نقطہ نظر

مودی کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا الیکشن

حفیظ نعمانی

یہ کہنا بہادری کی بات ہے کہ میں تمہارے گھر میں گھس کر ماروں گا۔ اس کا نظارہ گجرات کے راج کوٹ میں دیکھ کر ہم دنگ رہ گئے گجرات کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ راج کوٹ سے الیکشن لڑرہے ہیں کہا جاتا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی پوری حمایت انہیں حاصل ہے ایک مخالف اُمیدوار ظاہر ہے کہ وہ کانگریسی ہوگا اپنی جیتی ہوئی سیٹ چھوڑکر وزیر اعلیٰ کا مقابلہ کرنے کے لئے راج کوٹ آیا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ گجرات کا سب سے بڑا دولتمند ہے۔ اب تک ہم نے تو یہ دیکھا ہے کہ خطرہ کی سیٹ چھوڑکر ہر اُمیدوار اس سیٹ سے لڑنا چاہتا ہے جہاں کامیاب ہوسکے اور مقابلہ کمزور سے ہو بہرحال اس کی بہادری کو سلام جس نے کہا ہے کہ گھر میں گھس کر ماروں گا۔

1963 ء میں جب آچاریہ کرپلانی نے امروہہ پارلیمانی سیٹ سے آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے نامزدگی کرادی تو عام خیال یہ تھا کہ کانگریس مراد آباد کے بزرگ کانگریسی لیڈر پروفیسر رام سرن ورما کو ٹکٹ دے گی لیکن نامزدگی کے آخری دن مراد آباد میں سب ڈی ایم آفس کے ارد گرد یہ دیکھنے کے لئے کھڑے تھے کہ کون نامزدگی کراتا ہے؟ کہ تین بجے کے بعد ڈی ایم آفس کے آس پاس جو سواری گاڑیاں بے تکی کھڑی تھیں پولیس نے انہیں ہٹانا شروع کردیا۔ اور کوئی نہیں سمجھ پایا کہ کوئی اہم بات ہے؟ کہ چار بجے ایک بہت بڑی گاڑی حفاظتی گاڑیوں کے ساتھ داخل ہوئی اور اس میں سے دو مرکزی وزیروں کے ساتھ حافظ محمد ابراہیم صاحب باہر آئے اور انہوں نے اپنی نامزدگی کرائی۔

یہ خبر پورے مراد آباد ضلع میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور سنبھل میں اچانک اعلان ہونے لگا کہ بعد مغرب کوتوالی کے سامنے میدان میں آچاریہ کرپلانی سنبھل کے عوام کو خطاب کریں گے۔ جن تجربہ کار لوگوں نے آچاریہ جی کی اس دن کی تقریر سنی انہوں نے کہا کہ اس سے زیادہ درد بھری تقریر کسی اتنے بڑے لیڈر کے منھ سے نہیں سنی، آچاریہ جی نے کہا کہ میں تو الیکشن لڑنے کے لئے آیا تھا۔ پنڈت نہرو نے اسے جنگ کا درجہ دے دیا۔ حافظ ابراہیم جنگ آزادی کے ہر قدم پر ہمارے ساتھ رہے ہیں اب وہ وزیر بھی ہیں انہیں کانگریس کا اُمیدوار بناکر نہرو نے دوستی پر تلوار ماری ہے۔ بہرحال میں نامزدگی کراچکا ہوں اب تو لڑنا ہی ہے اگر مجھے پہلے حافظ جی بتا دیتے تو میں نامزدگی نہ کراتا۔

اس تقریر نے ہر سننے والے کو آچاریہ کرپلانی کا شیدائی بنا لیا اور یہ حقیقت ہے کہ سنبھل نے ہی نہیں دور دور تک شاید ایسا الیکشن کسی نے نہ دیکھا ہو کہ ہر ورکر آچاریہ کرپلانی بنا ہوا تھا اور ہر سر میں سودا سمایا تھا کہ جیسے بھی ہو حافظ جی کو ہرانا ہے۔ یہاں ہمدردی حافظ ابراہیم کے ساتھ نہیں ہوئی۔

