مذہبی مضامینمعاشرہ اور ثقافتنقطہ نظر

میں آئینہ ہوں

ابراہیم جمال بٹ

 دنیا میں بے شمار چیزیں ایسی ہیں جن کا استعمال کر کے انسان اپنے آپ سے ظاہری طور باخبر ہو جاتا ہے، لیکن ایک ایسی چیز ابھی تک نہیں پائی جا رہی ہے جس سے انسان کی وہ ذہنیت اور احساسات معلوم ہو جائیں جو اس کے باہر نہیں بلکہ اندر ذہن وقلب میں موجود پائے جاتے ہیں ۔ ایک مسلمان کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ دوسرے مسلمان بھائی کا آئینہ ہے، کیوں کہ اسے یہ شرف خدائے بزرگ وبرتر نے بخشا ہے۔

رسول اللہﷺ کی ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ ’’مسلمان مسلمان کا آئینہ ہے‘‘ گویا یہ ایک ایسی شئی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہر برائی اور بدی سے محفوظ رکھنے کا سامان مہیا کر رکھا ہے۔ایک مسلمان جب تک اپنے اس ’’آئینہ‘‘ کا استعمال کرتا ہے تو اس کی مدد سے اسے ہر بدی اور برائی سے نجات ملتی ہے۔ کیوں کہ ہر وہ داغ جو انسان فطری طور پسند نہیں کرتا، جب ایک مسلمان پر اس کا داغ اس کا آئینہ اظہار کرے تو فطری تقاضے کے تحت وہ اس داغ سے پاک ہونا پسند کرے گا۔ اس طرح ایک مسلمان بے داغ زندگی لے کر بے داغ سماج کا شہری بنے گا، اور جو شہری بے داغ ہو اس سے سماج میں پاکی وصفائی کا ماحول قائم ہو گا۔ کیوں کہ اس کی فطرت ہی داغ وغیرہ سے پاک رہنا ہے۔ گویا یہ آئینہ ہمارے مسلم سماج کا ایک اہم حصہ ہے، اس آئینہ کو محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ ’’ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے بے یارومددگار چھوڑ دیتا ہے‘‘۔

مسلمان معاشرہ وسوسائٹی اس قدر پاک ہونا چاہیے کہ وہاں بے داغ جوانیاں پائی جاتی ہوں ، وہاں کوئی بزرگ رہتا ہو تو اس کی عزت واحترام کا خیال کیا جاتا ہو، وہاں کوئی ماں ،بہن ، بیٹی رہتی ہو تو اس کی عزت وعصمت کا محافظ یہی مسلمان ہو، کیوں کہ یہ مسلمان کی خصوصیت ہے کہ وہ ’’داغ داری ‘‘ کو پسند نہیں کرتا اور اگر مسلم سماج میں بے داغ ہونے کے بجائے داغ ہی داغ نظر آئیں تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ مسلم سماج ہے نہ کہ اسلامی سماج۔ کیوں کہ مسلم سماج اور اسلامی سماج میں آسمان زمین کا فرق پایا جاتا ہے۔ کسی نو مسلم نے جب اسلام کو قبول کرنے کا اعلان کیا تو اسے سخت لہجہ اختیار کر کے سوال کیا گیا کہ ’’تم نے اسلام ہی کیوں قبول کیا…؟ اس کے بغیر بھی تو بہت سارے مذاہب تھے ، یہ اسلام خون خواری، حقوق تلفی، ایک دوسرے کی بے عزتی، بڑوں کے حقوق تلفی، صنف نازک کے حقوق سلب کرنے والا ، اور تو اور پوری دنیا میں دہشت پھیلانے والا ’’دہشت گرد‘‘مذہب ہے، کیوں تم نے اسی کو چن لیا…؟ نو مسلم نے ’’مسلم سماج‘‘ سے وابستہ لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صحیح بات ہے کہ یہ سب مسلم سماج سے وابستہ کئی لوگوں کے کارنامے میں لیکن مسلم سماج ایک الگ چیز ہے اور ’’اسلامی سماج‘‘ ایک الگ چیز ہے، اور اگر آپ لوگوں کو اسلامی سماج کو دیکھنا اور جاننا ہے تو اسے جاننے کے لیے آپ کو قرآن اور اس کو عام انسانیت تک پہنچانے والے پیغمبرِ آخر محمد رسول اللہﷺ کو پڑھا اور جاننا ہو گا تب ہی ممکن ہے کہ آپ لوگ اسلام کو سمجھ سکیں گے۔‘‘

