فخر زماں اور حسن علی کا مہذب انداز!

عبدالعزیز

 آئی سی سی چمپئن کے فائنل میچ میں جیت کا سہرا پاکستان کی ٹیم کے سر جاتا ہے جس کے بارے میں توقعات کم تھے کیونکہ پاکستان ٹیم بظاہر کمزور تھی اور ہندستان کے ساتھ پہلے میچ میں 124رنوں سے ہار چکی تھی۔ ہاں یہ ضرور کہا جارہا تھا کہ پاکستان نے ہندستان کی ٹیم کی ہار کے بعد تیزی سے Backup کیا ہے اور اپنے اندر اعتماد (Confidance) پیدا کیا ہے۔ انگلینڈ اور سری لنکا جیسی بڑی اور مضبوط ٹیموں کو ہراکر فائنل میں قدم رکھا ہے۔ اس لئے میچ بڑا زور دار (Chalanging) ہوگا۔

 کھیل جب شروع ہوا تو پاکستانی بلے بازوں کے بارے میں جو تشویش ظاہر کی جارہی ہے اس کے بالکل برعکس ہوا۔ پاکستانی بلے بازوں نے خاص طور پر فخر زماں جو اوپننگ بیٹسمین تھے 114رن بنانے میں کامیاب ہوگئے اور سب نے مل کر ہندستان کے سامنے 338 رنوں کا چیلنج کھڑا کر دیا جو ایک بڑا اسکور تھا جس تک کسی ٹیم کا پہنچنا ایک مشکل کام تھا۔ پھر بھی ہندستانی بلے بازی میں جو دم تھا تو بعض لوگوں کے خیال میں ہندستانی بلے باز جیتنے کیلئے 339 رن بناسکتے ہیں مگر ہوا یہ ہے کہ ہندستانی بلے باز امیر خان، حسن علی اور جنید علی اور شاداب خان کی گیند بازی کے سامنے تاش کے پتے کی طرح ایک ایک کرکے بکھر گئے۔ اس میچ میں فخر زماں اور حسن علی کی شہرت اور عزت زیادہ بڑھ گئی مگر ان دونوں نے جو لندن اور اپنے ملک میں انٹرویو دیئے اور باتیں کیں تو نہ صرف یہ دونوں ایک اچھے کرکٹر معلوم ہوئے بلکہ اچھے انسان بھی نظر آئے۔ ان دونوں نے اپنے ماں باپ کا ذکر کیا اور دونوں کی دعاؤں کی برکت اور ان کی کامیابی میں دونوں کی دعاؤں کا ہاتھ بتایا۔

فخر زماں سے جب ہندستانی کھلاڑیوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے ہندستانی کھلاڑیوں کے برتاؤ اور اخلاق کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ ’’دیکھو جی؛ سب کھلاڑی اپنے ملک کیلئے کھیلتے ہیں ۔ سب کو ہار کا ضرور ملال ہوتا ہے۔ ان سب کے باوجود سب کا برتاؤ بڑا اچھا رہا اور کسی قسم کی چشمک یا رنجش سامنے نہیں آئی۔ ہم لوگوں نے بھی جیتنے کے باوجود ان کے ساتھ ہرطرح اچھا برتاؤ کرنے کی کوشش کی‘‘ ۔

 حسن علی سے جب ہندستانی کھلاڑیوں کے بارے میں دریافت کیا گیا تو کم و بیش وہی باتیں کیں جو فخر زماں نے کی تھیں ۔ جبکہ دونوں اپنے اپنے گھروں میں انٹرویو پاکستانی ٹی وی چینلوں کو انٹرویو دے رہے تھے۔ انٹرویو کے وقت بھاری تعداد میں لوگ جمع تھے۔ ان میں سے ایک شخص نے حسن علی کو جوش دلانا چاہا کہ میچ سے پہلے ہندستانی ٹی وی چینلوں پر پاکستان کا خوب خوب مذاق اڑایا گیا ۔ ویرندر سہواگ کی بات یاد دلائی گئی۔ ’’ہندستان باپ ہے، پاکستان بیٹا ہے اور بنگلہ دیش پوتا۔ وہ کیا مقابلہ کرے گا‘‘۔ اس پر حسن علی نے نہایت سنجیدگی سے کہا سہواگ بڑے پلیئر ہیں ۔ ان کی میں بڑی عزت کرتا ہوں ۔ ان کو ایسی بات نہیں کہنی چاہئے۔ اب ان کو خود اپنی بات پر شرمندگی معلوم ہوتی ہوگی کہ کون باپ ہے اور کون بیٹا؟ سوشل میڈیا کے ذریعہ ہندستان کے لوگ یا پاکستانی ٹی وی چینلوں کے توسط سے ایسی باتیں ضرور لوگ سنتے ہوں گے اور اچھے لوگ ضرور ایسے اچھے کرکٹروں کو جو دونوں ملکوں میں اچھا رشتہ دیکھنا پسند کرتے ہیں Apprecia (حوصلہ افزائی) کریں گے۔

