نقطہ نظر

مسلم یونی ورسٹی، برج کورس اور ڈاکٹر راشد شاز!

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

سر سید احمد خاں رحمہ اللہ کے بعض عقائد اور نظریات (مثلاً جنت ، جہنم ، فرشتے ، جنات ، نیچر ، معجزات وغیرہ) جمہورِ امّت سے مختلف تھے _ مخالفتوں کے باوجود انھوں نے اپنے نظریات سے رجوع نہیں کیا ، لیکن جب انھوں نے مدرسۃ العلوم ، پھر ایم اے او کالج قائم کیا تو اپنے نظریات کو اس سے الگ رکھا اور انھیں کالج کے طلبہ پر تھوپنے کی کوشش نہیں کی _ کالج میں شعبہ دینیات کی تاسیس کی تو اس کا پہلا سربراہ دار العلوم دیوبند کے بانی مولانا قاسم نانوتوی کے داماد مولانا عبد اللہ انصاری کو بنایا _ مدرسہ/کالج کی تاسیس کے بعد سر سید بیس باییس برس زندہ رہے ، لیکن ان کے نظریات کی بازگشت نہ شعبہ دینیات کے طلبہ میں سنائی دیتی ہے نہ کالج کے کسی اور شعبے میں _

علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی نے چند برس قبل ایک انقلابی فیصلہ کیا_ اس نے مدارس کے طلبہ و طالبات کے لیے برج کورس کا آغاز کیا _ اس کورس سے گزرنے والے طلبہ کو سوشل سائنس کے شعبوں میں داخلہ کا اہل قرار دیا گیا_ یونی ورسٹی کے سابق وائس چانسلر جنرل (ر) ضمیر الدین شاہ نے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ، ڈاکٹر راشد شاز کو ڈائرکٹ پروفیسر بناکر انھیں اس کی ڈائرکٹر شپ تفویض کی _

ڈاکٹر راشد شاز کو اپنے بعض افکار کے حوالے سے عالمی شہرت حاصل ہے _ ان کی تحریروں کے مختلف زبانوں میں ترجمے موجود ہیں _ ان کے خیال میں قرآن کی اصل تعلیم پر محدثین ، فقہاء اور علمائے سلف نے حجابات ڈال دیے ہیں ، اس لیے وہ ان حجابات کو ہٹا کر اسلام کی تشکیل نو کرنا چاہتے ہیں _ ان کے ان افکار کو اکابرِ امت کی تائید حاصل نہیں ہے ، بلکہ وہ انہیں انحراف کا شکار سمجھتے ہیں _

ڈاکٹر راشد شاز کو یونی ورسٹی نے برج کورس کا ڈائرکٹر بنایا تھا _ ان کے لیے مناسب یہ تھا کہ سر سید نے جو نمونہ پیش کیا تھا اس پر عمل پیرا ہوتے _ وہ برج کورس کے خدّو خال کو نمایاں کرنے اور طلبہ مدارس کے لیے اسے زیادہ سے زیادہ مفید بنانے پر توجہ دیتے ، لیکن انھوں نے اس کے ساتھ داخلہ لینے والے طلبہ کے ذہنوں میں اپنے افکار انڈیلنے شروع کردیے _ طلبہ برج کورس کی غیر نصابی سرگرمیاں اس کا ثبوت پیش کرتی ہیں _

برج کورس کو ایک مرکز کے ماتحت کیا گیا ہے ، جس کا نام ‘مرکز برائے فروغ تعلیم و ثقافت مسلمانانِ ہند’ Center for promotion of educational and cultural advancement of Muslims of India (CEPECAMI
ہے _ ڈاکٹر راشد شاز کو اس کا بھی ڈائرکٹر بنایا گیا ہے _ یہ یونی ورسٹی کا پرانا مرکز ہے، جس کا مقصدِ قیام ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیمی نشاۃ ثانیہ کے لیے عملی تدابیر اختیار کرنا ہے _ ڈاکٹر راشد شاز نے اس مرکز کو بھی اپنے مخصوص افکار کی ترسیل و توسیع کا ذریعہ بنالیا _ اس کے تحت جو دو بین الاقوامی کانفرنسیں ماضی قریب میں منعقد ہوئی ہیں ان کی کارروائیاں اس کا ثبوت پیش کرتی ہیں _

یونی ورسٹی کے ارباب حلّ و عقد کو سوچنا چاہیے کہ انھوں نے برج کورس طلبہ مدارس کو جدید علوم سے متعارف کرانے کے لیے شروع کیا ہے یا قدیم علوم اور ان کے مراکز اور متوارث اسلام سے انھیں بدظن کرنے کے لیے؟ اس معاملے میں اگر کہیں کچھ کوتاہی ہو رہی ہے یا انحراف پایا جارہا ہے تو اسے چیک کرنے کے لیے کوئی نظام ضرور بنایا جانا چاہیے _مسلم یونیورسٹی ملت سے ہمدردی اور بہی خواہی رکھنے والوں سے خالی نہیں ہوگئی ہے_پھر وہاں کسی طرف سے کوئی آواز کیوں نہیں اٹھتی؟ کسی ناگواری، ردّعمل اور بے چینی کا اظہار کیوں نہیں ہوتا؟
اَلَیْسَ مِنْکُمْ رَجُلٌ رَشِیْدٌ!!!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

ایک تبصرہ

  1. جناب رضی الدین کا مضمون علمی سے زیادہ جناب راشد شاز کی زاتیات ذاتیات پر ہے ۔ کس کو کون روکا ہے کہ شاذ صاحب کی فکر پر علمی تنقید کریں ۔ سر سید نے غور و فکر کی بنیاد ڈالی تھی اور شاذ صاحب بھی وہی غور و فکر کی بات کرتے ہیں

متعلقہ

Close