عالم اسلامنقطہ نظر

مجھ سے کچھ پنہاں نہیں اسلامیوں کا سوزوساز

واحد بشیر

میخائیل گورباچوف سوویت روس کے آخری لیڈر نے جب اپنی آنکھوں کے سامنے روس کوٹکڑے ٹکڑے ہوتے دیکھا تو یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ کمیونسٹ روس کی پامالی سے امریکہ ایک کھلے دشمن سے محروم ہوا۔ دراصل گورباچوف یہ جانتا تھا کہ امریکہ اور اس کے حواریوں کو دنیا کے ہر مسئلے میں ٹانگ اڑانے کے لئے ،اور بے جا دخل اندازیوں کے لئے لازماََکسی نہ کسی ’’نظریاتی متبادل‘‘  (Ideological Other)کی ضرورت پڑے گی۔ امریکی مصنف سموئیل ہنٹنگٹن نے اپنی کتاب میں تہذیبی تصادم کے تصور کو پیش کرتے ہوئے دراصل گورباچوف کی سیاسی بصیرت پر مہر تصدیق ثبت کردی۔

عالم اسلام نے دراصل امریکہ اور اس کے حواریوں کے لئے اسی نظریاتی متبادل کی حیثیت اختیار کی ہے جو سرد جنگ کے پورے عرصے کے دوران روس انجام دے رہا تھا ۔مسلمان ممالک کی زمینیں مغرب اپنے منصوبوں کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ بھی دراصل بس ایک اکھاڑہ ہے جہاں عالمی طاقتیں اپنی پہلوانی کا مظاہرہ کرتی رہتی ہیں ۔ مشرق وسطیٰ میں منصوبے اور خاکے راتوں رات تبدیل ہو جاتے ہیں اور محاذ تبدیل ہوتے رہتے ہیں ۔ دوستیاں اور دشمنیاں غیر مستقل ہیں ۔ بس ایک چیز ظاہر اور مستقل ہے ، غلامانہ ذہنیت و طرز عمل کا دوام۔ اس دوڑ میں مسلمان قائدین ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں کسی بھی حد کو پھلانگنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں ۔ ممالک کو دبائو دھونس اور جبری احکامات دے کر محاز آرائی کے لئے کھڑا کیا جاتا ہے، اور بسا اوقات جس فرضی دشمن کے سامنے شرق اوسط کے ملکوں کو کھڑا کیا جاتا ہے وہ یا تو ان کا کوئی ہمسایہ ملک ہوتا ہے یا ان کے اپنے ملک کے لوگ ہوتے ہیں ۔ جس جگہ سے تار ہلائے جاتے ہیں اور جہاں سے یہ احکامات صادر کئے جاتے ہیں ، وہ مسلمان ممالک کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف لڑنا دراصل اسلام کے لئے لڑنے کے مترادف ہے۔ اوروں کی اس عیاری کا ہی نتیجہ ہے کہ مسلمان زمینوں پر سیاسی اقتدار کے حصول کے لئے کئی ملت فروش اپنی ملکوں کی معدنی دولت، تیل، گیس اور دوسرے ملکی و ملی وسائیل تک کا سودا کرنے میں عار ہی محسوس نہیں کرتے ہیں ۔ ان لوگوں کو بڑے بڑے اعزازات اور انعام و اکرام سے نوزا جاتا ہے جو ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ لڑانے میں بڑی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ یہ وہی دشمن ہیں جن کے ہاتھوں ہمارے خطوں کی آبرو پامال اور ہماری عزت و آبروبھی دائوں پر لگ جاتی ہے۔