 ایک ہندستانی ہندو نوجوان نے ایک ویڈیو تیار کی ہے جو سوشل میڈیا میں دیکھا جارہا ہے۔ اس نے سہواگ کی طرح ہندستانی کرکٹروں اور ہندستانی اینکروں کو بے نقاب کرتے ہوئے انھیں سمجھانے کی بھر پور کوشش کی ہے کہ کرکٹ کو کھیل سمجھنا چاہئے، جنگ و جدل نہیں سمجھنا چاہئے۔ کھیل کو کھیل سمجھ کر بات کرنا چاہئے۔ اس نے سہواگ اور شعیب اختر(پاکستانی کرکٹر) کی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے سہواگ کی باتوں کی زبردست مذمت کی اور کہاکہ ایک پاکستانی کرکٹر جب ایک ساتھ بیٹھا ہو اس کی بے عزتی کرنا اسے نیچے گرانا کہاں کی شرافت ہے جبکہ شعیب ہنستا رہا اور مہذب انداز سے سہواگ کا جواب دیتا رہا۔ اسی طرح اس ویڈیو میں ہندستانی نوجوان نے ہندستانی ٹی وی کی بھی خبر لی کہ وہ ابھی اینکر بننے کے بجائے سہواگ جیسی فطرت کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ جبکہ پاکستانی اینکروں کا انداز شائستہ اور مہذب ہوتا ہے۔

  ہندستانی اخباروں میں شائع شدہ دو تصویریں بہت اچھی اور خوشنما معلوم ہوئیں ۔ فائنل میچ کے دن ہندستانی صبح کے اخباروں میں ایک تصویر میں دھونی سرفراز کے ننھے منے بیٹے عبداللہ جو تین چار مہینے کا مشکل سے ہوگا کی گود میں ہے اور سرفراز اور اس کی بیوی دھونی کے بغل میں کھڑے ہیں ۔ آج (21جون 2017ء) کے ایک ہندستانی اخبار میں پاکستانی بالر جنید علی کے اہل خانہ (بیوی بچوں ) کے ساتھ دھونی اور ویراٹ کوہلی کی تصویر شائع ہوئی ہے۔ یہ سب اچھی علامتیں ہیں ۔ ان کو جاری رہنا چاہئے۔

ایک ہندو نوجوان نے اچھی ویڈیو تیار کی ہے جو دیکھنے کی چیز ہے۔ اس نے ہندستانی اور پاکستانی کرکٹروں کے میل جول کا بڑا اچھا منظر پیش کیا ہے۔ تقریباً بیسیوں ایسی مثالیں پیش کی ہیں کہ ہندستان اور پاکستان کے کرکٹروں نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا۔ دوستی اور محبت کا مظاہرہ کیا اور ایک دوسرے کو اپنے ملک میں آنے کی دعوت دی۔ ایک میچ کے دوران دکھایا گیا ہے کہ وسیم اور تندولکر دونوں نے ایک ہی بوتل سے پانی پیا اور دونوں ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے۔

 ایک واقعہ سورو گنگولی کا بتایا کہ سورو نے اپنے ایک انٹرویو میں کہاکہ میچ کے دوران میں میرا بلا خراب ہوگیا۔ جب مجھے کئی بلے دکھائے گئے تو مجھے شاہد آفریدی کا بلا پسند آیا۔ میں نے شاہد آفریدی سے بلا مانگا تو اس نے خوشی سے مجھے بلا دے دیا۔ ویڈیو میں اس طرح کی کئی خوبصورت اور اچھی باتیں پیش کی گئی ہیں ۔ خدا کرے دونوں ملکوں میں ایسے لوگوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہوجائے جو اچھی باتوں کو جمع کرکے دونوں ملکوں کے عوام کے سامنے پیش کرسکیں تاکہ جو لوگ دونوں ملکوں کو جنگ و جدل کے میدان میں کھڑا کرنا چاہتے ہیں انھیں کبھی کامیابی نہ ہو۔ انسانوں کو انسانوں سے لڑانا انسان کا کام نہیں بلکہ حیوانوں کا کام ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے سیاستدانوں میں حیوانوں کی تعداد بڑھتی چلی جارہی ہے، جو افسوسناک ہے۔



⋆ عبد العزیز

عبد العزیز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے