تاریخ ہندنقطہ نظر

ملک کی تقسیم کا ذمہ دار کون؟

حفیظ نعمانی

ڈاکٹر منظور احمد آئی پی ایس میرے عزیز ترین دوست، کرم فرما اور محسن ہیں۔ میں ان کی کسی بات سے اختلاف کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا لیکن ان سے منسوب اخبارات میں ایک بات ایسی چھپی ہے جس کی وضاحت نہ کرنا میرے نزدیک گناہ ہے۔ ڈاکٹر منظور نے بارہ بنکی میں امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کے یوم پیدائش پر بولتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کا تقسیم ہند میں کوئی نمایاں کردار نہیں تھا۔ یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ چند مسلمان اس تحریک کے ہمنوا ضرور تھے۔ اور یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی میں جب تقسیم کا مسودہ پیش ہوا تو تقسیم کے خلاف صرف مولانا آزاد اور خان عبدالغفار خاں کے دو ووٹ تھے۔

ڈاکٹر صاحب سے اتنا قریبی تعلق ہوتے ہوئے نہ ہمیں یہ معلوم کہ ان کی عمر اب کیا ہے نہ کبھی یہ معلوم کیا کہ انہوں نے تعلیم کہاں کہاں حاصل کی اور نہ کبھی اس پر بات ہوئی کہ جب تقسیم کی آندھی چل رہی تھی یعنی 1945-46 ء میں وہ کہاں تھے؟ اس وجہ سے ہمیں پوری بات کہنا پڑرہی ہے۔ ان برسوں میں ہم بریلی میں رہتے تھے۔ پاکستان کی مخالفت میں جو علمائے دین اور جمعیۃ علمائے ہند کے حضرات تشریف لاتے تھے وہ والد ماجد مولانا محمد منظور نعمانی سے اس لئے ملنے ضرور آتے تھے کہ دیوبندی مسلک کے یا نمایاں عالم وہ تھے یا مدرسہ اشاعت العلوم کے مولانا یٰسین صاحب تھے۔ ان کے علاوہ سب مسلم لیگ کے حامی اور رات دن بٹ کے رہے گا ہندوستان لے کے رہیں گے پاکستان والے تھے۔

ان علماء میں مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی سے لے کر نیچے مولانا ابوالوفا شاہجہاں پوری، مولانا عبدالحلیم ملیح آبادی وغیرہ وغیرہ سیکڑوں عالم تھے جو مسلمانوں کو سمجھا رہے تھے کہ کیوں بے وقوفی کررہے ہو۔ اور یہ عام مسلمان ہی تھے جن کو معلوم تھا کہ وہاں نہیں جانا ہے اور جہاں پاکستان بنے گا وہاں کے مسلمانوں میں پاکستان کیلئے کوئی جوش اس لئے نہیں تھا کہ وہ پنجاب سندھ سرحد اور بلوچستان یا بنگال ہر جگہ اکثریت میں تھے وہ کہتے تھے کہ ہم تو پہلے سے ہی پاکستان میں ہیں۔ یہ اُلّو کے پٹھے بے وقوف ہندوستانی مسلمان تھے جو ہندوستان میں رہنے والے تھے لیکن ہندو کو دشمن بنا رہے تھے۔ جس کا ثبوت وہ الیکشن ہے جو صرف تقسیم کے لئے ہوا تھا اس میں 90 فیصدی ووٹ پاکستان کے حق میں آئے اور صرف 10 فیصدی مخالفت میں۔ اور اسی الیکشن نے فیصلہ کردیا کہ 90 فیصدی مسلمان جناح کے ساتھ ہیں اور تقسیم چاہتے ہیں۔

ہم 14 برس سے بریلی میں رہتے تھے۔ وہاں کا حال یہ تھا کہ نرسری میں پڑھنے والے بچوں بچیوںکو ان کی مائیں کلمہ کے بجائے بٹ کے رہے گا ہندوستان اور لے کے رہیں گے پاکستان کا سبق یاد کراتی تھیں۔ ہم شاہ آباد کے جس ضمنی محلہ گھیر مولوی عبدالقیوم میں رہتے تھے وہاں کا ہر مسلمان یا خود جانے پر آمادہ تھا یا پہلے اپنے تعلیم یافتہ لڑکوں کو بھیج رہا تھا اور یہ بات ڈاکٹر منظور صاحب کو بھی نہیں معلوم کہ اگر پاکستان نہ بنتا یا عام مسلمان اتنا عقل کا اندھا نہ ہوتا تو ہم آج بھی بریلی میں ہوتے۔ ہم وہاں سے لکھنؤ صرف اس لئے آئے کہ بریلی اب باعزت مسلمانوں کیلئے رہنے کی جگہ نہیں رہی تھی۔ تقسیم سے پہلے 1946 ء میں اپنا پورا دفتر الفرقان اور گرہستی ٹرک میں لادکر لکھنؤ آگئے۔

