نقطہ نظر

مسلم راشٹریہ منچ: افکارو نظریات

مولانا محمد غیاث الدین حسامی

اس وقت امت ِ مسلمہ جن کٹھن اور صبر آزما حالات سے گذررہی ہے وہ کسی حساس اور دل ِ دردمند رکھنے والے شخص پر مخفی نہیں ہے، ایک طرف طاغوتی طاقتیں مادی اور فکری ہتھیار سے لیس ہو کر اسلام اور مسلمانوں کو صفحہ ٔ ہستی سے مٹانے کےلئے کمر بستہ ہوچکی ہیں، تو دوسری طرف خود امت ِ مسلمہ آپسی خلفشار اور باہمی تعصب و تحزب میں مبتلاہے، تیسری طرف نام نہاد مفکرین و دانشور۔۔ جن کی زندگی خوردو نوش اور لذت ِ چشم و گوش سے عبارت ہے، معیارِ زندگی کی بلندی، مغرب کی ژالہ باری اور اس کے خوانِ نعمت کی ریزہ چینی جن کا مقصد اور مطمحِ نظرہے، مغرب کی طرف سے ہر آنے والی آواز ان کے لئے فردوسِ گوش اور سامعہ نواز ثابت ہوتی ہے۔۔ آئے دن مذہب اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلامی تعلیمات کی من مانی تشریحات کرتے ہیں، اور اسلام کے بعض احکام کو قابلِ ترمیم و تنسیخ قرار دیتے ہیں، ہر آنے والا دن ایک نئے مفکر کو لے کر طلوع ہوتا ہے، جو اسلام کو اپنے محدود اور کوتاہ عقل سے ہدفِ تنقید بناتاہے، اور کوئی نیا شوشہ چھوڑ کر مسلم سماج میں فکری الحاد پھیلاتا ہے، یقیناً یہ صورت حال ہر باشعور مسلمان کے لئے سوہانِ روح ہے۔

اسلامی تعلیمات میں الحاد و تشکیک پیدا کرنے اور مسلمانوں کو مذہب ِ اسلام سے برگشتہ کرنے کی کوشش موجودہ زمانے کی پیداوار نہیں ہے، بلکہ اسلامی احکام و ہدایات پر شب خون مارنے کی تاریخ چودہ سو سال سے چلی آرہی ہے، جہاں اسلام کے ماننے والے زیادہ ہوئے وہیں پر اس کے مخالفت کرنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں رہی، ابتدائے اسلام سے مخالفین اسلام کو بدنام کرنے اورحلقہ بگوش ِ اسلام ہونے والوں کو پریشان کرنے اور ایذاءرسانی کے درپہ ہوگئے، کبھی اس کے ماننے والوں کو مجنون و پاگل کہا اور کبھی اس پر ہمت و استقلال کے ساتھ عمل کرنے والے مخلص مسلمانوں کو انتہاپسند یا دہشت گرد کہا، اس کو مٹانے اور کمزورکرنے کی ہر زمانے میں مختلف کوششیں کی گئیں، عہد رسالت میں مشرکین مکہ اور یہود و نصاری کے علاوہ منافقین بھی اسلام کو مٹانے کی خفیہ کوششیں کرتے رہے، یہ ایسے بدقماش اور شرپسند لوگ ہیں جو اسلامی لبادہ اوڑھ کر اسلام کی جڑیں کاٹنے میں مصروف رہے، رہبر ی کے لباس میں رہزنی کرتے رہے، اسی لئے قرآن مجید میں باوجود ان کے کلمہ پڑھنے کے ان کو مسلمان نہیں کہا گیا، غرض یہ کہ باطل نئی روپ اور نئی شکل میں کبھی انفرادی طور پر کبھی اجتماعی طور پر شمع ِ اسلام کوبجھانےکے لئےپوری کوشش کرتا رہا، اور ہر زمانے میں ایسی باطل تحریکیں اورفتنہ پرور جماعتیں پیدا ہوتی رہیں جن کا مقصد اسلام کو نیست ونابود کرنا اور اسلامی تعلیمات میں شکوک و شبہات پیدا کرنا تھا، لیکن اللہ نے ہر زمانے میں اسلام اور مسلمانو ں کی حفاظت فرمائی اور ایسے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے جنہوں نے اسلام اور اس کے متعلق پھیلائے گئے شکوک و شبہات کو دورکیا۔

موجودہ زمانے میں ایک جماعت مسلمانوں کی ہمدر اور خیرخواہ کے طور پرابھری ہے، جس کو’’ مسلم راشٹریہ منچ‘‘ کے نام سے جاناجاتاہے، یہ جماعت چند نام نہاد مسلمانوں پرمشتمل امت مسلمہ کے مسائل پر فکر مند نظر آتی ہے، اور اپنے مخصوص نظریات کے ذریعہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان کی دوریوں کو ختم کرنے کی سعی لاحاصل کررہی ہے؛لیکن حقیقت میں یہ جماعت اور اس کے ماننے والے کٹر مسلم مخالف جماعت آرایس ایس کی پیداوار ہے، اور اسی کے نظریات کو بڑے ہی چالاکی اور مکاری کے ساتھ پھیلارہے ہیں، اگر اس جماعت کے افکارو نظریات کا جائزہ لیا جائےتو یہ بات واضح طور پر سمجھ میں آجائے گی کہ اس کا قیام ہی ہندو توا نظریات کے فروع کے لئے ہوا ہے، پہلے ایک چھوٹے سے گروپ کی شکل میں اس کا قیام ہوا جس کا نام ’’ My hindustan ‘‘ (میرا ہندوستان )تھا، اس چھوٹے گروپ نے 31-30اگسٹ 2003کو ایک میٹنگ رکھی اور اس میں مسلمانوں کےمسائل خصوصاً جہاد اور دہشت گردی پر غور کیا گیا اور اسی میٹنگ میں اس کا نام ’’ میں ہندوستان‘‘ سے بدل کر ’’ راشٹر وادی مسلم اندھولن‘‘ رکھا گیا، پھر چند ماہ بعد اس کانام بدل کر ’’مسلم راشٹریہ منج ‘‘ رکھا گیا، یہ تنظیم خالص ہندوتوا نظریات کی حامل ہے، اور اس کے قائدین کے بیانات آڈیواور ویڈیو کی شکل میں یوٹیوپ اور فیس بک پر موجود ہیں، جس میں ہندوتوا نظریات کو پورے ہندوستان میں پھیلانے کی بات کی جاتی ہے، اور سچا ہندوستانی اسی کو قرار دیتے ہیں جو کارسیوک ہو، اور ہندوتوانظریات کا حامل ہواور اس منچ نے ہندوتوا نظریات کو ہندوستانی تہذیب کے طور پر ہر ہندوستانی کو اپنانے کا مشورہ دیا ہے، ہندوتوا سے مراد ایک ایسا سیاسی، سماجی اور اقتصادی نظام ہےجس کا محور ہندو اکثریتی طبقہ ہے اور جس میں اسلام اور عیسائیت جیسے غیر ممالک سے آئے مذاہب کے پیروکار دوسرے درجے کے شہری ہوں گے، جب کہ ہر مسلمان جانتا ہے کہ آرا یس ایس تنظیم ہندوستانی مسلمانوں سے حد درجہ بیر رکھتی ہے، اور مسلمانوں کے مذہبی وملی تشخص کو ملیامیٹ کرنے کی ناپاک کوشش کرتی ہے، اس کی خمیر میں ہی اسلام دشمنی داخل ہے، اور اس کے مخصوص نظریات نہ صرف ہندوستانی مسلمانوں کے لئے بلکہ ہندوستان کی گنگاجمنی تہذیب کے لئے بھی سم ِ قاتل ہے، اور کوئی بھی مسلمان اس طرح کے نظریات کو اپنانے کے لئے تیار نہیں ہے ۔

