معاشرہ اور ثقافتنقطہ نظر

عدل و انصاف کی اہمیت کو سمجھنا اور سمجھانا وقت کی اہم ضرورت

ڈاکٹر ابو زاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی

عادل اور منصف اللہ جل شانہ و عم نوالہ کے صفاتی نام ہیں چونکہ انسان رب کائنات کا خلیفہ ہے اس لیے اس پر لازم ہے کہ وہ گوہر گراں مایہ یعنی عدل و انصاف سے اپنے کردار کو متصف کرے کیونکہ اس کے بغیر تزکیہ نفس محال ہے۔ قرآن مجید میں سب سے زیادہ طولانی و تاکیدی قسمیں اسی موضوع کے متعلق بیان ہوئی ہیں۔ تزکیہ نفس و تصفیہ قلب کی دشوار گزار منزل کو حاصل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ شیطانی اخلاق و عادات اور انواع و اقسام کے مذموم صفات ہیں جن کا ارتکاب کرتے ہی دیانت کا پردہ چاک ہوجاتا ہے اور انسان و جانور دونوں برابرو مساوی ہوجاتے ہیں بلکہ بسا اوقات انسان قوس نزولی میں جانور سے بھی بدتر ہوجاتا ہے۔ دین اسلام نہیں چاہتا کہ اشرف المخلوقات کا رتبہ جانور سے بدتر ہوجائے اسی لیے وہ اپنے پیروکاروں کو صفات محمودہ و عالیہ اپنانے کی تاکید کرتا ہے منجملہ ان کے ایک عدل و انصاف بھی ہے۔

 عدل و بھلائی کرنے اور ظلم و زیادتی سے بچنے کی تعلیم و تاکید ہر نبی و رسول نے فرمائی ہے۔ عدل و انصاف کے تقاضے پورا کرنا حاکم اور رعایا سب پر یکساں لازم ہے۔ عدل و انصاف کے بغیر انسان کی نجات اور اس کے عالم ہستی پر حکومت کرنے کا تصور کرنا بھی ناممکن ہے جبکہ رب کائنات نے مسلمانوں کو دنیا کی امامت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس کے باوجود آج مسلمان ہر میدان میں تنزل و انحطاط کا شکار ہے اور ہر محاذ پر ناکام نظر آرہا ہے۔ مسلمانوں کی ا س پسماندگی کا ایک عامل مسلمانوں کا عدل و انصاف کے حکم سے انحراف کرنا بھی ہے۔ ناانصافی کی اس سے بڑی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ اسرائیل جو معصوم فلسطینیوں پر ظلم و جور اور بربریت کا کوئی موقع نہیں چھوڑتا اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے اور اس کو کیفر کردار تک پہنچانے کے بجائے آج کے مسلم حکمراں اس انسانیت دشمن اسرائیل کو تسلیم کررہے ہیں۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز میزان و عدالت کے نظام پر قائم ہے جب وہ عدل و انصاف کے دائرے سے ہٹ جائیں تونزول بارش، نباتات کے نشو و نما، غنچوں کے چٹخنے، پھلوں کے پکنے الغرض کائنات کا ہر نظام درہم برہم ہوکر رہ جائے، کائنات کی ہر چیز بے روح اور بے نورہو جائے اور قیامت واقع ہوجائے یہی حال انسانی معاشرے کا بھی ہے جب تک معاشرہ عدل و انصاف پر قائم رہے گا انسانی اقدار عروج پر اور انسانیت اپنے اعلی معیار پر قائم رہے گی اور جب کبھی معاشرے میں اجتماعی روابط و معاملات میں موازین حیات کو بالائے طاق رکھ کر ظلم و زیادتی اور ناانصافی کو اپنایا جائے ہوگا تو انسانی معاشرہ تباہی و تاراجی کا شکار ہوجائے گا چونکہ عدل و انصاف کسی بھی انسانی معاشرے کا حسن اور اس کی بنیاد ہے۔

اسی طرح جب تک انسان عدل و انصاف سے کام لیتا رہے گا اس کی زندگی نہ صرف کارآمد رہے گی بلکہ خوشیوں سے معمور بھی رہے گی۔ جس وقت انسان عداوت و قرابت کی بنیاد پر عدل و انصاف کو نظر انداز کرنا شروع کرے گا اس کی زندگی مختلف مصائب و آلام اور مشاکل کا شکار ہوجائے گی۔ مسلمان عدل و انصاف پر مبنی خدائی اجر و پاداش کے قانون سے اچھی طرح واقف ہے کہ اگر انسان سورج کی شعاعوں میں نظر آنے والے ذرات کے برابر بھی کوئی نیکی یا برائی کرے گا تو بالترتیب جزا و سزا پائے گا اس پر رمق برابر زیادتی نہیں کی جائے گی۔ قرآن مجید کی اس آیت کریمہ پر ایمان کا تقاضہ تو یہ تھا کہ بندہ مومن کی زندگی کا ہر لمحہ عدل و انصاف پر مبنی ہوتا تاکہ ناانصافی کی سزا سے اپنے آپ کو محفوظ کرسکے۔لیکن ہماری روز مرہ کی زندگی سے عدل و انصاف تقریباً عنقا ہوچکا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج ہماری زندگی کے اکثر مسائل کے پیچھے عدل و انصاف کافقدان اور ظلم و تجاوز کا عمل دخل ہے۔

مثال کے طور پر لڑکے والے سمجھتے ہیں کہ ان کے لڑکے میں کوئی خامی نہیں ہے اور لڑکی اور اس کے خاندان والوں میں کوئی اچھائی نہیں ہے یہی حال لڑکی والوں کا بھی ہے وہ بھی اپنی لڑکی کو لیکر ہمیشہ خوش فہمیوں کا شکار رہتے ہیں اور رشتہ میں آئی کڑواہٹوں کے لیے صرف اور صرف لڑکے اور اس کے قریبی رشتہ داروں کو قرار دیتے ہیں جو کسی بھی طرح روح ایمان سے مطابقت نہیں رکھتا بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اجرائے عدالت میں ہوا و ہوس پر مبنی ایسا غیر منصفانہ طرز عمل، طرفداری اور تعصب سے کام لینا تو زمانہ جاہلیت کی نشانی تھا جہاں لوگ محبت و نفرت اور مفادات و تعلقات کے زیر اثر گواہی دیتے تھے۔ مسلمانوں پر اسلامی معاشرے کی تشکیل کی ذمہ داری ہے نہ کہ زمانہ جاہلیت کے معاشرے کو فروغ دینے کی۔ ہم اس حقیقت سے بھی اچھی طرح واقف ہیں کہ دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس میں کوئی اچھائی نہ ہو اور نہ ہی ایسا انسان ہے جس میں کوئی برائی نہ ہو۔ رب کائنات انسان کے جسم و روح کی تنظیم کرنے کے بعد اس کو اچھے اور برے کاموں کی تعلیم عنایت فرمائی یعنی ہر انسان میں اچھائی اور برائی کی صلاحیت موجود ہے۔

حقیقت کے اس پہلو سے واقف ہونے کے باوجود اپنے لڑکے /لڑکی کے کردار کو سراسر اچھا بتانا اور غیر کے لڑکے /لڑکی کے کردار پر انگلی اٹھانا کیا یہ انصاف ہے؟ چونکہ نظام عدالت کا انحصار گواہی پر ہے اس لیے قرآن مجید نے حکم فرمایا کہ شہادت و گواہی اور حق بولنے کے معاملے میں عدل و انصاف سے کام لو اور راہ حق سے نہ ہٹواگرچہ یہ عمل تمہاری ذات، والدین، قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ قرآن مجید کا یہ ارشاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دین اسلام اس اہم انسانی مسئلے پر کس قدر حساس ہے اور مسلمانوں کو تاکیدی حکم دیتا ہے کہ قومی عداوتیں، شخصی تعلقات اور معاملات کو بالائے طاق رکھ کر عادلانہ گواہی کے نظام کو قائم کرو کیونکہ اول الذکر میں انسان بلاوجہ محبت میں افراط کا شکار تو موخر الذکر میں انسان بلاوجہ بغض و دشمنی میں افراط کا شکار ہوجاتا ہے اسی لیے فرمایا گیا کہ عدل و قسط پر مبنی گواہی ان تمام وابستگیوں سے بالا تر اور تقوی سے قریب ہے۔ قرآن مجید کے اس صریح حکم کا تقاضہ تو یہ تھا کہ ہم برائی کرنے والے ہر شخص کی مذمت، مخالفت اور نفرت کریں چاہے وہ ہمارا قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں اسی طرح حق پر رہنے والے ہر فرد کی تائیدو حمایت کریں اگرچہ وہ ہمارا سخت ترین مخالف ہی کیوں نہ ہو۔قابل غور بات یہ بھی ہے کہ قرآن مجید نے جس طرح نماز قائم کرنے کا حکم فرمایا ہے اسی طرح عدالتِ اجتماعی قائم کرنے کا بھی حکم فرمایا ہے یعنی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عدل و انصاف کا یہ حکم کسی خاص مقدمہ تک محدود نہیں ہے بلکہ مومن کو چاہیے کہ زندگی بھر عدل و انصاف سے کام لے یہاں تک کہ عدل و انصاف اس کے اخلاق و عادات کا حصہ اور اس کی فطرت ثانیہ بن جائے۔

 قرآن مجید کی حکم عدولی اور ہماری ناانصافی کی روش کا ہی نتیجہ ہے کہ مسلم معاشرے میں خلع و طلاق کی شرح میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے، رشتے ٹوٹ کر بکھر رہے ہیں جس کے منفی اثرات اولاد پر پھر معاشرے پر مرتب ہورہے ہیں۔ عدل و انصاف جیسے عالی وصف کا تقاضہ یہ بھی ہے کہ مسلمان سرکاری تقررات میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر کرے اور عدل و انصاف کے تقاضوں کو بغیر کسی مصلحت کے پورا کرے لیکن مسلم معاشرے کی ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ مسلم سربراہ کے زیرانتظام چلنے والے سرکاری اداروں میں سفارش اور اقربا پروری کی بنیاد پر تقرر کا چلن تیزی سے عام ہوتا جارہا ہے جس کی وجہ سے ایک طرف نااہل افراد کا تقرر عمل میں آرہا ہے تو دوسری طرف اہل امیدوار اپنے حق سے محروم ہورہا ہے۔ مزید برآں وہ نااہل شخص جس کا تقرر سفارش یا اقربا پروری کی بنا پر ہوا ہے وہ زندگی پر اپنے عہدے سے انصاف نہیں کرپائے گا جس کے منفی اثرات بھی معاشرے پر مرتب ہوں گے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ معاشرے کا استحکام اور اقوام کی بقا عدل و انصاف ہی سے وابستہ ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں
Close