ملی مسائلنقطہ نظر

فرینڈ شپ ڈے اور ہمارے سیاست داں کی یاری

عبدالقادر صدیقی

ابھی  پچھلے دنوں 7اگست کو فرینڈ شپ ڈے تھا ۔ جو ہمیں بالکل یاد نہ تھا صبح کچھ دوستوں کے مبارکبادی کے پیغام آئے اور ہم خواب غفلت سے بیدار ہوئے ۔ اور ان کے بازی مارلے جانے پر ہم خود سے خفا اور ان سے خوش ہوئے ۔ یوم یاری ( فرینڈ شپ ) کوئی یوم عشاق( ویلینٹائن ڈے) تو ہے نہیں جس کی آمد کی شہنائی پہلے سے ہی بجا ئی جائے اور سونے والوں کو جگا یا جائے ۔ اس لیے ہمیں اس کی آمد کی خبر پہلے سے نہ ہو سکی اور دوستوں نے مبارک بادی کی بازی جیتنے کی خواہش میں ہمیں خواب غفلت سے بیدار بھی نہیں کیا۔ جب ہم نے اپنا فیس بک پیج اور وہاٹس ایپ آن کیا تو مبارک بادی کے بم پٹاکھے اور میزائل سے پورا میدان پٹا دیکھا ۔ آؤ دیکھا نہ تاؤ ہم نے بھی مبارکبادی کے دو چار گولے داغ دئے اور اس سلیبریشن جماعت کے رکن بن گئے ۔ ایسا کرنے پر نہ ہم پچھتائے اور نہ ہمیں کسی کا ڈر ستایا ۔کیوں کہ ہم نے سوچ لیاتھا کہ یوم یاری میں کوئی’ تہذیبی بیماری‘ تو ہے نہیں جسے روکنے کے لیے سوئم سنگھ کے پہلوان اور بھارتی سنسکرتی کے ٹھیکے دار لا ٹھی اور ڈنڈے سے ہمارا خیر مقدم کریں ۔

ہاں یوم عشاق اور یوم یاری میں قدر مشترک یہ ہے کہ دو نو ں ہی میں دل لگنے کا معا ملہ ہے، دونوں ہی بھروسے اور اعتماد پر جیتے اور پنپتے ہیں۔ لیکن ایک میں ہوس ہے تو دوسرے میں اعتماد و بھروسا کا تقدیس ، آمددونوں کی ہی مغرب سے ہوئی ہے لیکن ایک میں انجانا پن ہے اور دوسرے میں اپنا پن۔ ایک میں مغربیت ہے تو دوسرے میں مشرقیت۔ پھر بھی ہم نے سوچا کہ فرینڈ شپ ڈے نرا انگریزی لگتا ہے اور ہم ٹہرے ٹھیٹ ہندوستانی سو ہم آزاد ہو کے بھی انگریزوں کی غلامی کیو ں کریں ؟ جبکہ ایک ہفتہ بعد یوم آزادی کا پرچم لہرانا ہے اور اور آزادی کے گن گان میں لمبا چوڑا بھاشن دینا ہے ۔اس لیے ہم نے سوچا کے اس کی شدھی کرن کرنا چاہیے جیسے کہ کچھ ’خالص‘ قسم کے بھارتی ہمارا شدھی کرن کرنا چاہتے ہیں ۔

