مسیحا ہڑتال پر

راحت علی صدیقی قاسمی

  کرہ ارضی پر بہت سے علوم رائج ہیں، انسانی نفسیات، خواہشات ،مزاج، تعمیرات معاشیات، ریاضی، فلکیات، جغرافیہ،علاوہ ازیں علوم و فنون کی اور بہت سی راہیں ہیں، ان راہوں پر محنت، کوشش و کاوش انسان کو اعلیٰ مقام اور منزل مقصود عطا کرتی ہے، ذہن انسانی کو حکمت و دانائی کے اوج ثریا پر لے جاتی ہے، وہ مقام عنایت کرتی ہے، جہاں وہ آسمان کے خلاؤں میں چھپے اسرار و رموز عیاں کرتا ہے، چاند کے خوبصورت چہرے کو اپنے قدموں تلے روندتا ہے، اس کی حقیقت آشکار کرتا ہے۔ زمین کی تہوں میں چھپی معدنیات کی کھوج لگاتا ہے، سونا، چاندی، تیل جیسی عظیم نعمتیں اپنے علم کی بنیاد پر آسانی سے حاصل کرتا ہے اور دنیا کو رفتار عطا کرتا ہے، آسمان چومتی عمارتیں بناتا ہے۔ دیدہ زیب و دلکش محلات تعمیر کرتا، حیرت و استعجاب میں مبتلا کرتے پُل بناتا ہے، دلکشی و رعنائی سے بھرپور آرائش و آسائش سے لیس آرام گاہیں بناتا ہے، پتھروں کو تراش کر حیات جاودانی بخش دیتا ہے، تاج محل دیکھ لیجئے اور اس دعویٰ کی درستگی کے قائل ہوجائیے۔ اس کے باوجود سماج و معاشرہ میں اُس کا وہ مقام نہیں ہوتا، جو ایک طبیب کا ہے، دیگر علوم و فنون پر فن طب کو اہمیت وفوقیت دی جاتی ہے، مذاہب عالم میں اس کا مقام بلند ہے۔

 ہندو مذہب میں اطباء کو بھگوان کا روپ مانا جاتا ہے، یونانی خود طب یونانی کے بانی اسفلی بیوس کی پوجا کرتے تھے، مذہب اسلام میں بھی طبیب کو بلند مقام حاصل ہے، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: علم دو ہیں، جسم کے لئے طب کا علم اور روح کے لئے شریعت کا علم، اس سے فن طب کی عظمت ووقعت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے، تعمیرات کا ماہر آسمان چومتی عمارتیں تو تعمیر کر سکتا ہے، فلکیات کا ماہر آسمانی فضاؤں میں چھپے اسرار و رموز کی گتھیاں تو سلجھا سکتا ہے، پر کسی درد سے کراہتے انسان کی تکلیف کے ازالہ کا سبب نہیں بن سکتا، گلتے جسم کی توانائی کا باعث نہیں ہوسکتا، زمین پر پھیلی ہوئی نافع و ضار اشیاء کی تعیین نہیں کرسکتا، انسان کے درد کا درماں اس کی تحقیق میں نہیں ہے، یہ کام تو ایک طبیب ہی انجام دے سکتا ہے، اسی لئے وہ دنیا کی نظر میں محترم و مکرم ہے، اطباء ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں، مایوس نہیں ہوتے، انسان کی جان کی حفاظت کے لئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے، تحقیقات میں اپنی جان تک داؤ پر لگا دیتے ہیں، دوست و دشمن، غریب و مفلس، کمزور و توانا کوئی بھی ہو، وہ اسے بحیثیت مریض ہی دیکھتے ہیں۔