’’ مسلم راشٹریہ منچ‘‘ کے اگر نظریات کا بغور مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ یہ منچ مخالف اسلام ہے جس کا اظہار اس کے قائدین وقتاً فوقتاً کیا کرتے ہیں، جیسے جہاد کے بارے میں مسلم راشٹریہ منچ کا نظریہ ہے کہ اسلام میں جہاد صرف مال وجان خرچ کرنے کا نام ہے، اسلام نے جہاد بالسیف کا حکم نہیں دیا ہے، اگر اس نظریہ کا جائزہ لیا جا ئے تو صاف طور پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ یہ نظریہ ناقص اور نامکمل ہے کیونکہ اسلام میں جہاں جان ومال کے ذریعہ جہادیعنی جدوجہد کرنے کا حکم دیا گیا وہیں جہاد بالسیف کا بھی حکم دیا گیا، لیکن جہاد بالسیف کے لئے مخصوص شرائط اور اصول و ضوابط ہیں، جہاد کے لئے سب سے پہلے تو امیرکا ہونا اور بقدر ضرورت طاقت و قوت کا ہونا، ہر کس و ناکس کو یہ اختیار نہیں کہ وہ جب چاہے امن و امان کی فضا کومکدر کرے، اس جماعت کے ماننے والوں نے دنیا میں پھیلی ہوئی دہشت گردی کواسلامی جہاد سے موسوم کردیا جبکہ دونوں میں آسمان و زمین کا فرق ہے، لفظ جہاد کا ترجمہ جنگ و جدال اور لڑائی وغیرہ کرنا درست نہیں ہے کیونکہ جنگ کے لئے قرآن و حدیث میں لفظ جہاد نہیں بلکہ لفظ ’’حرب‘‘ اور ’’قتال‘‘ استعمال ہوا ہے، انتہاپسندوں نے قرآن و حدیث کے بعض الفاظ اور اصطلاحات کو غلط طریقہ استعمال کیا ہے، وہ قرآن کریم کی چند آیات اور بعض احادیث مبارکہ کو ان کے شان نزول اور سیاق و سباق سے کاٹ کر انتہاپسندانہ اور دہشت گردانہ تشریح و تعبیر اور غلط انطباق کرتے ہیں، یہ لوگ جہالت اور خود غرضی کے پیش نظر جہادجیسےپاکیزہ لفظ کا بے محل استعمال کرکے عام مسلمانوں اور خصوصاً نوجوانوں کو گمراہ کرتے ہیں، حالانکہ یہ اسلام پر بہت بڑا اِلزام ہے، اُن کے اِس خطرناک نظریے کا قرآن، حدیث اور اسلام کی بنیادی تعلیمات اور مستند و معتبر تشریحات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس جماعت کا نظریہ ہے کہ گائے کی حفاظت کی جانی چاہئے اور مسلمان گائے کی قربانی دینے سے اپنے آپ کو روک لینا چاہئے، یہ نظریہ بھی خالص آرا یس ایس کا ہے، اورچند سال سے جیسے ہی بقر عید آتی ہے، فرقہ پرست تنظیمیں حرکت میں آجاتی ہیں اور "گاؤکشی” اور "جیوہتیا” کے خلاف بیانات شروع ہوجاتے ہیں ؛ بلکہ قربانی کے خلاف ایک مہم سی چلائی جاتی ہے،اگر مسلم راشٹریہ منچ کی جانب سے صرف گائے کے تحفظ کی بات کی جاتی تو عام مسلمان اسے برداشت کرسکتا تھا ؛لیکن اس جماعت نے اپنے تمام حددو سے تجاوز کرتے ہوئے ایک ایسا بیا ن دیا ہے جس سے نہ صرف مسلمان رنجیدہ خاطر ہوئے بلکہ مذہب ِاسلام کی توہین بھی ہوئی ہے۔

 ابھی حال ہی میں عید الاضحی سے تین دن پہلے 30؍ اگسٹ 2017ء بروز چہارشنبہ تنظیم مسلم راشٹریہ منج (ایم آر ایم) کے یوپی کنوینر سید حسن گوثر نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایک نیا شوشہ چھوڑتےہوئے شرپھیلانے کی کوشش کی ہے، موصوف نے کہا کہ بقر عین کے دنوں میں جانورں کی قربانی تین طلاق کی طرح ایک غلط عادت ہے، عوام کو چاہئےکہ اس دن قربانی کا بائیکاٹ کریں، نیز موصوف نے غیرت و حمیت کے تمام حدود پار کرتے ہوئے یہ بھی کہہ دیاکہ قربانی مذہب اسلام میں حرام ہے، اگر قربانی دینا چاہتےہیں تو خراب عادتوں کو ترک کریں اور ایک علامتی بکری کا کیک کاٹیں ۔

سب سے پہلے تو ہم یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ یہ موصوف کی ناواقفیت ہے یا اسلام کی مخالفت پر جرأت، اگر یہ ناواقفیت ہے تو سوائے افسوس کے اور کچھ نہیں کیا جاسکتا، اور اگر یہ مذہب ِاسلام کے تئیں جرأت ہے تو ہم حیران ہے کہ خاندان نبوت سےرشتہ رکھنے والا ایک معزز مسلمان سرِعام ایک حکم ِ شرعی کا کس طرح انکار کرسکتا ہے،جب کہ قربانی اور طلاق کے احکامات شریعت اسلامیہ میں واضح طورپر بیان کئے گئے ہیں ۔

موصوف نے بڑی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ مذہب اسلام نے قربانی کو حرام قرار دیا ہے، یہ سراسر اسلام سے بغاوت اور اسلامی حکم کو تبدیل کرنا ہے، جس سے نہ صرف قرآن مجید کی توہین ہوئی ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی توہین ہوئی، کیونکہ حدیث میں تو جناب نبی کریم ﷺ یہ فرمارہے ہیں کہ:

’’مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ‘‘

عید الاضحی کےدن قربانی سے زیادہ کوئی عمل اللہ کے نزدیک پسندیدہ نہیں ہے(ترمذی، باب ماجاءفی فضل الاضحیۃ، حدیث نمبر۱۴۹۳)

اور وسعت و گنجائش کے بعد قربانی جیسی عظیم عبادت سے غفلت برتنے والوں کے لئے آپ ﷺنے فرمایا :

