مغرب میں آزادیٔ اظہار کاتصور اور اسلام

عادل فراز

عصر حاضر میں انسان اپنے حقوق اور اختیارات کی طرف ماضی کے باالمقابل زیادہ متوجہ ہوا ہے۔ کیونکہ موجودہ عہدانسان کی ترقی اورکامیابی کا عہد ہے لہذا وہ اپنے حقوق اوراختیارات کے سلسلے میں بھی اتنا ہی بیدار ہے جتنا کہ معاشرہ کے حقوق اور اختیارات کے سلسلے میں بیدار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاشرہ میں بھی جہاں ماضی میں کسی نظام کا تصور نہیں تھا اور عوام کو انکے بنیادی حقوق بھی حاصل نہیں تھے آج اس معاشرہ میں انسانی حقوق کی آوازیں سب سے زیادہ بلند ہورہی ہیں ۔چونکہ انسان تمام ذی روحوں میں سے سب سے اہم اور حساس ہے لہذا اسکے تقاضے اور ضروریات بھی دوسرے ذی روحوں سے زیادہ اور اہم ہیں ۔ان تمام تر تقاضوں میں ایک ایسا مطالبہ ہے جو انسان اپنے فطری تقاضہ کے تحت کرتا آیاہے۔

اس مطالبہ کا نام ہے ’’آزادی‘‘۔ انسان ہر طرح کی آزادی کا خواہش مند ہے مگر اظہار کی آزادی کا مطالبہ زیادہ شدت کے ساتھ کیا جاتا رہاہے۔ معاشرہ میں اپنے خیالات و افکار کی ترسیل و تبلیغ اور دوسروں کے خیالات سے استفادہ کرنے کے لئے آزادیٔ اظہار کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے مگر ہر معاشرہ اگروہ کسی نظام کا پابند ہے اظہارکی آزادی کی بھی حدیں معین کرتاہے۔ موجودہ عہد میں ’’آزادیٔ اظہار ‘‘ کا نعرہ مغرب کی کوکھ سے جنم لیتاہے کیونکہ تمام جدید نظریات و افکار جنھیں بنام جدیدیت پیش کیاجارہاہے مغرب کی ہی کوکھ سے جنم لے رہے ہیں یہ الگ مسئلہ ہے کہ ان تمام تر نئے نعروں میں نئے جیسا کچھ نہیں ہے۔

مغرب نے در حقیقت انسان کو آزادیٔ اظہار کے نام پر فقط فریب دیاہے۔مغرب نے جس ’’آزادی ‘‘ کے نعرہ کو بلند کیاہے اس نعرہ کا مطلب فقط ’’ مذہب اور خدا سے آزادی‘‘ ہے۔ میں آج تک آزادی کے نعرہ کا مفہوم اس مفہوم سے الگ نہیں سمجھ سکا کیونکہ جس آزادی کا نعرہ مغربی مفکرین نے بلند کیا تھا وہ نعرہ مذہب اور مذہبی بالادستی کے خلاف تھا۔ لہذا جس آزادی کو ہم آج غلامی کے تصور سے نجات کا نعرہ سمجھتے ہیں در اصل خدا اور مذہب سے نجات کا نعرہ ہے۔ ورنہ انسان نہ آزاد پیدا ہوا ہے اور نہ آزاد رکھا گیا ہے۔ کیونکہ انسان کے خالق نے اسے ایک مقصد کے لئے خلق کیاہے تو پھر اسے آزاد کیسے چھوڑا جاسکتاہے۔ ہاں انسان کسی بھی مسئلے اور معاملہ میں غور و فکر اور امور کی انجام دہی میں پوری طرح آزاد ہے۔ اگر وہ اس آزادی کا غلط استعمال کرتاہے تو خالق نے سزا رکھی ہے۔ اور اگر خالق کی رضا کے مطابق عمل کرتاہے تو اس کی جزا بھی معین کی گئی ہے۔

 لہذا انسان کو اس ’’تصور آزادی ‘‘سے نجات دینے کے لئے مغرب نے ’’جدید آزادی‘‘ کا نعرہ بلند کیا۔ گویا انسان پر کسی کا اختیار نہیں۔ وہ اپنے ہر کام کی انجام دہی میں پوری طرح آزاد ہے۔ خواہ شراب و شباب کا دلدادہ ہوکر عیش و نوش میں زندگی بسر کردے یا ایک سادہ لوح انسان کی طرح عمر گزار کر مرجائے۔ مگر اس ’’آزادی کے جدید تصور ‘‘ میں بھی جزاو سزا کا معیار مقرر کیا گیاہے۔ کیونکہ اگر ایسا نہ کیا گیا ہوتاتو پھر یہ آزاد انسان سماج و معاشرہ کے لئے ناسور بن جاتا یعنی قانون کی بالادستی کی اہمیت یہاں بھی سمجھی جاسکتی ہے ورنہ آزاد سماج میں عدالتوں اور قید خانوں کی ضرورت نہ ہوتی۔

آزادیٔ اظہار کی اہمیت پر بین الاقوامی انسانی حقوق کے منثور کے آرٹیکل ۱۹ میں کہا گیاہے ’’ہر شخص کو اپنی آراء رکھنے کا اختیار ہوگا اور اس سلسلے میں کوئی مداخلت نہیں ہوگی۔ ہر شخص کو آزادیٔ اظہار کا پورا حق حاصل ہوگا۔ اس حق میں ہر طرح کے نظریات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور معلومات دوسرں تک پہونچانے کی آزادی شامل ہوگی۔ سرحدیں اس حق کی راہ میں حائل نہ ہونگی۔ یہ معلومات تحریری صورت میں ، زبانی طورپر، یا کسی آرٹ کی شکل میں یا کسی اور مطلوبہ ذریعہ سے حاصل کی جاسکتی ہیں‘‘۔ مگر حقوق انسانی کے منثور میں بھی آزادیٔ اظہار کی حدیں معین کی گئیں اور انسان کو مکمل آزادی نہیں دی گئی۔ آزادیٔ اظہار کے حدود متعین کرتے ہوئے شق نمبر 2 میں کہاگیاہے کہ آزادیٔ اظہار کے حق کا استعمال کرتے ہوئے کچھ فرائض اور ذمہ داریاں بھی نافذ ہونگی مثلا۔

1۔دوسروں کی عزت، شہرت اور حقوق متصادم نہ ہوں

2۔قومی سلامتی، امن عامہ، صحت عامہ، یا اخلاق عامہ متاثر ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔

یہ آزادیٔ اظہار کا دوسرا رخ ہے۔ یعنی ایک انسان کو بیک وقت آزادی بھی دی گئی ہے اور پابند بھی رکھا گیاہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو انسان معاشرہ کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتاہے لہذا آزادیٔ اظہار کے قانون وضع کئے گئے۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ آج کا نظام جو کسی بھی طرح کی مکمل آزادی کی اجازت نہیں دیتا وہ نظام اسلام کے نظام کی حدودوقیود پرتنقید کرتاہے ؟۔اگر دنیا کی ہر حکومت اپنے شہریوں کے مفاد میں قانو ن وضع کرتی ہے اور آزادی کے ساتھ آزادی کے حدود بھی متعین کرتی ہے تو پھر اسلام جو دنیا کی ترقی اور نجات کا عالمی منثور لیکر آیاہے وہ اپنے قانون کے تحت مکمل آزادی کیسے دے سکتاہے۔ دنیا کا ہر قانون مشروط ہوتاہے اور یہ مشروطیت ہی اس قانون کی بقا اور ترقی کی ضمانت ہوتی ہے۔

مغربی مفکرین اور وہ اسکالرز جو روشن خیالی کے عذاب میں مبتلا ہیں آزادیٔ اظہار کے سلسلے میں اسلام کے حدودوقیود پر طنزو تشنیع کرتے نظر آتے ہیں مگر اسلام دشمنی میں یہ بھول جاتے ہیں کہ جس نظام کو وہ مثالی نظام کی شکل میں پیش کررہے ہیں وہ نظام بھی حدودوقیودکے بغیر وجود میں نہیں آیا۔ مثال کے طورپر کینڈا میں عیسائیت کی اہانت و منقصت کو جرم قرار دیاگیاہے۔ کیونکہ کینڈا کی حکومت کو اس بات کا خدشہ تھا کہ آزدیٔ اظہار کی مکمل آزادی انسان کو مذہب کی اہانت و منقصت پر اکساتی ہے۔ ممکن ہے ایک انسان خواہ وہ عیسائی ہو یا غیر عیسائی اسکے عقائد و نظریات کی توہین کا مرتکب ہو یا وہ انسان کو عیسائیت کے خلاف ورغلاکر کسی دوسرے مذہب یا نظریہ کی دعوت نہ دے۔

27 جنوری 2003 میں ٹیلی گراف اخبار نے اسرائیلی وزیر اعظم کا خاکہ شایع کیا جس میں انہیں فلسطینی بچوں کی کھوپڑیاں کھاتا ہوا دکھایا گیا۔اس خاکہ پر اسرائیل اور اسکے ہم نوائوں نے ہنگامہ کھڑا کردیا جس کے بعد اخبار نے معذرت کی۔ امریکہ جو پوری دنیا میں ماڈرن کلچر اور فریڈم آف اسپیچ کا دعویدار ہے وہاں بھی لوگوں کے فون ٹیپ کئے جاتے ہیں ۔لیبیا میں جس وقت توہین رسالت اور اہانت قرآن کے جرم میں مظاہرین نے امریکی ایمبسی کو نذر آتش کیااسکے فورا بعد اقوام متحدہ نے اس نازک مسئلے پر اجلاس طلب کیا۔ اجلا س کو خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہاکہ ’’توہین رسالت و اہانت قرآن آزادی ٔرائے کی ایک شکل ہے، امریکی آئین اسے تحفظ دیتاہے۔ امریکی عوام کی اکثریت عیسائی ہے اسکے باوجود ہم عیسیٰ کی توہین پر قدغن نہیں لگاسکتے ‘‘۔ امریکی نظام کا دوغلاپن اور دہرا معیار اس وقت سامنے آتاہے جب وہ اپنے آئین میں امریکہ کے قومی پرچم  کی توہین، قومی پرندے کی قید اور عدالتوں کی ہتک پر فرد جرم عائد کرتے ہیں ۔

بیلجیم میں ایک قانون کے مطابق ہولوکاسٹ کے خلاف لب کشائی کی اجازت نہیں ہے اگر کوئی ہولوکاسٹ کے ہونے کا انکارکرتاہے تو اسکے لئے قید اور جرمانہ کی سزا معین کی گئ ہے۔ اسی طرح کناڈا میں بھی ہولوکاسٹ کی تردید پر سزا رکھی گئی ہے۔ کئ مغربی ممالک جیسے فرانس، ناروے، انگلینڈ،  ہالینڈ اور کئی دیگر شہروں میں یہ قانون موجود ہے کہ کسی مذہب، عقیدہ، مسلک یا فردکے افکار کے خلاف تقریر نہیں کی جاسکتی جو ہتک اور تضحیک پر مبنی ہو۔ ہندوستان میں بھی ایسی تقاریر پر پابندی عائد ہے جو مذہبی جذبات برانگیختہ کرے اور کسی عقیدہ، مسلک یا فرد کی تضحیک کا سبب قرارپائے اور نقض امن کا ذریعہ بنے۔ حال ہی میں امریکہ نے سات مسلم ممالک کے شہریوں پر امریکہ میں داخلہ پر پابندی عائد کردی تھی جسکے خلاف امریکی عدالت نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے اس فیصلہ کی مذمت کی اور پابندی کو ہٹانے کا حکم دیا۔ ابھی تک اس متنازع فیصلہ پر عدلیہ اور ٹرمپ انتظامیہ میں کشیدگی برقرار ہے مگر اس فیصلہ کے بعد مغرب کا اسلامو فوبیا کھل کر سامنے آتاہے۔ مسلمانوں کے امریکہ میں داخلہ پر پابندی عائد کرنے والی حکومت آزادیٔ اظہار کی کلّی اجازت کیسے دے سکتی ہے۔

اکثر میڈیا کے ذریعہ خبریں موصول ہوتی ہیں کہ فلاں مغربی ملک نے حجاب پر پابندی عائد کردی ہے۔ فلاں اسکول اور کالج میں حجاب پہننے پر روک لگادی گئی۔ فلان یونیورسٹی میں قرآن کی تعلیم پر قدغن لگادیا گیا۔ جرمنی اور فرانس جیسے ملکوں میں بھی حجاب پر بین ہے۔ ہندوستان کے بھی کئی اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پہننے پر پابندی عائد ہے۔ ہندوستانی بینکوں میں بھی اب اس طرح کی تختیاں آویزاں کی جارہی ہیں کہ بینک میں با حجاب اور بانقاب آنے کی اجازت نہیں ہے۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ کو خطاب کرتے ہوئے’’ سیکولر‘‘ لفظ کے معنی میں اپنی حکومت کے نظریات کے مطابق ترمیم کی تھی۔ انہوں نے کہاتھاکہ سیکولر ہونے کا مطلب ’’دھرم نرپیکش‘‘ ہونانہیں ہے بلکہ ’’پنتھ نرپیکش ‘‘ ہونا ہے۔ یعنی سیکولر ریاست میں مذہب کی آزادی نہیں ہوسکتی بلکہ صرف عقیدہ کی آزادی دی جاسکتی ہے۔ راج ناتھ سنگھ کا مقصود تھاکہ سیکولر ریاست میں مذہب ریاست کا ہی عام ہوگا اور دیگر مذاہب کے افراد اپنے عقیدہ کے لئے آزاد ہونگے کیونکہ عقیدہ کا تعلق دل سے ہوتاہے۔

ان مثالوں سے یہ اندازہ بخوبی ہوجاتاہے کہ مغربی معاشرہ اور ہمارا سماج جس آزادی اظہار کی دہائی دیتاہے در اصل وہ خود اس کی مکمل اجازت کی حمایت نہیں کرتا۔ ہر نظام میں آزادی کے حدودوقیود بیان کئے گئے ہیں مگر اسلام مخالف مفکر وں نے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ فقط اسلام کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے اور اپنے نظام کی کمیوں اور خامیوں کی پردہ پوشی کی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں بھی کچھ زیادہ ہی پڑھا لکھا طبقہ مغربی جھانسہ میں آکر لبرل اور سیکولر ازم کا ڈھنڈورچی ہوگیاہے۔ یا تو یہ لوگ مغرب کی اسلام دشمنی کی سازشوں کا دانستہ طوپر شکار ہیں یا نادانی میں شکار ہورہے ہیں ۔

ایسے حالات میں یہ کہنا کہ اسلام آزادیٔ اظہار کے خلاف ہے اور اسکا قانون فرد کی آزادی پر قدغن لگاتاہے خلاف عقل اور مبنی بر عصبیت ہے۔ جس طرح دنیا کا ہر قانون فرد اور معاشرہ کی آزادی کے لئے قانون وضع کرتاہے تاکہ امن عامہ برقرار رہے اسی طرح اسلام بھی آزادی کا اپنا تصور پیش کرتاہے تاکہ معاشرہ فساد سے محفوظ رہے۔



⋆ عادل فراز 

عادل فراز 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے