نقطہ نظر

ظالموں پر عذاب کا کوڑا کب برسے گا؟

عبدالعزیز

 جب کوئی قوم یا گروہ یا جماعت جبر و ظلم میں حد سے گزر جاتی ہے تو اس پر اللہ کے عذاب کا کوڑا ضرور برستا ہے ۔ اللہ اپنے بندوں سے بے خبر نہیں ہوتا اور نہ ہی ظالم کی سرکوبی کرنے سے باز آتا ہے۔ یہ ٹھیک کہا جاتا ہے کہ ’اللہ کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی‘ مگر وہ لاٹھی ظالموں پر ضرور برستی ہے۔ ا س کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں ہے۔ جو کچھ ہندستان میں مسلمانوں اور دلتوں کے ساتھ سنگھ پریوار والے کر رہے ہیں ، ایک نہ ایک دن اللہ اسی دنیا میں ان کی ہزیمت اور ذلت کا سامان کرے گا مگر ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا چاہئے۔ ظلم کی ہر طرح سے مزاحمت کی ضرورت ہے۔ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے نہیں رہنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ایک مقام پر نہیں کئی مقام پر ایسی ظالم قوموں اور گروہوں کا ذکر کیا ہے جنھیں نیست و نابود کرکے چھوڑا ہے۔ سورۃ الفجر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 ’’تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے کیا برتاؤ کیا اونچے ستونوں والے عادِ اِرم کے ساتھ، جن کے مانند کوئی قوم دنیا کے ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی تھی؟ اور ثمود کے ساتھ جنھوں نے وادی میں چٹانیں تراشی تھیں ؟ اور میخوں والے فرعون کے ساتھ؟ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے دنیا کے ملکوں میں بڑی سرکشی کی تھی اور ان میں بہت فساد پھیلایا تھا۔ آخر کار تمہارے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسادیا۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب گھات لگائے ہوئے ہے‘‘۔ (آیت:6تا 14)۔

 ’’جزا و سزا پر شب و روز کے نظام سے استدلال کرنے کے بعد اب اس کے ایک یقینی حقیقت ہونے پر انسانی تاریخ سے استدلال کیا جارہا ہے۔ تاریخ کی چند معروف قوموں کے طرز عمل اور ان کے انجام کے ذکر سے مقصود یہ بتانا ہے کہ یہ کائنات کسی اندھے بہرے قانونِ فطرت پر نہیں چل رہی ہے بلکہ ایک خدائے حکیم اس کو چلا رہا ہے اور اس خدا کی خدائی میں صرف ایک وہی قانون کار فرما نہیں ہے جسے تم قانونِ فطرت سمجھتے ہو بلکہ ایک قانون اخلاق بھی کار فرما ہے جس کا لازمی تقاضا مکافاتِ عمل اور جزا اور سزا ہے۔ اس قانون کی کارفرمائی کے آثار خود اس دنیا میں بھی بار بار ظاہر ہوتے رہے ہیں جو عقل رکھنے والوں کو یہ بتاتے ہیں کہ سلطنت کائنات کا مزاج کیا ہے۔ یہاں جن قوموں نے بھی آخرت سے بے فکر اور خدا کی جزا و سزا سے بے خوف ہوکر اپنی زندگی کا نظام چلایا وہ آخر کار فاسد و مفسد بن کر رہیں اور جو قوم بھی اس راستے پر چلی اس پر کائنات کے رب نے آخر کار عذاب کا کوڑا برسا دیا۔

انسانی تاریخ کا یہ مسلسل تجربہ دو باتوں کی واضح شہادت دے رہا ہے۔ ایک یہ کہ آخرت کا انکار ہر قوم کو بگاڑنے اور بالآخر تباہی کے غار میں دھکیل دینے کا موجب ہوا ہے، اس لئے آخرت فی الواقع ایک حقیقت ہے جس سے ٹکرانے کا نتیجہ وہی ہوتا ہے جو ہر حقیقت سے ٹکرانے کا ہوا کرتا ہے۔ دوسرے یہ کہ جزائے اعمال کسی وقت مکمل طور پر بھی واقع ہونے والی ہے کیونکہ فساد کی آخری حد پر پہنچ کر عذاب کا کوڑا جن لوگوں پر برسا ان سے پہلے صدیوں تک بہت سے لوگ اس فساد کے بیج بوکر دنیا سے رخصت ہوچکے تھے اور ان پر کوئی عذاب نہ آیا تھا۔ خدا کے انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ کسی وقت ان سب کی باز پرس بھی ہو اور وہ بھی اپنے کئے کی سزا پائیں ۔

(قرآن مجید میں آخرت پر یہ تاریخی اور اخلاقی استدلال جگہ جگہ کیا گیا ہے اور ہم نے ہر جگہ اس کی تشریح کی ہے۔ مثال کے طور پر حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں : تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف: حواشی 6-5۔ یونس: حاشیہ 12۔ ہود:حواشی 115-105-57۔ ابراہیم: حاشیہ 9۔ جلد سوم، النمل: حواشی 86-66۔ الروم: حاشیہ 8۔ جلد چہارم، سبا: حاشیہ 25۔ صٓ: حواشی 30-29۔ المومن: حاشیہ 80۔ الدخان: حواشی 34-33۔ الجاثیہ: حواشی 28-27۔ جلد پنجم، قٓ: حاشیہ 17۔ النازیات: حاشیہ 21)۔

عادِ ارم سے مراد وہ قدیم قوم عاد ہے جسے قرآن مجید اور تاریخ عرب میں عادِ اولیٰ کا نام دیا گیا ہے۔ سورۂ نجم میں فرمایا گیا ہے کہ وَ اَنَّہٗ اَہْلَکَ عَادَانِ  الْاُوْلٰی، (آیت 50)۔ ’’اور یہ کہ اس نے قدیم قوم عاد کو ہلاک کیا‘‘ یعنی اس قوم عاد کو جس کی طرف حضرت ہودؑ بھیجے گئے تھے اور جس پر عذاب نازل ہوا تھا۔ اس کے مقابلہ میں تاریخ عرب اس قوم کے ان لوگوں کو جو عذاب سے بچ کر بعد میں پھلے پھولے تھے عادِ اخریٰ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ قدیم قوم عاد کو عادِ ارم اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ سامی نسل کی اس شاخ سے تعلق رکھتے تھے جو ارم بن سام بن نوح علیہ السلام سے چلی تھی۔ اسی شاخ کی کئی دوسری ضمنی شاخیں تاریخ میں مشہور ہیں جن میں سے ایک ثمود ہیں جن کا ذکر قرآن میں آیا ہے اور دوسرے آرامی (Aramaeans) میں جو ابتداء ً شام کے شمالی علاقوں میں آباد تھے اور جن کی زبان آرامی (Aramaic) سامی زبانوں میں بڑا اہم مقام رکھتی ہے۔

عاد کیلئے ذات العماد (اونچے ستونوں والے) کے الفاظ اس لئے استعمال کئے گئے ہیں کہ وہ بڑی بڑی بلند عمارتیں بناتے تھے اور دنیا میں اونچے ستونوں پر عمارتیں کھڑی کرنے کا طریقہ سب سے پہلے اسی نے شروع کیا تھا۔ قرآن مجید میں دوسری جگہ ان کی اس خصوصیت کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے کہ حضرت ہودؑ نے ان سے فرمایا اَتَبْنُوْنَ بِکُلِّ رِیْعٍ اٰیَۃً تَعْبَثُوْنَ وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّکُمْ تَخْلُدُوْنَo ’’یہ تمہارا کیا حال ہے کہ ہر اونچے مقام پر لاحاصل ایک یادگار عمارت بنا ڈالتے ہو اور بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے ہو گویا تمہیں ہمیشہ یہاں رہنا ہے‘‘۔ (الشعرائ، آیات 129-128)۔    (تفہیم القرآن)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close