معاشرہ اور ثقافتنقطہ نظر

مروجہ طریقۂ طلاق غیر اِسلامی ہے!

آج طلاق دینے کاجو چلن ہمارے معاشرے میں عام ہے وہ یک لخت جاہلانہ عمل اور سراسر غیراسلامی طریقہ ہے

ڈاکٹر جہاں گیر حسن مصباحی

آج ملکی سطح پرطلاق کولےکرکافی بےچینی اوربےاطمینانی کا ماحول بنا ہوا ہے، جس کی وجہ کوئی غیر نہیں بلکہ ہم مسلمانوں کا اپنا رویہ ہے۔ جس طلاق کو اللہ رب العزت نے بعض سخت اور پریشان کن حالات میں نجات کا ذریعہ قراردیا ہے اسی کو ہم لوگوں نے اپنی لعنت وملامت کا ذریعہ بنارکھا ہے، اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہم لوگوں کی جہالت ہے کہ طلاق کی حقیقت اور اصلیت سے ہم لوگ نابلد ہیں۔ کن صورتوں میں طلاق دینا ہے، کب دینا ہےاور کیوں دینا ہے اس کا ہمیں پتا ہی نہیں، لیکن بات بے بات دھڑلّے سے ہم لوگ طلاق دیے جارہے ہیں اور تباہی وبربادی کے گڑھے میں گرتے چلےجارہے ہیں۔

اس بات سے کون آگاہ نہیں کہ کسی ایسی چیز کو اپنانا، یا اختیار کرنا کہ جس کی حقیقت کاکچھ علم نہیں، یاجس چیز کے بارے میں علم ہے مگر اُس کے استعمال کا طریقہ معلوم نہیں، تو اُس سےنفع ہویا نہ ہو، البتہ!نقصان یقینی طورپرہوتاہے، مثلاً کوئی شخص تلوار چلانا نہیں جانتا پھربھی تلوار چلاتا ہے تو اِتنا طے کہ وہ سامنے والے کاکچھ کرپائے یا نہیں مگر اپنا نقصان ضرور کرلےگا۔ یہی حال اُن لوگوں کا ہےجوطلاق کی حقیقت و اصلیت کے تعلق سےذرہ برابر بھی واقف نہیں لیکن طلاق کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ اس کا اثر یہ ہوتا ہےکہ ایک طرف میاں -بیوی کی زندگی تباہ وبرباد ہوتی ہے اوردوسری طرف مختلف خاندان کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے۔ لہٰذاطلاق کے سبب پیداہونے والی تمام طرح کی بُرائیوں اور پریشانیوں سے بچنے کے لیےہم پر لازم ہے کہ ہم مسلمان بالخصوص طلاق کے سلسلے میں تفصیلی معلومات حاصل کریں اور طلاق کا وہ طریقہ اختیار کریں جو اِسلامی قانون نے ہمیں دیا ہے، جس کا مقصد صرف اور صرف ایک انسان کو بدحال زندگی سے دور رکھنا ہے اورایک خوشحال زندگی عطا کرنا ہے۔ بلاشبہ اسلامی قانون میں طلاق کے جو مفید طریقے بتائے گئے ہیں اگراُن کو اختیار کرلیاجائے تو اولاً طلاق کی نوبت نہیں آئے اور اگربدقسمتی سے آئے گی تو اُس کی فیصد میں کافی کمی آجائےگی۔

اس تعلق سے اولاً یہ جان لیناانتہائی ضروری ہےکہ اسلام میں طلاق کو اُسی صورت میں جائز رکھا گیا ہےکہ جب میاں  بیوی کے درمیان سخت اختلاف ہوجائےاور اُن دونوں کے درمیان نباہ کرنے کی کوئی صورت نظر نہ آئے۔ لیکن سخت اختلاف کی صورت میں بھی مردپہلے اپنے طورپرعورت کو سمجھائے اوراس بات کا احساس کرائے کہ خاندان اور گاؤں محلہ والےکیا کہیں گےاور کیا سوچیں گے؟اس کے باوجودبھی عورت راہِ راست پر نہ آئے تو سوتے وقت اُسےبسترسے الگ کردے اور اُس سے منھ پھیرلے، تاکہ اُسے اپنی غلطی کا احساس ہو، پھر بھی نہ مانے تواُسے ایک دو چپت بھی رسید کردےکہ اُس کےدل میں مارکاخوف بیٹھےاور صلح کرلے اورجب بات بن جائے، صلح ہوجائے تو اُس کی پچھلی غلطیوں اور کوتاہیوں کو معاف کردینا چاہیے کہ ارشادِ ربانی ہے:’’جن عورتوں کی شرکسی اورشرارت کا تمھیں اندیشہ ہو تواُنھیں سمجھاؤ، اُنھیں خوابگاہوں میں الگ کردو، اور اُنھیں سزا دو، پھر اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو اُن پر ظلم نہ کرو۔ (نسا:34)مگراِتنا سب کچھ کرنے کےباوجود ناکامی ہاتھ لگے اور تنازع کا کچھ حل نہ نکل سکے تو ہردوخاندان کے بڑوں اور سمجھ دار لوگوں کو بلائے اور اُن کے سامنےاپنا مسئلہ رکھےاوراُن سے کہے کہ اس کاکوئی مناسب حل تلاش کریں، یعنی میاں – بیوی کا معاملہ گھر کامعاملہ ہے، اس لیے اسلام نے اس معاملے کو گھر ہی میں سلجھانے کا حکم دیا ہے، تاکہ میاں – بیوی کی عزت وناموس بھی محفوظ رہے اور خاندان والوں کی ناک بھی اونچی رہے۔ اس کے باوجودکہ گھر کی پنچایت میں بھی یہ معاملہ نہ سلجھ سکے تو اَ ب آخری مرحلے میں طلاق کا نمبر آتا ہے اور اُس فیصلہ کن وقت میں بھی ایک ہی طلاق دینے کا حکم ہے جس سے کہ میاں – بیوی کے درمیان کی ناچاقی اوردوری ختم کرنے کا موقع باقی رہےیکدم سے جدائیگی نہ ہو، اور یہ ایک طلاق بھی پاکی اور درستگی کی حالت میں واقع ہو، مثلاً: عورت ماہواری میں مبتلا نہ ہوکہ یہ ایک بیماری ہے اور بیماری میں طلاق دینا اچھی بات نہیں، یا پھر وہ حاملہ نہ ہو کہ نو مہینہ تک وہ اپنے پیٹ میں بچہ لیے رہے اور اُس کے گلے میں طلاق کا طوق ڈال دیاجائےیہ بھی ایک غیرانسانی عمل ہے، چنانچہ ماہواری سے پاکی حاصل کرلینے کے بعد بغیر بیوی سے ملے اُسےایک طلاق دینے کی اجازت ہے۔

لیکن یہ خیال رہے کہ ایک طلاق دینے کے بعد بھی عورتوں کو بےیارومددگار چھوڑدینا سخت منع ہے، بلکہ اُن کے رہنے سہنے، کھانے پینے، لباس وپوشاک اور علاج و معالجےکا انتظام کرنامرد پر لازم ہےاور یہ ذمہ داری پورے تین مہینےتک نبھانا ہے، اور اگرعورت حاملہ ہے تو بچے کی پیدائش تک یہ تمام اخرات اٹھانےضروری ہیں۔ سورۂ طلاق میں ہے:اُن طلاق شدہ عورتوں کو بھی وہیں رکھو جہاں تم رہتےہواور اُنھیں کوئی تکلیف نہ دو کہ اُن کا رہناسہنادوبھر کر دو، اوراگرطلاق شدہ عورتیں حاملہ ہوں تو اُن کےاخراجات برداشت کرتے رہویہاں تک کہ وہ اپنا بچہ جَن لیں، پھر اگروہ تمہاری خاطراُس بچے کو دودھ پلائیں تو اُنھیں اُن کا معاوضہ ادا کرتے رہو، اور آپس میں نیک اور مناسب مشورہ کرو، اور اگر تم آپس میں دشواری محسوس کرو کہ طلاق شدہ عورتیں بچوں کودودھ پلانے کے لیے راضی نہ ہوں تواُس کے لیے کسی دوسری عورت کا انتظام کرو۔ (آیت:6)

اور طلاق کے بعد بھی تین مہینے/ بچے کی پیدائش تک اخراجات اٹھانےاور بچوں کو دودھ پلانےپر معاوضہ دینے کا حکم اس لیے ہے کہ شاید دونوں اپنی غلطیوں پر پچھتاوا ہو، اوراپنے گلے شکوے بھول جائیں، اور اُن کے درمیان صلح ومصالحت کی کوئی صورت نکل آئے۔ گویا میاں -بیوی کے درمیان قائم رشتے کو بچانے کی کوشش یہاں تک کی گئی ہےکہ جہاں ایک انسان کا ذہن کبھی نہیں پہنچ سکتاہے۔ چنانچہ اِن تین مہینےکے اندر اگر دونوں کا دل بدل جائےاوردونوں ملنا چاہیں تو بلانکاح مل سکتے ہیں۔ لیکن اس تین مہینے/ بچے کی پیدائش کے درمیان دونوں نہیں ملتے ہیں تو تین مہینے/بچے کی پیدائش کے بعددونوں کے درمیان جدائی ہوجائےگی۔ اس کے بعد بھی اگردونوں چاہیں تو مل سکتے ہیں مگر اِس وقت نئے مہرکے ساتھ نیا نکاح کرنا ہوگا۔ اس طرح بالکل آخری مرحلے میں تین طلاق کا نمبر آتا ہےکہ اس کے بعد میاں -بیوی نہیں مل سکتےہیں اور اَب دونوں کے درمیان ہمیشہ کے لیے جدائی ہوجائےگی۔ لیکن تین طلاق کے بعد بھی عورتوں کے ساتھ احسان و بھلائی کا حکم دیا گیا ہے کہ اس جدائی کے وقت بھی اُنھیں تحفہ تحائف کے ساتھ رخصت کرو۔ ارشادِ ربانی ہے:تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ جو چیزیں تم اُنھیں دے چکے ہو اُس میں سے کچھ واپس لو۔ (بقرہ:229)یعنی عورتوں کی مہر، جہیز کے سازوسامان اور جو کچھ زیور اُسے دیے گئے ہیں خواہ مرد کی طرف سےدیے گئے ہوں یا سسرال والوں کی طرف سے یا پھر میکے والوں کی طرف سے، ان چیزوں کے روکنے کا حکم بالکل نہیں ہے، بلکہ جہاں تک ممکن ہو اُس سے بڑھاچڑھاکردینا اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب ہے۔

منجملہ طلاق دینے کا اسلامی طریقہ یہ ہے کہ (۱) مرد آپس میں سمجھوتہ کی ہرممکن کوشش کرے، (۲) بستر الگ کرلے، (۳) ہلکی پھلکی سزا دے، (۴)دونوں خاندان کے سمجھدار لوگوں کے سامنے اپنامعاملہ رکھے اور اُن سے تصفیہ کرائے، اس چارمرحلے میں بھی بات نہ بنےتو(۵)پہلے ایک طلاق دےاور تین مہینے/ یا حاملہ ہوتو بچے کی پیدائش تک انتظار کرے، اس دوران ملنا چاہے تو بنانکاح ملنے کی اجازت ہے، لیکن(۶) تین مہینہ/بچے کی پیدائش کی مدت گزرجانے کے بعد ملنے کی اجازت نہیں، اب اگروہ  ملناچاہے تو نئے مہر کے ساتھ نیا نکاح کرے، اور (۷)پھراُس کے بعد تین طلاق کا مرحلہ آتا ہے۔ گویا ساتویں نمبر پر تین طلاق آتا ہے لیکن افسوس کہ ہم اول مرحلے میں تین طلاق کے جال میں ایسے پھنستے ہیں کہ ہماری حالت ’’ دھوبی کے اُس گدھے کی طرح ہوجاتی ہے جونہ گھر کارہتاہے نہ گھاٹ کا‘‘۔

اس اعتبارسے دیکھاجائے تو آج طلاق دینے کاجو چلن ہمارے معاشرے میں عام ہے وہ یک لخت جاہلانہ عمل اور سراسر غیراسلامی طریقہ ہے جس سے ہرمسلم کو بچنا لازم ہے، اس لیے بالعموم تمام مسلمان اور بالخصوص علمااورائمہ حضرات اپنےاپنے اعتبار سے سماج ومعاشرے کے اندر اسلامی طریقہ طلاق کے تعلق سےبیداری پیداکریں، ورنہ ہم اپنی اِس غیر اسلامی رویے کے سبب جس طرح آج دنیا میں ذلیل و خوار ہورہے ہیں، قیامت میں بھی اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذلیل ورسوا ہوں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جہاں گیر حسن مصباحی

ڈاکٹریٹ جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی۔ مدیرمسئول: ماہنامہ’’خضرراہ‘‘ الہ آباد۔ استاذ:جامعہ عارفیہ، سیدسراواں، الہ آباد۔ متعدد اسلامی سماجی سیاسی اور ادبی مقالات ومضامین اشاعت پذیر۔

متعلقہ

Back to top button
Close