نقطہ نظر

مشرکین کا برا رویّہ اور مسلمانوں کی اخلاقی ذمہ داریاں

رضی الہندی

اسلام کے معنی امن و سلامتی کے ہیں اور اسکی پوری تعلیمات قرآن و احادیث صحیحہ میں ہیں اور اسکی بنیادی پانچ تعلیمات میں سے اوّل کے اقرار سے ایک کافر ہو یا عیسائی، یہودی ہو یا مجوسی، دھریے ہوں یا بودھشٹ وہ مسلمان کہلائیں گے اور مسلمانوں کے اسلامی معاشرتی حقوق انکو بھی حاصل ہوجائیں گے۔

 بہرحال  مسلم قوم کی موجودہ صورتحال حال سے نپٹنے کیلئے قرآن وسنت صحیحہ جس اور رہنمائی کر رہی ہیں اسی کو تحریر کرنے کی کوشش ہوگی۔

 خصوصاً انڈین مسلمانوں کو آج اپنے ملک میں اپنے مشرک ھمسایوں سے مختلف قسم کی اذیتیں پہنچ رہی ہیں ۔ پہلے پہل مسلم جوانوں کے خلاف دھشت گردی کا الزام لگایا گیا اور انکی بیجا گرفتاریاں کی گئیں اور آج بھی ھمارے بعض جوان اس الزام کی دلدل میں جیل میں مقید ہیں اور لاتعداد کا تو اس الزام میں فرضی انکاؤنٹر کر دیا گیا ہے۔ دلی، ممبئی، حیدرآباد، اور بھوپال کے واقعات نے تو کافی سرخیاں بٹوری۔

پھر دوسرا راستہ اپنایا گیا کہ انکی عوامی فلاحی تنظیموں پر دھشت گردوں کو سپورٹ  کرنے اور فنڈ مہیا کرانے کا الزام عائد کر انکو بین کردیا گیا، اور اسلام کی اشاعتی خدمت کرنے والے چینل پر پابندی لگا دی گئی اور لو جہاد کا ہوا کھڑا کر کے مسلم جوانوں کو مارا گیا، ابھی تک بابری مسجد کے زخم مندمل نہیں ہوئے پھر مسجدوں میں آئے دن کبھی سوّر کبھی ھولی کے رنگ پھینک کر تنگ کیا جاتا ہے تو  کبھی مسجدوں کی دیواروں سے مورتیوں کے جلوس کو ٹکر دیکر تو کبھی گئوکشی کے نام پر دنگے اور کبھی ٹرین کے حادثوں کا ملزم بناکر فساد کی آگ بھڑکائی جارہی ہے اور اب مسلم دوشیزاؤں کی عزتوں کو ٹارگیٹ کیا جارہا اور انہیں ملحد ومرتد بنانے کی پرزور کوششیں جاری ہیں اور بکھری پڑی ویڈیوز اور آڈیوز رپورٹس کے مطابق اسکے لئے  بھارت کی ایک دھشت گرد تنظیم فنڈنگ کر رہی ہے۔ مشرکین کو اس کام کیلئے دس ھزار سے لیکر ایک لاکھ تک کا ماہانہ پیکیج کا آفر ہے۔

جس قوم نے آریہ ورت کی ناریوں کی عزت پوشی کی تھی آج اسی قوم کی بیٹیوں کو بے آبرو کرنے کا عمل جاری ہے۔

ابھی حال ہی میں پنجاب کے پلول میں لحم خنزیر کو مسجد میں پھینکا گیا اور مسلمانوں کے جذبات کو بھڑلانے کی کوشش کی گئی اور حیدرآباد میں کچھ دن پہلے مسلمانوں نے ایک ایسے ہی جوان آدمی کوگائے کا گوشت مسجد میں پھینکتے ہوئے دھر دبوچا اور اسکی دھنائی کر ڈالی اور اس سے اس غیر اخلاقی رویہ کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے بتایا کہ یہ ھمارا کام ہے اور ھر ضلع میں مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے کے لئے کم ازکم پانچ افراد پر مشتمل ٹیم تیار کی گئی ہے۔ یعنی منظم طریقے سے کام کیا جا رہا ہے۔

آئے دن مسلمانوں کے خلاف زھر اگلتے چند ھندو دھرم کے ٹھیکیدار  ہیں ان ہی میں کا ایک توگڑیا ہے لیکن اب اسکے تربیت یافتاؤں کی ایک پوری ٹیم اس کاز میں کود پڑی ہے اور اس میں ہر ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوششوں میں ہے اور اسی ضمن میں ایک سادھوی نے مکہ مکرمہ کو مکیشور کہہ تہلکہ مچا ڈالا ہے تو ایک تنظیم نے نسل انسانی کا پورا ایک شجرہ تیار کرکے  محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب نامہ کے مقابلے ميں پھیلا چکی ہے اور یہ باور کرانے کی ناکام سعی پیہم میں ہیکہ سبھی رام کی اولاد ہیں اور نوح کی اولاد اسحاق ہیں امید ہے آپتک وہ شجرہ نسب پہنچا ہوگا۔اور اس طرح ھمیں انسانی شیطان اپنے ناری سردار کے ہر قدم کی تقلید کرتے ہوئے ھم مسلمانوں کو ہر قسم کی اذیت پہنچارہے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔

لَتُبۡلَوُنَّ فِیۡۤ اَمۡوَالِکُمۡ وَ اَنۡفُسِکُمۡ ۟ وَ لَتَسۡمَعُنَّ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَ مِنَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡۤا اَذًی کَثِیۡرًا ؕ وَ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَ تَتَّقُوۡا فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ (سورہ آل عمران /186)

ضرور بالضرور تمہارے مالوں اور جانوں سے تمہاری آزمائش کی جائے گی اور ضرور بالضرور  تمہیں ان لوگوں کی جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے اور مشرکوں سےبہت سی دکھ دینے والی باتیں بھی سننی پڑیں گی اور اگر تم صبر کرلو اور پرہیزگاری اختیار کرو تو یقیناً یہ بہت بڑی ہمت کا کام ہے۔(3/186)

آج ضرورت ہے کہ وہ مسلم جو دین سے دوری رکھے ہوئے ہیں اور نادانی اور جوش میں ہوش کھو کر مشرکین کی سازشوں کا شکار بن رہے انہیں یہ بتایا جائے کہ اللہ رب العالمین نے پہلے ہی اسکی خبر دی ہے کہ مشرکین سے تمہیں ایسی تکلیفیں پہنچیں گی سو تم دین پر قائم رہنا سیکھو اور اگر تم سلاخوں میں چلے جاؤ تو شہید اوّل سمیّہ (رضی اللہ عنہ) کی طرح توحید پر قائم رہنا، تمہارے عقائد کے خلاف مشرکین بیان بازیاں کرینگے اس وقت اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرح صبر کرنا اور انکے اسوہ مبارکہ وحسنہ کو اپنانا۔

 مساجد وعیدگاہوں میں بار بار مشرکین کی طرف سے خنزیر کا گوشت تو کبھی ھولی کا رنگ پھینکا جا رہا ہے ایسے موقع پر اس حدیث کو سامنے رکھیں ۔

 ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى أَعْرَابِيًّا يَبُولُ فِي الْمَسْجِدِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ "”دَعُوهُ حَتَّى إِذَا فَرَغَ دَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ””.

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی کو مسجد میں پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تو لوگوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو جب وہ فارغ ہو گیا تو پانی منگا کر آپ نے  ( اس جگہ )  بہا دیا۔ (صحیح بخاری)

نہایت خاموشی کے ساتھ مسلمانوں کو چاہیئے کہ غلاظت کو صاف کر لیں اور اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کریں دشمنوں کو دیکھیں کہ وہ مسجد میں ، عید گاہوں میں گندگی ڈال رہے روکیں نہ ڈالنے دیں اور پھر اسے صاف کر لیں تا کہ امن وامان کے قیام میں آپکا اور قوم کا کردار کھل کر سامنے آئے اور دشمن بھی انگشت بدنداں رہ جائیں اور سوچنے کو مجبور ہوجائیں کہ جب یہ لامثال اور باکمال کردار کے مالک ہیں تو انکا دین کتنا عظیم ہوگا! بلکہ دشمن کے ساتھ آپنے رہنے کا سمجھوتہ کیا ہے تو انکے لئے آسانیاں پیدا کیجئے ان سے جھگڑ کر پریشانیوں کا ذریعہ نہ بنئے بلکہ اس کے سامنے ٹوٹ کر اپنا اسلامی اصول پیش کیجئے کہ ھم آسانی پیدا کرنے کے لئے بھیجے گئے ہیں جیساکہ آگے کی حدیث میں یہ پہلو کھل کر سامنے آرہا ہے

.، ‏‏‏‏‏‏عن ابی هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَتَنَاوَلَهُ النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ "”دَعُوهُ وَهَرِيقُوا عَلَى بَوْلِهِ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ أَوْ ذَنُوبًا مِنْ مَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ””.

سیدنا ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بادیہ نشین (گاؤں والا) کھڑا ہو کر مسجد میں پیشاب کرنے لگا۔ تو لوگ اس پر جھپٹنے لگےیعنی مارنے کے لئے دوڑے۔ ( یہ دیکھ کر )  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو اور اس کے پیشاب پر پانی کا بھرا ہوا ڈول یا کچھ کم بھرا ہوا ڈول بہا دو۔ کیونکہ تم آسانیاں پیدا کرنےلیے بھیجے گئے ہو، سختی کے لیے نہیں۔ (صحیح بخاری)

اورسیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ  ایک دیہاتی شخص آیا اور اس نے مسجد کے ایک کونے میں پیشاب کر دیا۔ لوگوں نے اس کو منع کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک دیا۔ جب وہ پیشاب کر کے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس  ( کے پیشاب )  پر ایک ڈول پانی بہانے کا حکم دیا۔ چنانچہ بہا دیا گیا۔ (صحیح بخاری)

دوستوں جبتک ھماری مسلم صفوں سے نااتفاقی و ناچاقی کا قلعہ قمع نہ ہو ہر ایک کو اپنی زندگی کو کم از کم مثالی بنانا ہوگا.

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگیوں کو پڑھیں گے تو ان میں کا ہر ایک چلتا پھرتا اسلام اور اس کی تصویر تھا۔ ۔۔

صلح حدیبیہ کے موقع پر حددرجہ گرکر مشرکین سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صلح بتاتی ہے کہ اسلام قیام امن وامان کے لئے مشرکین کی ہر شرط  جنمیں جان ومال کا امان ہو ماننے کے لئے تیار ہے۔

لوجہاد یا لو فوبیا کا مرض لوگوں نے کثرت سے پال رکھا ہے مسلمانوں نے کام تو کم کیا لیکن بدنام زیادہ کر دیا درحقیقت اسلام ایسی کسی شادی کی اجازت نہیں دیتا جو کہ اس کا نام لیکر بد امنی کا باعث بنے۔ کچھ جوانانِ مسلم نے ایسی شادیاں کی ہیں جو کہ قطعی اسلام کی رو سے جائز نہیں کہی جاسکتیں کیونکہ یہ شادیاں وقتی جنون کا ترجمان اور دائمی ندامت کا باعث ہوا کرتی ہیں خود راقم الحروف کا مشاھدہ ہیکہ ایک تقلیدی مسلم لڑکے نے جوکہ اسلام کے نام پر دھبہ تھا ایک مشرک لڑکی کو دام فریب میں لاکر شادی کرتا ہے اور پھر اپنی بہادری کا نظارہ لڑکی کے اہل خانہ کو اس طریقہ پر کراتا ہے کہ انکے سامنے اپنی نومسلم بیوی کو بیف کھلاتا ہے جمہوری نظام میں لڑکی کے والدین کچھ کر نہ سکے لیکن انہوں نے اپنے بیٹے کو بطور پانسہ استعمال کیا اور جو مسلم لڑکا گوشت خوری کو اسلام سمجھ بیٹھا اور دوسرے کے جذبات کو ٹھیس پہنچا رہا تھا اسکی بہن اسکی بیوی کے بھائی کے جال میں پھنس گئی کورٹ میریج ہوئی اور مسلم لڑکی مشرک ہوگئی سہاگ رات دھوم دھام سے ھوئی پھر اگلے روز اسکے دولہے نے خنزیر کا گوشت پکواکر پردے کی روایت چاک کر کے اسکی بہن کو علی الاعلان کھلایا اور اب بھی کھلا رہا ہے۔۔۔

اسلام اسکی تعلیم قطعاً نہیں دیتا کہ جس قوم سے معاہدہ امن ہو اسکی عزت پر ہاتھ ڈالا جائے اور اپنا الو سیدھا کیا جائے بلکہ معروف امن وامان کی صورت میں اسلام اپنے تعارف کا حکم معاھد قوم کے سامنے کرنے کو کہتا ہے۔ مشرکین کو دولت وشادی کا جھانسہ دیکر قبول اسلام کی دعوت نہیں دینی چاہئے کیونکہ اگر اسلام کو بھیڑ مقصود ہوتی تو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو ھجرت نہ کرنی پڑتی پورے مکہ کی لڑکیاں انکے وجیہ و خوبصورتی کی دلدادہ تھیں ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس دولت بھی تھی شہرت شرافت رفاقتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل تھی وہ چار نہیں ابھی قرآن میں تعدد ازدواج کی آیت نازل نہ ہوئی تھی چاہتے تو صرف شادی کا جھانسہ دیکر کتنی دوشیزاؤں کو اسلام میں لے آتے، عثمان غنی رضی اللہ عنہ دولت انکے ھاتھوں میں رقص کرتی تھی یہ بھی چاہتے تو مکہ کی حریموں میں قید لڑکیوں پر اپنا پتہ چلا سکتے تھے، حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی مالدار آدمی تھے یہ بھی پانسہ پھینک سکتے تھے، حضرت جعفر جوکہ نہایت خوبصورت مشابہ بہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے طائف ہجرت کیونکر کرتے،علی رضی اللہ عنہ کافی خوب رو تھے، مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ھم شکل و مالدار تھے الغرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے درپردہ اسلام قبول کر کے ہر صحابی اپنے ھینڈسم ورعنائی اور جوانی اور دولت کا جال پھیلا کر پورے مکہ کی عورتوں کو شرک سے توحید، جہالت سے اسلام کے دامن میں لے آسکتے تھے لیکن ایسا انہوں نے نہ کیا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پورے مکہ اور خانہ کعبہ میں جتنے علاقوں کے بت رکھے گئے تھے ان سبکا بادشاہ بنانے اور سب سے خوبصورت عورت سے شادی کرانے کی پیشکش کی گئی تھی وہ اسے قبول کر سکتے تھے اور پھر درپردہ اسلام کی تبلیغ کرتے اور مبلغین اسلام کی ایک ٹیم تیار کر سکتے تھے لیکن ایسا نہیں کیا کیوں ۔ ۔۔۔؟

اس لئے کہ اسلام کا مقصد  بے حیائی کو فروغ دینے والی شادی کو مروّج نہ کرنا تھا نار جہنم کا ایندھن بن رہے لوگوں کو ثمراتِ جنت کھلانا تھا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ مدینہ منورہ ھجرت کرنے کے بعد بہت سی جنگی قیدی اور مال غنیمت سے حاصل شدہ لونڈیوں کو آزاد کرکے صحابہ کرام اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی اس سے تو یہ ثبوت ملتا ہے تو یاد رکھیں کہ پہلے ان لونڈیوں کے اسلام کا صحابہ کرام کے پاس امتحان ہوجاتا تھا اور ان کے مومنہ ہونے کا یقین ہو جاتا تھا تبھی آزادکر شادی کا پیغام دیکر شادی کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ بن حی بن اخطب سے شادی انکے ایمان کی پہلے ہی ان کے خواب سے تصدیق ہو چکی تھی اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوابوں کی تعبیر خوب سمجھتے تھے مزید اللہ رب العزت کا اس پر نکیر وتبصرہ نہ کرنا بھی ایک اجازت ہے اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا الہام اللہ نے کیا ہو۔

مدینہ منورہ میں ایک سے ایک جوان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انکو اشارہ کرتے پوری یہودیوں کی صاحبزادیاں انکے دامِ جلؤوں میں گرفتار ہوکر چلی آتیں۔

دوستوں ۔ ۔اسلام آوارہ گردی کی تعلیم نہیں دیتا اور نہ اُنہیں اسلام کی تبلیغ کرنے کی اجازت دیتا ہے جو کہ اس کے سایہ سے تو واقف ہوئے لیکن اسکی جڑوں سے ناواقف رہے ہیں ۔بلکہ ان کو مزید شریعت سے واقفیت کی طرف ابھارا اسی کی ایک کڑی وہ مشہور واقعہ ہیکہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے ایک صحابی سے یہ طے کررکھا تھا کہ ایک دن تم ایک دن میں بارگاہِ رسالت سے علم حاصل کریں گے اور ایک دوسرے کا کاروبار دیکھیں گے اور رات میں ایک دوسرے سے تبادلہ علم کر لیں گے۔ ۔

اسلام زیادہ سے زیادہ ایمان کی مضبوطی پر زور دیتا ہے اوریہ طاقت علم دین (قرآن واحادیث صحیحہ) کوسبقاًسبقاً پڑھنے سے حاصل ہو تی ہے۔

ھمارے مسلم جوان درج ذیل نکات پر عمل کریں۔

1/دین اسلام کی وراثتی تعلیم کو ترک کر روایتی اسلام کو حاصل کریں ۔ تاکہ فریب و حقیقت میں تمیز ہو جائے۔

2/قرآن کی وراثتی تلاوت چھوڑ کر سمجھ کر اپنی زبان میں پڑھیں ۔ تاکہ ایمان میں زیادتی ہو۔اور تسکین کی دولت ملے۔

3/احادیث صحیحہ کا کثرت سے مطالعہ کریں ۔ تاکہ جذبہ اطاعت میں ترقی ہو۔

4/رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و کردار کو اپنے شب وروز میں اتاریں تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہیں تو کیا انکا نقش ابھی باقی و زندہ ہے۔

5/صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات کے واقعات کو اپنے مطالعہ میں لازمی جگہ دیں ۔تاکہ مثال سے سمجھ سکیں کہ اخلاق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیکر بنا جا سکتا ہے۔

6/اسلامی تاریخ کو بھی سمجھ کر پڑھیں تاکہ کن حالات میں اکابرین نے کیا قدم اٹھایا تو فائدہ ہوا اور کس سے نقصان پہنچا تاکہ خود سے غلطی کا صدور نہ ہو اور اچھی رہنمائی مل سکے۔

7/ دشمن و مشرکین کی ایذارسانیوں پر صبر کریں اور اپنے عمل سے انکو جواب دیں ۔

8/پرہیزگاری اختیار کریں تاکہ کردار میں اثر پیدا ہو۔

9/معاھد قوم کی آبرو پر حملہ اپنی آبرو پر سمجھیں ۔

10/معروف علمی طریقے سے دعوت کا کام معاھد مشرکین کے درمیان کریں ۔

اللہ سے دعاء ہیکہ ہمیں اسلام کا اعلیٰ اخلاق و کردار مشرکین وغیر مسلموں کے سامنے پیش کرنے کی توفیق دے۔۔

غیر مسلموں کے برے رویہ پر صبر کی ہمت دے۔۔۔

جوانی کے جوش کو ہوش سے ھم آہنگ کرنے کی ہمت وبوجھ دے۔

تقویٰ وزھدیت اپنانے کی قوت دے۔

ھمارا عمل ریاکاری سے پاک خلوص سے پر کر دے۔۔۔آمین یا رب العالمين

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close