 عالم آب و گل میں سینکڑوں ایسے واقعات ہیں جہاں دلتوں کے حقوق پامال ہوئے، انہیں چتا کے لئے دو گز زمین میسر نہ ہوسکی، لیکن آپ کو ایسا کوئی طبیب نظر نہیں آئے گا جس نے علاج کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا ہو کہ مریض اچھوت ہے میں علاج نہیں کروںگا۔ ہر شخص کا علاج کیا، ان خوبیوں کے حامل پیشے اور پیشہ وروں کی عزت ہونا یقینی ہے، لیکن وقت کے بدلاؤ نے اس عظیم پیشہ سے وابستہ افراد کے طرز زندگی کو بھی متاثر کردیا ہے، ان کے اعمال میں بھی تبدیلی ہوچکی ہے، واقعات اس کی شہادت دیتے ہیں، زندہ بچے کو کچرے کے ڈبہ میں پھینک دینا، حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کرنا، بلا ضرورت جانچ کرانا، گراں قیمت پر دوائیں بیچنا، لیباریٹری سے اپنا حصہ مانگنا،دواؤں پر کمیشن وصول کرنا، یہ سارے اعمال اطباء میں آئی تبدیلی اور بگاڑ کا مظہر ہیں۔

 ان تبدیلیوں کی وجوہات بھی ہمارے سامنے ہے، ایک زمانہ ایسا تھا جب فن طب سکھانا کارثواب گردانا جاتا تھا، وہ دولت کمانے کا ذریعہ نہیں تھا، موجودہ زمانے میں اس کی صورت ہی کچھ اور ہوگئی ہے، ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے ایک کروڑ سے زیادہ رقم خرچ ہوجاتی ہے، یہ رقم عام انسان کے تصور سے بھی بالاتر ہے، کارپوریٹ گھرانوں کے بچے فن طب سیکھتے ہیں، اسے ذریعۂ تجارت سمجھنے لگتے ہیں، مریض انہیں مریض نہیں بلکہ فائدہ کا سودا نظر آتا ہے، روپیوں کی چمک نے انہیں متاثر کردیا ہے اور کیوں نہ ہو جو شخص ایک کروڑ روپے خرچ کرتا ہے، انہیں حاصل کرنے کی کوشش کیوں نہ کرے، حکومت بھی کہیں نہ کہیں اس صورت حال کی ذمہ دار ہے، اس نے تعلیم کو تجارت کیوں بننے دیا۔

 ہمارے قریبی ممالک روس، چین، بنگلہ دیش7لاکھ روپئے میں ایم بی بی ایس کی تعلیم مکمل کرا دیتے ہیں، جب کہ ہمارے یہاں اتنی رقم بی یو ایم ایس کے لئے بھی ناکافی ہوتی ہے، ہمارے یہاں طبیب بننے میں خطیر رقم صرف ہوتی ہے، جو یقینی طور پر اطباء کے مزاج کو متاثر کرتی ہے، اس کے خیالات کو پوری طرح تبدیل کردیتی ہے، حال ہی میں پیش آمدہ واقعات نے ان حقائق کو تسلیم کرنے پر مجبور کردیا ہے، خاص طور پرراجستھان کی تکلیف دہ صورت حال 9 ہزار ڈاکٹر ہڑتال پر ہیں، لوگ درد سے کراہ رہے ہیں، تکلیف سے ٹوٹ رہے ہیں، زخموں کی تاب نہ لاکر جان گنوا رہے ہیں، اور اطباء نے اپنے اپنے عہد و پیمان بھلا دئے، مریض کی حفاظت کا دعویٰ ہوا ہوگیا۔ 53 لوگ جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں، لیکن اطباء کی ذات پر کوئی فرق نہیں۔

یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ فن طب کا معیار کیا ہو چکا، انہیں اپنی ترقی سے مطلب ہے، غریب کے درد سے کوئی مطلب نہیں ہے، حکومت اطباء کو 6 سال پر ایک ترقی اور 18سال پر تین ترقی دیتی ہے، وہ چاہتے ہیں کہ انہیں 12 سال پر دو ترقیاں دی جائیں، اس سلسلے میں ان کا تعطل جاری ہے، یقیناً انہیں اپنی ضروریات رکھنے اور اپنی منشاء رکھنے کا مکمل حق ہے لیکن اس طرز پر جس سے انسانیت کا نقصان ہو کیا اس رویہ کو درست قرار دیا جا سکتا؟ کیا اس طرز عمل سے اطباء کی عزت متاثر نہیں ہوگی، انہوں نے اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے غریبوں کی زندگی داؤ پر لگا دی ہے، وہ بھوک ہڑتال کر سکتے تھے، بھوکے رہ کر لوگوں کا علاج کرسکتے تھے اور اپنے حقوق کے لئے حکومت سے لڑ سکتے تھے، اس طرز سے ان کے مقاصد بھی حاصل ہوجاتے اور ان کے معیار پر حرف نہ آتا، دوسری طرف حکومت کا رویہ بھی معاندانہ رہا ہے اور اس نے معاملہ کی نزاکت کو نہیں سمجھااور 9 اطباء کو معطل کردیا اور 120 اطباء کو حراست میں لے لیا ہے، کیا حکومت کا یہ طرز عمل روا ہے؟ کیا اس طرح انسانوں کے درد کا مداوا کیا جاسکتا ہے؟ اصول و ضوابط کے اتنے پاسدار ہیں تو تعلیم کو تجارت بننے سے کیوں نہیں روکتے؟ کیوں فن طب کی تعلیم کو اتنا گراں قیمت بنا دیا ہے؟ اطباء کو حراست میں لے کر حالات مزید خراب ہوسکے ہیں، اس سلسلے میں حکومت کو سوچنا چاہیے اور اطباء کے جائز حقوق انہیں دینے چاہئیں، ورنہ حالات میڈیکل ایجنسی کی جانب مشیر ہیں، غریب عوام کی موت کون اپنے سر لے لے گا؟ کون ان کے پریوار کا کفیل ہوگا؟ کون ان کے بچوں کو سینہ سے لگائے گا؟ کون ان کی فکر کرے گا؟

سوچئے غور کیجئے، اس غریب ملک میں اطباء کی کتنی ضروت ہے، ان کے حقوق ادا کیجئے اور طبی صورت حال کو بہتر کیجئے اور اطباء بھی ذمہ داری کو یاد رکھیں، اپنے عہد وپیمان یاد کریںاور اس لڑائی کو جاری رکھنا چاہتے ہیں، تو اپنی جانوں پر داؤ لگائیں نہ کہ غریب، مفلس، کمزور افراد کی جان کی بازی لگا کر اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کریں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو فن طب شرمسار ہوگا، اطباء شرمسار ہوںگے، اس شعبہ کی آن بان شان کو ٹھیس لگے گی۔ رہا سیاسی لوگوں کا حال وہ سب پر عیاں ہے،میڈیا کو بھی اس معاملہ میں مسالہ نظر نہیں آیا، اس لیے انہوں نے بھی مباحثے منعقد کرنا ضروری نہیں سمجھا، فرقہ پرستی کے نام پر چند زخموں کی کراہ پوری دنیا میں سنائی پڑتی ہے، چونکہ اس سے لوگوں کے جذبات وابستہ ہیں اور یہاں 53 لوگوں کی جانوں کی بھی کوئی قیمت نہیں، یہ صورت حال انتہائی تکلیف دہ ہے، اس میں سدھار کی سخت ترین ضرورت ہے، ورنہ ملک تنزل کی راہ پر دوڑ پڑے گا اور’’ میک ان انڈیا‘‘ کا خواب بے تعبیر ثابت ہوگا۔



⋆ راحت علی صدیقی قاسمی

راحت علی صدیقی قاسمی

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

جب ضمیر بیدار ہو

اگر تحقیقات میں یہ دعاوی درست پائے جاتے ہیں ، تو یہ بہت بڑا المیہ ہے، جو ملک کے وقار کو مجروح کرتا ہے، عدلیہ کی حرمت کو پامال کرتا ہے، لوگوں کے بھروسے کو زخمی کرتا ہے، انصاف پانے کی خواہش کو چکنا چور کرتا ہے، سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس معاملہ کے سامنے آتے ہی وزیر اعظم نریندر مودی کے سکریٹری چیف جسٹس سے ملاقات کے لئے پہنچے، البتہ ملاقات نہیں ہو سکی اور سوال کئے جانے پر انہوں نے نئے سال کی مبارک باد دینے کی بات کہی، یہ کیفیت سوالات کو جنم دیتی ہے۔ 12دن بعد نئے سال کی مبارک باد چہ معنی دارد؟ کیا تعلق ہے وزیر اعظم اور چیف جسٹس کا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے