نقطہ نظر

مکافات عمل!

محمد عرفان ندیم

محترمہ کلثوم نواز راہی ملک عدم ہوئیں ، اللہ ان کی مغفرت اور آخرت کی منزلیں آسان کرے البتہ وہ اس قوم کی اجتماعی نفسیات کو آشکار کر گئیں۔ گزشتہ ایک سال میں جس طرح ان کی بیماری کا مذاق اڑایا گیا، اس رویے نے، اس قوم کے دماغی توازن پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیئے ہیں۔ پیپلز پارٹی اورتحریک انصاف کے سینئر راہنماؤں سے لے کر عام پارٹی کارکن تک، سب نے جس زبان درازی اور بے حسی کا مظاہرہ کیا، مرحومہ کی موت نے ان سب پر چار حرف ثبت کردیئے، احساس ندامت مگر کسی کو نہیں۔

رومان، ہیجان، دشنام اور الزام، مبارک ہو کہ میرے عہد کی نوجوان نسل ان الفاظ کے سائے میں پروان چڑھی ہے، انہوں نے خود کو ان الفاظ کے سانچے میں ڈھال لیا ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں جو سیاست کی گئی، لازم تھا کہ اس عہد کے نوجوانوں کی فکری و سیاسی تربیت، انہی سانچوں میں ڈھل کر ہوتی اوران کا شعوری و فکری مستویٰ انہی ستونوں کے سہارے کھڑا ہوتا۔ اس تربیت اور فکر کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں ، ہم چاہیں بھی تو فی الحال اس کا صحیح ادراک نہیں کر سکتے۔

البتہ اس کے فوری اور لازمی نتائج وہ ہیں جن کا مشاہدہ گزرے تین چار دنوں میں ہوا، یہ اسی فکر اور تربیت کا نتیجہ تھا کہ کسی نے لکھا ’’کلثوم نواز مرنے کی ایکٹنگ کرتے کرتے سچ میں مر گئی‘‘، کسی نے بغض باطن کا اظہار ان الفاظ میں کیا ’’ کلثوم نواز مرے یا جئے مجھے کیا، ساری قوم اس کے بچوں کا پیٹ بھرتے مر گئی ‘‘، کسی نے لکھا ’’ گاڈ فادرکی وائف، جعلی مادر جمہوریت اپنے انجام کو پہنچیں ‘‘۔ اس سے قبل جب مرحومہ حیات تھیں ، شیخ رشید، اعتزاز احسن، نعیم الحق، فیاض چوہان، ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے اپنے ذہنی افلاس کا مظاہرہ کیا۔ ابوالکلام آذاد نے سیاست کے سینے میں دل نہ ہونے کی بات کی تھی، میرے عہد کے سیاستدانوں اور دانشوروں نے سیاست کو دل، دماغ، اخلاقیات، تحمل اور استحکام سب سے آذادی دے دی۔اقدا ر بدلتے صدیاں لگ جاتی ہیں لیکن ہم نے صرف پون صدی میں یہ کارنامہ سر انجام دے دیا۔ واقعی ہم ’’عظیم ‘‘ قوم ہیں۔

میاں نواز شریف اور ان کا خاندان بظاہر اس وقت مصائب میں الجھا ہوا ہے، عربی کہاوت کے مطابق جب مصیبتیں آتی ہیں تو اکیلی نہیں آتی بلکہ اپنے ساتھ غموں کا ایک ہجوم لے کر آتی ہیں۔ نواز شریف صاحب کو جن الزامات کی بنیاد پر منظر عام سے ہٹایا گیا انہیں قبول نہیں کیا جا سکتا، صاف بات یہ ہے کہ  عدالت ان پر کرپشن کا الزام نہیں ثابت کر پائی، محض مفروضوں کی بنیاد پر انہیں سزا سنائی گئی، ہائی کورٹ کی موجودہ سماعت میں بھی فیصلے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ دوسری طرف عمران خان نے بھی کچھ اچھے فیصلے کیئے ہیں ، وہ اور اس کے ہمسفر جنہوں نے پچھلے پانچ سال میں ملک کو سوائے عدم استحکام کے اور کچھ نہ دیا بظاہر کامیاب دکھائی دے رہے ہیں ، عدلیہ، فوج اور میڈیا بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں ، کسی مضبوط اپوزیشن کا بھی انہیں سامنا نہیں اور عوام بھی فی الحال انہیں وقت دینے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں۔

