نقطہ نظر

عرش سے فرش پر

راجہ طاہر محمود

پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو ملکی تاریخ کے سب سے بڑے عدالتی فیصلے کی بنیا د پر تاحیات نااہل کر دیا گیاہے جس کی وجہ سے مسلم لیگ ن پریشان نظر آ رہی ہے اور طرح طرح کے مفروضوں کی وہ کہانیاں گڑھی جا رہی ہیں کہ لگتا ہے کہ ن لیگ درست ہے اور باقی سب غلط عدالتی فیصلے کی اپنی اپنی تشریح کی جارہی ہے۔  اگر دیکھا جائے تو میاں محمد نواز شریف  جب بھی اقتدار میں آتے ہیں تو ان کے ساتھ شامل ہونے والے خوشامدی لوگ نجانے کیوں ان کو اس بند گلی میں لے جاتے ہیں کہ ان کے اقتدار کا خاتمہ ہو جاتاہے اب اس کو سازش کہیں یا کچھ اور یہ وقت ہی بتائے گا۔ اس کی سب سے بڑیی وجہ میاں محمد نواز شریف کی خود پسندی بھی ہے وہ اقتدار میں آتے ہی اپنے فرمانبرداوں اور وفاداروں کو بھول جاتے ہیں اور ان کو ایسے لگتا ہے کہ جیسے ان کا اقتدار نا ختم ہونے والا ہے ایسے میں ان سے وہ وہ باتیں سرزد ہو جاتی ہیں یا کروا لی جاتی ہیں جن کی وجہ سے ان کی کشتی پھر سے بنور میں پھنس جاتی ہے۔

یہ سب کارنامے ان کے گرد جمع ہونے والے خوشامدیوں کی وجہ سے ہوتے ہیں آپ دیکھ لیں 2013کے الیکشنوں میں جیتنے کے بعد کوئی بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ میاں محمد نواز شریف کی حکومت کو وقت سے پہلے کوئی چلتاکر سکتا ہے وہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ اسمبلی میں آئے تھے اور اس کی بڑی وجہ پاکستان پیپلز پارٹی کی وہ بری حکومت تھی جس نے ملک کے ہر شعبے کو بری طرح متاثر کیا تھا کرپش کی وہ لازوال داستانیں رقم ہوئی کہ جن کے بارے میں جب اگلی قسط(پانامہ ٹو ) چلے گی تو پتا چلے گا ابھی تو ایک پارٹی کا احتساب ہوا ہے ابھی تو پوری پکچر چلنی ہے۔ خیر اس کے بعد عوام نے اچھی کارکردگی دیکھانے کے لئے میاں محمد نواز شریف کی جماعت کو ووٹ دیکر کامیاب کیا بعد ازاں جو بھی الزامات لگے، جو بھی کیسزز چلے وہ اپنی جگہ مگر ایک بات سامنے تھی کہ ملک کی سمت کا تعین ہو چکا تھا ملک کی تیسری بڑی جماعت جو اب خیر سے دوسری بڑی جماعت تقریبا بن چکی ہے۔ اس نے صیحح معانوں میں اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہوئے ن لیگ کو ٹف ٹائم دیا اور سیکنڈ اپوزیشن ہوتے ہوئے بھی فرسٹ اپوزیشن کا کردار ادا کیا جس کا کریڈٹ برحال پی ٹی آئی کو جاتا ہے انھوں نے عوام کو وہ شعور دیا جو بانی پیپلز پارٹی ذولفقار علی بھٹو نے پاکستانی عوام کو دیا تھا میرا ذاتی خیال ہے کہ جس طرح کی اپوزیشن پی ٹی آئی نے کی اگر وہ ایسے نہ کرتے تو شاید آج پانامہ کا ہنگامہ نہ ہوتا نہ ہی کوئی کیس ہوتا اور نہ ہی کوئی بے نقاب ہوتا آج ملک کے چپے، چپے میں ہر عام آدمی کی زبان پر پانامہ کے ہنگامے کا شور ہے۔

 لوگ سوچ رہے ہیں کہ تین بار وزیر اعظم بننے کے بعد بھی میاں محمد نواز شریف کو وہ شعور کیوں نہیں مل سکا جو ایک بار صدر بن کر آصف زرداری کے حصے میں آیا جن کی حکومت نے اپنے پانچ سال پورے کیے تو جناب وجہ یہ ہے کہ جب میاں محمد نواز شریف اقتدار میں آتے ہیں تو خوشامدیوں کے گیرے میں آجاتے ہیں وفاداروں کو گڈے لائن لگا کر خوشامدیوں کی باتوں سے خوش ہوتے ہیں اور انھیں یہی خوشامدی جن میں وہ لوگ جو ٹی وی پر بیٹھ کر ان کی پیٹھ تھپ تھپاتے ہیں کہ میاں صاحب استعفیٰ نہیں دینا اگر دیا تو جناب آپ تو ڈوبو گئے ساتھ میں ہماری وزارتیں بھی جائیں گی وہ تو اپنے فائدے ے لئے میاں محمد نواز شریف کو استعمال کرتے ہیں اور میاں محمد نواز شریف سمجھتے ہیں کہ شاید وہ ان سے مخلص ہیں مگر ایسا ہے نہیں اب ساری دنیا نے دیکھ لیا کہ چوہدری نثار علی خان کی باتیں سچ ہو رہی ہیں جو پینتیس سال سے میاں نواز شریف کے ساتھ تھے ان کو بھی کھڈے لائن لگایا گیا تھا  اگر پانامہ کے ہنگامے شروع ہونے سے پہلے  میاں محمد نواز شریف  استعفیٰ دے دیتے تو آج صورت حال مختلف ہوتی ہو سکتا ہے کہ کیس ہی فائل نہ ہوتا اور جب کیس ہی فائل نہ ہوتا تو کیسی جے آئی ٹی اور کیا فیصلہ میاں محمد نواز شریف نے استعفیٰ نہ دے کر وقتی طور پر خوشامدیوں کی نوکری تو بچا لی تھی مگر اپنی کشتی ڈبو لی اس سے پتا چلتا ہے کہ تین بار کے وزیر اعظم ہونے کے باوجود میاں محمد نواز شریف خود پسند انسان ہیں کرسی سے چمٹے رہنے سے جمہوریت مضبوط نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی ملکی ترقی کر سکتا ہے ۔

میاں محمد نواز شریف بلاشبہ پاکستانی سیاست کا بڑا نام ہیں جن پر مستقبل میں کئی مکالے لکھے جائیں گے ملکی تاریخ میں وہ پہلے شخص ہیں جن کو تین بار وزیر اعظم بننے کا اعزار حاصل ہوا اور یہ اعزاز بھی ان کو حاصل ہے کہ تینوں بار وہ اپنا پانچ سالہ دور حکومت مکمل نہ کر سکے ایسے میں سیاسیات کا ادنیٰ سا طالب علم  ہونے کی وجہ سے میں سوچتا ہوں کہ کیوں عوامی فلاح کی بات کرنے والے ناکام ہوتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ جب یہ لوگ اقتدار میں آتے ہیں تو عوام کو بھول جاتے ہیں اور سیاست کو خدمت سمجھنے کے بجائے جب کاروبار میں ڈاھلنے کی کو کوشش کرتے ہیں تو پھر حالات ایسے ہوتے ہیں جیسے آج ہیں میاں محمد نواز شریف کو ذلیل کروانے والے کوئی اور نہیں بلکہ ان کے وہ مشیر ،وزیر ہیں جنھوں نے بروقت اس کیس کو ہینڈل نہیں کیا اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے ہوئے میاں محمد نواز شریف  کی کشتی کو ڈبو دیا آج کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک بات سمجھ آتی ہے کہ اقتدار کی کشتی میں سوار ہونے کے بعد کامیاب وہی ہوتا ہے جس کو عوام کا دکھ درد کا پتا ہوتا ہے جس میں عاجزی انکساری اور عوامی مفادات سب سے مقدم ہوتے ہیں میاں محمد نواز شریف نے جب بھی اقتدار حاصل کیا اس وقت سے آج تک ان سے کئی فیصلے بر وقت نہ ہوسکے آج ان کے مشیروں سے پوچھاجائے کہ جناب وہ لوہے کہ چنے چبا لئے گئے ہیں کہ نہیں  جناب آج میاں محمد نواز شریف کی کتاب کے صفحے پورے ہوئے کہ نہیں : کہ آج یوم حساب ہوا کہ نہیں۔

بڑے بڑے بول ان کو لے ڈوبے اور یہ بول پی ٹی آئی اور پی پی پی پی نے نہیں بلکہ خود ان کے خوشامدی بولتے رہے خدا کی ذات بڑی بے نیاز ہے جس نے اپنے ہاتھ میں ذلت اور عزت رکھی ہے اگر وہ عرش دیتا ہے تو فرش بھی دیتا ہے اقتدار چونکہ اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اس لئے جب وہ کسی کو اقتدار عطاء کرتا ہے تو اس کی نگرانی بھی خود کرتا ہے تاریخ گواہ ہے کہ اس کی ا مانت میں جس ،جس نے خیانت کی وہ تاریخ کے اوراق میں گم ہو گیا ایسے میں میاں محمد نواز شریف نے بھی شاید وہی غلطی دھرائی جو دیگر حکمرانوں نے اقتدار ملنے کے بعد کی تھی سو آج وہ بھی ان کی طرح طرح طرح کی تاویلیں دے رہے ہیں کہ جناب ہم تو بے قصور ہیں ہم تو صاف ہیں مگر ایک احتساب کرنے والا اوپر بھی بیٹھا ہے جس کے ترازو میں نہ کوئی سفارش چلتی ہے اور نہ کوئی پیسہ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close