گجرات میں جو کچھ ہورہا ہے وہ شاید پہلے کبھی نہ ہوا ہو وزیراعظم مودی نے راہل گاندھی کو للکارتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ ہمت کہ گجرات کے بیٹے کو اناپ شناپ کہے۔ ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ اُترپردیش کے الیکشن میں مودی جی ہر جگہ کہہ رہے تھے کہ ریاست نے مجھے گود لے لیا ہے اور وہ اس کے بیٹے بن کر الیکشن لڑرہے تھے لیکن اب معلوم ہوا کہ وہ گجرات کے بیٹے ہیں جو اُن کی آتما ہے اور بھارت ان کا پرماتما۔ وہ اب جیسی آواز اور جس لہجہ میں بات کررہے ہیں وہ کم از کم ہمارے لئے بالکل نیا ہے وہ گجرات سے 151  سیٹیں مانگ رہے ہیں اور ان کو یقین ہے کہ تمام گجراتی ان کی اس خواہش کو پورا کریں گے۔ وزیر اعظم نے شہرت کی حد تک 50  وزیر، وزرائے اعلیٰ اور بڑے لیڈر میدان میں اتارے ہیں ۔ انہوں نے اپنے ساتھ لگے ہوئے چائے کے نعرہ کو من کی بات چائے کے ساتھ ہزاروں انتخابی مرکزوں پر دکھا دیا وہ گجرات میں پانی کی طرح پیسہ بہا رہے ہیں اور مرکزی حکومت کا خزانہ سنا ہے کہ پاٹی داروں کو خریدنے پر لٹا رہے ہیں ۔

یہ خبر کہ کانگریس کی جب آخری فہرست آئی تو اس میں کئی جگہ ان لیڈروں کا نام نہیں تھا جن کو ٹکٹ کا یقین تھا تو انہوں نے توڑ پھوڑ مچائی اور جگہ جگہ آگ لگادی۔ اب تک جہاں بھی ایسا واقعہ ہوا ہے وہ اس پارٹی کی فہرست پر ہوا ہے جس کے جیتنے کی زیادہ اُمید ہوئی ہے۔ وہ کانگریس جس کی حیثیت صرف تین مہینے پہلے گجرات میں ایسی تھی کہ اس کے ایم ایل اے گیارہ گیارہ کروڑ میں بی جے پی کے ہاتھ بک رہے تھے آج اس کے ٹکٹ کی یہ حیثیت ہوگئی کہ ٹکٹ نہ ملا تو مرنے مارنے پر آمادہ ہیں ۔ یہ تو اس کا اشارہ ہے کہ جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی ہار سکتی ہے اور کانگریس جیسی بھی ہو حکومت بنا سکتی ہے غلط نہیں ہے۔

2014 ء سے اب تک جتنے الیکشن بھی ہوئے ہیں ان میں یہ ہوا ہے کہ مودی جی کانگریس یا علاقائی پارٹیوں سے ان کی حکومت چھین رہے ہیں اور وہ پوری طاقت سے بچا رہے ہیں یہ ساڑھے تین سال کے بعد پہلا الیکشن ہے کہ مودی جی اپنی حکومت کی ٹانگ پکڑے ہوئے ہیں اور چھیننے والے کالے بالوں والے لڑکے ہیں وہ چھین کر لے جانے پر تلے ہیں ۔ وزیراعظم اور ان کے ساتھی وزیر سارا زور اس پر لگا رہے ہیں کہ نوٹ بندی کالے دھن کے لئے تھی اور عوام اس سے خوش ہیں جی ایس ٹی 14-14  محکموں سے بچاکر ایک کھڑکی پر سب کام ہونے کے لئے تھی اس سے بھی سب خوش ہیں تو پھر حکومت اتنی پریشان کیوں ہے کہ وزیر اعظم کو ہر چار دن کے بعد گجرات آنا پڑرہا ہے۔

الیکشن کو اپنے حق میں کرنے کے لئے وزیر اعظم کے پاس بہت سے ہتھیار ہوتے ہیں اور انہوں نے ان کا انجام بھی دکھایا ہے اور یہ اس کی تلچھٹ ہے کہ بلدیاتی الیکشن میں بھی میرٹھ، کان پور اور کہیں کہیں وہی سننے کو ملا کہ چاہے جو بٹن دبائو کمل کے پھول کا بلب جلتا ہے۔ اس کو تکنیکی خرابی کہا جاسکتا تھا لیکن یہ کیا کہ کہیں سے بھی یہ خبر نہیں آئی کہ موٹر سائیکل کا دبایا تو ہاتھی یا پنکھے کا جلا۔ ہر جگہ سے کمل کی ہی خبر کیوں آتی ہے؟ بہرحال اب یہ تو یقین ہے کہ الیکشن معرکہ کا ہے جس پر جواریوں نے سٹہ بھی کھیلنا شروع کردیا ہے اب اگر مودی جی ہارتے نہیں تب بھی گجرات میں وہ اب بہت کمزور ہوجائیں گے۔ اور اس وقت تک کمزور ہوتے رہیں گے جب تک اقرار نہیں کریں گے کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی غلطی تھی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close