یہ ایک ایسی چپت تھی اس مسلم سماج پر جو اپنے آپ کو مسلمان تو کہتی ہے لیکن اسلامی نہیں ہے۔ اگر میں اسلامی سماج کا شہری ہوتا تو مجھ میں داغ کا وجود نہ ہوتا، میں ایک دوسرے کا محافظ ہوتا، میرے ہاتھوں کسی کا ناحق خون نہ بہتا، میں حقیر مفاد ات کے لیے کسی کا حق سلب نہ کرتا، میں اپنے بڑوں کی بے عزتی نہ کرتا، میں اپنی مائوں ، بہنوں اور بیٹوں کا محافظ بنتا۔ مجھ میں آئینہ کی حیثیت ہوتی۔ لیکن میں بجائے اس کے کہ ایک دوسرے کے لیے آئینہ کا کام کروں ، میں اُلٹا اس کے لیے مثل چھری اور کانٹا بنے جا رہا ہوں ۔ مسلم سماج کو اسلامی سماج میں بدلنے کے لیے مجھے صحیح طور سے آئینہ بننا پڑے گا، مسلم سماج کی تشکیل کے لیے مجھے میرے گھر، میرے علاقے ،میرے محلے اور گائوں میں ، میرے ملک اور پوری دنیا میں یہ عملی طور دکھانا ہے کہ میں ایک دوسرے کا خیر خواہ ہوں ، میرے ہاتھوں ناحق کسی کے خون کے بہنے کی کوئی گنجائش نہیں ، میری سوچ اس بات کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں کہ میں کسی کا حق کھائوں ، میری آنکھوں کی مجال ہی نہیں کہ میں بداخلاقی اور بدنظری کروں ، میری پہچان بے داغ زندگی ہے اور میں داغ دار رہنا اور کسی کو داغ دار دیکھنا پسند نہیں کرتا۔ کیوں کہ مسلمان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے آئینہ بنے، اس کی زندگی بے داغ زندگی رہے، اس کا جینا اور اس کا مرنا، اس کا کام وکاج کرنا، اس کی ساری زندگی عبادت ہے لیکن تب جب وہ اپنی زندگی اسلامی سانچے میں ڈال کر گزارے اور اس سانچے میں ایک اہم چیز ’’بے داغ زندگی‘‘ ہے۔

ہمارے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفی ﷺ کی پاکیزہ اور بے داغ زندگی کے گواہ وہ تمام لوگ ہیں جن کا کسی رنگ میں حضور ﷺ سے واسطہ پڑا۔ ان میں آپﷺ کے رشتہ دار بھی ہیں ، آپﷺ کے دوست اور ہمجولی بھی ہیں ، ایک طرف وہ آپﷺ سے محبت کرنے والے بھی ہیں اور دوسری جانب وہ آپﷺ کے دشمن بھی ہیں ۔ جس طرح لوگ دعویٰ نبوت سے پہلے حضورﷺ کے پاس امانتیں رکھا کرتے تھے برابر اسی طرح آپ کی نبوت کے اعلان کے بعد بھی حتیٰ کہ آپﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے ، دشمن تب تک اپنی امانتیں آپﷺ کے پاس ہی رکھا کرتے تھے۔ آپﷺ نہ صرف صادق وامین کہلاتے تھے بلکہ اس کا عملی نمونہ آپﷺ نے اپنی زندگی میں دکھایا ہے۔ حقوق ادا کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے اس کی تعلیم دی ہے، دوسروں کی عزت، بڑوں کا اکرام واحترام کیاہوتا ہے یہ عملی طور پوری عالم انسانیت کو دکھایا ہے۔ حقوق سلب کرنا، کسی کے اوپر ظلم کرنا چاہے وہ غیر ہی کیوں نہ ہو اس پر آپﷺ کا وہ قول مبارک جس میں کئی باتوں کے علاوہ یہ بات علی الاعلان کہی گئی ہے کہ میں اس غیر مسلمم کی طرف سے قیامت کے دن وکیل بن کر اٹھوں گا، کیوں کہ اس پر ظلم کیا گیا ہے۔ دراصل اسلام کا تصور ہی یہ ہے کہ انسان کی پوری زندگی خدائے بزرگ وبرتر کے تصور اور دین کی مکمل تعلیمات سے وابستہ ہونی چاہیے، اسی لیے اسلام نے جیسے عبادات کے احکام دئے ہیں اسی طرح سماجی زندگی، معاشی جدوجہد، سیاسی مسائل، اور اجتماعی نظام کے لیے بھی اصول وضوابط مقرر کئے کئے ہیں ، اس لیے اسلام ایک ایسی تہذیب کا تصور پیش کرتا ہے جو خدا کے احکام اور دین کی تعلیمات کے تابع ہو۔ اس لحاظ سے مسلمان کو اس بات کا ہمیشہ خیال رکھنا ہے کہ اس کی ذات کسی بھی صورت میں ایسی حرکت کا شکار نہیں ہونی چاہیے جس سے اسلامی سماج کا نام آج کا مسلمان سماج پڑ جائے۔

