میں  نے اپنا جنازہ پڑھوا لیا

ابراہیم جمال بٹ

جنازہ کندھوں  پر لیے گذشتہ ہفتہ چل رہا تھا کہ اچانک اپنے پیچھے لوگوں  کے جم غفیر پر سرسری نذر پڑی، کیا دیکھتا ہوں  کہ ایک بھاری ہجوم ہے جو ندامت کی حالت میں  ایک ایک قدم ڈال رہا تھا، ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ شاید اس ہجوم سے وابستہ لوگوں  کو اپنا وہ دن آنکھوں  کے سامنے سے گزر رہا تھا جب وہ اس دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں۔  بہر حال ہم ایک ایک قدم چل رہے تھے لیکن ہر قدم پر اللہ کی تسبیح و تکبیر بیان کرتے کرتے۔ کچھ دیر کے بعد ہم اس جائے مقام پر پہنچ گئے جہاں  میت کا جنازہ پڑھا جانے والا تھا۔اپنے ایک عزیز اور قریبی رشتہ دار نے پاس آکر کہا کہ بھائی جنازہ آپ پڑھائو گے، میں  نے معذرت کا اظہار کرنا ہی چاہا کہ نہ کہتے ہوئے بھی اس نے فوراً کہہ دیا کہ میت کی خواہش تھی کہ اس کا جنازہ اس کا کوئی اپنا رشتہ دار پڑھائے…!

چنانچہ کچھ سوچے بغیر ہی میں  نے معذرت کر کے ایک اور بھائی کی طرف اشارہ کیا جو میت کے ساتھ رشتہ کے اعتبار میرا ہمسر تھا۔ آخر ’’آپ وہ، آپ وہ ‘‘کر کے نماز جنازہ کی تیاریاں  ہوگئیں، لوگ ایک دوسرے کے کندھوں  کے ساتھ کندھے ملا کر صفیں  بنا رہے تھے،لیکن لگ بھگ ہر شخص کے چہرے پر کچھ خوف سامحسوس ہو رہا تھا۔ میرا ایک چھوٹابھائی میت کے سامنے کھڑا ہوااور موت کی حقیقت پر کچھ کلمات دہرائے اور بعد میں  احسن طریقے سے نماز جنازہ کی پیشوائی کی۔ میں  غالباً تیسری صف میں  کھڑا تھا اور میرے پیچھے بھی کئی لوگ صفوں  میں  لوگ کھڑے تھے۔ اب نماز جنازہ کا تکبیر بلند ہوا کہ اچانک مجھے تھرتھراہٹ سی محسوس ہوئی، شاید سردی کی وجہ سے لیکن چند ہی لمحوں  کے بعد میں  نے محسوس کیا کہ میرے دائیں  اور بائیں  جو نماز جنازہ پڑھ رہے تھے ان میں  بھی کپکپاہٹ محسوس ہوئی۔ اسی عالم میں  تھا کہ ایک اور تکبیر کی آواز کانوں  میں  آئی۔ تھرتھراہٹ اور کپکپاہٹ برابر جاری تھی، اس بار سردی تو محسوس نہیں  ہو رہی تھی لیکن کچھ کچھ ذہن میں  آرہا تھا، مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ شاید ہم کسی کا جنازہ نہیں  بلکہ اپنا جنازہ پڑھوا رہے ہیں، پھر ایک اور تکبیر کی آواز کے ساتھ ہی تھرتھراہٹ اور کپکپاہٹ میں  مزید اضافہ ہوا۔

 ایک کے بعد ایک تکبیر بلند آواز سے ہو رہا تھا اور آخرکار امام نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کے کلمات کو جونہی اپنی زبان سے دہرایا تو تھرتھراہٹ اور کپکپاہٹ میں  کچھ کمی دکھائی دی۔ میں  نے نہ دائیں  دیکھا اور نہ بائیں  بلکہ صرف پیچھے دیکھتا رہا، کیوں  کہ لوگوں  کی ایک بڑی تعداد میرے پیچھے بھی اس نماز جنازہ میں  شریک تھے۔ میت کو پھر اٹھا لیا گیا اور آبائی قبرستان پہنچا کر اسے سپرد خاک کیا گیا۔ لیکن پتا نہیں  کیوں  مجھے صرف ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ آج میں  نے اپنا جنازہ پڑھوا لیا۔ لوگ میت کو دفن کر کے گھر کی جانب قدم ڈال رہے تھے اور میں  اپنے جنازے کی سوچ رہا تھا۔ یہ سب کچھ محسوس ہونے کے بعد میں  سمجھ گیا کہ جنازہ صرف میت کا نہیں  ہوتا بلکہ جنازہ پڑھنے والے بھی جنازے کی نذر ہو جاتے ہیں  کیوں  کہ وہ خدائے ذوالجلال سے اپنی مغفرت پہلے اور میت کے لیے بعد میں  زبان پر لاتے ہیں۔

الحمد للہ یہ جنازہ میری زندگی کا ایک ایسا جنازہ تھا جس نے میری آنکھیں  کھول کر رکھ دیں ۔  مجھے اس بات کا احساس ہو گیا کہ جنازہ نہ صرف نماز ہے بلکہ یہ ایک زندہ پیغام ہے ان لوگوں  کے لیے جن کی مہلت زندگی ابھی باقی ہے۔ کاش ہم اس سبق کو یاد رکھتے۔



⋆ ابراہیم جمال بٹ

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

نیشنل کانفرنس: بچہ بچہ جانتا ہے کہ درد کیا ہے کشمیر کا

آج نیشنل کانفرنس لوگوں کو اپنی باتوں سے پھسلانے کی ایک بار پھر کوشش کر رہی ہے تاکہ وہ برسراقتدار ہو سکے لیکن لوگ آج ان کی ڈرامہ بازی اور مسخرے پن سے اچھی طرح واقف ہیں اور جو کم قلیل اب بھی ان کے گیت گاتے ہیں انہیں بھی اس چیز کا خیال کرنا چاہیے کہ آج تک اس پارٹی نے اصل معنوں میں کشمیر اور کشمیریوں کو کیا دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے