نقطہ نظر

لو جہاد سے ساودھان

محمدخان مصباح الدین

یہی تاریخ کہتی ہے، یہی حالات کہتے ہیں

عداوت تم نہ بھولو گے، محبت ہم نہ بھولیں گے

آج ایک دوست کے ہاتھوں ایک پمفلٹ ہاتھ لگا. جسکا موضوع تھا "جاگو ہندو جاگو!لوجہاد سے ساودھان. جو ہندی زبان پر مشتمل تھا. شاید وہ پمفلٹ میرے عزیز دوست نے کسی ایسے شخص سے کالج میں حاصل کیا جو کہ قوم وملک اور سماج میں گندگی اور زہر پھیلانے کے لئے منظم شازش کے تحت لگائے جاتے ہیں.

تحریر کچھ یوں لکھی گئی تھی!

مسلم لڑکے ہندو نام رکھ کر ہاتھوں میں کلاوا باندھ کر ٹیکا لگا کر ہندو لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں. انکا دھرم پریورتن کرکے شادی کرتے ہیں اور بچہ پیدا کر کے نیز ذہنی و جسمانی استحصال کر کے  چھوڑ دیتے ہیں. مثال کے طور پر فلم ایکٹر سیف علی خان اور عامر خان نے ہندو لڑکیوں سے شادی کی اور بچے پیدا کر کے چھوڑ دیئے. اپنی بہن اور بیٹیوں کی حفاظت کے لئے مستعد رہیں اگر آپ ایسا دیکھیں یا آپ کو ایسا لگے تو ہماری ہیلپ لائن سے رابطہ کریں .

اسکے بعد موبائل نمبر, ای میل اور فیس بک ایڈریس لکھا ہو

منجانب: اینٹی لو جہاد فرنٹ

 قارئین کرام!

  اس پورے مضمون کو جب میں نے پڑھا تو پورے بدن میں بجلی سی کوند گئی. ذہن ودل پے کاری ضرب سی محسوس ہوئی اور میں سوچنے پے مجبور ہو گیا کہ ہندوستان جسکے ذرے ذرے کو ہماری وطن پرستی اور محبت ووفاداری کا پورا علم ہے اور ہر دور میں ہم نے اپنی وفاداری کا ثبوت جان ومال کی قربانی سے دی ہے, زمین وآسمان اسبات کے گواہ ہیں۔ مگر اسکے باوجود ہندوستان کے اقلیتوں کے خلاف طرح طرح کے حیلے اور پروپیگنڈے کیئے جا رہے ہیں۔ عقل کے اندھوں اور فرقہ پرستوں نے جب ہر میدان میں شکشت کھائی تو اس بار  فکری جنگ کا سہارا لے کر اقلیتوں کو بدنام کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتے اور اس سے بھی زیادہ حکومت کا دوہرا معیار اور اسکی تنگ نظری باعث تشویش بنی ہوئی ہے۔ ہماری اب تک کی عمریں ہندوستان کی محبت کا دم بھرتے گزری ہے اور ان شاءاللہ قبر کے حوالے ہونے تک وطن کی محبت کو رسوا نہیں ہونے دینگے۔

 قلم جب بھی ا ٹھا یا ملک کو ذ یشان  لکھا  ہے

  ستم سہہ کر بھی ہم نے پیار کا عنوان لکھا ہے

 ہمیں نفرت بھری نظروں سے ہر دم دیکھنے والوں

 ہمارے دل میں جھانکو صرف ہندوستان لکھا ہے..

اتنا ہی نہیں اپنی محبت کو ہم نے ہر دور میں عملی طور پر ثابت بھی کیا ہے مگر تنگ نظری کا یہ عالم ہے کہ انہیں ہمارے خلوص اور نیک نیتی پے کسی بھی پہلو سے یقین نہہں آتا ستم بالائے ستم تو یہ کہ یہ لوگ درپردہ ہمیں بدمام و رسوا کرنے کیلیئے کیسی ذلیل اور گھناونی حرکات کرتے ہیں اسکا اندازہ لو جہاد جیسے اسکینڈلوں سے لگایا جا سکتا ہے

لو جہاد کے خلاف لوگوں کو اکسا کر اور انہیں جھوٹی اور من گڑھت کہانیاں سنا کر ایک محاذ تیار کیا جا رہا ہےتاکہ ان حیلے سازیوں کو نیا رخ دیا جا سکے لیکن لوگ طاقت اور عہدے کے غرور میں یہ بھول جاتے ہیں کہ مکر وفریب کی دیوار زیادہ دیر تک کھڑی نہیں رہ سکتی بلکہ آج نہیں تو کل اسکا زوال لازمی ہے.

 ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں

ناو کاغذ کی صدا چلتی نہیں

اتنا ہی نہیں بلکہ ملک کے امن پسند اور صلح مند افراد کو مسلمانوں کے تئیں غلط فہمی پیدا کی جا رہی ہے, فرقہ پرست لوگ اپنے ہی ہمنواوں سے یا یوں کہہ لیجیئے اپنی بہن بیٹیوں کو برقعہ پہنا کر سوشل میڈیا پر لا کر بیٹھا دیتے ہیں اور سونچی سمجھی تدبیر کے تحت غلط بیانی کرتے ہیں اور ایک خاص طبقے کو نشانہ بناتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ملک کے امن اور خوشگوار فضا کو زہر آلود کرتے ہیں لو جہاد ایک بکواس اور لا یعنی بات ہے اور اسکا حقیقت سے کوئی تعلق ہی نہیں یہ مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ ہے جسکا حقیقی مقصد اسکے علاوہ کچھ نہیں کہ مسلمانوں کی شخصیت داغدار کیا جائے اور اس ملک کی زمین ان پر تنگ کر دی جائے, فرقہ پرست عناصر اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں کو ملک کی تعمیروترقی کے بجائے تخریب کاری میں صرف کر رہے ہیں ,آرایس ایس کے جتنے بھی شعبے ہیں سبکا ہدف ایک ہی ہے مسلمانوں کی شخصیت کو مجروح کرنا چاہے وہ لو جہاد کے نام سے ہو یا دہشت گردی کا لیبل ہو یا پھر غیر ملکی تعلقات کا مسئلہ ہو کچھ نا کچھ نام دیکر ہمیشہ مسلمانوں کو روحانی اور جسمانی تکلیف دی گئی ہے اور آج بھی یہ سلسلہ عروج پے ہے مگر اللہ شاہد ہے کہ غیر ملکی نا جائز تعلقات ہو یا وطن سے غداری ہو یا پھر ملک کی پر امن فضا کو گندلا کرنے کامسئلہ ہو اس میں آرایس ایس اور اسکے تمام شعبے پیش پیش نظر آتے ہیں ,ستم ظریفی تو یہ کہ اسکے باوجود ہندوستان کی نا اہل تفتیشی ایجینسیاں اور کم ظرف پولیس ہمیشہ غلط طریقے سے مسلمانوں کو قصور وار ٹھرا کر انہیں گرفتار کرتی ہے اور اور ان پر جھوٹے کیس چلائے جاتے ہیں اور پھر انہیں لوہے کی سلاخوں کے پیچھے موت اور زندگی کے بیچ تڑپتا ہوا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ہزاروں ایسے زخم اور روداد ذہنوں میں نقش ہیں کس کس کا رونا رویا جائے,اور کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوتا ہیکہ ایک مسلمان شک کی بنیاد پے گرفتار کیا جاتا ہے اور یہ بات عدالت تک بھی نہیں پہونچتی کہ ہمارے ملک کی بے مروت میڈیا خود ہی اسے ملزم سے مجرم قرار دیتی ہے اور ہمارے ملک کی بے غیرت پولیس عدالت کے فیصلے سے پہلے ہی گولی کا نشانہ بنا لیتی ہے اور اسے دہشت گرد اور نہ جانے کیا کیا نام دیکر ملک کی میڈیا سے ہم کلام ہوتے ہیں .

   نہ شازش تھی نہ کوئی جنگ کا اعلان لکھا تھا

   بجھی آنکھوں میں اک معصوم سا ارمان لکھا تھا

   جسے آتنک وادی کہہ کے گولی مار دی تم نے

   اسی مزدور کے سینے پے ہندوستان لکھا تھا

دکھ تو اسوقت ہوتا ہے جب حکومت بھی انکے اس غلط رویے میں انکا ساتھ دیتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ انہیں تمغوں سے نوازہ جاتا ہے گویا اس ملک کی سرکار فرقہ پرستوں کی سرپرست ہو.

مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو کئی سالوں سے جیلوں کی تاریک کوٹھری میں برسوں سے اپنی بے گناہی کے ایام کاٹ رہیں جب حق اور انصاف کے دائرے میں رہ کر تفتیش کی جاتی ہے تو گرفتار کیئے گئے مسلمان ہر اعتبار سے بے گناہ پائے جاتے ہیں اور انہیں عدالت سے با عزت کہہ کر رہا تو کر دیا جاتا ہے مگر انکی پیشانی پے بدنما داغ انکی زندگی کو بے مقصد اور بے معانی بنا دیتا ہے,اسوقت وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتے اور انکی رسوائی سایہ بن کر زندگی کی آخری سانس تک انکا پیچھا کرتی ہے .