یہ ان دونوں لیڈروں کی موجودہ سیاسی صورتحال کا تجزیہ ہے یا کہہ لیں یہ امر واقعہ کا بیان ہے، لیکن کیا حقیقت بھی یہی ہے اور یہ حقیقت آئندہ بھی ایسی ہی رہے گی یہ پیشنگوئی کرنا البتہ ابھی مشکل ہے۔ موجودہ سیاسی صورتحال کا ادراک ایک باشعور انسان کے لیے معما بن چکا ہے۔ میرے خیال میں کچھ چیزیں انسانی سوچ اور پلاننگ کے تحت وقوع پذیر ہوتی ہیں اور کچھ چیزیں اللہ کے تکوینی نظام کے تحت خودبخود ہوتی چلی جاتی ہیں ، اگر موجودہ سیاسی منظر نامے کو اسی تکوینی نظام تحت دیکھا جائے تو بہت ساری الجھنیں ختم ہو جاتی ہیں۔

شاید ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر، کائنات کی منشا یہی تھی کہ عمران خان کو موقعہ دیا جائے۔ کرپشن، بد انتظامی، پانی کے مسائل، ڈیم اور سکیورٹی کی صورتحال یہ ایسے مسائل تھے جنہیں فوری رسپانڈ کرنے کی ضرورت تھی۔ نواز شریف اپنی روایتی سستی اور روایتی سیاست کی بدولت ان مسائل پر شاید اس انداز میں فوکس نہ کر پاتے، لیکن کیا کائنات عمران خان کو طویل عرصے کے لیے یہ موقعہ دے گی؟ شاید نہیں۔ دوسری طرف، اس تکوینی نظام میں نواز شریف اور ان کی جماعت کے لیے سیکھنے کے بے شمار مواقع موجود ہیں کہ ان سے کہاں کہاں اور کیا کیا غلطیاں ہو رہی تھیں۔ یہ لوگ کہاں تک سیکھتے ہیں اس کے لیے ہمیں انتظا ر کرنا پڑے گا، شاید اگلی بار جب نواز شریف اور ن لیگ اقتدار میں آئیں تو ان غلطیوں سے بچ سکیں۔

جہاں تک بات ہے بیانئے کی تو اہل عقل و دانش جان چکے کہ اس وقت سیاست میں اگر کوئی بیانیہ ہے تو وہ صرف نواز شریف کا ہے، مشکل البتہ یہ ہے کہ قوم کی اجتماعی نفسیات کو اس رخ پر ڈھال دیا گیا ہے کہ وہ اپنا حق رائے دہی چھن جانے کے باوجود خوش ہے۔ میرے خیال میں قوم کے اجتماعی شعور کو ارتقاء کی ابھی اور منزلیں طے کرنی ہیں ، تب تک نواز شریف رہے تو ٹھیک ورنہ اس قوم کو کسی اور مسیحا کے ہاتھ پر بیعت کر کے اس بیانئے کی طرف واپس آنا ہو گا، یہی اصل حقیقت ہے، مگر اس کے لیے کتنا وقت اور کتنی قربانیاں درکار ہیں اس کا صحیح ادراک فی الحال محال ہے۔ ایک غلط فہمی یہ پھیلا دی گئی ہے کہ نوازشریف کے بیانئے کی مقبولیت کا لازمی نتیجہ دیگر اداروں کی ناکامی ہے، میرے خیال میں ن لیگ کے دانشوروں اور میڈیا پرسنز کو، اس حوالے سے عوام کے ذہن کلیئر کرنے کی ضرورت ہے۔

گزشتہ پانچ سالوں میں جس طرح کے الزامات، دشنام اور القابات نواز شریف اوران کی جماعت کے سر تھونپے گئے، انہیں ان کی بیوی اور خاندان کے حوالے سے جو اذیتیں دی گئیں لازم ہے کہ مخالفین اس مکافا ت عمل کے لیے تیار رہیں۔ مکافات عمل اس دنیا کا لازمی قانون ہے، ضروری نہیں کہ مکافات کا یہ عمل ابھی شروع ہواس میں دہائیاں بھی لگ سکتی ہیں مگریہ ہو گا ضرور۔ شیخ رشید جیسے موقعہ پرست کہ جنہوں نے پچھلے پانچ سالوں میں عدم استحکام کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں د یا، ختم نبوت جیسے حساس ایشو کو نواز شریف کی ذات کے خلاف بطور نعرہ استعمال کیا۔ یہ اور اس قبیل کے وہ تمام لوگ جنہوں نے ذہنی افلاس کا مظاہرہ کیا، ایک نہ ایک دن مکافات عمل کی زد میں ضرور آئیں گے۔ ہم شاید بھول جائین لیکن وقت نہیں بھولے گا اور مکافات کا یہ عمل، جلد یا بدیرشیخ رشید اور عمران خان سمیت ان سب کے گھروں کا رخ ضرور کرے گا کہ مکافات عمل اس دنیا کا لازمی اصول ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close