خصوصینقطہ نظر

عدالتوں میں کیوں ٹلتي رہتی ہے سماعت؟

رويش کمار  

سپریم کورٹ سے ایک اچھے کام کا آغاز ہو رہا ہے. اس بار گرمیوں کی چھٹیوں میں 28 میں سے 15 جج تین اہم مقدمات کی سماعت کریں گے۔ تین طلاق پر بھی سماعت ہوگی. ایک اور معاملہ ہے. غیر قانونی طور پر جو لوگ ہندوستان آئے ہیں ان کے بچوں کو شہریت دیے جانے کے معاملے میں بھی سماعت ہوگی. یہ بھی اچھا ہے. برسوں تک سماعت ہونے سے بہتر ہے کہ اس طرح کچھ اہم مقدمات کی سماعت چھٹیوں کے دوران مکمل کر لیا جائے. فیصلہ ہو جائے تو اور بھی اچھا. 24 اپریل 2016 کو وزیر اعظم مودی نے ججوں کے گھر میں چھٹی کو لے کر زور دیا تھا کہ اس بارے میں سوچا جانا چاہئے ورنہ کورٹ کا وقت کبھی بڑھا ہی نہیں جا سکے گا. ہم سب اس بات کے عادی ہوتے جا رہے ہیں کہ عدالتوں میں ججوں کی تعداد کم ہے، سالوں تک سماعت ہی چلتی رہتی ہے. اسے لے کر ایک تنظیم نے مطالعہ کیا ہے کہ کیوں تاخیر ہوتی ہے. طریقہ سینٹر فار لیگل پالیسی نام کی تنظیم نے مطالعہ کیا ہے.

اس کے لئے دہلی ہائی کورٹ کے ،1291 معاملات سے منسلک 0868 احکامات کا مطالعہ کیا گیا ہے. سیمپل کے طور پر ان احکامات کا انتخاب .152011 کے درمیان دائر ،595 202مقدمات میں سے کیا گیا ہے. ان میں سے 245122 کیس کو آٹھ اقسام میں بانٹ کر ان کا سیمپل لیا گیا ہے. سماعت سے لے کر فیصلے تک پہنچنے میں تاخیر کی وجوہات کا پتہ لگانے کی کوشش کی گئی ہے.

عدالتی تاخیر کے سوال کو اکثر ہم خیال کی سطح پر ہی سمجھتے ہیں. کیوں تاخیر ہوتی ہے, اس کے وجوہات پر کم بحث ہوتی ہے. کیا جج صاحب کی غیر حاضری کی وجہ سے تاخیر ہوئی، یا وکیل صاحب نے بار بار بلا اشتعال ملتوی احکامات لے لیا، یا وکیل ہی حاضر نہیں ہوئے، یا عدالت کے پاس واقعی اتنے کیس ہوتے ہیں کہ ہر کیس پر جنتا وقت دینا چاہئے اتنا ہوتا ہی نہیں ہے. ودھی لیگل سینٹر نے پتہ لگانے کی کوشش کی ہے کہ سب سے زیادہ تاخیر کس وجہ سے ہوتی ہے. ملتوی حکم کی وجہ ہوتی ہے. یہی سب سے  بڑی وجہ نکلی ہے. 91 فیصد جن معاملات میں تاخیر ہوئی ہے ان میں ملتوی ایک وجہ تو ہے ہی. 70 فیصد کیس میں تو تین تین بار ملتوی کرنے کی وجہ سے تاخیر ہوئی ہے. کیس کے ملتوی کرنے کے بھی مختلف وجوہات ہیں .

جولائی 2016 میں سپریم کورٹ کے جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس نریمن نے ٹرائل کورٹ کو خبردار کیا تھا کہ ملتوی  ایک وائرس کی طرح ہے. اس کو روکنے کی ضرورت ہے. گایتری بمقابلہ ایم گرش معاملے میں سپریم کورٹ کے ان دو ججوں نے کہا کہ جو گواہ ہے اسے سات بار کورٹ میں بلایا گیا، گواہ آیا بھی لیکن وکیل نے بار بار کیس کو ملتوی کروا لیا اور اس کو ملتوی کر بھی دیا گیا. اس کے بعد سپریم کورٹ کے دونوں جج اپنے فیصلے میں مختلف جگہوں پر لکھتے ہیں کہ، ‘ہمیں یہاں پر کہنا پڑے گا کہ جو آزمائشی جج تھے، وہ کسی الجھن میں تھے کیونکہ مدعا علیہ کے دماغ میں کچھ اور ہی چل رہا تھا. کورٹ کیس کو ملتوی کرتا رہا. مدعا علیہ نے گواہ سے بھی پوچھ گچھ نہیں کی اور اگلی تاریخ لیتے رہے.

ایک بزرگ آدمی کو گواہی دینے کے لئے تو اکثر کورٹ میں آنے میں کیا دقت پیش آئی ہو گی، اس کا تصور کیا جا سکتا ہے. ٹرائل کورٹ نے اس مسئلے کو 3 اکتوبر 2015 تک ملتوی کر دیا. اس دن بھی گواہ کورٹ آیا لیکن مدعا علیہ اور ان کے وکیل ہی کورٹ نہیں آئے. کورٹ نے دوبارہ معاملہ کو ملتوی کر دیا. کیس میں التوا کی درخواست کا مطالبہ کر کے اس کیس میں جان بوجھ کر تاخیر کی گئی.

عدالت میں جتنے بھی کیس هوتے ہیں وہ کورٹ کے سامنے پینڈ نگ ہی کہے جاتے ہیں . چاہے وہ دو ماہ پرانے ہوں یا دو سال. لیکن ودھی ادارے نے یہ دیکھنے کی کوشش کی ہے کہ جن معاملات میں فیصلہ آیا، ان میں کن کن وجوہات سے تاخیر ہوئی، اگر  تاخیر نہ ہوتی تو کیا فیصلہ اور جلدی آ سکتا تھا. معاملات کو نمٹانے میں دہلی ہائی کورٹ کا ریکارڈ بہت اچھا سمجھا جاتا ہے. 15۔2011 کے درمیان جتنے بھی کیس فائل ہوئے ہیں ان کا 76 فیصد حصہ 2015 تک نمٹا دیا گیا. ان میں سے 60 فیصد کیس چھ ماہ کے اندر نمٹا دیئے گئے. دہلی ہائی کورٹ کا یہ ریکارڈ تو شاندار لگتا ہے، لیکن کیا دوسری عدالتوں کے بارے میں بھی ایسا کہا جا سکتا ہے. اتفاق سے جمعہ کو وکلاء نے ہڑتال بھی کی ہے. لاء کمیشن کے کچھ تجاویز کو لے کر ان کی مخالفت ہے.

لاء کمیشن نے ایڈوکیٹ ایکٹ میں ترمیم کی تجویز پیش کی ہے تاکہ وہ ہڑتال نہ کر سکیں . اگر ہڑتال پر گئے تو آپ کے موکل کو نقصانات پہنچے گا. اس میں وکلاء کے پیشہ ورانہ رویے کو بھی بیان کیا جاتا ہے. اگر کسی وکیل پر مسكنڈكٹ کے الزام ثابت ہو گئے تو ان کا لائسنس منسوخ ہو سکتا ہے. جیسے کسی کیس میں انہوں نے مناسب طریقے سے محنت نہیں کی، لاپرواہی کی، کسی سے سودے بازی کر لی، تو اسے  غیر مناسب رویہ تصور کیا جائے گا. وکلاء کا کہنا ہے کہ یہ ایکٹ ان کے خلاف مزاحمت کرنے کے حقوق کے خلاف ہے. وکلاء پر تین سے پانچ لاکھ کے جرمانے کا بھی انتظام ہے. اگر وہ اپنے موکل سے غلط برتاؤ کرتے  پائے گئے تو. اگر وکیل کام پر نہیں آئے تو اپنے موکل کو نقصانات پہنچے گا.

آخر کیوں ہوتی ہے سماعت سے لے کر فیصلے میں تاخیر. اس کا ذمہ دار کون ہیں اور کس طرح اس کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close