نقطہ نظر

نازی تحریک اور آر ایس ایس

وصیل خان

جرمن میں نازی تحریک نے ابتدا سے ہی یہ حکمت عملی اپنائی تھی کہ تحریک چلانے سے قبل جرمن عوام کے ذہنوں کی تطہیرکرلی جائے اس کے لئے اس نے برسہا برس محنت کی اور عوامی سطح پر لوگوں کے براہ راست رابطے میں آکر ان کو موجودہ حکمراں اور اس کی حکومت کے خلاف متنفر کرتی رہی اور بالآخر ایک دن ایسا آگیا کہ ان کے پاس عوامی سطح پر حامیوں کی ایک بڑی تعداد اکٹھا ہوگئی جن کی مدد سے نازیوں نے بڑی آسانی سے جرمن حکومت کے پایہ تخت کو اکھاڑ پھینکا۔ ہمیں نازی تحریک اور اس کی کسی بھی فکری حکمت عملی سےقطعا ً اتفاق نہیں لیکن ان کے اس طریقہ ٔ کار سے ضرور اتفاق ہےجس نے انہیں کامیابی سے ہمکنار کیا یعنی کسی بھی کام کو بتدریج انجام دینا۔ قدرت کا قانون یہی ہے کہ کوئی بھی انقلاب صحیح معنوں میں اسی وقت کامیاب ہوسکتا ہے جب اسے خوب سوچ سمجھ کر بتدریج انجام دیا جائے۔

جس کام میں یہ حکمت عملی نہیں اپنائی گئی اور جلد بازی کا مظاہرہ کیا گیا اور ایک ہی جست میں مکمل کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کا انجام کامیابی پر نہیں بربادی اور صرف بربادی پر ہی ختم ہوتا ہے۔ قدرت کا یہ قانون سب کیلئے یکساں نفع بخش ہوتا ہے اس کے حصول کیلئے خواہ کوئی بھی کوشش کرے کامیابی اس کا مقدر بن سکتی ہے۔اللہ کے رسول ؐکا بھی یہی دستو ر رہا ہے انہوں نے بھی اسی اصول و قاعدے کی بنیاد پر عرب میں ایک انقلاب عظیم برپا کردیا جس کی دوسری کوئی نظیر آج تک نہ پیش کی جاسکی، تاریخ و سیر کی کتابیں گواہ ہیں کہ آپ نے اپنے مشن کی تکمیل کیلئے جو حکمت عملی اپنا ئی وہ یہی تھی کہ آپ نے دیگر غیر ضروری عوامل سے اعراض کرتے ہوئے اپنے مشن کیلئے وہی بتدریج والی حکمت عملی استعمال کی جس کی تائید ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کی روایت کردہ اس حدیث سے ہوتی ہے۔

وہ فرماتی ہیں کہ اللہ کی سنت یہی ہے کہ تمام احکام شریعت بیک وقت نہیں نافذ ہوئے بلکہ ان کا نفاذ بتدریج ہوا۔ مثلا ً اللہ کے رسول نے کافی عرصہ تک لوگوں کے اندر اللہ کا خوف پیدا کیا اور جنت کی ترغیب اور جہنم کی ترہیب دلائی اس کے بعدہی شراب اور زنا جیسے قبیح افعال کی حرمت کا حکم دیا گیا۔ حضرت عائشہ ؓ خود کہتی ہیں کہ اگر ابتدا میں ہی شراب کو حرام کردیا گیا ہوتا تو لوگ کہتے کہ ہم ہرگز شراب نہیں چھوڑیں گے اسی طرح اگر شروع ہی میں ان سے کہا جاتا کہ زنا برا فعل ہے تو وہ کہتے کہ ہم تو اس سے کبھی باز نہیں آئیں گے، وغیرہ وغیرہ۔

ہمیں کہنے دیجئے کہ آج آر ایس ایس جیسی فسطائی تنظیم نے بھی نادانستہ طور پر یہی حکمت عملی اختیار کررکھی ہے اور بڑی حد تک کامیاب نظر آرہی ہے۔ یہ تنظیم اپنے قیام کے آغاز سے ہی انتہائی خاموشی اور نظم و ضبط کے ساتھ اسی طریقہ کار کو اپنا ئے ہوئے ہے۔ ملک کے گوشے گوشے میں اس کی پاٹھ شالائیں اور شاکھائیں قائم ہیں جہاں اسی حکمت کے تحت ذہنی تربیت کی جارہی ہےاور لوگوں کے دماغوں کی تطہیر کی جارہی ہے۔ ایک مرتبہ ان پاٹھ شالاؤں کے سالانہ امتحانات کے کچھ پرچے ہمارے ہاتھ لگے جس میں درج کچھ سوالات آج بھی ذہن محفوظ ہیں مثلا ً کچھ سوالات اس طرح تھے کہ بابر اور اس سے قبل کے مسلم بادشاہوں نے ہندوستان کو کس کس طرح سے لوٹا اور برباد کیا اس کی تفصیل بیان کیجئے۔

مسلم دور حکومت میں ہندوؤں کے ساتھ کیا کیا زیادتیاں کی گئیں ان کے مندروں کو کس قدر بے دردی کے ساتھ توڑا گیا اور ان کی املاک ضبط کی گئیں یا پھر مسلم دور حکومت میں ہندومذہب کو مٹانے کی کیا کیا کوششیں ہوئیں ان کی تفصیلی وضاحت کریں۔ پورے پرچے میں اسی طرح کےنفرت انگیز اور غیر تاریخی سوالات کی بھرمار تھی۔ آرایس ایس کی اس مسلسل محنت اور کوشش کا فائدہ آج انہیں اس صورت میں حاصل ہورہا ہے کہ اس وقت اس کے مشن اور تحریک کی تائید کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ذہن سازی کےذریعے آ ر ایس ایس نے جو پودے پورے ملک میں لگائے تھے اب وہ تناور درخت بن کر پھل بھی دینے لگے ہیں جس کا مشاہدہ آپ کہیں بھی کرسکتے ہیں۔ آر ایس ایس چیف بالاصاحب دیورس کا وہ اخباری بیان لوگوں کو یاد ہوگا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جب ہم ہندوستان کی ۷۵؍فیصد آبادی کی ذہن سازی کرلیں گے اس وقت ملک پرہمارے اقتدارکو کوئی نہیں روک سکتا۔ آج یہ تحریک اپنے شباب پر پہنچ گئی ہے اور اس کے بڑھتے ہوئے اثرات ان سیکولر ہندو ذہنوں کو بھی بڑی تیزی کے ساتھ پراگندہ کرتے جارہے ہیں جو اس ملک کے جمہوری ڈھانچے کیلئے آب حیات کا کام کیا کرتے تھے اور جن کا وجود اقلیتوں اور خاص طور سے مسلم اقلیت کیلئے ایک مضبوط ڈھال کی شکل میں سامنے آتا تھا۔

موجودہ صورتحال کے تناظر میں یہ جائزہ لینا ضروری ہوجاتا ہے کہ جمہوریت کی قاتل ان زہریلی تحریکوں کے سد باب کیلئے ہماری سیکولرسیاسی جماعتیں کون سا طریقہ کاراپنا رہی ہیں۔ جمہوریت اور اقلیتوں کے تحفظ و بقا کیلئے ان کے اندر کتنا خلوص اور جوش ہے۔ ابھی زیادہ دن نہیں گذرے سبھی نے پارلیمنٹ کا یہ منظر دیکھا کہ جب وہاں طلاق ثلاثہ مخالف بل پیش کیا گیا  (جو سراسر غیر اصولی اور جمہوری آزادی کے منافی تھا ) تو کانگریس نے کیا رول ادا کیا، ایم آئی ایم کے صدر اسدالدین اویسی تنہا چیختے رہ گئے اور کسی بھی سیکولرپارٹی تو کیا خود مسلم ممبران پارلیمنٹ نے بھی ان کو تنہا چھوڑدیا ، کانگریس کو آزماتے ہوئے پانچ دہائی سے اوپر ہوچکے ہیں ’ آزمودہ را آزمودن جہلاست‘ کے مصداق اب ہمیں تسلیم کرلینا چاہیئے کہ کانگریس سے توقع فضول ہے۔

اس ضمن میں کچھ دیگر سیکولر پارٹیوں سے گفت و شنید کرنے کے ساتھ ایک متحدہ سیکولر محاذ کا قیام ضروری ہے۔ کیونکہ پانی اب سر سے اونچا ہوتا جارہا ہے۔ گذشتہ دنوں سپریم کورٹ کے چار ججوں نے چیف جسٹس آف انڈیا کے خلاف میڈیا کے سامنے کھل کر یہ بات رکھی کہ موجودہ صورتحال میں سپریم کورٹ کیلئے ضروری ہوجاتا ہے کہ اس کے سیکولر اور جمہوری مزاج کو برقرار رکھا جائے جوکہ نہیں ہورہا ہے اور اگر ایسا نہیں ہوسکا تو ملک کی جمہوریت ہی خطرے میں پڑجائے گی۔ اسی طرح ایک خبرکے بموجب سی بی آئی کے خصوصی جج مسٹرلویاکوایک کیس کے دوران کچھ چوٹی کے لیڈران کے تحفظ کیلئے انہیں ممبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی طرف سے سو کروڑ کی پیش کش کی گئی تھی اور پھر ان کی پراسرارموت  اس بات کی طرف اشارہ نہیں کررہی ہے کہ ملک کے حالات کس قدر خراب ہوچکے ہیں اور کیا اس کے سد باب کیلئے سیکولر مزاج پارٹیوں کو متحد نہیں ہوجانا چاہیئے۔

جس طرح جرمن نازی یہ کہتے تھے کہ یہودی جرمنی ہی نہیں پوری انسانیت کیلئے تمام خرابیوں اور برائیوں کی جڑ ہیں اس لئے ان کو جینے اور زندہ رہنے کاکوئی حق نہیں ان کا قتل و خون ملک کیلئے مفید اور کارآمد ہے۔ بالکل یہی فلسفہ آر ایس ایس اور بی جے پی کا مسلمانوں کیلئے ہے۔وہ اپنے مشن پر پوری طرح کاربند ہے اس کے برعکس سیکولر پارٹیاں مکمل طور پر باہمی انتشار اور سر پھٹول میں مصروف ہیں۔ کیا اس صورتحال میں حق اور اصول کی لڑائی جیتی جاسکتی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

وصیل خان

ممبئی اردو نیوز

متعلقہ

Close