 صرف اک قدم اٹھا تھا غلط راہ حیات میں

منزل تمام عمر مجھے ڈھونڈھتی رہی

قارئین کرام!

    ہندوستان کی اقوام میں آپسی میل ملاپ کو ختم کرنے کیلیئے تمام پروپیگنڈوں کے ساتھ ساتھ لو جہاد کو لایا گیا تاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بین المذاہب رواداری و محبتوں میں نفرت,دھوکہ اور غلط فہمی کی بیج بویا جائے سمجھ میں نہیں آتا یہ ملک کدھر جا رہا ہے.ایک طرف اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی جی کہتے ہیں لو جہاد ایک بین الاقوامی شازش ہے تو وہیں بی جےپی پارٹی کے سینیئر لیڈر کالراج مسرا کہتے ہیں کہ انہیں لو جہاد کا مطلب ہی معلوم نہیں دوسری طرف وشو ہندو پریشد کے نوجوان بجرنگ دل نے لو جہاد کے بعد گھر واپسی کا پرو پیگنڈہ کھڑا کیا اور کہا کہ ہندوستان کے سارے مسلمان برہمنوں سے تبدیل کئے گئے ہیں ہم ان سب کو دوبارہ ہندو بنا کر گھر واپسی کرینگے لو جہاد اور گھر واپسی تک انکی جال سازی نہیں رکی بلکہ ایک اور تحریک شروع کی "بہو لاو بیٹی بچاو” بجرنگ دل کے ایک صوبائی کنوینر اجو چوہان کا کہنا ہے کہ ہندو معاشرے میں بہت بنیاد پرستی ہے۔ اس تحریک کے ذریعے دوسرے مذاہب کی جو لڑکیاں ہندو لڑکوں سے شادی کریں گی انھیں پوری عزت دی جائے گی۔ ساتھ ہی دونوں کی حفاظت بھی کی جائے گی۔‘

’بہو لاؤ، بیٹی بچاؤ‘ تحریک کے تحت جو ماں باپ عیسائی یا مسلم کمیونٹی کی لڑکیوں کو اپنی بہو بنانے کی مخالفت کریں گے انہیں بھی سمجھانے کی کوشش کی جائے گی۔

 بجرنگ دل کی یہ تحریک ’لو جہاد‘ کا جواب ہوگی۔

چوہان کے مطابق ’لو جہاد‘ كے خلاف تحریک چلتی رہے گی اور ہندو لڑکیوں کو اس کے بارے میں آگاہ کرنے کا کام بھی جاری رہے گا۔آج ہمیں باطل کی ہر کارستانی سے ہوشیار اور بچنے کی ضرورت ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں مسلمانوں کی تعداد بہت معمولی تھی لیکن ہر مسلمان ایمان کی مضبوطی کے لحاظ سے ایک امت کی مانند تھا اوران کی حکمت عملی بہت مضبوط اورخالص اسلامی ہواکرتی تھی ،ان کے ایمان کی مضبوطی کا یہ عالم تھا کہ بڑی بڑی عداوتیں اورسازشیں بھی انکا کچھ نہ بگاڑ سکیں ،وہ ایک مضبوط چٹان کی طرح ہرچیلنج کا سامنا کرتے رہے۔ وہ لوگ مصیبتوں میں مبتلا ہونے کے بعد اپنا جائزہ لیتے تھے اوراپنی کمیوں کو تلاش کرکے اپنے اندر تبدیلی پیدا کرتے تھے ،آئندہ آنے والی مشکلات کا سامنا کرنے کے لئے وہ لوگ ہر وقت کمربستہ رہتے تھے نیز ان میں اسلامی بنیادوں پر اتحاد تھا۔اس وجہ سے وہ لوگ کبھی ناکام نہیں ہوئے بلکہ ہمیشہ کامیابی سے ہمکنار رہے۔

اللہ ہمیں کافروں کی جال سازی سے محفوظ رکھے اور آمین_

 ہیں بے گناہ تو ہونے سے کچھ نہیں ہوگا

  ثبوت دیجیئے رونے سے کچھ نہیں ہوگا

 سبب تلاش کرو اپنے ہار جانے کا

  کسی کی جیت پے رونے سے کچھ نہیں ہوگا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close