ملی مسائلنقطہ نظر

مولانا سلمان ندوی سے ایک درخواست!

ڈاکٹر عمیر انس

(نئی دہلی)

دار العلوم ندوۃ العلماء کے موقر استاذ اور مشہور عالم دین مولانا سلمان حسینی ندوی نے بابری مسجد قضیے میں اپنی قدیم رائے کو بدلتے ہوئے نئی رائے قائم کی ہے کہ بابری مسجد کا معاملہ عدالت کے باہر فریق ثانی سے مصالحت کرکے حل کیا جا سکتا ہے اور اسکے لیے اگر ضروری ہو تو مسجد کے دعوے سے دستبردار بھی ہوا جا سکتا ہے۔ مولانا کے موقف کی تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب مولانا نے پہلی بار مشہور ہندو روحانی گرو شری شری روی شنکر سے مصالحت کے لئے ملاقات کی اور اس ملاقات کا میڈیا کے ذریعے پورے ملک میں خبروں میں ملت کے ان حلقوں کو بےچین کر دیا جن کا موقف یہ ہے کہ معاملہ اب صرف عدالت میں ہی فیصل ہو اور مسلمان اس فیصلے کو قبول کرنے کے لئے تیار رہیں۔ اس معاملے میں دو رد عمل ہیں، پہلا رد عمل خود مسلم پرسنل لا بورڈ کا ہے جسکی ایک کمیٹی اس معاملے میں عدالت میں ایک مسلمانوں کی طرف سے فریق ہے اور گزشتہ چالیس سالوں سے اس معاملے میں نمائندہ تحریک کے طور پر سرگرم ہے۔ انکا ردعمل یہ ہےکہ مولانا بورڈ کے ممبر ہونے کے ناطے پہلے اس موقف کے سلسلے میں بورڈ کے زمہ داران سے مشاورت کرتے اور ایک اجتماعی مشاورت کے بعد کوئی موقف اختیار کرتے، مولانا سلمان ندوی صاحب سے یہ توقع اس لیئے بھی بجا تھی کیونکہ ماضی میں بابری مسجد قضیے کے لئے کئی بر مذاکرات کیے گئے ہیں اور ان یہ مذاکرات پرسنل لا بورڈ کو کسی نہ کسی طرح اعتماد میں لیکر کیے گئے تھے۔

یہ بحث بلکل الگ ہے کہ کیا مذکرات اس معاملے کے تصفیے کے لئے کار آمد ہیں یہ نہیں، شرعی نقطہ نظر سے مسجد سے دست بردار ہونا درست ہے یہ نہیں یہ بات بھی مولانا سلمان ندوی سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے، لیکن میرے نزدیک مولانا سلمان ندوی صاحب کے سلسلے میں سنجیدہ اور اصولی تنقید کی بجائے گالی گلوج اور الزام تراشیوں کا سلسلہ چل نکلا ہے جو چلتے چلتے اتنی دور نکل گیا ہے کہ انکے ذاتی جھگڑے اور دیگر علماء اور قائدین سے انکے فکری اور ذاتی اختلافات کا حساب کتاب شروع ہو گیا ہے، ایسے میں کسی صحتمند تنقید لیئے قلم اٹھاتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے، لیکن اسکے باوجود اصولی تنقید سے باز رہنا بھی نا انصافی ہے، مولانا کے قدم پر تنقید سے پہلے چند سوالات ضروری ہیں!

1. کیا مولانا پرسنل کا بورڈ کو ملت اسلامیہ ہند کا اور اسکے مفادات کا امین اور محافظ مانتے ہیں یہ نہیں؟ کیا مولانا یہ تسلیم کرتے ہیں کہ پرسنل کا بورڈ کسی بھی فرقہ، گروہ یا شخصیت کے تحت نہیں بلکہ ایک متحدہ اور اجتماعی موقف سے کام کرنے والا ادارہ ہے؟ مجھے پورا یقین ہےکہ مولانا بھی اسی موقف کے حامل ہیں،

2. کیا مولانا نے موجودہ قدم اٹھانے سے پہلے قائدین ملت سے مشاورت کی اور انہیں اعتماد میں لینے کی کوشش کی اور ماضی میں ہوئی کوششوں تجربات کی روشنی میں اپنے موقف کو بنانے کی کوشش کی؟ خود مولانا کے بیانات سے ایسا محسوس ہوتا ہےکہ مولانا نے اسکی ضرورت محسوس نہیں کہ بلکہ بورڈ پر انکی تنقیدوں نے ملت کے اجتماعی ادارے کو سوالوں کے دائرے میں کھڑا کر دیا ہے،

3. کیا مولانا کو پرسنل لا بورڈ سے الگ موقف اختیار کرنے حق ہے نہیں؟ بلکل ہے اور ماضی میں متعدد شخصیات نے بورڈ کے موقف سے ہٹ کر موقف اختیار کیا ہے اور مولانا کو بھی حق ہے۔ لیکن مولانا اپنے علمی اور دعوتی خدمات کی وجہ سے ایسے مقام پر ہیں جہاں انکا کوئی بھی قدم ذاتی اور کوئی رائے انفرادی رائے بن کر نہیں رہ سکتی، اور بابری مسجد ایک ایسا مسلہ ہے جو مولانا کی شخصیت سے بھی زیادہ اہم اور مسلمانان ہند کے لیے کسی بھی شخصیت اور ادارے سے اہم ہے، میں نہیں سمجھتا کہ اس معاملے میں مولانا کو اپنی انفرادی رائے کو ملت کے اجتماعی ادارے اور اجتماعی فکر پر مسلط کرنے کا کوئی حق ہے، بابری مسجد کسی مدرسے اور ادارے کی مسجد نہیں ہے۔

لیکن ان سب سے بڑا مسلہ ملت اسلامیہ کے سماجی اور اسلامی بحران کا ہے جسے مولانا سلمان ندوی صاحب کی شخصی قیادت سے ماورا دیکھا جانا چاہیے.

1. مندر تحریک، قیام اسرائیل کی تحریک، آزادی ہند کی تحریک، سنگھ پریوار کی تحریک، امریکہ میں نیو کنزرویٹو کا گروہ، یورپ میں علمی تحریکات سب ایک اجتماعی شکل میں اور عمومی سماجی تحریک کی شکل میں برپا ہوئی ہیں، عالم اسلام کی یہ کیسی بدقسمتی ہے کہ یہاں رجال تو بہت ہیں لیکن تنظیم الرجال غائب ہے، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے لیکر سر سید تک سب اپنی ذاتی مجاہدوں میں لا ثانی ہیں لیکن وہ سماج کی تنظیم جدید کر دینے والی تحریک برپا کرنے میں ناکام رہے، اسکی وجہ شائد شخصی عجائب اور کرشموں پر منحصر سلسلہ رشد ہدایت ہے جو پہلے صرف تزکیہ نفوس کے لئے کارگر تھی اور بعد کے ادوار میں اسے سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کے لئے بھی کافی سمجھ لیا گیا، مولانا سلمان ندوی جس مکتبہ فکر سے آتے ہیں وہاں افراد کی جادوگری پر ایمان زیادہ ضروری ہے لیکن افراد کو منظم اور جوابدہ بنانے والے اداروں کی کوئی اہمیت نہیں، چنانچہ مولانا پر تنقید کرنے والے بھی شخصی تنقیدوں میں مصروف ہیں اور انکے دفاع کرنے والے بھی انکی شخصی کرامات کے اظہار پر تکرار میں مصروف ہیں.

مولانا سلمان ندوی صاحب کا علمی مرتبہ اور انکی خطابی شان کا اعتراف کے باوجود یہ سمجھنا چاہئے کی مولانا کسی تحریک کو برپا کرنے میں ناکام رہے ہیں، انکی کوششوں کو شخصی کوششوں سے زیادہ کامیابی نہیں ملی ہے کیونکہ جو اسلام کے اجتماعی اصولوں کے مطابق وہ خود اپنی شخصیت کو پرسنل لا بورڈ کے اجتماعی نظم سے بالا تر سمجھتے رہے ہیں، یہ پہلی بار نہیں اور غالبا آخری بار بھی نہیں ہے، اس سے پہلے مولانا نےداعش کے مجرم کو علانیہ حمایت دیکر سب کو حیرت میں ڈال دیا تھا، اپنے متعدد سیاسی تجربوں میں ناکامی کے بعد مولانا نے اپنے آپ کو تنقید کے لئے پیش نہیں کیا جو یہاں تک کہ کانگرس اور بھاجپا جیسی غیر اسلامی سیاسی جماعتوں میں بھی ایک روایت ہے،

آج ملت اسلامیہ ہند کی جو صورت حال ہے اسکی ایک وجہ اور سب سے اہم وجہ یہ ہیکہ ایک ہزار اسلامی شخصیات ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ

تعاون اور تشاور کے اسلامی اصولوں کے تحت اپنی شخصیت کو ملت کی سماجی شیرازہ بندی کرنے کے لیے نیچے نہیں رکھ سکتے، اس سے زیادہ شرمندگی کی کیا بات ہوگی کی تین طلاق پر فیضان مصطفیٰ کی قانونی مہارت بھی انہیں کسی کم علم مغرور مولوی کے برابر احترام نہیں دلا سکتا،

