نقطہ نظر

لبرل ازم اور اسلام

صابررضا

لبرل ازم اور اسلام دو الگ الگ نظریات ہیں۔ دنیا میں اسلام واحد مذہب ہے جو مکمل ریاستی نظام رکھتا ہے۔ باقی کوئی بھی مذہب مکمل ریاستی نظام نہیں دیتا۔ یعنی اسلام سیاسی، عدالتی، معاشی، اقتصادی، تعلیمی غرض ہر فیلڈ میں قوانین رکھتا ہے۔ یہ قوانین چودہ سو سال پہلے واضح کیے جا چکے ہیں۔ اور عملاً ان قوانین کا نفاذ کر کے ایک اسلامی ریاست کی تشکیل کی جا چکی ہے۔ جو ایک مکمل فلاحی ریاست تھی۔

یہاں ایک بات قابل ذِکر ہے کہ، اسلام صرف ایک مذہب نہیں ہے۔ یہ صرف نماز ،روزے یا حج کا دین نہیں ہے۔ بلکہ اسلامی نظریہ ایک مکمل نظام ہے۔ نماز روزہ اور دیگر عبادات اس دین کے جزویات ہیں۔ دنیاوی فلاح کے لیے مکمل اسلام کو ریاستی نظام کے طور پہ نافذ کرنا ناگزیر ہے۔

اسی طرح لبرل ازم بھی ایک نظریہ ہے، جو ریاستی نظام واضح کرتا ہے۔ لبرل ازم کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ، کسی بھی ملک کے نظام میں مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔ ریاستی نظام کے قوانین ،ٹوٹل انسانی مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں تشکیل دئیے جائیں گے۔ مثلاً ریاست اگر عوام کو شراب پینے کی اجازت دیتی ہے تو، کسی مذہب کو اجازت نہیں کہ اس قانون کو چیلنج کر سکے۔ انفرادی طور پہ ہر شخص کو ہر قسم کی آزادی ہو گی۔ خواہ وہ کسی مذہب پہ عمل کرے یا نہ کرے۔ مندر جائے، چرچ جائے، یا مسجد جائے، یا کسی بھی مذہب پہ عمل نہ کرے۔ لبرل ریاست میں زنا ،سود، شراب نوشی جائز ہے، تو مذہبی طور پہ اس پہ کوئی سزا نہیں ہو گی۔ یہ شخصی آزادی کے زمرے میں آئے گا۔ مذہب کے متعین کردہ جرائم کا اطلاق ریاستی نظام میں نہیں ہو گا۔ آپ شراب کی دوکان کھولیں ، پروسٹیٹیوٹ ہاؤس بنائیں ، یا پورن ہاؤس، یہ کاروبار کے زمرے میں آئیں گے۔ ریاست میں یہ کوئی گناہ (جرم) تصور نہیں ہو گا۔

لبرل ازم کے نقصانات کیا ہیں ؟ 

لبرل ازم کا سب سے بڑا نقصان معاشی طور  ہوتا ہے۔ یہ نظام سرمایا دارانہ نظام کو پرموٹ کرتا ہے اور سرمایہ دار کو تحفظ دیتا ہے۔ جس کی وجہ سے امیر، امیر تر ہوتا جاتا ہے، اور غریب ، غریب تر ہوتا جاتا ہے۔ امیر اور غریب کا یہ فرق عوامی طبقات کی تفریق کو جنم دیتا ہے۔ جیسے لبرل ازم میں ایلیٹ کلاس، بزنس کلاس، اپر کلاس ، مڈل کلاس، لوئر مڈل کلاس، لوئر کلاس ، جیسی ٹرم استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ طبقاتی تقسیم احساس کمتری، عوامی روابط کا فقدان اور جرائم کو جنم دیتی ہے۔ آپ گوگل سرچ کریں تو آپ کو جان کر حیرانی ہو گی کہ، تمام ترقی یافتہ لبرل ممالک، تمام جرائم میں سرِفہرست ہیں۔ چوری، ڈکیٹی، قتل، ریپ، بچوں کے ریپ، غرض ہر جرم میں یہی لبرل ممالک ٹاپ پہ ہیں۔ ایک بھی مسلم ملک اس فہرست میں سوویں نمبر پہ بھی نہیں ہے۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے۔ ہم جسے تعلیم یافتہ مہذہب معاشرہ سمجھ رہے ہیں ، وہاں جرائم کی شرح ٹاپ پہ کیوں ہے۔ کیا ایک امیر بندہ چوری, ڈکیٹی کرے گا؟ یا کوئی پڑھا لکھا قتل کیوں کرے گا؟ یا مہذہب معاشرے کی عورت کسی جانور سے شادی کیوں کرے گی؟ اگر لبرل ازم معاشرے کو متوازن کرتا اور عوام کو دماغی سکون مہیا کرتا تو یہ جرائم پیدا ہی کیوں ہوتے؟

