نقطہ نظر

علماء اور عوام کی یہ دوریاں

عبد النور عبد الباری فکردے ندوی

فتنوں کے اس دور میں جب کہ ہر طرف ضلالت وگمراہی کے اسباب آسانی اور کثرت سے موجود ہیں، سادہ اور معصوم عوام کو غیر شعوری طور پر اسلامی تعلیمات سے دور کرنے کے لئے اور انھیں غلط کاری، بے راہ روی اور گمراہی میں مبتلا کرنے کے لئے طرح طرح کے حربے اختیار کئے جارہے ہیں، ملمع سازی اور ظاہری رعب وادب کا سہارا لے کر عوام کو بہکایا جارہا ہے، زہر کو تریاق، حق کو باطل اورغلط کو صحیح بنا کر پیش کیا جارہا ہے، جس سے سیدھے سادھے عوام اپنی سادگی اور جہالت کی بناء پر اس ظاہری چمک دمک سے مرعوب ہوکر اس کے برے نتائج کا اندازہ نہیں لگا پاتے، اور اس سے بے پرواہ ہوکر اس غیر شعوری سازش کا شکار بن جاتے ہیں۔

قارئین کرام اگرتاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو یہ بات اچھی طرح صاف اور واضح ہو جاتی ہے کہ انگریزوں نے اس ملک پر ناجائز قبضہ جمانے کے بعدجس طبقہ کو پہلا نشانہ بنایا تھا، اور جس پر ظلم وستم کی داستانیں کی گئی تھیں وہ اہلِ علم اورعلماء کرام تھے، صرف سنہ۱۸۵۷کی جنگ آزادی میں جسے بڑی مکاری سے انگریزوں نے غدر کا نام دیا، جس میں پچاس ۵۰ ہزار علماء کرام کا خون بہایاگیا، برطانوی حکومت میں جب ڈاکٹر ولیم رائے سے رپورٹ طلب کی گئی تھی کہ بتا ئیں ہندوستان میں ہماری حکومت کیسے قائم رہ سکتی ہے تواس وقت ولیم رائے نے حقیقت پسندانہ جائزہ لیتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ ہندوستان میں سب سے زیادہ بیدار مسلمان ہیں، اوربالخصوص مسلمانوں میں بھی سب سے زیادہ بیدار علماء ہیں اور علماء کا حال یہ ہے کہ عوام ان پر نچھاور ہوجاتے ہیں، ان کی ایک آواز پر سب لبیک کہتے ہیں، یکجا ہوجاتے ہیں، متفق اور متحد ہوجاتے ہیں، اس کے بعد ہی سے پورے برصغیر ہندمیں جس طبقہ کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیاتھا وہ علماء کا طبقہ تھا، اور ایک ایک دن میں پانچ پانچ سو علمائے کرام کو پھانسی کے تختہ دار پر چڑھا گیا تھا، تاکہ انگریز حکومت کا چراغ گل نہ ہو پائے اور اس کی طاقت ہمیشہ کے لیے باقی رہے۔ اوراگر اُدھر عالم اسلام پر نظر ڈورائی جائے تو آپ کو یہی سازش کام کرتے نظر آئے گی، اسی لیے فلسطین میں بھی جب آہستہ آہستہ یہودیوں نے اپنے قدم جمانے شروع کئے تو وہاں بھی اس سازش کوسمجھنے والے علماء کرام ہی تھے، انھوں نے عوام کے سامنے بڑی دردمندی کے ساتھ یہ بات رکھی کہ یہودیوں کو زمین نہ بیچی جائے لیکن یہودی دوگنی اور سہ گنی قیمتیں دینے کے لئے بھی تیار ہوئے، جس کے نتیجے میں عوام نے علماء کی باتوں کونظر انداز کیا، اور اپنی اپنی زمینوں کو بڑی بڑی قیمتوں کے لالچ میں یہودیوں کو بیچنا شروع کر دیا اور دیکھتے دیکھتے یہود وہاں کی زمینوں کے مالک بن گئے۔

اسی طرح کا کھیل دشمن طاقتوں کی طرف سے پورے عالم اسلام میں کھیلا جاتا رہا ہے، اور ایسا نظام تعلیم مرتب کیا گیا جس میں عصری ودینی تعلیم کی ایسی تفریق کی گئی جس کی نظیر علوم وفنون کی دنیا میں پہلی بار دیکھی گئی، جس کانتیجہ یہ ہوا کہ ان دونوں جماعتوں کے درمیان دوریاں بڑھتی گئیں، جس نقصان کا خمیازہ مسلمان آج تک بھگت رہے ہیں، جبکہ یہ عصری علوم نہ مذہب کے خلاف ہے اور نہ مذہب کی رہنمائی سے بے نیاز ہیں، بہرحال تعلیم کے اس موضوع پھر کھبی ان شاء اللہ گفتگو ہوگی، آج پھر سے ہمارے ملک میں برہمن لابی اس فکر میں ہے کہ کیسے علماء کو بے عزت کیا جائے، ان کے وقار واحترام کی کمی پیدا کی جائے، تاکہ عوام میں ان کی اہمیت بالکل باقی نہ رہ پائے، ذرا غور کریں تو صاف ظاہر ہے کہ ہمارے ملک کے نیوز چینلوں پر کس طرح وہ مکاری اور عیاری سے اپنی ناپاک ذہنیت کا ثبوت دیتے ہوئے اکثر کم علم بلکہ کبھی بے علم اور جاہل افراد تک کو اپنے چینلوں پر اسلامی احکام کے متعلق ڈیبیٹ کے لئے بلاتے ہیں، وہ کھبی پختہ عالم دین کو بلانے کی زحمت گوارہ نہیں کرتے، اور پھر ان لوگوں کے ذریعے اسلام کو بدنام کرنے کی گندی کوشش کی جاتی ہے اور خود مسلمانوں کا اعتماد بھی اسلام پر سے ختم کیا جارہا ہے، ان کی مشنریاں اس بات پر کام کررہی ہیں کہ مسلم عوام کا ان کے قائدین سے بھروسہ ختم کیا جائے، ان کی مرکزی تنظموں سے اعتماد آہستہ آہستہ کم کرتے کرتے مکمل ختم کردیا جائے، جس کی کھلی مثال مسلم پرسنل لاء بورڈ ہے، افسوس کہ آج لوگ اس جیسے متحد اور موقر ادارے پر انگلیاں اٹھارہے ہیں، کاش کہ وہ اس کی تاریخ اور کارناموں سے واقف ہوتے۔

آج چاروں طرف گمراہ کرنے والی تحریکوں اور تنظیموں کا جال بچھا ہوا ہے تاکہ مسلمانوں کا ان کے دین وایمان سے رشتہ کمزور کیا جائے، اس الحاد ولادینی کی فضا کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ کہ شیطان نے بندوں کو گمراہ کرنے اور صحیح راستے سے ہٹانے کا جو عہد وپیمان اللہ سے کیا تھا، اس نے گویا اس وعدے کی تکمیل کے لئے کمر کس لی ہے، دشمنوں کی ساری جد وجہد کا مقصد ہی یہ ہے کہ مسلمانوں کے پاس ان کی وہ قیمتی دولت محفوظ نہ رہ جائے، جس کے بل بوتے پر وہ ہر کام کر گزرنے کی صلاحیت واستعداد اپنے اندر رکھتے ہیں، اوراپنے اکابر واسلاف کی شاندار یادوں اور عہد ماضی کے کامیاب نقوش کو دوبارہ زندہ کرسکتے ہیں، اسی کے پیش نظر علماء سے مسلم عوام کا رشتہ توڑاجا رہا ہے، اور بد قسمی سے اس کردار کو انجام دینے میں کچھ مغرب ذرہ دماغ اور عصری تعلیم یافتہ ذہن بھی جانے اور انجانے میں ان کا تعاون کر رہے ہیں، ناظرین غور کرنے کا مقام ہے کہ علمائے کرام ہی حقیقی معنوں میں سماج و معاشرہ کی اصلاح کے اولین ذمہ دار اور انسانیت کے حقیقی بہی خواہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے کاندھوں پر عوام کو سیدھی راہ دکھانے کی ذمہ داری ڈالی ہے اور یہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے کہ بلکہ کتاب و سنت کی صحیح توضیح و تفسیرکرتے ہیں اور اسلامی دعوت و ارشاد کا فریضہ انجام دیتے ہیں، قرآن میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ اے نبی ! آپ بتائیے کہ کیا علم رکھنے والے اور علم نہ رکھنے والے دونوں برابر ہوسکتے ہیں۔

احادیث مبارکہ کی ورق گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ علمائے کرام کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند و بالا ہے۔اللہ تعالیٰ جسے علم شرعی کے حصول کی توفیق بخشتا ہے یقینا اس کے حق میں خیر کا ارادہ فرماتا ہے۔(صحیح بخاری و مسلم)یہی نہیں حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک عالم جتنے انسانوں کو علم سکھاتا ہے، وفات کے بعد بھی اس کا ثواب اسے ملتا رہتا ہے،اس جماعت کو نبیوں کا وارث قراردیا گیا ہے۔

 اللہ تعالیٰ کی کمال حکمت کہئے کہ انبیاء کرام کی وفات کے ساتھ ہی وہ علم دین و شریعت کو اٹھاتا نہیں ہے بلکہ انبیاء کرام اپنی وفات سے پہلے اس عظیم نعمت کا مخصوص انسانوں کو وارث بنادیتے ہیں، دوسری طرف عالم کو عابد پر فضیلت دی گئی ہے، اس لئے کہ علم کے بغیرعابد راستہ بھٹک سکتا ہے، جس کی واضح مثال خوارج کا فتنہ ہے۔کیا آپ جانتے ہیں کہ خوارج انتہائی عبادت گزار تھے، لیکن ان کے پاس علم نہیں تھا جس کی وجہ سے یہ دینِ اسلام سے نکل گئے۔انہوں نے بغیرعلم کے اجتہادکرنا شروع کیا اور اس اجتہاد نے انہیں کہیں کا نہ چھوڑا۔یہ مسلمانوں کے خلاف برسرپیکار ہوگئے۔

ایک خارجی لیڈر عبدالرحمن بن ملجم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو قتل کیا اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ ملعون انسان اپنی اس حرکت کو تقرب الٰہی کا ذریعہ بھی سمجھتا تھا،آج بعض ناسمجھ لوگ علمائے کرام کی شان میں گستاخی کے مرتکب ہورہے ہیں، ان کی تنقیص کررہے ہیں، ان پر بے جا تبصرے کر رہے ہیں، ان پر غلط سلط الزامات لگا رہے ہیں، یقینا یہ بڑی محرومی اور ڈرنے کی بات ہے، حضرت مولانا الیاس کاندھلوی ؒ فرماتے تھے کہ علماء پر لعن طعن کرنے والے پر خطر ہ ہے کہ اس کا انجام کہیں براہوجائے، چنانچہ ایک عجیب واقعہ ملتا ہے کہ ایک آدمی اپنے وقت کے بڑے عالمِ دین پر لعن طعن کرتا تھا تو آخری ایام میں اس کا حشر یہ ہوا کہ اس کاپاخانہ منھ سے نکلنے لگا، اور اس طرح کی الگ الگ مثالیں ہم اپنی آنکھوں سے دنیا ہی میں دیکھ سکتے ہیں، ناظرین، یہ اور اس طرح کے دسیوں واقعات آپ کو ملیں گے۔

اس لئے کہ علماء ئے کرام شعائر اسلام میں ایک شعار کی حیثیت رکھتے ہیں، لہٰذا ان کا احترام اسلام کا احترام ہے،اور ان کی ذات سے تماشہ کرنا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے، تو ہم سب پر ضروری ہے کہ علمائے کرام سے اپنے مسائل میں رہنمائی حاصل کریں، دین کی تفہیم وتشریح کا حق انہیں کے پاس رکھیں، ان سے اپنے تعلق کو بڑھائیں، ان کا احترام کریں، انھیں ان کا مقام دیں، ان پر طعن و تشنیع نہ کریں، ان کی عزت سے نہ کھیلیں، علماء انبیاء کی طرح معصوم نہیں ہیں، ان سے غلطیاں سرزد ہوسکتی ہیں، اگر کوئی غلطی سرزد ہوتو ان کے لیے ہدایت کی دعا کریں، اور خود ان کے پاس جاکر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو بڑوں کو بڑا نہ سمجھے، چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور عالموں کے حق کو نہ پہچانے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close