نقطہ نظر

فکرفردا – خداکا دین اور داعش کادین

احمدجاوید

اس دن ہم افطار کی تیاری کررہے تھے کہ کراچی سے خبرآئی ’امجدصابری کو نامعلوم حملہ آوروں نے قتل کردیا‘اورمیرے اوپرایک سکتہ سا طاری ہوگیا،لگاکہ کسی نے ذہن و دل پرتابڑتوڑہتھوڑے برسادئے۔یہ ایک ایسے شخص کا قتل تھاجودنیاکے لاکھوں انسانوں کے دلوں پرراج کرتاہے،کروڑوں دلوں میں بستا ہے، جس کے ایک ایک بول پر لوگ سردھنتےہیں،آنکھیں بھیگ جاتی ہیں لیکن یہ کراچی جیسے شہرمیں کوئی غیرمتوقع واردات نہیں تھی ،جہاں ٹارگٹ کلنگ آئے دن ہوتی رہتی ہے،اس شہرنے مسیح الملک حکیم سعیداحمدکا خون دیکھا ہے، سرفرازنعیمی کی گولیوں سے چھلنی لاش دیکھی ہے،دخترمشرق بی بی بے نظیرکاجنازہ دیکھاہے،اس شہرمیںکون کس کو کس لیے قتل کردے یا کرادے، کوئی کچھ بھی نہیں کہہ سکتالیکن اس کےبعد پھریہ خبربھی آئی کہ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان قاری سیف اللہ نے اس جہادی تنظیم کی طرف سےاس اندوہناک قتل کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔گویایہ کسی عام دشمنی ، ذاتی عداوت یا پیشہ ورانہ رقابت کا معاملہ نہیں،یہ ان خدائی فوجداروں کاکارنامہ اور ان کی جہادی کارروائی تھی جوبزعم خود اسلام کی سربلندی کے لیے جان ہتھیلی پر لیے پھر رہے ہیں۔ یہ بھی کوئی غیرمتوقع خبر نہیں تھی۔پاکستان میں جونہ ہوجائے وہی انہونی ہے۔لیکن میں دیرتک غم و اندوہ کے دریا میں ہچکولے کھاتااور سوچ کے سمندر میںڈوبتارہا۔اس فکر نے اب بھی مجھے اپنی گرفت سے آزاد نہیں کیا ہے کہ آخر یہ درندے کون ہیں جوامجد جیسے انسانوں کوخاموش کرنا چاہتے ہیںاور کیوں؟ امجد نے ان کا کیا بگاڑاہے یا وہ ان کا کیا بگاڑ سکتاتھا؟جتناسوچتاہوں، فکر کی ڈور الجھتی جاتی ہے۔کیا یہ سچ مچ اسلام کے محافظ و مجاہد ہوسکتے ہیںیا اسلام کسی نہتے کے قتل کی اجازت دیتاہے؟

 ابھی چند ہی گھنٹے ہوئے تھے جب امجد صابری نے بڑے بڑے لوگوں کو رلادیا تھا، اس نے سحری کے وقت اپنے ٹی وی شو میں’ میں قبراندھیری میں گھبراؤںگاجب تنہا؍امداد مری کرنے آجانا رسول اللہ ‘ کچھ اس انداز سے پڑھا تھاکہ دلوں کی دنیا زیروزبر ہوگئی تھی۔ کسے خبر تھی کہ اس کے یہ بول تاریخ کے اوراق پرہمیشہ کے لیے ثبت ہوجائیںگےاور اس کے لفظوں میںاس کے خون کی سرخی ایسی شامل ہوگی کہ مٹتے نہیں مٹیں گے۔ امجد کوئی معمولی قوال نہیں تھا ،وہ ایک باکمال فنکار اورباکمالوں کا سچا جانشین و وارث تھا۔اس کی آواز میں دلوں کی دنیا زیروزبر کردینے کی جو صلاحیت تھی،وہ ہرکس و ناکس میں نہیں ہوتی۔ شاید اسی لیے ظالموں نے امجدصابری کے خون سے اپنی حیوانیت کی پیاس بجھائی ورنہ اسی کراچی میں قوالوں اور ثناخوانوں کا شمار نہیں ہے، جس پتھر کو اٹھائیں وہیں کوئی ثناخواں مل جائےگا۔

