نقطہ نظر

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے چانسلر کا تنازعہ

عامر مجیبی

(مانو، حیدرآباد)

مئی، 2018 کے کسی اخبار میں یہ خبر پڑھی کہ جناب فیروزبخت صاحب مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی(مانو) کے نئے چانسلر منتخب ہوئے ہیں، خوشی ہوئی کہ مولانا آزاد سے نسبت (بزعم خود) رکھنے والی ایک شخصیت مولانا کے نام سے منسوب یونیورسٹی کا حصہ بنی۔ کچھ دنوں بعد مانو کے موجودہ وائس چانسلر صاحب نے سررکاری اعزاز کے ساتھ ’’جناب عالی ‘‘ کو یونیورسٹی میں مدعو کیا، چنانچہ انہوں نے یونیورسٹی کا باقاعدہ دورہ کیا، وائس چانسلر صاحب نے پورے اعزاز کے ساتھ انہیں استقبالیہ دیا، انہیں سرکاری پرٹوکال دئیے اور یونیورسٹی کا دورہ کرایا۔ ’’جناب عالی‘‘ نے یونیورسٹی کے دورے میں خاصی دلچسپی دکھائی، ہر ڈپارٹمنٹ، سینٹر اور آفس کا بغور معائنہ کیا۔ یہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن ’’جناب عالی‘‘فروتنی اور عاجزی کی تمام مثالیں توڑتے ہوئے معلمی کے فرائض بھی بنفس نفیس انجام دینے لگے، جس میں وہ ایم، اے، کے طلبہ کو اپلیکیشن رائٹنگ ’’جیسے غیر معمولی اور نایاب فن‘‘کی مشق کرانے لگے۔

ظاہر سی بات ہے کہ جب یونیورسٹی کی سب سے معزز اور اعلی انتظامی شخصیت ڈپارٹمنٹ اورکلاس میں پی، جی کے طلبہ کو پرائمری کی سطح کی ایسی بے جوڑاور غیرضروری کلاسز بنفس نفیس لیں گی تو کیمپس میں اس سے پیدا ہونے والے انتشار، بدنظمی اور افراتفری سے جوماحول پیدا ہوگا وہ فطری ہے، اور وہی ہوا۔ بے چارے ’’جناب عالی‘‘ کو یہ نہیں معلوم کہ چانسلر ایک اعزازی عہدہ ہوتا ہے نہ کہ کوئی انتظامی عہدہ، جبکہ وائس چانسلر کا عہدہ انتظامی ہوتا ہے، یونیورسٹی کے تمام انتظامی اور تعلیمی سرگرمیوں کی ذمہ داری اسی کی ہوتی ہے۔ اور چانسلر صرف مخصوص اوقات میں مدعو کئے جانے پر ہی یونیورسٹی آتاہے۔ لیکن خیر اس میں ان کی کوئی غلطی نہیں ہے، دراصل یہ باتیں تو انہیں جب معلوم ہوتیں جب انہوں نے یونیورسٹی کی شکل دیکھی ہوتی، ماشا اللہ!وہ تو اسکول ٹیچر سے چشم زدن میں پروموشن پاکرسیدھا سینٹرل یونیورسٹی کے چانسلر بنا دئیے گئے؛

تری انجمن میں ظالم عجب اہتمام دیکھا
کہیں زندگی کی بارش کہیں قتل عام دیکھا

لطف تو یہ ہے کہ نامزد کرنے والے نے جانے کیا سوچ کے انتخاب کیا؟بہرکیف جس حکومت میں سیریل ایکٹر وزیر تعلیم بن سکتی ہے اس سے آپ اورتوقع کربھی کیاسکتے ہیں ؟ ع

 جوچاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

خیر، ’’جناب عالی‘‘کی معلمی کے جو نتائج متوقع تھے وہ ہوئے، کیمپس بدنظمی، بے انتظامی اور انتشار کا شکار ہوتاچلاگیا۔ ’’اساتذہ کو کلاس لینے میں دشواری اور طبلہ کو چانسلر صاحب کی کلاس چھوڑنے میں پریشانی ہونے لگی‘‘۔ ہر طرف چہ میگوئیوں کا بازار گرم اور افراتفری کاماحول بن گیا۔ موجودہ وائس چانسلر صاحب نے حالات کو بھانپ لیا اور ’’جناب عالی‘‘ سے درخواست کی کہ وہ یونیورسٹی کے سب سے بڑے اعزازی عہدے پر فائز ہیں، انتظامی اور تدریسی کام نہ ان کے دائرہ اختیارات میں آتے ہیں نہ انہیں اس خدمت کے لئے زحمت دی گئی ہے، لہذا وہ اپنی سرگرمیوں اور محنت کا دائرہ ایم، ایچ، آر، ڈی سی(محکمہ برائے ترقی انسانی ذرائع) کے ذریعہ فراہم کئے گئے اختیارات تک محدود رکھیں، اس میں یونیورسٹی کی ترقی بھی ہوگی اور وہ بھی اپنے فرائض بخوبی انجام دے سکیں گے۔

لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ’’جناب عالی‘‘ نے وائس چانسلر کے اس مشورے کو مخلصانہ ماننے کے بجائے اسے اپنی ایگو اور انانیت کا مسئلہ بنالیا اور اپنی بچکانہ ضد پر مصر ہوگئے، بالآخر وائس چانسلر صاحب کو اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے یونیورسٹی کیمپس میں ان کے داخلے کو اپنی اجازت کے ساتھ مشروط کرنا پڑا۔ بس کیا تھا، ’’جناب عالی‘‘ اپنی ساری خاندانی عظمت اور نسبی وجاہت(بزعم خود) کو بالائے طاق رکھ کر اخباروں، نیوز چینلز، سوشل میڈیا اور نہ جانے کہاں کہاں بیان بازیاں کرکے اپنی ایگو کی تسکین کا سامان کرنے لگے اور وائس چانسلر صاحب کے خلاف ذاتیاتی جنگ چھیڑدی، ان کی کردار کشی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ رکھا۔ اور جب اس سے بھی ان کی دال نہ گلی تو یونیورسٹی کے انتظامیہ، اساتذہ اور اسٹاف کی کردار کشی پر اتر آئے۔ می ٹو جیسے حساس اور سنگین معاملہ میں سوشل میڈیا پر جھوٹے پروپیگینڈے پھیلانے لگے اور یونیورسٹی کا نام گھسیٹنے کی مذموم کوشش کرنے لگے۔ یہ حرکتیں انتہائی شرم ناک اور قابل مذمت تھیں، بہت سے طلبہ نے اس پر اپنے رد عمل کا اظہار کیا۔

میں بھی یہ سب خاموش تماشائی بنا دیکھتا رہا، یہ سوچ کر لب سی لئے اور قلم کو جنبش نہ دی کہ بڑوں کی باتیں ہیں، بڑے ہی آپس میں حل کرلیں تو مناسب ہوگا۔ لیکن پانی سر سے اونچا ہوتا چلاگیا، اور دھیرے دھیرے مسئلہ ذاتی سے نکل کرقومی، ملی اور ادارتی بن گیا۔ لیکن ’’جناب عالی‘‘ کی 18فروری 2019کی فیس بک کی پوسٹ نے لبوں کی ساری بندشیں توڑنے پر مجبور کردیا، اور یہ فریضہ مجھ پر عائد ہوگیاکہ میں اپنی مادر درسگاہ مولاناآزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی حیثیت عرفی کو مجروح ہونے سے بچاؤں اور حقیقت حال کو دنیا کے سامنے پیش کروں۔ اس پوسٹ میں 16فروری کو مانو میں المنائی میٹ (alumni meet)کے بعد ہاسٹل ڈنر اور اینیول ہاسٹل فیسٹ (annual hostel fest)کو پلوامہ دہشت گرد حملہ میں شہید ہونے والے جوانوں سے جوڑکر جشن کے طور پر پیش کرنے کی گھناؤنی سازش کی گئی اور مانو کے طلبہ، اساتذہ اور اسٹاف کو اینٹی نیشنل ہونے کا سرٹیفیکٹ بھی جاری کیا گیا۔ ویسے ’’جناب عالی‘‘ کو گزشتہ کئی مہینوں ہاتھ پیر مارنے کے بعد اس بات کا یقین تو ہو چکاہے کہ ملک کا سنجیدہ بلکہ غیر سنجیدہ طبقہ بھی انہیں گھاس نہیں ڈالتا اور ان کی ساری چیخ و پکار صدا بصحرا ہوکر رہ گئی ہے۔

لہذا انہوں نے اپنے سیاسی آقاؤں کی زبان بولنا شروع کردی اور اپنی بھگتی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے یہ مذموم بیان دیا۔ ان کا بیان اس لائق نہیں ہے کہ اس پر رد عمل کیاجائے، بس ایک وضاحت کرتا چلوں کہ 16فروری کا یہ پروگرام مانو المنائی میٹ (alumni meet)کے موقع پر سابقہ روایت کے مطابق ہاسٹل ڈنر اور اینیول ہاسٹل فیسٹ(annual hostel fest) کا پروگرام تھا، جو مانو کی روایت کے مطابق ہر سال 16 فروی کو منایا جاتاہے، جس میں اس با ر خاتون انٹرنیشنل ٹیبل ٹینس کھلاڑی اورمٹیویشنل اسپیکر، محترمہ نینا جیسوال آئیں تھیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے پروگرامس کو اکیڈمک انسٹی ٹیوشن میں فورا ملتوی یا مؤخر کرنا انتظامی امور کے پیش نظر کافی مشکل ہے، لہذا اس روایت کو پورا کرنا انتظامیہ کے لئے ضروری ہوگیاتھا۔ ’’چانسلر صاحب‘‘ کو قاعدے کے مطابق اینٹی نیشنل تو ان کو کہنا چاہئے تھا جونیشنلسٹ ہونے کا گلے پھاڑ پھاڑ کر دعوی کرتے ہیں اور پلوامہ حادثہ کی خبر ملنے کے باوجود انہوں نے اتنی زحمت گوارا نہ کی کہ اپنی ریلی ملتوی یا موقوف کردیں۔ جہاں تک بات ہے پلوامہ حادثہ میں ہمارے نوجوانوں کی شہادت کی تو ’’جناب عالی‘‘ آ پ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ15فروری کو مانو کے تقریبا 500 انہی ’’ اینٹی نیشنل طلبہ(آپ کے بقول)‘‘ نے جوان شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے مارچ نکالا اور شمع جلاکر ملک کے ان مظلوم شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کی، کئی طلبہ نے تقریر کرکے اس دھشت گردانہ حملے کی سخت مذمت کی اور مجرموں کے خلاف سخت اقدامات کرنے کی حکومت سے اپیل کی، جس کی تصویریں سوشل میڈیا پر دیکھی جاسکتی ہیں۔

یہ بات تو بالکل وضح ہوگئی کہ ’’جناب عالی‘‘ نے بی، جے، پی حکومت کے تلوے چاٹ کر اس عہدے کو حاصل کیا ہے، اور اب اپنے سیاسی اور ذاتی مفاد کے لئے یو نیورسٹی کو سیاسی اکھاڑہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ’’جناب عالی‘‘ نے 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں کسی ’’خیراتی ٹکڑے‘‘کی امید پر اپنی بھگتی کا ثبوت بھی دینا شروع کردیا ہے، اور اپنے ذاتی مقاصد کے لئے قوم اور یونیورسٹی کا سودہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

’’جناب عالی‘‘ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اگر آپ آزاد سے اپنی نسبت جوڑتے ہیں تو خدارا اس کا پاس رکھئے، اپنی حیثیت قوم میں مزید مت گرائیے، اگر قوم اور یونیورسٹی کے لئے کچھ مثبت نہیں کرسکتے تو کم از کم منفی کردار بھی ادا مت کیجئے۔ ‘’جناب عالی‘‘! یادش بخیر! یونیورسٹی بحسن و خوبی ترقی کی راہ پر گامزن ہے، اسے دن دونی رات چوگنی ترقی ہورہی ہے، لہذاآپ اس کی ترقی میں رکاوٹ نہ بنئے ورنہ کل کا مؤرخ کہیں آپ کا شمار جعفر و صادق کے ساتھ نہ کرلے۔ اور یاد رکھئے کہ اگر آپ نے اس مادر درس گاہ کی عزت اور وقار سے کھلواڑ کرنے کی مذموم کوشش کی تو ابھی توصرف ایک قلم جنبش میں آیا ہے جو آپ کو آئنہ دکھانے کے لئے کافی ہے، یاد رہے کہ یہاں ہزاروں جاں نثاروں کی زبان و قلم اپنی مادر درسگاہ کے وقار کے لئے سرقلم ہونے کو بے تاب ہیں، تو کیا آپ اپنا وجود بچا سکیں گے؟ ’’جناب عالی‘‘ آپ کی اس مذموم حرکت کی وجہ سے یونیورسٹی کے اکثر طلبہ آپ سے سخت نالاں ہیں اور انہوں  نے آ پ کے خلاف زبردست احتجاج کرکے استعفی دینے کا مطالبہ کیا ہے، شاید ہندوستان کی تاریخ میں کبھی کسی چانسلر سے طلبہ نے استعفی کا مطالبہ کیا ہو؟ اگر آپ کو ذرا شرم ہو تو فورا اس معزز عہدے سے دستبردار ہوجائیں ورنہ کس منہ سے مانو آئیں گے؟

کعبہ کس منہ سے جاؤگے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close