سعودی عرب میں بادشاہت قائم ہے، لیکن وہاں اسلامی نظام نافذ ہونے کی وجہ سے پوری دنیا سے کم جرائم ہوتے ہیں۔ ہر سال جرائم کی ریشو میں کمی ہوتی ہے۔ حالانکہ پوری دنیا میں بادشاہت ایک ناکام نظام کے طور پہ ختم ہو چکی ہے۔

لبرل ازم کے معاشی فلسفے کو سمجھنے کے لیے، ہم پاکستان اور انڈیا کی مثال سامنے رکھتے ہیں۔ دونوں ایک ساتھ آزاد ہوئے، دونوں میں لبرل جمہوری نظام نافذ ہے۔ انڈیا ایک مضبوط معیشت ہے، جبکہ پاکستان کمزور معیشت کے کے طور پہ جانا جاتا ہے۔ لیکن شرح غربت انڈیا میں 60% سے زیادہ ہے۔ اور پاکستان میں 49% ہے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے؟

میں پہلے بتا چکا ہوں کہ لبرل ازم کا معاشی نظام (اکنامک سسٹم) صرف امیر لوگوں کو پرموٹ کرتا ہے، امیر امیر تر ہوتا جاتا ہے، غریب غریب ہی رہتا ہے، یا مزید غریب ہوتا جاتا ہے۔ اکنامک سسٹم میں کیا خرابی ہے جو ایسے ہوتا ہے؟ اس خرابی کی سب سے بڑی وجہ ٹیکس سسٹم ہے، جو ڈائریکٹ پیداواری اشیاء پہ لگایا جاتا ہے۔ امیر اور غریب ایک جیسا ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ اگر ایک بندہ ایک لاکھ کماتا ہے تو وہ بھی ضروریات زندگی کی اشیاء پہ وہی ٹیکس دیتا ہے، جو دس ہزار کمانے والا دیتا ہے۔ یوں امیر کو ٹیکس سسٹم سے فرق نہیں پڑتا، جبکہ غریب کو فرق پڑتا ہے۔ مثلاً ٹیلی کام کمپنیز 100 روپے پہ 24 روپے ٹیکس کاٹتی ہیں۔ ایک ضروریات زندگی کی اشیاء پہ GST سترہ فیصد ہے۔ یعنی سو روپے کی چیز پہ 17 روپے ٹیکس ہے۔ ایسے تمام ٹیکسس ڈائرکٹ ٹیکسس ہیں۔ جو امیر غریب دونوں ادا کرتے ہیں۔ اس سسٹم کی وجہ سے امیر اپنی آمدنی کا کم خرچ کر کے، اپنے ایسیٹ میں اضافہ کرتا جاتا ہے۔ جبکہ غریب گھریلو ضروریات ہی پوری کر پاتا ہے، اور اپنا گھر تک نہیں خرید پاتا۔ جب پیسہ چند امیر ہاتھوں میں سمٹتا ہے، جائدادیں چند امیر ہاتھوں میں چلی جاتی ہیں تو وہ لوگ اپنی مرضی کی قیمتیں سیٹ کرتے ہیں۔ نتیجتاً پراپرٹی ویلیو عام آدمی کی پہنچ سے نکل جاتی ہے، اور وہ ایک گھر بھی نہیں خرید پاتا۔

یہی وجہ ہے کہ انڈیا میں پیسہ اوپر کے چند لوگوں کے پاس ہے، غریب آدمی تک پیسہ نہیں پہنچ پا رہا، الٹا ٹیکس سسٹم کی وجہ سے پیسہ اوپر کو فلو کر رہا ہے۔ اس لیے معیشت بہتر ہونے کے فوائد غریب آدمی کو نہیں مل رہے۔ شرح غربت بڑھتی جاتی ہے۔

پاکستان میں شرح غربت کیوں کم ہے؟ اس کی اصل وجہ نچلے لیول پہ اسلامی اصولوں کی پابندی ہے۔ یعنی لوگ زکوٰۃ جو اسلامی ٹیکس سسٹم ہے ، اس پہ انفرادی طور پہ عمل کرتے ہیں۔ مذہبی لوگ سالانہ 240 ارب روپے زکوٰۃ و عشر کی مد میں ادا کرتے ہیں ، جو ڈائرکٹ غرباء تک پہنچتا ہے۔ ہر سال اس میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس ایک اسلامی سسٹم کی وجہ سے پیسہ معاشرے میں نچلے لیول تک فلو کرتا ہے، جو غربت کو کم سطح پہ رکھنے میں مدد گار ہے۔
جبکہ پاکستان کا حکومتی لیول پہ جو ٹیکس سسٹم ہے وہ لبرل اور خالص استحسالی سسٹم ہے۔ جو عام آدمی کا خون نچوڑ رہا ہے۔ جب تک یہ سسٹم رہے گا پاکستان کے حالات قیامت کی صبح تک ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ یہاں عمران خان آئے یا، جنید بغدادی، یا شیخ عبدالقادر جیلانی۔ اس سسٹم کے ہوتے ہوئے پاکستان کے حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔

اسلامی ٹیکس سسٹم (زکوٰۃ)کا فائدہ کیا ہے؟

اسلامی ٹیکس سسٹم پیداواری اشیاء کی بجائے منافع پہ لگایا جاتا ہے۔ ایک فرد یا کمپنی اپنے منافع پہ ایک مخصوص شرح سے ٹیکس دیتی ہے۔ موبائل کارڈ پہ ٹیکس صارف ادا نہیں کرے گا۔ بلکہ کمپنی جو کماتی ہے اس پہ ٹیکس ادا کرے گی۔ جتنا زیادہ کمائے گی اتنا ٹیکس بھی ادا کرے گی۔ پھر پراپرٹی ہولڈر کو اپنی مالیت پہ سالانہ زکوٰۃ ادا کرنی پڑے گی۔ جتنی مالیت زیادہ اتنا ٹیکس زیادہ۔ جس کے پاس کچھ نہیں ، وہ ٹیکس ادا نہیں کرے گا۔ یوں پراپرٹی ویلیوز نیچے گریں گی۔ عام آدمی بھی گھر خریدنے کی قوت رکھے گا۔ چونکہ اس سسٹم میں پیسہ اوپر سے نیچے فلو ہو گا امیر کو زیادہ ٹیکس دینا پڑے گا۔ اس لیے اس سسٹم کی وجہ سے جاگیریں ٹوٹ جائیں گی۔ پراپرٹی ویلیوز گِر جائیں گی۔ یہی چیز یہاں ہماری ایلیٹ کلاس کو برداشت نہیں ہے۔ جو اسلامی نظام کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاؤٹ ہے۔ اسلامی معاشی نظام لبرل جمہوریت میں بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اسلامی نظام کسی دوسرے نظام کو ایکسیپٹ نہیں کرتا۔ امید ہے کہ لبرل اکنامک سسٹم آپ سمجھ گئے ہونگے۔

دوسرا بڑا نقصان جو لبرل نظام میں ہوتا ہے، وہ اخلاقیات کی تباہی ہے۔ لبرل نظام اخلاقی تربیت پہ کوئی قوانین اور تعلیمات واضح نہیں کرتا، بلکہ شخصی آزادی کو پرموٹ کرتا ہے۔ یعنی آپ شراب پیئں ، زنا کریں ، ننگے گھومیں ، حرام ہلال جو مرضی کھائیں ، ریاست آپ کو کچھ نہیں کہہ سکتی۔ دنیا بھر میں تمام لبرل ممالک میں پروسٹیٹیوشن ، پورن، اپنے عروج پہ ہے۔ بوڑھے افراد کی کوئی عزت نہیں انہیں اولڈ ہاؤسز میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ عورتوں بچوں کا ریپ دنیا میں سب سے زیادہ لبرل ممالک میں ہوتا ہے۔ عورتوں کی عورتوں سے شادی اور مردوں کی مردوں شادی کے قوانین بنے ہوئے ہیں۔ عورتیں جانوروں سے جنسی فعل کرتی ہیں اور شادیاں کرتی ہیں۔ طلاق کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ ہر قسم کے جرائم میں لبرل ممالک سرِفہرست ہیں ،
مسلم ممالک میں ہر قسم کے جرائم بہت حد تک کم ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ لوگ کسی حد تک اسلام پہ عمل کرتے ہیں۔ علماء نے اسلامی اقدار کو عوامی سطح پہ زندہ رکھا ہوا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ، اب پاکستان میں موجودہ لبرل نظام کو خیر باد کہا جائے، اور اسلامی معاشی اور سیاسی نظام نافذ کیا جائے۔ اس کے لیے عوامی سطح پہ شعور اور بیداری پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے، کہ عوام اب اٹھ کھڑی ہو اور اسلامی نظام کے نفاذ کے جدوجہد شروع کرے۔ علماء کو اب نماز ،روزے حج پہ زور دینے کی بجائے اسلامی نظام کی افادیت پہ زور دینا چاہیے۔ اسلام کو محض ایک مذہب کے طور پہ پیش کرنے کی بجائے ،اب ایک نظام کے طور پہ پیش کیا جائے، اب اسلامی نظام کا نفاذ ناگزیر ہو چکا ہے۔ موجودہ سسٹم کے رہتے ہوئے بیروزگاری اور افراط زر کبھی ختم نہیں کیا جا سکے گا۔ ہماری نوجوان نسلیں بیرون ملک جا کر کام کرنے پہ مجبور رہیں گی۔ اور حکمران طبقے اور ایلیٹ کلاس کا پیٹ بھرتی رہیں گی۔ جو قیامت تک نہیں بھر سکتا۔ مہنگائی ہر سال بڑھتی رہے گی۔

 اسلامی نظام نافذ کیسے ہو گا۔ کیا خلافت ہی واحد راستہ ہے؟

اسلامی نظام کا نفاذ قطعی مشکل نہیں ہے۔ موجودہ جمہوری نظام میں ہی اسلامی قوانین آئین میں شامل کر کے، اسی سسٹم کو اسلامی اصولوں پہ استوار کیا جا سکتا ہے۔ جیسے ترکی میں طیب اردگان نے بتدریج ایک سیکولر اور لبرل ملک کو واپس اسلامی ملک میں تبدیل کر دیا، اور ملکی معیشت کو قرضوں کے چنگل سے آزاد کر کے، مضبوط کیا۔

پاکستان کی ستر فیصد دولت صرف 200 خاندانوں کے پاس ہے۔ یہ صرف اسی وجہ سے ہو رہا ہے کہ ، پیسہ استحسالی ٹیکس سسٹم کی وجہ سے اوپر کو فلو کر رہا ہے۔ اگر ایسا جاری رہا تو عوام ہمیشہ ان 200 خاندانوں کی غلام رہے گی۔ اب عوام اٹھ کھڑی ہو اور اس استحسالی نظام کو ٹھوکر مار دے۔ اور نظام کی تبدیلی کے لیے جدجہد کرے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

متعلقہ

Back to top button
Close