نقطہ نظر

مسلمان نہ بھولیں کہ حکومت آر ایس ایس کی ہے

حفیظ نعمانی

آزادی کے بعد ملک میں فرقہ وارانہ فساد برسوں معمولی بنے رہے اور جو بات پہلے دن ہوئی تھی وہی آج بھی ہے مثلاً یہ شکایت کہ پولیس مسلم علاقوں میں ہی گرفتاری کررہی ہے یا مسلم علاقہ میں کرفیو لگادیا جاتا ہے۔ اِدھر تو ہم برسوں سے آنے جانے کے قابل نہیں رہے۔ لیکن جب کسی کام کے قابل تھے تو ملک میں جگہ جگہ ایسے مواقع پر جانے کا اتفاق ہوا اور یہ شکایت ہر کسی کے منھ سے سنی کہ کرفیو کی سختی صرف مسلم محلوں میں ہے۔ اور ہم نے خود دیکھا کہ ہم کرفیو کے مسلم علاقہ سے کرفیو پاس دکھاتے ہوئے آئے تو دیکھا کہ بازار میں دُکانیں بند ہیں چوراہوں پر کرسیاں اور بنچیں بچھی ہیں پولیس اور مقامی ہندو ناشتہ کررہے ہیں اور ہنسی مذاق ہورہا ہے۔ اور جب ہمارے اوپر نظر پڑی تو آواز آئی کہ کرفیو پاس ہے؟ اور ہم نے جب معلوم کیا کہ یہاں کرفیو ختم کردیا تو جواب ملتا تھا کہ یہ تو سب یہیں کے رہنے والے ہیں۔

ہمیں ملک میں کوئی جگہ ایسی نہیں ملی جہاں کرفیو ہو اور اس علاقہ کے ہندو سڑک پر نہ ہوں۔ دوسرسی بات گرفتاری ہے کہ گرفتار ہونے والے 90  فیصدی بے قصور ہوتے ہیں۔ وہ ہمارے رشتہ دار نہیں ہیں جو ہم اُن کی حمایت کریں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر کسی نے کوئی شرارت کی ہے تو وہ واردات کے بعد وہاں رُک ہی نہیں سکتا وہ واردات کو انجام دیتے ہی کہیں اور چلا جاتا ہے۔ اور جنہوں نے کچھ نہیں کیا ہوتا وہ آرام سے گھر میں بیٹھے رہتے ہیں اور پولیس انہیں آکر لے جاتی ہے اب کوئی کتنا ہی کہے کہ یہ تو تین دن سے نیچے اُترا ہی نہیں مگر پولیس نہیں مانتی۔ ہمیں معلوم ہے کہ پولیس بھی قصوروار اور بے قصور کو خوب پہچانتی ہے مگر وہ کیوں محنت کرے اور خطاکار کو ڈھونڈے۔

شہرت یہ بھی ہے کہ پولیس محنت کے بجائے قومی سلامتی ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ اس کا فیصلہ تو حکومت کرے گی لیکن یہ صرف اس لئے ہوتا ہے کہ پولیس کا دردسر ختم ہوجاتا ہے وہ نہ چارج شیٹ تیار کرتی ہے نہ گواہ تلاش کرتی ہے اور نہ ہر پندرہ دن کے بعد انہیں عدالت لانے کی مصیبت مول لیتی ہے۔

 ہم پہلے تو مسلمانوں سے ہی کہیں گے کہ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ ذمہ داریاں جو اُن کے فرائض منصبی میں نہیں ہیں انہیں بار بار نہ دہرائیں۔ مسلمانوں کو معلوم تھا کہ نومبر میں راجپوتوں کی کرنی سینا نے پدماوتی نام کی فلم کی مخالفت شروع کردی تھی اور ان کا نعرہ تھا کہ فلم نہیں چلنے دیں گے۔ پھر جب یہ معلوم ہوا کہ وہ کیا کیا چاہتے ہیں تو حکومت اور نگراں کمیٹی میں ان کے دبائو کی وجہ سے تبدیلی بھی کردی راجپوتوں نے یہ دیکھا کہ ہر ریاست کی حکومت اور وزیر اعظم بھی زبان نہیں کھول رہے تو وہ شیر ہوگئے اور انہوں نے وہ سب کرڈالا جو دشمنی فوج کے ساتھ کرتے ہیں۔ اور سینسر بورڈ نے پوری بے رحمی کے ساتھ اس میں تبدیلی کرائی۔ انتہا یہ ہے کہ اس کا نام بھی بدل دیا اور پدماوت کردیا۔ لیکن کروڑوں مسلمانوں نے دیکھا کہ جگہ جگہ بسیں جلیں، کاریں پھونکیں، ٹائر جلاکر جگہ جگہ راستے جام کئے سنیما گھروں میں آگ لگائی اور صوبوں اور مرکزی حکومت کو جھکا لیا اور کسی نے نہ دیکھا ہوگا کسی پولیس والے نے کسی کو لاٹھی بھی ماری ہو جبکہ نیوز چینل میں ان دنوں جتنے مذاکرے ہوئے ہر ایک میں ان کی حمایت کرنے والے بھی تھے اور کرنی سینا کو آتنکی اور آتنک وادی تک کہا اور بار بار کہا لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوئے۔

اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ وزیراعظم کے ووٹ ہیں اور وہ ایک ووٹ کا بھی خطرہ مول نہیں لے سکتے اسی لئے انہوں نے یہ بھی برداشت کرلیا کہ دنیا بھر کے جو سربراہ آئے ہیں اور سرمایہ دار آئے ہیں وہ بھی دیکھ لیں کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہندوستان میں ہے لیکن جمہوریت صرف سرکار کا اور اس کے وزیروں اور جو حکومت سے بندھے ہوئے ہیں ان تک محدود ہے۔ مودی جی نے یہ گوارہ کرلیا کہ ہندوستان آکر کوئی سرمایہ دار سرمایہ نہ لگائے اس لئے کہ وہ اس کی مخالفت وہ ان سے نہیں کرسکتے جو اُن کے ووٹ ہیں۔ اب سوچئے جب مودی جی اتنی بڑی قربانی دے سکتے ہیں تو کاس گنج یا کسی بھی بستی کے مسلمانوں کو ناراض کرنے میں انہیں کیا مشکل ہے؟ وہ جان چکے ہیں کہ ملک میں جمہوریت رہے گی اب جیسی بھی رہے سپریم کورٹ کے جج سب سے بزرگ جب کہیں کہ ملک کی جمہوریت خطرہ میں ہے اور وزیر قانون اسے اندر کا معاملہ کہہ کر ختم کردیں اور آج تک ان کی زبان پر نہیں آیا کہ حالات سنبھل گئے اور جمہوریت پر جو خطرہ کے بادل تھے وہ گذر گئے۔

مودی جی نے نعرہ تو سب کا ساتھ سب کا وکاس دیا لیکن بڑی محنت سے مسلمانوں کو بے اثر بنایا اور اپنے سے دور کیا وہ اب ایک سال اور مسلمانوں کو دور ہی کریں گے۔ مسلمانوں کو سال ڈیڑھ سال آنکھیں کھول کر رہنا ہے اور اس کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ خود بھی اور گھر میں صرف مذہب کی بات ہو جلسے جلوس ہنگامے مسلمانوں کے فرائض میں داخل نہیں ہیں۔ کوئی ایسا موقع نہ آنے دیا جائے کہ بے وجہ ٹکرائو ہو۔ اور یہ شکایت کرنا اور اس پر رونا کہ پولیس کا رویہ مسلمانوں کے ساتھ کچھ ہے ہندوئوں کے ساتھ کچھ؟ یہ رہے گا اس لئے کہ پاکستان بننے کے بعد سب سے پہلا کام یہی ہوا تھا کہ آئندہ مسلمانوں کو پولیس میں لیا جائے مقصد صرف یہ تھا کہ وہ جب مسلمانوں کے ساتھ بے ایمانی کریں تو کوئی یہ نہ کہے کہ ہندو بھی تو یہی کررہے ہیں۔ اور پولیس کچھ اور کسی طرح کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتی ہے وہ ہر معاملے میں مسلمان کو بند کردیتی ہے اس لئے اپنی سی کوشش کریں کہ پولیس کو مقابلہ پر نہ آنا پڑے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close