ان دو برسوں میں ایک طرف عالم دین تھے دوسری طرف جناح، لیاقت علی خاں، خلیق الزماں، عبدالرب نشتر، راجہ محمود آباد، نواب اسماعیل، غلام محمد، محمد علی بوگری، چودھری محمد علی، خواجہ ناظم الدین حسن شہید سہروردی اور اے ٹی نقوی جیسے بے دین تھے جو یہ سمجھتے تھے کہ ہم اپنا ملک بنائیں گے اور زندگی بھر بادشاہت کریں گے اور تاریخ نے دکھا دیا کہ علمائے دین کو ذلیل کرنے اور عوام کو ان کے خلاف کرنے کے بعد جو بادشاہت ملی وہ صرف 16 برس رہی اس کے بعد پنجابی پٹھانوں کو خیال آیا کہ پاکستانی تو ہم ہیں اور ایوب خاں نے سب کو ایسا کنارے لگایا کہ وہ دن ہے اور آج کا دن کسی اہم پوسٹ پر وہ نہیں ہے جو ہندوستان سے بادشاہ بننے گیاتھا۔

ہمیں نہیں معلوم کہ ڈاکٹر منظور صاحب کے عزیز اور دوست ڈھاکہ گئے یا کراچی ہمارے سارے بریلی کے دوست کراچی اور لاہور گئے۔ ان سے فون پر باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ وہ لکھنؤ بھی آچکے ہیں ان میں ایک بڑے جرنلسٹ عبدالرؤف صدیقی ہیں وہ بار بار کہتے ہیں کہ مولانا کی بات نہ مان کر ہم سب بریلی والے رو رہے ہیں ان کا ہی بیان ہے کہ ہندوستان میں ہندو اتنی نفرت مسلمان سے نہیں کرتا ہوگا جتنی پنجابی ہم لوگوں سے کرتے ہیں۔ ان کا بیان ہے کہ میرا بیٹا جو ہر جگہ سے ٹاپ کرتا ہوا آیا نوکری کے لئے گیا تو اس سے صرف ایک سوال کیا کہ تمہارے باپ کہاں پیدا ہوئے تھے؟ اور جواب سن کر کہا جائو۔ یہ ان کا بیان ہے کہ تمہارے بیٹے ہمارے بیٹوں سے بہت اچھے ہیں۔

یہ بات تو ڈاکٹر منظور صاحب کو معلوم ہوگی کہ ہم نے جتنا ان کے بارے میں لکھا ہے شاید کسی کے بارے میں نہیں لکھا کہ حکومت نے انہیں نوکری سے تو نہیں نکالا لیکن ان سے وہ کام نہیں لیا ان کا جو میدان تھا یاتو ان کو سی آئی ڈی میں رکھا یا جامعہ ملیہ میں او ایس ڈی بنایا یا آگرہ یونیورسٹی کا وائس چانسلر بنا دیا اور جب وہ آئی جی ہوئے تو انہیں آگ بجھانے کا محکمہ دے دیا۔ ان کا قصور یہ تھا کہ وہ اگر سونگھ لیتے تھے کہ مسلمانوں کو ان کی مدد کی ضرورت ہے تو بغیر بلائے اس میں ہاتھ ڈال دیتے تھے۔ وہ لکھنؤ کے میئر ہورہے تھے ووٹوں کی گنتی میں بے ایمانی کرکے ان کو ہرایا اس کے لئے بی جے پی اور سپا مل گئے صرف ان کی مسلم نوازی کا جو بورڈ ان کے گلے میں لٹکا تھا وہ حکومت کو برداشت نہیں تھا اللہ ان کو سلامت رکھے وہ بہت بڑی نعمت ہیں۔ ہم نے جو کچھ لکھا ہے وہ ان کی بات کا جواب نہیں ہے بلکہ صرف تقسیم کی ذمہ داری کی کہانی ہے جس کا ہم سے زیادہ معتبر دوسرا شاید نہ ملے۔ اگر عام مسلمانوں نے تقسیم کے خلاف ووٹ دیا ہوتا تو نہ یہاں الہ آباد پریاگ ہوتا اور نہ وہاں مہاجر بن کر ذلیل ہوتے۔

مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close