اس پوتر (پاک ) نیت سے ہم نے ’فرینڈشپ ڈے‘ کو ’’یوم یاری‘‘ یا مترتا دیوس سے ملقب کرکے اس کا شدھی کرن یا بھارتیہ کرن کردیا ۔ ہماری فلم انڈسٹری بھی پہلے بہت حد تک ’شدھ‘ تھی اسی لیے وہاں بھی یاری اور یارا کا تصور خوب رہا ہے، جیسے ’’یاری ہے ایمان میرا۔۔۔ یار میری زندگی‘‘ یا۔۔۔ ’’ تجھ پے قربان میری جان ۔۔۔میرا دل میرا ایمان۔۔۔ یاری میری کہتی ہے، یار پے کردو سب قربان ‘‘۔ یار کے لیے یاری کا یہ جذبہ اور یہ ایثار خالص ہندوستانی نہیں ، بلکہ یہ آفاقی اور کائناتی ہے ۔ دوست اور دوستی اور یار اور یارانہ میں یہ فرق ہوتا ہے کہ دوستی اور دوست میں بھروسہ اور اعتماد کے ساتھ ساتھ کچھ ادب اور احتیات ملحوظ رہتا ہے ۔ لیکن یار یا یارنہ بے تکلفانہ ہوتا ہے ۔ جہاں حجاب اور ہیاؤ کا کوئی دخل نہیں ہوتا ہے ۔ جو چاہا بول دیاجو چاہو کہدیا اور سن لیا جیسے چاہا بیٹھ گئے مذاق پر گراں نہیں گذرا بلکہ لطف و انبساط دیتا ہے ۔ تکان دور ہوجاتی ہے طبیت ہشاش و بشاس ہو جاتی ہے یا ٹھیٹ زبان میں یو ں کہیے کہ موڈ فریش ہوجاتا ہے ۔ اس موڈ فریش پر شدھی کرن کے پجاری کہیں ہم پر پل نہ پڑیں ۔

ہمارے یہاں بول چال میں بہت قریبی دوست کو لونگوٹیا یار کہتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ اب لونگوٹ کی جگہ کچھیا یا جانگھیا نے لے لیا ہے ۔ لونگوٹیا یار وہ ہوتا ہے جو آپ کا رازدان ہوتا ہے اور ان رازوں سے بھی واقف ہوتا ہے جہاں تک نہ شریک حیات کی رسائی ہوتی ہے اور نہ شریک خانہ کی۔ یار کی یاری سندری ناری سے بھی حسین ہوتی ہے ۔سچی یاری معصوم بچے کی معصوم کلکاری جیسی ہوتی ہے ، فضا میں پرواز کرتے فاختہ جیسی ہوتی ہے، مور کے پنکھوں کی طرح حسین ہوتی ہے، صبح کی شبنم کی طرح ٹھنڈی ہوتی ہے برسات کی چاندنی کی طرح چمکتی ہے، ہواؤں کی طرح کانوں میں سرگوشی کرتی ہے اور پھولوں کی خوشبو کی طرح مہکتی ہے۔ اسکا بھروسہ دیوار چین سے بھی مضبوط ہوتا ہے۔ لیکن وہ جو کہتے ہیں نہ کہ کوئی قلعہ ناقابل تسخیر نہیں ہوتا، کبھی کبھی دشمنی کی سیاست دوستی کے ناقابل تسخیر سمجھے جانے والے قلعہ کو بھی تسخیر کر لیتی ہے۔ جیسے آزادی سے قبل ہندو مسلم یکتائی کے قلعے کو مطلبی سیاست کے عفریتوں نے تسخیر کرلیا ۔ جیسے آزاد ہندوستان میں میرٹھ، مرادآباد، ہاشمپورہ، جمشیدپور اور بھاگلپور میں ساری یار ی دھری کی دھری رہ گئی، دوستی ہار گئی اور نفرت جیت گئی۔دوستی اور یاری جب نفرت کی سیاست کے شکنجے میں جکڑجاتی ہے تب گجرات اور مظفر نگر میں انسانیت سسکنے اور بلکنے لگتی ہے۔

یوم یاری پر سیا ست داں بھی خوب رجھتے رجھاتے ہیں اور لوگوں کولبھا تے ہیں۔ مگر سیاست کی یاری میں پائداری کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہاں موقع ملتے ہی لوگ یاری کو لات مار اپنی لنگوٹ سمیٹ دوسرے خیمے میں بھاگ لیتے ہیں ۔ کچھ لوگ تو یاری کا دم بھرتے ہوئے بھی مکاری کر جاتے ہیں جیسےنتیش کمار  نے لالو کو دھوکادیا جیسے رام ولاس پاسوان نے سیکولرزم کو دھوکا دیا جیسے، امر سنگھ نے سب کو دھوکادیا ۔ فلمی دنیا کے ستاروں کی یاری بھی ایاری لگتی ہے۔ ڈراما اور ناٹک کرتے کرتے انکے کی یاری بھی اداکاری میں بدل جاتی ہے ، کب کون کس کے ساتھ چلا جائے ،کو ن کس کا مذاق اڑاجائے اور کون کس پر لٹو ہوجائے کہنا مشکل ہو جاتا ہے ۔

آ جکل تو بہت سے ٹی وی اینکر س بھی جی بھر کے یاری نبھا رہے ہیں ۔ ’آپ کی عدالت‘ او’ر نیوز آور‘ میں سرکاری یاری کی ایسی نغمہ سرائی ہورہی ہے کہ لگتا ہے ہندوستان واپس سونے چڑیا بن گئی ہے اور گرتی معیشت تخت سلیمانی پر اڑ رہی ہے۔ اینکرس کی سرکاری یاری یہیں تک محدود نہیں ہے، بلکہ میں حکومت کی کمزوریوں اور پالیسیوں پر تنقید کرنے والے جر نلسٹ اور دانشوروں وہ کو دیش دروہی اور so-called دانشور ہونے کا سرٹفیکٹ بانٹ رہے ہیں او اپنی سرکاری یاری اور وفاداری کا ثبوت دے رہے ہیں ۔ یہ یاری کرتے ہیں یا دلالی یہ اقتصادی مسئلہ ہے جس پر ہمیں بالکل دسترس نہیں ہے ۔ہمارے پڑوسی ملک پاکستان اور چین کی بات کریں تو چین کبھی قریبی دوست تھا اور پاکستان تو ہمارا ہی تھا اسے تو لنگوٹیا یار کی طر ح ہونا چاہیے تھا ۔ ، کبھی ہندی چینی بھائی بھائی کے یارانہ ترانہ سے فضائی آسمانی شادمانی کے گیت گاتے تھے اور کبھی پاکستان اپنا یار تھااور اتنا قریب کے ایک دوسرے کے سینے کی دھڑکن سنائی پڑتی تھی اور اب ٹینکوں اورگولیوں کی ہولناک آوازیں اور گرتے پڑتے مرتے انسانوں کی چیخیں اور آہیں سنائی پڑتی ہیں ۔

دوستی میں کشتی کبھی کبھی ہوجائے تو اچھا لگتا ہے لیکن مستقل دنگل بن جائے تو مشکل ہوجاتا ہے ۔ اس لیے یہ دنگل کی فضا بہت دنو ں تک نہیں بنی رہنی چاہیے ۔ آگے بڑھ کے دوستی کا پیغام اور دعوت دینا چاہیے ۔ جس کی طرف نواز دیوبندی کا یہ کلام بھی ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ:

تم نظر سے نظر ملاتے تو ۔۔۔ بات کرتے نہ مسکراتے تو

دوستی میں انا نہیں چلتی،۔۔۔ تم خود نہیں آتے کبھی بلاتے تو‘‘

اور شہر یار خان کا پاکستان کے لیے وہ دعوت نامہ کہ:

تم آؤ گلشن لاہور سے چمن بردوش ۔۔

ہم آئیں صبح بنارس کی روشنی لے کر۔

۔ ہمالیہ کی ہواؤں کی تازگی لے کر ۔۔

پھر اس کے بعد پوچھیں گے کہ کون دشمن ہے؟

ہم اپنے پڑوسی پاکستان کو یاری اور چین کو دوستی کا پیغام دیتے ہیں اور ایک درخواست کرتے ہیں کہ یہ انا کی جنگ چھوڑ دو! ورنہ انسانیت فنا ہو جا ئے گی ۔ سرحد پر لکیریں کھینچو لیکن دلو ں کو تو آباد رہنے دو ، ایک دوسرے سے ہمکلام ہونے دو ، ذرا دو چار بات کرنے د !

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عبدالقادر صدیقی

ریسرچ اسکالر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ، حیدرآباد

متعلقہ

Close