نقطہ نظرہندوستان

صدر مکھرجی کے ساتھ نہ جانے کیا کیا گیا؟

حفیظ نعمانی

تیرہویں سابق صدر جمہوریہ شری پرنب مکھرجی نے اپنے جانشینی کو قصر ِ صدارت کی چابیاں حوالے کرنے سے پہلے اپنی پانچ سال کی بھڑاس اس طرح نکالی کہ انہوں نے پوری تقریر کے وقت اپنے دونوں ہاتھ اوپر رکھے تاکہ ہر دیکھنے والا دیکھ لے کہ وہ مودی سرکار کی لکھی ہوئی تقریر نہیں سنا رہے ہیں بلکہ وہ کہہ رہے ہیں جو اُن کے دل میں ہے۔ اور یہ سہولت انہیں پانچ سال کے بعد ملی ہے۔

ملک کی آزادی کے بعد جب اُترپردیش میں کانگریسی ننگے ہوگئے اور انہوں نے اپنے دلوں کا وہ سارا زہر جو مسلمانوں کے خلاف بھرا ہوا تھا وہ سب سے پہلے اُردو کو ختم کرکے نکالا اس وقت تک ہندو لیڈر بھی یا انگریزی بولتے تھے یا اُردو ہندی کا کوئی ایک یا دو لفظ کسی ہندو کے منھ سے نکل جاتا تھا تو سب اس کی طرف دیکھنے لگتے تھے کہ یہ آواز کہاں سے آئی؟ وہ تمام مسلمان جو پاکستان کی مخالفت میں کانگریس کے ہندو لیڈروں کے دوش بدوش مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کہ پاکستان بناکر اپنے کو برباد نہ کرو وہ سب اور وہ ہندو جو ہندی جانتے ہی نہیں تھے، سب کے سب اُترپردیش کی حکومت کے خلاف صف آرا ہوگئے۔

اب اس کہانی کو دُہرانے سے کیا فائدہ جو بار بار سنائی جاسکتی ہے کہ ان اُردو والوں نے اُردو کے لئے کیا کیا، کیا؟ اور پھر آخری حربہ کے طور پر وہ 22  لاکھ دستخط کراکے ایک میمورنڈم صدر جمہوریہ کے پاس لے گئے کہ وہ اس کا اعتماد کرلیں اور اُردو کو اُترپردیش کی علاقائی زبان بنادیں ۔ لے جانے والوں میں ایک بہت مخلص کانگریسی اور پختہ عقیدے کے مسلمان وکیل قاضی محمد عدیل عباسی بھی تھے جنہوں نے لکھا ہے کہ ہم سب وہاں بٹھا دیئے گئے اور جب دھوتی کرتہ اور بنڈی پہنے ہوئے ڈاکٹر راجندر پرشاد صدر جمہوریہ تشریف لائے تو ان کا استقبال کیا اور وفد کے قائد ڈاکٹر ذاکر حسین خاں میمورنڈم پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو صدر نے اشارہ سے روک دیا اور کہا کہ آپ کا میمورنڈم میں پڑھ چکا ہوں ۔ بیٹھئے باتیں کریں ۔ یہ سب اس لئے تھا کہ جتنے بھی گئے تھے وہ چاہے مولانا حفظ الرحمن ہوں ، پنڈت سندر لال ہوں ، علامہ داتریہ کیفی ہوں یا کشن پرشاد کول ہوں یہ سب وہ تھے جن کے بارے میں کہا جاسکتا ہے  ؎

ہمارے ساتھ کے کھیلے ہوئے ہیں

ہم نے جہاں تک پڑھا اور سنا ہے وہ یہ ہے کہ اگر کوئی وفد کتنے ہی اہم یا غیراہم مسئلہ پر بات کرنے جائے صدر کرتہ دھوتی بنڈی میں نہیں ملتے اور جتنے بھی میمورنڈم دیئے جاتے ہیں وہ اب میڈیا میں پہلے ہی عام ہوچکے ہوتے ہیں اور صدر کی نظر سے بھی گذر چکے ہوتے ہیں ۔ لیکن کوئی صدر یہ نہیں کہتا کہ یہ میں نے پڑھ لیا ہے۔ اور آیئے باتیں کریں ۔ یہ اس کا ثبوت ہے کہ ڈاکٹر راجندر پرشاد ان لوگوں سے صدر اور فریادی کے رشتہ کے بجائے پرانے دوستوں کا رشتہ رکھنا چاہتے تھے جو سب کے سب بیٹھنے کے مزے کو ترس گئے تھے۔

ہم دعوے کے ساتھ نہیں لیکن یقین یہی ہے کہ کسی صدر نے ان کے بعد شاید کسی سے یہ بھی نہ کہا ہوگا کہ آپ سب بہت قابل اور پڑھے لکھے لوگ ہیں تو آپ میرے پاس کیوں آئے ہیں ؟ میں تو دستوری صدر ہوں میں تو وہ کرتا ہوں جو میرے وزیر کہتے ہیں ۔ اور اسے بھی میں نہرو کے پاس بھیج دوں گا۔ آپ کو تو پنڈت نہرو سے مل کر بات کرنا چاہئے تھی۔ کل تک کے صدر مسٹر پرنب مکھرجی نے دل سے کہا ہے کہ تشدد کو ہم پر روز بڑھتا ہوا دیکھ رہے ہیں ۔ اس وقت تو انہوں نے اس تشدد کی جڑیں جہالت خوف اور بداعتمادی میں کہا ہے۔ لیکن اس کے بعد جب وہ بنگال جائیں گے تو انہیں معلوم ہوگا کہ اس میں جہالت نہیں ہندوتو کا فلسفہ ہے اور ملک کی بااثر شخصیتیں اور اپنے کو دنیا کی سب سے بڑی پارٹی بتانے والی پارٹی کے صدر بنفس نفیس شریک ہیں اور ان کی زندگی کا مشن ہر صوبہ میں اپنی سرکار ہے جس کے لئے وہ گجرات کا 2002 ء دُہرانے پر آمادہ ہیں ۔

یہ بھی تاریخ کا ایک ورق ہے کہ پہلے صدر ڈاکٹر راجندر پرشاد وہ تھے جو اب تک آخری صدر تھے جو دس برس صدر رہے۔ اور جس دن مدتِ کار ختم ہوئی وہ ڈاکٹر رادھا کرشنن کو جانشینی بناکر اپنا ذاتی تھوڑاسا سامان لے کر سیدھے پٹنہ آئے اور صداقت آشرم میں آکر دم لیا جو اُن کی سیاسی زندگی کا گواہ اور امین تھا۔

رخصت پذیر شری پرنب مکھرجی نے بڑے درد کے ساتھ کہا ہے کہ ہندوستان کی روح تکثیریت اور روداری میں بستی ہے۔ ہندوستان صرف ایک جغرافیائی اقتدار نہیں بلکہ نظریات فلسفہ دانشمندی صفتی، صلاحیت دستکاری اور تاریخ سب کچھ موجود ہے۔ انہوں نے عدم تشدد کے احیاء کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے ہر لفظ سے محسوس ہورہا تھا کہ وہ افسردہ اور دُکھی ہیں جیساکہ ڈاکٹر راجندر پرشاد نے کہا کہ میں تو دستوری صدر ہوں یعنی بے اختیار اور بے بس۔ جنہوں نے باہر رہتے ہوئے منقسم ہندوستان (Divided India)  لکھی اور بتایا کہ بہت سے مسلمان بادشاہوں نے مندروں ، مٹھوں اور پجاریوں کے لئے جائیدادیں وقف کیں اور صاحب علم و کمال پنڈتوں کے لئے جائیدادیں وقف کیں ۔ الہ آباد میں فرامین موجود ہیں جن میں ایک کا تعلق مشہور مندر مہیشور ناتھ کے پجاریوں سے ہے جس کو اورنگ زیب نے عطا کیا تھا۔ اور اسی نے جل جیون کے لڑکے گردھر ساکن بستی ضلع بنارس جد ّو مسرا اور پنڈت مسرا کو بھی جاگیریں دیں یہ سب مندروں کے پجاری تھے۔ اورنگ زیب نے ملتان کے مندر توت لامائی کے مشر چکیان داس کو 100  روپئے ماہانہ کا وظیفہ دیا تھا۔

پہلے صدر ہونے کے باوجود وہ ایسے صدر تھے کہ رخصت ہونے کے بعد یاد نہیں کہ انہوں نے سیاست میں حصہ لیا ہو؟ جو بھی صدر یا اسپیکر بنتا ہے وہ اپنی پارٹی سے تعلق ختم کرکے بنتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بابو راجندر پرشاد عرف راجن بابو نے یہ سوچا ہو کہ جب دس برس پارٹی کی سیاست سے الگ رہے تو اب دوبارہ اس سے کیا رشتہ جوڑیں ؟ ہوسکتا کہ اس گوشہ نشینی میں اس کا بھی اثر ہو کہ ایسے بہت سے کام وہ کرکے جاتے ہیں جن سے عام آدمی کو اختلاف ہوتا ہے اور اس کا جی چاہتا ہے کہ صدر جمہوریہ کو اس معاملے میں سخت رویہ اپنانا چاہئے لیکن وہ دیکھتا ہے کہ صدر محترم نے وہی کردیا جو راج ناتھ سنگھ نے چاہا اس کے بعد گوشہ نشینی ہی اچھی ہے  ؎

ہیچ آفت نہ رسد گوشہ ٔ  تنہائی را

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close