صرف جوش خطابت کی ٹریننگ سے فیضیاب فارغین مدارس کبر اور خود پسندی میں اس قدر ڈوبے ہوئے ہیں کہ انکے سامنے ترجیحات کا فہم اور مسائل کو انکے اصولوں سے سمجھنے کی کوشش ایک بیکار کام ہے، انکے نزدیک سماجی علوم میں سینکڑوں تحقیقی مقالے لکھنے والے یونیورسٹی کے فاضلین ناقابل توجہ مخلوق ہیں، مولانا سلمان ندوی صاحب کے مکتبہ فکر میں بھی بعد قسمتی سے ایسے رجحانات والی بھیڑ جمع ہو گئی ہے،

مولانا نے سعودی عرب کے خلاف اپنی ایک طرفہ تنقیدی تقریروں سے جو نقصان پہونچایا ہے اسکی تلافی حال فی الحال بیحد مشکل ہے، اس بات سے انکار نہیں کہ مولانا کی بعض تنقیدیں درست ہیں لیکن یہ بھی درست ہے کہ مولانا سفارت کاری کے اصولوں کے ماہر نہیں ہیں اور نہ ہی اسکے پیچیدہ تقاضوں کے ماہر ہیں جو ملکوں کی بین الاقوامی سیاسی تعلقات کو طے کرتے ہیں، مولانا اپنے منصب تدریس سے حاصل احترام اور اپنے خطبوں سے حاصل مقبولیت کو اپنے علمی کاموں سے حاصل اکرام کو ملت اسلامیہ ہند کی سیاسی قیادت کرنے کے لیے بھی کافی سمجھتے ہیں، اور یہ ایک غلطی ہے، اگر مولانا سیاست کے انتخابی محاذ میں مولانا کی ذاتی اجتہادات کی سزا اترپردیش کی مسلم عوام کی بار پا چکی ہے!

میرے نزدیک مولانا ملت اسلامیہ کا ایک قیمتی اثاثہ ہیں اور ملت کی رہنمائی کے لئے مولانا کی خدمات بیحد قیمتی ہیں، مولانا کی صلاحیتوں سے استفادے کے سب سے بہترین طریقے میرے نزدیک حسب ذیل ہیں!

1. مولانا سلمان ندوی شخصی قیادت کی بجائے اجتماعی قیادت کے اسلامی اصولوں کے تحت میدان عمل میں آجائیں، بالکل ویسے ہی جیسے نجم الدین اربکان نے ترکی میں اور حسن البنا نے مصر میں اور شیخ راشد الغنوشی نے تیونس میں کیا ہے، جب تک مسلم معاشرے میں ایک سماجی تحریک برپا نہیں ہوگی اس وقت تک افرادی کوششیں محدود سطح اور محدود مقاصد تک کامیاب ہونگی۔

2. مولانا پورے ملک میں صرف علماء اور فارغین مدارس ہی نہیں بلکہ ملت کے تمام گروہوں، مسالک، طبقات، اور افراد کے لئے تحریک برپا کریں، صرف مدارس کے افراد کو قیادت کا مستحق سمجھنا اور صرف انہیں دنیا کے ہر کام کی ذمہ داری دینا اسلامی اصولوں کے خلاف ہے۔

3. مولانا کو اس بات کا اعتراف کرنا چاہیے کہ اس ملت میں ہزارہا لائق اور فائق افراد ہیں جن میں علماء بھی ہیں، ڈاکٹرز بھی ہیں، انجنیرس ہیں، گورنمنٹ کے افسران ہیں، یونیورسٹی کے اساتذہ بھی ہیں، مختلف صلاحیتوں سے مالامال اس امّت کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا جائے، یہ سبھی افراد اللہ کی عطا کی عقل اور خرد سے اسی طرح سے سوچنے سمجھنے اور فیصلہ لینے کے لئے اہل ہیں جیسے خود آپ اور دیگر فارغین مدارس ہیں، انہیں فیصلہ سازی میں شامل کرنا، حکمت عملی تیار کرنے میں شامل کرنا آپکی قیادت کی سب سے اہم ذمہ داری ہے، انکے اوپر اپنے آپ کو مسلط مت کریں بلکہ انکے ساتھ چلیں۔

4. اگر آپ اپنی شخصیت کو ملت کے اتحاد سے بالا تر سمجھتے ہیں، اگر آپ ملت کے باقی تمام با صلاحیت افراد، قائدین اور علماء کو اپنے آپ سے کمتر سمجھتے ہیں اور انہیں اپنے سیاسی اور سماجی فیصلوں میں مشوروں کے لائق بھی نہیں سمجھتے تو زیادہ مناسب ہوگا کہ آپ خود کو درس و تدریس کے اہم میدان تک محدود رکھیں اور علم دین کے تقاضوں کے مطابق ملت اسلامیہ ہند کے لئے فکری مواد تیار کریں.

اس لیے بابری مسجد پر کسی بھی مزاکرات کو آپ بورڈ کے حوالے کر دیں تو ملت کے حق میں بہتر ہوگا !

اتفاق رائے سے لیا گیا غلط فیصلہ بغیر اتفاق سے لئے گئے صحیح فیصلے سے بہتر ہوتے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close