’’مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا‘‘

جس کو گنجائش ہو اور پھر قربانی نہ دے وہ ہمارے عید گاہ میں نہ آئے(ابن ماجہ، باب الاضاحی واجبۃ ھی ام لا، حدیث نمبر۳۱۲۳)

اور ادھر موصوف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کو حرام کہہ رہے ہیں، یہ توہین ِ رسالت و شریعت نہیں تو اور کیا ہے ؟ جبکہ قربانی شریعت ِ مطہر ہ کا ایک اہم حصہ ہے، جس کی پوری وضاحت سنت نبوی میں موجود ہے، اور یہ وہ عظیم الشان عمل ہےجسے اللہ کے رسولﷺنے سنت ابراہیمی سےتعبیرکیاہے،اللہ رب العزت نےان کی اس عظیم قربانی کو قیامت تک کے لئے یادگار بنا دیا، اور پوری امت میں اس کو جاری فرمایا، قرآن مجید میں اللہ نے اپنے پیارے نبی ﷺکو حکم دیا ہے ’’فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ‘‘ اے محمد ﷺ اپنے رب کے لئے نماز (عید) پڑھو اور نحر کرو ( جانور کی قربانی کرو) اس امرِ خداوندی کو بجالاتے ہوئے رسو ل اللہ ﷺ نے ہر سال قربانی کرنے کا اہتمام فرماتے تھے، اور صحابہ کرام کو بار ہا اس کی تاکید فرماتے تھے،ان تمام آیات و احادیث کی موجود گی میں قربانی جیسے پاک اور پسندیدہ عمل کو حرام قرار دینادائرۂ اسلام سے نکلنے کےلئے کافی ہے ۔

اسی طرح طلاق کے بارے میں اس جماعت کا نظریہ ہے کہ تین طلاق ایک غلط عادت ہے، جو مذہب اسلام میں نہیں ہے،اس سلسلہ میں اتنی ہی بات کہی جاسکتی ہےکہ اس جماعت کے ذمہ دار حضرات اگر اسلامی تعلیمات کا بغیر کسی خارجی دباؤ اور خالی الذہن ہوکر مطالعہ کرتے تو شاید جان لیتے کہ قرآن پاک میں تین طلاق سے متعلق جو آیات نازل ہوئی ہیں اوراحادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو احکامات دئیے ہیں وہ نہایت حکیمانہ و منصفانہ انسانی فطرت اور تقاضہ کے عین مطابق ہے،یہ قانون انسانوں کو مصیبت اور پریشانی میں ڈالنے کے لیے نہیں ؛ بلکہ آسانی پیدا کرنے کے لیے ہے،طلاق کااسلامی نظام انسانوں خصوصاً عورتوں کے لیے زحمت نہیں ؛بلکہ رحمت ہے، پھر یہ کہ طلاق کا حکم اس خالق کی طرف سے ہےجو اپنی مخلوق کی فطرت اور جذبہ سے خوب واقف ہے، اسی نے انسانوں کے آسانی کے لئے طلاق کا نظام چلایاجو سراسر مبنی بر انصاف ہے، اور جو اُس کے حکم کوترمیم یا تبدیل کرنےکے درپرہو یا اس کا انکاری ہویا اس کے بارے میں کسی بھی قسم کی لب کشائی یا نکتہ چینی کرنے والاہو تویقیناً وہ ظالم ہے،کیونکہ حدود اللہ کے حقوق میں سے ہے جو نہ قابل ِ تنسیخ ہے اور نہ لائق تبدیل ؛ چنانچہ قرآن مجید میں طلاق کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا :

’’ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ‘‘

یہ اللہ کی حدود (سرحدیں ) ہیں، اس سے تجاوز نہ کرو، اور جو اللہ کی حدود سے آگے بڑھے گا یقیناً وہ ظالم ہے ( البقرۃ:۲۲۹)

ہاں ! طلاق کے بارے میں معاشرتی غلطیوں کا انکار نہیں کیاجاسکتاہے، لیکن معاشرتی غلطیوں کو ذریعہ بناکر اسلامی احکام کو غلط عادت بتلانا کسی بھی انصاف پسند آدمی کے نزدیک صحیح نہیں ہے۔

مذکورہ تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی ہےکہ ’’ مسلم راشٹریہ منچ ‘‘ کے نظریات خالص غیر اسلامی ہیں اور ہندو مسلم اتحاد اور ان دونوں کے درمیان کی دوری ختم کرنے کی جو کوششیں ہیں وہ صرف ایک طبقہ چاپلوسی اور اس کے نظریات کو پھیلانا ہے، اوردرپر دہ دشمنانِ اسلام کی مدر کرنا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close