تعلیم و تربیتنقطہ نظر

قطرہ قطرہ نیکی کا جمع کر سمندر بنائیں

مدثر احمد

آج کی تحریر میں میں تین واقعات قلمبند کرنے جارہاہوں،  اس امید کے ساتھ کہ کچھ تبدیلی آئے،  تبدیلی آئے ملت اسلامیہ کی سوچ میں۔ تبدیلی آئے اسلام کو لے کر جو فکر ہمارے ذہینوں میں اس میں،  تبدیلی آئے ہمارے قول و فعل میں،  تبدیلی آئے ہمارے سماج میں اور تبدیلی آئے ہماری قوم کی حالت میں۔ پہلا واقعہ کچھ یوں ہے۔ میرا بچہ جس اسکول میں پڑھتاہے اس اسکول کی آیا جسے عام طورپر چپراسی کہتے ہیں اس نے مجھے تین ماہ قبل بتایا تھا کہ اس کا گھر بوسید ہ ہوچکا ہے،  گھر کی چھت گرنے کو ہے اور وہ گھر کی مرمت کروانا چاہتی ہیں۔ اسکے لئے کچھ پیسے درکار ہیں۔ لیکن جتنی رقم انہیں درکار تھی وہ رقم میری استطاعت کے باہر تھی،  اس لئے میںنے انہیں حسب استطاعت مدد کرکے خاموشی اختیار کرلی اور کہا کہ کچھ دنوں میں رمضان آنے والا ہے اس مہینے میں کسی سے مدد ہونے کے ا مکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ وہ خاتون بیوہ ہے،  بیٹے ہیں لیکن صرف نام کے لئے،  بوڑھی عورت کا کہنا ہے کہ میں مروں بھی تو اپنے ہی گھر کی چھت کے نیچے،  اسلئے اسکی مرمت کروانا چاہتی ہوں۔

دوسرا واقعہ؛ ایک بچی کا،  جس نے پی یو سی سال دوم کے امتحان میں 91 فی صد نمبرات سے کامیابی حاصل کی ہے،  پورے خاندان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والی،  زیادہ تعلیم حاصل کرنے والی یہی بچی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ ڈاکٹر بنے،  اسکے لئے اس بچی نے ین ای ای ٹی کا امتحان بھی دیا ہے اور امید کررہی ہے کہ وہ میڈیکل سائنس کی سیٹ حاصل کرہی لے گی،  لیکن اس بچی کے دل میں یہ وسوسہ ہے کہ اگر اسے سرکاری کوٹے میں سیٹ مل بھی جائے تو باقی تعلیمی اخراجات کیسے پورے کرے ؟۔کون اسکی تعلیم کی کفالت کو انجام دے گا ؟۔

تیسرا واقعہ ؛۔ ایک شخص جو کبھی ہرسال ہزاروں روپئے اپنے مال کا زکوۃٰ نکالتا تھا،  اپنے کاروبار کی چاندی کی وجہ سے وہ دوسروں کا سہارا بنا کرتا تھا لیکن آج خود کاروبار میں گھاٹا ہونے کی وجہ سے قرضداری میں ڈوبا ہوا ہے،  وہ دوسروں سے مدد لینے کے لئے مجبور ہے،  گھر کی حالت اس قدر گراں ہے کہ دو وقت کی روٹی کے لئے بھی وہ مجبور ہوچکا ہے ایسے میں وہ کھلے طور پر کسی سے مدد لینے کے لئے ہاتھ پھیلانا گنوارہ نہیں سمجھتا کیونکہ اسکے لئے اسکا ضمیر اسے اجازت نہیں دیتا۔

یہ تینوں واقعات سچے ہیں،  صد فیصد سچے۔ لیکن ایسے ہی سینکڑوں واقعات ہمارے سماج میں ہمیں اور آپ کو دیکھنے کو ملیں گے لیکن ہم انکی مدد کرنے کے لئے آگے نہیں بڑھتے، کیونکہ ہم نے ہمارے اسلام کو الگ ہی نظر سے دیکھا ہے،  ہمارے دین کو ہم نے اپنے موافق ڈھال لیا ہے۔ ہماری خدمتوں کو ہم نے محدود کرلیا ہے۔ ہم نے اسلام کے معنی پانچ وقت کی فرض نمازوں،  رمضان کے روزوں،  حج بیت اللہ کی زیارت اور زکوۃٰ کی ادائیگی ہی سمجھ لیا ہے۔ ہم نے دین کے معنی ٹوپی،  جھبہ،  داڑھی اور مسواک کو لے کر گھومنا سمجھ لیا ہے۔ ہم نے عبادت کے نام پر مسجدوں و مدرسوں کو چندہ دینا ہی خدمت سمجھ لیا ہے۔ ہم نے ہمارے مال کے زکوٰۃ کو ادا کرنے کا طریقہ غریبوں کے لئے معمولی رقم کے سو۔ دو سوجوڑے کپڑے بانٹنےکو ہی اہم سمجھ لیا ہے۔ ہم نے خیرات دینے کے لئے بھی نظم بنا لیا ہے۔ رمضان کی طاق راتوں کے دوران غرباء و مسکینوں کو قطار میں کھڑا کرکے خیرات دینا افضل سمجھ لیاہے۔ لیکن ان لوگوں کا کیا جو چاہ کر بھی اپنے جائز مقاصد پورے نہیں کرواسکتے۔

یقینا مسجدوں اور مدرسوں کی نگرانی،  ذمہ داری،  تعمیراتی کام کو انجام دینے کا فرض مسلمانوں کا ہے۔ ہم اپنے محلوں میں لاکھوں کروڑوں روپئوں کی مسجدیں بناتے ہیں،  اسکے لئے ہر مسلمان یہ کوشش کرتاہے کہ اسکی جانب سے سیمنٹ کا عطیہ دیا جائے،  ریت دی جائے،  مینارے تعمیر کرواکر دئے جائیں،  وضو خانے بناکر دئے جائیں،  اسکے عوض میں یہ تختی نصب کی جائے کہ برائے ایصال ثواب فلاں و فلاں۔ ۔۔ اور ہمارے مسجدوں کے ذمہ دار بھی ہر سال مسجدوں میں تعمیراتی کام کو انجام دیتے ہیں،  مسجدوں کے ذمہ داروں کا کہنا ہوتاہے کہ رمضان میں نمازیوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے جس کی وجہ سے انہیں سہولت نہیں ہوتی،  لیکن یہ بھی سوچیں کہ جب ہم اپنے گھر کی تعمیر کرتے ہیں تو اپنے گھر میں رہنے والوں کی تعداد کو دیکھ کر گھر بناتے ہیں نہ کہ سال میں کبھی کبھار آنے جانے والے مہمانوں کی تعداد کے مطابق گھر کی تعمیر کرواتے ہیں۔ اسی طرح سے رمضان گذر جانے کے بعد اکثر مسجدیں خالی ہوتی ہیں تو کیونکر صرف رمضان کے مدنظر مسجدوں کی توسیع اور مسجدوں کی تعمیر کو اہمیت دی جاتی ہے۔ کبھی مشرق کا دروازہ نکال کر مغرب میں رکھوانے کا تعمیری کام کرواتے ہیں تو کبھی وضو خانے کو توڑ کرپارکنگ بنواتے ہیں۔ کبھی لکڑی کے دروازے توڑ کر میٹل کے دروازے نصب کرواتے ہیں تو کبھی لال جھومر اتار کر سفید جھومر لگوانے کا کام کرتے ہیں۔ لیکن اسی کروڑوں روپئوں کی مسجد کے محلے میں کئی ایسے غریب بھی ہوتے ہیں جن کے گھروں کی چھتیں بارش میں بے مانگے پانی برساتی ہیں اور شیٹ کی بنی ہوئی چھتیں گرمی میں آگ اگلتی ہیں۔

اسی طرح سے ہم رمضان کے مہینے میں سحری و افطار کی دعوتوں کا بھی خوب اہتمام کرتے ہیں،  پوری کوشش کرتے ہیں کہ افطار کی دعوت شاندار رہے اور افطار کرنے والے واہ واہی کرے۔ ان دعوتوں کے لئے ہم مسلمان ہزاروں روپئے خرچ کرتے ہیں۔ اگر ہم اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں ہمارے نبی ﷺ کے دور میں کی جانے والی افطار کی دعوتوں میں سے ایک بھی کسی ایسی دعوت کی مثال نہیں ملتی جس میں مختلف قسم کے کھانے پکائے گئے ہوں،  ہزاروں صحابہ کو دعوت دی گئی ہو۔ لیکن ہمارے یہاں افطار کی دعوتوں کا رواج ایسے نکل چکا ہے کہ اب یہ دعوتیں گھروں سے نکل کر گلی محلوں میں عام ہوچکی ہیں اسکے لئے نوجوان باقاعدہ ہزاروں روپیوں کا چندہ وصول کرتے ہیں۔ کیا واقعی میں قوم کو ایسی دعوتوں کی ضرورت ہے۔ جس قوم کی بچیاں جہیز کا سامان نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں بیٹھی ہوئی ہوں۔ جس قوم کی لڑکیاں تعلیم حاصل کرنا چاہ رہی ہیں لیکن انکے اخراجات کو ادا کرنے والے کوئی نہیں ہوں،  کیا اس قوم کو بریانی و پھال کی دعوتوں کی ضرورت ہے ؟۔ آج ہم نے اسلام کے نام پر دوسروں کے طریقوں کو اپنانا شروع کردیا ہے۔ دوسرے اپنے تہوار منانے کے لئے گلیوں میں گھوم گھوم کر، راستوں پر آنے جانے والوں کو روک کر چندے وصول کرتے ہوئے اپنے تہوار مناتے ہیں اور ہم افطار کی عام دعوت کے نام پر اسی طریقے کو اپنا رہے ہیں۔ واقعی میں ہمیں کچھ ثواب کے لئے کچھ کرنا ہے تو اسکے لئے نوجوان کمیٹیوں کے ذمہ داران مالداروں سے چندہ لیں،  اس چندے کی رقم سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی خواہش رکھنے والے بچوں کی کفالت کریں۔ اجتماعی زکوٰۃ کے نظام کو رائج کریں۔ زکوۃٰ کی رقم کو کوڑیوں میں تقسیم نہ کریں بلکہ اجتماعی طورپر جمع کرتے ہوئے اس رقم کو کسی خاص مقصد پر صرف کریں۔ رمضان کے گزرنے کے فوری بعد اسکولوں میں داخلوں کا نظام بھی شروع ہوجائیگا،  اس دوران کئی غریب والدین اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کے لئے اچھے اسکولوں و کالجوں میں داخلہ دلوانا چاہتے ہیں۔ رمضان کے گزرنے کے ساتھ ساتھ انجنیرنگ اور میڈیکل کالجوں میں بھی داخلے شرو ع ہوجائینگے ایسے میں قوم کے بچوں کو مالی امداد کی ضرورت ہوگی۔ اس امداد کو پورا کرنے کے لئے ہم خود ہی اقدامات اٹھاسکتے ہیں۔ اللہ نے ہمیں زکوٰۃ جیسے منظم معاشی نظام سے آراستہ کیاہے اس نظام کا صحیح استعمال کرتے ہوئے بہت سارے فلاحی کام انجام دے سکتے ہیں۔ یقین جانئے،  جب ہم اس کام کو انجام دے کر اگر قوم کے کم از کم 50 بچوں کو تعلیم سے آراستہ کریںگے اور وہ ڈاکٹر یا انجنیئر بنیں گے تو وہ قوم کا احسان مانیں گے اور قوم کی خدمت کرنے کا جذبہ ان میں پیدا ہوگا۔ اس لئے اس رمضان قطرہ قطرہ نیکی کا جمع کر سمندر بنائیں اور حقیقی ضرورتمندوں کو ضرورتوں کو پورا کریں۔ یہ بھی عبادت ہے۔ یہ بھی دین ہے۔

مزید دکھائیں

مدثر احمد

ایڈیٹر، روزنامہ آج کا انقلاب

متعلقہ

Close