نقطہ نظر

مذہب پر سیاست کی سواری

حفیظ نعمانی

مسلمانوں کے تہوار ہوں یا غم و الم کی یادیں سب کا حساب قمری مہینوں سے لگایا جاتا ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ عید ہو یا محرم ہر سال 12  دن پیچھے چلا جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آٹھ دس سال میں وہ کسی ہندو تہوار سے ٹکرا جاتا ہے۔ بات اگر صرف مذہب کی ہو تو دونوں میں کسی طرح کے بھی ٹکرائو کی کوئی جہ ہی نہیں ہے۔ جیسے مسلمانوں کے تہواروں میں عید ہے یا عید قرباں ۔ عیدالفطر اُن 30  روزہ کے رکھنے کے بعد اس بات کی خوشی کا اظہار ہے کہ ہم نے اپنے پروردگار کے حکم کے مطابق روزے رکھ لئے اور یقین ہے کہ جو ہمارے پروردگار نے ان روزہ کے دن اور رات میں جتنے انعامات دینے کا وعدہ فرمایا ہے وہ ہمیں ملیں گے۔ ان میں کوئی بات ایسی نہیں ہے جس کا ہندوئوں یا غیرمسلم کسی سے بھی ٹکرائو ہو؟

اب اگر جس دن عید ہے اسی دن دیوالی آجائے تو کسی کو کیا فرق پڑے گا؟ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے ایک ہی سڑک پر دو باراتیں آرہی ہیں یا جارہی ہیں ان میں ایک ہندو کی ہے دوسری مسلمان کی تو دونوں میں کبھی ٹکرائو کی بات سننے میں نہیں آئی کیونکہ ایک دوسرے کی شادی سے کسی کو کیا تکلیف ہے؟

بنگال میں جیوتی باسو کے زمانہ میں ایک بار پوجا اور عیدقرباں کی تاریخیں ٹکرا گئیں اس زمانہ میں کلکتہ کے ہندوستانی کھانوں کے لئے بہت مشہور صابر ہوٹل کے مالک محبوب علی ہمارے دوست لکھنؤ میں تھے۔ وہ کلکتہ جانے سے پہلے آئے اور پریشانی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ بنگال میں دسہرہ نہیں پوجا کا تہوار ہوتا ہے اور اس میں ہر بنگالی وہ کوئی بھی ہو اپنے گھر آنا چاہتا ہے۔ اس سال عیدقرباں اور پوجا کی تاریخیں ٹکرا گئیں اللہ ہی خیر کرے۔ اور وہ رُخصت ہوکر کلکتہ چلے گئے۔ پندرہ دن کے بعد واپس آکر انہو ں نے بتایا کہ بسو دادا نے ہندو مسلمانوں کی میٹنگ بلائی اور مسلمانوں سے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ قربانی تین دن ہوتی ہے لیکن ضروری نہیں کہ تینوں دن کی جائے۔ آپ لوگ ایک دن اور ایک رات میں قربانی کرکے دو دن اپنے ہندو بھائیوں کو دے دو اور ہندو ایک دن اور ایک رات پوجا کے پنڈال بند رکھیں گے۔ اور دونوں مان گئے۔

تہوار کو اگر تہوار کے طور پر منایا جائے تو کوئی ایسا نہیں ہے جس میں مسلمانوں کا ہندوئوں سے اور ہندوئوں کا مسلمانوں سے مقابلہ ہو؟ جہاں تک ہم نے سنا ہے ہندوئوں کا ہر تہوار برائی پر اچھائی کی فتح کے طور پر منایا جاتا ہے اور جو مسلمان محرم میں غم مناتے ہیں وہ ایک درد بھری کہانی ہے جس میں مظلوم تو مسلمان تھے ہی ظالم بھی اپنے کو مسلمان کہتے تھے۔ کسی بھی تہوار میں مسلمان کی ہندو پر اور ہندو کی مسلمان پر فتح نہیں ہے تو پھر اسلحہ کی نمائش اور ہتھیار لگاکر مورتی کو دریا میں بہانا مذہب کا حصہ کیسے بن گیا؟ اور پہلے بنگال میں اور اب پورے ہندوستان میں 9  دن درگا پوجا اور دسویں دن اسے دریا برد کرنے سے ہندو کو کس مسلمان نے روکا ہے؟

یہ بات وزیر اعظم کی سطح کی نہیں ہے لیکن اس وقت جو وزیراعظم ہیں یہ ان کا شوق ہے کہ وہ حکومت تو نام کے لئے کرتے ہیں اور سیاست ہر وقت اور ہر جگہ کرتے ہیں ۔ اس لئے ان سے کہنا پڑرہا ہے کہ کم از کم مذہب میں تو سیاست کا دخل نہ ہونے دیں ۔ ہم نہیں جانتے کہ آر ایس ایس کے نزدیک ہر موقوع پر اسلحہ کی نمائش کیوں ضروری ہے؟ ہندوستان میں ایک دن وشوکرما پوجا ہوتی ہے۔ ہمارا خود پریس ہے اس میں ہندو بھی کام کرتے ہیں وہ اس دن اپنی پوجا کرتے ہیں اور چھٹی بھی کرلیتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ جس چیز کے ذریعہ روٹی روزی ملتی ہے اس کی پوجا کی جاتی ہے۔ کئی برس پہلے ایک دفعہ مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ کو دیکھا کہ وہ بندوق، ریوالور اور رائفل کا ذخیرہ رکھے بیٹھے ہیں اور ا کی پوجا کررہے ہیں ۔ اب یہ نہیں معلوم کہ کس نے انہیں شرم دلائی کیونکہ اس کے بعد نہیں دیکھا۔ وہ اس سال اس طرح اچھل کود رہے تھے جیسے کسی سے مقابلہ کررہے ہیں ۔

بنگال میں اگر ہندوئوں کا رجحان آر ایس ایس یا بی جے پی کی طرف نہیں ہے تو کیا وزیراعظم کے نزدیک یہ ضروری ہے کہ وہاں کے ہندو سب تنگ نظر اور مسلم دشمن ہوجائیں ؟ جہاں تک یاد آتا ہے بنگال میں آزادی سے پہلے جیسے گائے کا گوشت بکتا تھا آزادی کے بعد کانگریس اور کمیونسٹوں کے زمانے میں بھی اسی طرح بکتا رہا۔ اور کسی کے بھی کہنے سے اس پر پابندی نہیں لگی جبکہ آزادی سے پہلے تو حسن شہید سہروردی نام کے مسلمان وزیر اعلیٰ تھے۔ لیکن آزادی کے بعد سے آج تک ہمیشہ ہندو ہی وزیراعلیٰ بنے اور بنیں گے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کیرالہ، منی پور اور روناچل جیسی ریاستیں جہاں ہندو ہیں اور وہی گائے کھاتے ہیں جبکہ حکومت بی جے پی کی ہے۔ اگر مذہب میں سیاست کو داخل کیا گیا تو اس کا اثر ملک پر پڑے گا اور یہ بہت برا ہوگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close