مشرق وسطیٰ کو دراصل امریکہ اور برطانیہ چلاتے ہیں ۔ فیصلے وہ لیتے ہیں ،طاقت کے سرچشمے ان کے پاس ہیں اور احکامات بھی وہی صادر کرتے ہیں ۔ خطے میں موجود ارباب اقتدار میں سے غالب اکثریت کو’ تعینات ‘کیا گیا ہے۔ ملک جو بظاہر آزاد دکھائی دے رہے ہیں ،مغلوب ہیں ۔ مشرق وسطیٰ پر دراصل چڑھائی کردی گئی ہے۔ ملک ایک دوسرے کے ساتھ لڑائے جارہے ہیں ، ان کو تقسیم کیا جارہا ہے۔ مختلف گروہوں اور فرقوں میں تقسیم کرکے وہاں کی آبادی کوایک سلسلہ وار جنگ میں دھکیل دیا گیا ہے۔ خطے کے ملکوں کو گرایا جاتا ہے اور چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کردیا جا تا ہے۔ عراق، شام ، لیبیا،اور یمن چند مثالیں ہیں ۔ اس خاکے میں سرد جنگ کے اختتام کے ساتھ ہی رنگ بھرنے کا عمل شروع ہوا ہے۔ ان ملکوں میں پہلے آہستہ آہستہ عدم توازن پیدا کیا جاتا ہے۔ پھر بتدریج کچھ ملکوں میں باضابطہ مداخلت کی گئی ہے اور ان پر فوجی چڑھائی کی گئی۔ اور اسی طرح خطے میں ایسے کئی ملک ہیں جن میں سامراجی فوج،اور دیگر دہشت ناک عناصر اور تنظیموں (جن کی باضابطہ پشتیبانی کی جاتی ہے) کی موجودگی سے عام لوگوں کی زندگی بہت زیادہ دشوار ہوگئی ہے۔

قطر بحران محض ایک ملک کے خلاف زیادتیوں پر مبنی قدغنیں نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایران اور سعودی عرب کی جنگ کیلئے ایک پیش خیمے کی حیثیت رکھتا ہے۔ قطر کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لئے جو شرائط رکھی گئیں ہیں وہ اس بات کو واضح کرنے کے لئے کافی ہیں کہ خطے میں کس کی پالیسی پر عملدرآمد ہورہا ہے۔ اسلا م پسندوں سے قطع تعلق، ایران کے ساتھ سفارتی مقاطعہ،ترکی کے ساتھ دفاعی معاہدوں کی منسوخی اور الجزیرہ جیسے مسلمانوں کے واحد میڈیائی ادارے کو بند کردینا اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ پس پردہ کون سے ہاتھ کارفرما ہیں ۔ امریکہ اور مغرب کے پاس دراصل سارے مسلمان ممالک کے لئے ایک باضابطہ طے شدہ پروگرام ہے۔ اور ہر مسلمان ملک اس پلان میں آتا ہے،ترکی،ایران، سعودی عرب، پاکستان، انڈونیشیا وغیرہ وغیرہ۔ امریکہ کے ساتھ کس کے دوستانہ وحلیفانہ تعلقات ہیں اور کس کے حریفانہ تعلقات، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ان کے پاس ہر ایک کے لئے ایک ایجنڈا پہلے سے ہی موجود ہے جس کے مطابق وہ ہر ملک کے ساتھ معاملہ کرنے جارہے ہیں ۔خطے میں امریکہ کے دوست اور دشمن دونوں ہی بازی ہارنے والے ہیں ، کسی بھی چیز سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے۔ان کے نزدیک ہر ایک ملک کو کسی نہ کسی دن ٹوٹ کر تباہ ہونا ہے جیسے شام، لیبیا اور عراق انتشار اور انارکی کے شکار ہو گئے ہیں ۔ وہ مسلمانوں کے ہر ملک کو چھوٹی چھوٹی شہری ریاستوں میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں ۔ اسی لئے شام کے بحران کا کوئی حل نکلنے سے پہلے ہی قطر کا بحران پیدا کیا گیا۔

امریکہ درپردہ ایران اور سعودی عرب کو ایک دوسرے کے سامنے مد مقابل کھڑا دیکھنا چاہتا ہے۔احکامات صادر ہوگئے ہونگے، اور محاذ کی تیاری اور نشاندہی تو اسی وقت ہوگئی تھی جب امریکی صدر نے خطے میں ’’عرب غدار‘‘ کی سرزنش کی اور اب تو’’ عرب غدار‘‘ کی ناکہ بندی بھی مکمل ہو چکی ہے۔ اس کے زمینی، سمندری اور ہوائی راستے مسدود کر دئے گئے ہیں اور اس پر چڑھائی کے سارے انتظامات بھی مکمل ہو گئے ہیں ۔ ایرانی حملوں اور قطری بحران کے پیچھے ایک ہی ہاتھ کام کر رہا ہے۔ یہ دونوں چیزیں ایک ہی آپریشن کے دو حصے ہیں ۔اس سب کے پیچھے مقصد یہ کار فرما ہے کہ سنی عرب اور شیعہ ایران کے باہمی تنازعے کو ہوا دے کر آگ کو مزید بھڑکایا جائے۔ ماحول اس طرح کا بنایا جارہا ہے کہ کسی کے پاس کوئی اور اوپشن نہ رہے اور صحیح اور غلط کا جو معیار امریکہ خطے کے ارباب اقتدار کے سامنے پیش کرے اس کے سوا کوئی اور چیز صحیح اور غلط نہ دکھے۔ یہ صرف آج کا کھیل نہیں بلکہ برسوں سے اسی طرح کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔

ہم صرف ان کے کہے ہوئے اور طے کئے ہویئے مورچے پر بیٹھ کر اپنی توانائیاں اور اپنے وسائل خرچ کرتے ہیں اور ملت مرحومہ پر مزید ظلم و ستم ڈھاتے ہیں ۔ ہم عربی اور عجمی، سنی اور شیعہ نام پر ایک دوسرے کے ساتھ بہت زیرک دستی کے ساتھ لڑائے جارہے ہیں ۔ ان کو ہمارے یہاں کی وہ جمہوریت قطعاََ پسند نہیں جو ان کے مفادات کی مخالف ہو۔ پھر اس جمہوریت کا ساتھ غالب اکثریت ہی نے کیوں نہ دیا ہو اور عوامی رائے سے ہی وہ وجود میں کیوں نہ آئی ہو۔ اسی طرح وہ ہمارے مسلمان ملکوں کی بد ترین آمریت اورجمہوریت پر شب خون مارنے والی ڈکٹیٹر شپ کو بھی کھلے دل کے ساتھ قبول کرتے ہیں ۔ کیونکہ ان کے مفادات کی حفاظت آمرانہ ذہنیت کے لوگ زیادہ بہتر طریقے پر انجام دیتے ہیں ۔ ان کے یہاں معیار کوئی اخلاق اور سیاست کے عام تسلیم شدہ اصول نہیں ، بلکہ My Nation; Right or Wrong کے قانون پر عمل ان کا برسوں کا وطیرہ ہے۔

تنازعات کو باہمی مشاورت سے طے کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ملت اسلامیہ کے قائدین کو دانشمندی کے ساتھ فریقین کی شکایات کا ازالہ کرنا چاہئے۔ مشترکہ دشمن کی سازشوں کا شکار ہونے کے بجائے ، اس کی چالوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہماری زمینوں کو میدان جنگ کے طور استعمال کیا جارہا ہے۔ ہمارے وسائل کو سستے داموں عالمی مارکیٹ میں بیچا اور خریدا جارہا ہے۔ ہمیں زبان اور مسلک کے نام پر لڑایا جارہا ہے۔ ہمارے علماء اور عوام کے حقیقی نمائندوں کو دہشت گردی کے جھوٹے الزامات کے تحت زندانوں میں ڈالا جارہا ہے۔ اور بدنصیبی یہ ہے کہ ان سارے کاموں کو ملت فروشوں کے ہاتھوں انجام دلایا جاتا ہے۔ اس ملت کے جھوٹے اور مکار لوگوں کے سروں پر قیادت کے تاج سجائے جاتے ہیں اور ملت کا خون چوسا جارہا ہے۔

ہماری مائوں ،اور بہنوں کی عزت سر بازار پامال کی جاتی ہے۔ ہمارے معصوم بچوں کا بے دریغ قتل کیا جاتا ہے۔ ہماری ہی دولت کے عوض ہم کو ہتھیار فراہم کئے جاتے ہیں اور پھر وہی ہتھیار ہم کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی نہ صرف ترغیب دی جاتی ہے بلکہ اس پر ہم کو باضابطہ آمادہ کیا جاتا ہے۔ ہماری دنیا میں بربریت اور چنگیز ملت کی طرح ترویج کی جارہی ہے۔ دہشت کو ہماری پہچان کا لازمہ بنا دیا گیا ہے۔

اسلام اور مسلمانوں کو دنیا بھر میں بدنام کیا جارہا ہے۔ ہمارے اتحاد کو سرے سے ٹکنے نہیں دیا جاتا ہے، ہم کسی پلیٹ فارم پر جمع بھی ہوجائیں تو اس اتحاد کو چلنے نہیں دیا جا تاہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ملت کے مسائیل کا حل ہم از خود نکالیں اور مزید تباہی سے اس ملت کو بچانے کی کوشش کریں ۔ اس ملت کی شیرازہ بندی ایک مشترک ذمہ داری ہے جس سے عہدہ برآ ہونا ہی وقت کا سب سے بڑا کام ہے اورجس کو انجام دینا لازمی ہے۔

مزید دکھائیں

واحد بشیر

بجبہاڈہ کشمیر سے تعلق ہے

متعلقہ

Close