نقطہ نظر

قوم کی خدمت کے لیے۔۔۔!

مد ثر احمد شیموگہ

خدمت خلق، قوم کی خدمت اور ملت کے مسائل کو حل کرنے کی جب بات آتی ہے تو ہماری قوم میں سے یہی آواز بلند ہوتی ہے کہ اب ہم الیکشن میں کھڑے ہوجائینگے، اس بار یم یل اے الیکشن کے ذریعے سے اسمبلی پہنچ جائینگے اور قوم و ملت کی خدمت کرتے ہوئے قوم کے مسائل کو حل کرینگے۔ یہ بات ہماری سمجھ سے آج تک باہر ہے کہ آخر کس بنیاد پر ہم قوم کی رہنمائی محض سیاست کے ذریعے سے کرسکیں گے ؟

قوم کے مسائل، قوم کی خدمت کرنے کے لئے صرف یم یل اے بننا ہی ایک واحد راستہ نہیں ہے، الیکشن میں کھڑے ہونا ہی قیادت کے لئے ضروری نہیں پھر بھی آج قوم کی قیادت اور ترجمانی کے لئے اس راستے کو اختیار کرنے کی بات کہی جارہی ہے جس پر پھول کم ہیں خار زیادہ ہیں، آسانیاں کم ہیں مشکلات زیادہ ہیں۔ کامیابی کی امکانات کم ہیں بدنامی کے امکانات زیادہ ہیں ، لیکن کم و بیش وہ تمام لوگ جو سیاست کے ذریعے سے قوم کی قیادت کرنے کے خواہ ہیں وہ قوم کے مفادات کے لئے کم اپنے مفادات کے لئے زیادہ اس میدان کا استعمال کررہے ہیں۔ جو لوگ سیاست کے ذریعے سے قوم کی قیادت کا راستہ تلاش کرتے ہیں وہ سیدھا یم یل اے بننے کی چاہ رکھتے ہیں جبکہ انہیں سیاست میں ہی اور بھی کئی مواقع ملتے ہیں لیکن اس کا استعمال وہ نہیں کرتے کیونکہ ان مواقعوں میں انہیں فائدہ کم ملتاہے۔

آج ہمارے درمیان گرام پنچایت، تعلقہ پنچایت، ضلع پنچایت، کاﺅنسلر یا کارپوریٹر بننے کی خواہش رکھنے والوں سے زیادہ یم یل اے بننے کے خواہشمند ہیں۔ تعلیم یافتہ افراد بھی یم یل اے ہی بننا چاہتا ہے اور جسے یم ایل اے کے معنی تک معلوم نہیں وہ بھی یم یل اے بننا چاہتاہے، انکی چاہ انہیں فائدے سے زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔ اگر آج تعلیم یافتہ افراد کوشش کریں تو یقینا وہ گریجویٹس یا ٹیچرس کانسٹی ٹوئنسی کے ذریعے سے یم ایل سی بن سکتے ہیں لیکن وہ اس میدان میں اپنی قسمت آزمانا ہی نہیں چاہتے۔ ہمارا سوال یہ بھی ہے کہ کیا قوم کی خدمت کرنے کے لئے کیا واقعی میں سیاست میں جانا ضروری ہے، کیا واقعی یم یل اے بننے سے ہی قوم و ملت کی خدمت کی جاسکتی ہے ؟۔ آج ہمارے سامنے کئی ایسی مثالیں ہیں جس میں کسی نے بھی شاید سیاست کے ذریعے ہی قوم وملت کی خدمت کی ہوگی۔ ہمارے ہی نہیں دوسری قوموں کی بھی مثالیں لی جائے تو ہمیں اس بات کا اندازہ ملے گا کہ خدمت صرف سیاست سے ہی نہیں کی جاسکتی بلکہ اسکے لئے اور بھی کئی راہیں ہیں۔ آج مسلمانوں میں سب سے زیادہ پسماندگی تعلیمی پسماندگی ہے اور دوسرے نمبر پر مسلمان بے روزگاری کے مسائل سے جوج رہے ہیں۔ تعلیم اور روزگار کے علاوہ اگر مسلمان کسی چیز سے پریشان ہیں تو وہ ہے عدم مساوات، تعصب اور سماجی ناانصافی، اگر ان چیزوں پر مسلمانوں کی خدمت کی جائے تو یقینا مسلمانوں کی صحیح خدمت ہوسکتی ہے۔ آج بھی ہمارے درمیان کئی ایسے بچے ہیں جو حقیقت میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع ہونے کے باوجود وسائل کی کمی کے باعث تعلیم کو جاری نہیں رکھ سکتے، کہنے کو تو ہم سال میں ایک دفعہ ان بچوں کو مدد کے نام پر کچھ کتابیں ، بستہ اور قلم دے دیتے ہیں لیکن کیا کتابیں اور قلم ہی تعلیم کے لئے مددگار ہیں ، انکی فیس، روزمرہ کے اخراجات یہ سب یہ بچے کہاں سے لائینگے ؟

ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ بعض والدین ایک وقت کی روٹی کے محتاج ہیں ایسے میں وہ اپنے بچوں کی تعلیم کو لے کر فکر مند ہوتے ہیں ، کئی طلباءدوسرے گاﺅں اور شہروں سے آکر دوسری جگہ تعلیم حاصل کرتے ہیں ایسے بچوں کے لئے قیام کرنے کی مشکلات ہوتی ہیں تو کیا ایسے بچوں کی مدد کرنا قوم کی خدمت نہیں ہے۔ آج نوجوان طبقہ بے روزگاری کا شکار ہے، کئی ایسے نوجوان ہیں جو تعلیم یافتہ ہوکر بھی انکے پاس روزگار نہیں اور نہ ہی انہیں روزگار دینے کے لئے تیار ہے، تعصب کا بازار اس طرح سے گرم ہے کہ مسلمانوں کو اکثر نوکریاں نہیں دی جاتیں ، کیا ایسے نوجوانوں کی خاطر ہم فیکٹریاں ، کمپنیاں اور چھوٹے پیمانے پر کاروبار دینے کے ذرائع فراہم نہیں کرسکتے ؟

ہم الیکشن میں پانچ دس کروڑ روپئے خرچ کرتے ہوئے اپنے حصّے میں پانچ دس ہزار ووٹ لے کر بھی صرف نام کمانا چاہتے ہیں لیکن دو۔ تین کروڑ روپئے خرچ کرتے ہوئے قوم کے نوجوانوں کی مدد کرنا نہیں چاہتے ایسی مدد کہ ان نوجوانوں کے ساتھ ساتھ انکے گھرانے بھی آباد ہوں ، اس کاروبار سے خود بھی ترقی یافتہ ہوں۔ لیکن نہیں ہمیں تو یم ایل اے بننا ہے اور یہ ایم ایل اے بننے کی وہ لوگ خواہش کرتے ہیں جن کے پاس گرام پنچایت کا رکن یا کاﺅنسلر بننے کی بھی طاقت نہیں۔ ملک کے موجود ہ حالات کا جائزہ لیں ، ہر جگہ پر مسلمانوں کو نچوڑا جارہاہے، کہیں گاﺅ کشی کے نام پر تو کہیں لو جہاد کے نام پر، کسی مدرسے کو دہشت گردی کا اڈہ کہا جارہاہے تو کسی عالم دین کو دہشت قرار دیاجارہاہے، ایسے حالات میں ملک بھر میں موجود مسلم سیاستدان جب چپکی سادھے ہوئے ہیں تو کیا یم ایل اے الیکشن کے امیدوار بن کر ہم کیا کرسکتے ہیں ؟

جس طرح سے کسی کے ساتھ لڑنے کے لئے جم جانے کی ضرورت نہیں بلکہ جگر کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح سے خدمت کرنے کے لئے سیاست کی نہیں بلکہ جذبے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم اپنے آپ کو قائد القوم کہلاتے ہوئے قوم کی خدمت نہیں کرسکتے بلکہ ہمیں خادم القوم بننے کی ضرورت ہے اور ہم خادم صرف سیاست میں رہ کر ہی نہیں سیاست کے بغیر بھی بن سکتے ہیں۔ مدر ٹریسا جس نے ہمیشہ کوڑھی مریضوں کی خدمت کرتے ہوئے اپنی خدمات انجام دیں ، مگر انہوں نے کبھی کسی بھی سیاسی جماعت کا ہاتھ نہیں تھاما۔ پھر بھی انہوں نے خدمت خلق کو انجام دیا ہے۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ خدمت خلق کے لئے جو متبادل طریقے ہیں ان طریقوں کو اپنا یا جائے اور سیاست کو ہی اہمیت نہ دیتے ہوئے عوام کے مسائل کو حل کیا جائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مدثر احمد

ایڈیٹر، روزنامہ آج کا انقلاب

متعلقہ

Close