا نہیں ہے۔ میں تمہاراخیر خواہ ہوں اور میں نے اُن کامیاب لوگوں کے ملک کا سفر کرکیا ہے اور اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھا ہے کہ کامیابی کیا ہوتی ہے۔اگر تم نے میری بات نہ مانی تو یقین جانو تم ناکام ہوگے اور دنیا تمہارے وجود کو ایسے ہی ختم کرنے کے درپے رہے گی! سا معین نے زور دار تالیاں بجائیں اور قوم و ملت کے مخلص کی آنکھوں میں آنسوں آگئے۔لوگ کہے جا رہے تھے کہ واقعی آپ کی باتوں نے ہمیں سوچنے پر مجبور کر دیا، واقعی ہمیں اس درماندہ زندگی سے گریز کرنا چاہیے اور صاحب تھے کہ ان کی آنکھوں سے آنسوں جاری تھے۔اپنے ملک، اہل ملک اور ملت کی صورتحال کے تعلق سے وہ فکر مند تھے!

صاحب سے اب لوگ بالمشافہ استفادہ کر رہے تھے۔ مختلف طرح کے سوالات کر رہے تھے اور ان کی رہنمائی حاصل کر رہے تھے۔پوچھنے والے نے پوچھا کہ اسلام کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے موجودہ دور میں اجتہاد کی کیا اہمیت ہے؟ ”۔مزید یہ کہ:”کیا قرآن کے بارے میں مسلمانوں کا رویہ تبدیل ہونا چاہیے اور اسے ایک’غلطیوں سے پاک’چیز سمجھنے کی بجائے اس کو ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت سے مطالعہ کرنا چاہیے؟صاحب فرما رہے تھے۔ واقعی یہ حوصلہ مند سوالات ہیں۔ ایک جرت مند شخص ہی ایسے سوال کر سکتا ہے۔ایسا شخص نہ صرف جرت مند ہوگا بلکہ وہ غور و فکر کرنے والا بھی کہلائے گا۔واقعی یہ باتیں قابل غور ہیں۔ اجتہاد مسلمانوں کی شان ہے ہر دور میں وہ اجتہاد کرتے آئے ہیں۔ رہی بات اسلامی تعلیمات کی ایک وسیع تر تشریح کی تو یہ باتیں بھی علمی حلقوں میں ہوتی ہی رہتی ہیں۔ کیونکہ ہر زمانے میں چیزوں کی تشریح زمانے کے لحاظ سے کی جاتی ہے تو آج یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم پرانے طرز پر ہی چلتے رہیں ؟ اور قرآن کی بات! تو جناب یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ قرآن ہمارا رہبر ہے۔لیکن کیا وہ واقعی رہبری کر رہا ہے؟ اور ہم اس پر عمل پیرا ہیں ؟بے چارہ سوال کرنے والا دُم دبا کر بھاگ نکلا! صاحب نے سوال کے جواب دینے کی بجائے الٹے سوال کر ڈالے اور وہ بھی معقولیت والے،غور و فکر کرنے والے،تو جواب تو غور وفکر کرکے اور سوچ سمجھ کر ہی دیے جائیں گے نا!

صاحب سے یہ بھی سوال ہوا کہ یہ شاتم رسول کا کیا معاملہ ہے؟ صاحب بتا رہے تھے۔دیکھو میرے عزیزو! جب تم دوسروں پر وار کروگے تو تم پر بھی لوگ وار کریں گے۔ایک اور سوال کرنے والے نے بیچ میں ہی پوچھ لیا ہم نے کب کس پر اور کہاں وار کیا؟ صاحب اکھڑ گئے! بھئی جواب تو پورا کرنے دیں آپ، یہی توہم مسلمانوں کی جہالت کی نشانی ہے، بات پوری سنتے نہیں کہ سوالات داغنا شروع کر دیتے ہیں۔ آپ کو اگر صبر نہیں توآپ جائیں یہاں سے! لوگوں نے بیچ بچائو کیا،صاحب کو ٹھنڈا کیا۔صاحب پھر کہ رہے تھے دیکھو میرے عزیزو! جب تم دوسروں پر وار کروگے تو تم پر بھی لوگ وار کریں گے۔کوئی تمہاری جان کا دشمن ہوگا، کوئی تمہارے کردار پرضرب لگائے گا،کوئی تمہارے رسول پرانگلی اٹھائے گا،کوئی تمہارے قرآن پر سوالات کھڑے کرے گا،کوئی اقتدار پر غرض طرح طرح کے وار ہوں گے لیکن وہ تم کو برداشت کرنے ہوں گے۔ اسی لیے تو جب سے کہہ رہا ہوں کہ اپنے رویہ میں تبدیلی پیدا کرو۔اسلام کی تبلیغ، اسلا م کی اشاعت، اسلام کے قیام،اور اسی طرح کی باتیں چھوڑو اور پڑھو لکھو، اپنے طرز زندگی کو تبدیل کرو، دنیا میں جو عیش و آرام کی چیزیں ہیں ان کے حصول میں لگ جائو، پھر یہ تمہارا پاگل پن بھی دور ہو جائے گا اور تم سے نفرت کرنے والے بھی نہیں رہیں گے۔ تم دنیا کے ساتھ چل کر تو دیکھو، دنیا تمہیں عزت دے گی، تمہاری قدر کرے گی اور تم کامیاب لوگوں میں شمار ہوگے۔تمام ہی اہل فکرو نظر صاحب کی باتوں سے متاثر تھے، چاہتے تھے کہ ان کے نقش قدم کو چوم لیں۔ نشست برخاست کرتے ہوئے کنوینر نے صاحب کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ صاحب آپ صحیح کہہ رہے ہیں ہمیں امریکہ اور یورپ سے سبق لینا چاہیے، دنیا میں اگر کسی کو ترقی مل رہی ہے تو ان ہی کی وجہ سے اور آج جو چہار جانب علم کا چرچا ہے، ٹیکنالوجی میں یہ دریافتیں ہیں ، معاشرہ اور خاندانی نظام میں جو یہ جدید روایتیں ہیں وہ سب امریکہ اور یورپ ہی کی دین ہے۔آپ صحیح کہہ رہے ہیں اگر ہم نے ان کے نقش قدم کو اختیار نہیں کیا تو نہ ہم کامیاب ہو سکتے ہیں اور نہ ہی ہمارے آنے والی نئی نسل۔ ساتھ ہی اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ صاحب کو ابھی ایک دوسری کانفرس میں بھی خطاب کرنا ہے اس لیے وہ آپ سے رخصت چاہتے ہیں۔ لوگوں نے شکریہ ادا کیا اور صاحب اپنی شاندار گاڑی میں دوسری کانفرس کے لیے روانہ ہو گئے!!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

آصف اقبال

آصف اقبال دہلی کے معروف کالم نگار ہیں۔ بنیادی طور پر آپ سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ آپ کی نگارشات برصغیر کے مؤقر جریدوں اور روزناموں میں شائع ہوتی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close