ہم نے کبھی ان ہی کالموں میں تفصیل سے البرٹ کامیو کاذکرکیاتھاجس نے اپنی مشہورتصنیف ’باغی‘ کے آغاز میںدعویٰ کیا ہے کہ جرائم اور سفاکی کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ پہلی قسم کو اس نے Crimes of Passion کہاہے۔ آسان لفظوں میں کوئی فرد کسی شخص کی محبت میں اندھا ہو کر اپنے اور محبوب کے درمیان آنے والی ہر رکاوٹ کو سفاکی کے ساتھ مٹانے کے لیے کسی حد تک بھی جا سکتا ہےمگر ایک بڑے تناظر میں اس کا جرم اور سفاکی ایک فرد اور اس سے قریبی افراد تک محدود رہتی ہے۔ جرائم اور سفاکی کی دوسری قسم کو اس نے Crimes of Reason کا نام دیاہے۔ اس کی نظر میں سفاکی کی یہ قسم ان لوگوں میں نظر آتی ہے جو بظاہر بڑی سوچ بچار اور ’نیک مقاصد‘ کے ساتھ ’سماج سدھارنے‘ یا ملک و قوم کی اصلاح کے عمل میں مصروف نظر آتے ہیں۔ مگر پارسائی کے خبط میں مبتلا یہ لوگ کسی معاشرے میں انصاف قائم کرنے یا ملک و قوم کو سربلندوسرخروکرنے کے نام پر جو سفاکی اختیار کرتے ہیں وہ پورے پورےمعاشروں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔یہ ظالم اسی دوسری قسم کے لوگ ہیں اور آج دنیا کو اسی قسم کے خبط پارسائی میں مبتلالوگوں نے اس مقام پر پہنچادیاہےجہاں انسانیت کا کلیجہ چھلنی چھلنی ہے۔

آج سے چودہ سوسال پہلے جب پیغمبراسلام ﷺپرقرآن پاک نازل ہورہاتھا، یقیناً اسی دن کے لیے خالق کائنات نے باربارمتنبہ کیاتھاکہ اس خبط پارسائی کی اسلام میں کہیں کوئی جگہ نہیں ہے۔آپ قرآن کریم پڑھتے ہوں تو ایک بار پھرسے پڑھ جائیں، نہ پڑھتے ہوں تو پڑھ کر دیکھ لیں، شروع سے آخر تک جگہ جگہ لست علیک ھداھم ولکن اللہ یھدی من یشا(اے پیغمبراسلام! ان کو راستے پر لاناآپ پر واجب نہیں ہے لیکن اللہ جس کو چاہتاہےراستہ دکھاتاہے) جیسی آیا ت بکھری ملیںگی۔یہاں تک کہا گیا کہ آپ ان پرداروغہ مسلط نہیں کئے گئے(لست علیھم بمسیطر)۔سوچتاہوں تو کلیجہ منھ کو آتا ہے کہ جو دین رسول خداﷺتک پر یہ ذمہ داری نہیںڈالتا کہ وہ لوگوں کو ہرحال میں راہ ہدایت پر لائیں، اسی دین کے نفاذ کے نام پر لوگوں کو قتل کیا جائے،نہتوں کو خاک و خون میں تڑپایا اوراپنے پرایوں کوخوف و دہشت میں مبتلا کیاجائے اور دعوی کریں کہ اسلام کو سربلندوسرخرو کررہے ہیں۔ افسوس!طالبان، داعش،بوکوحرام اوران جیسے تکفیری عناصرکو کسی نے قرآن نہیں پڑھایا۔ اگر پڑھایا ہوتا تو ان کے پاس وہی دین ہوتا جورسول اکرم ﷺ لائے تھےاور جس میں کسی زورزبردستی، جبرواکراہ اور تشدد کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ لوگ جس مذہب کے خودساختہ داعی ومحافظ اورمجاہد ہیں، وہ اور کچھ بھی ہوسکتاہے، اسلام نہیں ہوسکتا۔

ہمارامسئلہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے رجحانات کی سنگینی کا ادراک رکھنے والے لوگ بھی جب اس موضوع پر گفتگو کرتے ہیں توان کو حکومتوں یا حکمران و بالادست طبقات کے مظالم ، ناانصافی، عدم مساوات، استحصال، استعمار اورغریبی وتنگ دستی کا ردعمل یا بعض ممالک کی طویل المیعاد جارحیت کا جواب بتانا نہیں بھولتے۔خود مسلمانوں کارویہ بھی اس سے مختلف نہیں ہے ،’وہ مجموعی طورپردہشت گردی کی مذمت و مخالفت کرتے ہیں اور اسلام کے ساتھ اس کا دور کا رشتہ بھی قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں لیکن اسی کے ساتھ کچھ لوگ اس کی خاموش حمایت کرتے نظرآتے ہیںاور موضوع کوخلط مبحث کے ذریعے الجھادیتے ہیں جبکہ اسلام برائی کے ردعمل میں برائی کی کہیں کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا۔آپ اسلام کی صوفی روایات میں سے کسی کو بھی لے لیں ، پائیںگے کہ یہ سب سے پہلےبرائی کے ردعمل میں برائی کا علاج ڈھونڈتی، نفس کی نفی اور خبط پارسائی کا قلع قمع کرتی ہے ۔

کسی بھی قانون یاکتاب کو ماننے کی دوصورتیں ہیں۔ایک یہ کہ آپ خودکو اس کے حوالے یاسپردکردیں، اپنے نفس اور اپنی خواہشات کواس کےتابع کردیں۔ دوسری صورت قانون کو اپنی سہولت اوراپنی خواہش کے مطابق استعمال کرنے اور کتاب کو اپنی سوچ کے سانچے میں ڈھالنے کی ہے۔ ان ہی دونوں صورتوں کے عملی نتائج کی طرف اشارہ ہے: یضل بہ کثیراً و یہدی بہ کثیراً ومایضل بہ الا الفاسقین( بہت سے لوگ اس سے ہدایت پاتے ہیں اور بہت سے اسی سے گمراہ ہوجاتے ہیں اور گمراہ نہیں ہوتے سوائے فاسقوں کے)۔ ہدایت کے حصول کی پہلی شرط دل و نگاہ کا مومن و متقی ہوناہے۔دل و نگاہ فاسق ہیںتوہدایت حاصل کرنے کے بجائے کتاب ہدایت سے بھی وہ گمراہیاں ہی سمیٹےگا۔تشدد یا دہشت گردی کی وہ صورتیںجن کے پیچھے کسی ایسے گروہ کے ہاتھ ہیں جن کا دعوی ہے کہ وہ دین کی سربلندی کے لیے ایسا کررہے ہیں ، ثانی الذکرقسم کے لوگ ہیں اور وہ لست علیھم بمسیطرکےسبق کو بھول کر خود کو دین کا ٹھیکیدار یا خدائی فوجدار تصورکربیٹھےہیں۔ان کےدلوں سے اس زہراور اس مرض کو نکالنے کی ضرورت ہے ۔قرآن کی زبان میں یہ کارنبوت(یزکی انفسھم) ہرکس وناکس کا نہیںہے،یہ کام راسخون فی العلم کاہے۔آج پھر ضرورت ہے کہ ہم میں سے کوئی شیخ عبدالقادر جیلانی اٹھے، کوئی معین الدین چشتی پیدا ہو،کئی اشرف جہانگیر سمنانی اپنی ریاست و امارت کوچھوڑچھاڑ کر نکلیں اوردلوں کی کایا پلٹ دیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close