مسلمان سماج داغ دار ہو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتی لیکن اسلامی سماج میں داغ داری ہی نہیں ہے، اور اگر کبھی کسی ایسی حرکت کا صدور ہو بھی جائے جو داغ کہلاتا ہو تو اس کا تدارک یہ بتایا گیا ہے کہ جلد از جلد غلطی کے بعد نیکی کرے تاکہ بدی پر نیکی کا غلبہ ہو جائے اور بدی سے سماج کو پاک وصاف رکھا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضورﷺ کے بعد خلفائے راشدین کا عمل اس بارے میں سخت تھا، وہ جب بھی کہیں کسی بدی اور برائی چاہے وہ چھوٹی ہی کیوں نہ ہو دیکھتے تھے تو اس کے تدارک کے لیے کوششوں میں مصروف ہو جاتے تھے اور جب تک اس کا قلع قمع نہ ہوتا، نہ ہی بیٹھ جاتے تھے اور نہ پیچھے ہٹتے تھے۔ ایک مرتبہ جب زلزلے کا جھٹکا آیا تو وقت کے امیر المومنین اپنے حجرے سے باہر آئے اور منادی کرائی کہ لوگو !یہ زلزلہ کیسا اور کیوں …؟ کیوں کہ انہیں یہ معلوم تھا کہ زلزلہ خدا کے غضب کی نشانی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں ایسی حرکت وعمل ہوئی ہے جس سے اللہ تبارک وتعالیٰ کو غضب ناک ہونا پڑا ہے۔ جب منادی کرنے والے نے منادی دی، بے داغ زندگی گزارنے والے حرکت میں آئے تو معلوم ہوا کہ کسی جانب سے ناچنے گانے والی چند دوشیزائیں اسلامی سماج میں گھسنے کی کوششیں کر رہی تھیں ، جس کا اظہار زلزلے کی شکل میں نمودار ہوا۔ یہ سننا ہی تھا کہ وقت کے امیر المومنین کے ساتھ ساتھ اسلامی سماج سے وابستہ آئینہ صفت لوگ باہر آئے اور اس کا خاتمہ کر کے واپس لوٹے۔

گویا اسلام ہمیں ’’داغ‘‘ نہیں بے داغ زندگی گزارنے، بے داغ سماج قائم کرنے کی تلقین کرتا ہے، اور اس بے داغ سماج کو قائم کرنے کے لیے ہمیں ایک دوسرے کے لیے آئینہ بننا ضروری ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ خیر خواہی کا جذبہ پیدا کرنا ہے، ایک دوسرے کی عزت کا سبق جو ہم بھلا بیٹھے ہیں کو پھر سے یاد کرنا ہے، ایک دوسرے پر ظلم نہیں بلکہ مددگار بن کر رہنا ہے، ایک دوسرے کی تذلیل نہیں ، غم خواہ و ملنسار بن کر رہنا ہے۔ یہ سماج جو آج پوری دنیا میں مسلم سماج کے نام سے مشہور ہے، اس حیثیت سے اس دنیا میں ہم مسلمانوں کی رجسٹر میں درج کئے جا چکے ہیں ، لیکن خیال اس بات کا کرنا ہے کہ خدائے بزرگ وبرتر کی رجسٹر میں ہمارا اندراج بحیثیت مسلم ہوا ہے یا نہیں ۔

 کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’مسلمان مسجد میں عبادت کرنے سے نہیں بلکہ اس کے علاوہ اس کے معاملات میں جب مسلمانی پائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اصل مسلمان ہے، ورنہ اس کا مسلمان ہونے کا اعلان ایک دھوکہ ہوتا ہے جو بظاہر مسلمان نام کا تو ہوتا ہے لیکن عملی طور مسلمانیت سے خالی ہوتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف اسلام کا تعارف غلط طریقے سے ہوتا ہے بلکہ اسلام ہی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جب تک مسلمان عبادات کے ساتھ ساتھ معاملات میں بھی مسلمان نہ ہو تب تک اس سرزمین پر اس جیسے مسلمان کا وجود اسلام کے نام پر داغ ہے، اور اس داغ کو بے داغ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کے سامنے ایک سچا مسلمان داعی ’’آئینہ بن کر‘‘کھڑا ہو جائے اور اسے اس کے داغوں سے باخبر کرائے تاکہ وہ اپنے داغ دیکھ کر ان کا علاج کرنے کے لیے کھڑا ہو جائے۔ یہ کام اگرچہ مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں ۔ آج اگر داعی مسلمان ایک دوسرے کا خیرخواہ’’آئینہ ‘‘ بن کر کھڑا ہو جائے تو وہی اسلامی سماج تشکیل پا سکتا ہے جس کے انتظار میں دنیا میں بیٹھی ہوئی ہے۔‘‘ ضرورت ہے بے داغ زندگی کی، ضرورت ہے آئینہ بن کر زندگی گزارنے کی، ضرورت ہے ایک سچا وہمدرد داعی بننے کی۔

مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Back to top button
Close