نقطہ نظر

نہیں بات یہ ہے کہ وہ یتیم کی تکریم نہیں کرتے

اگرایک شخص یہ کہے کہ خدا نے مجھے عزت دی، خدا نے مجھے دوسروں پرفضیلت دی، خدا نے مجھے مال اوراولاد والا بنا یا ،خدا نے مجھے علم ودانش سے نوازہ، تو آپ یہ سمجھیں گے کہ یہ تمام شکرکے الفاظ ہیں۔ لیکن عجیب بات ہے کہ خدا نے ان تمام الفاظ کو ناشکری کے خا نے میں رکھا ہے۔

قرآن کا بیان ہے: ” مگرانسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا رب اسے آزما ئش میں ڈالتا ہے اوراسے عزت اورنعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھےعزت دی، اورجب وہ اسکو آزمائش میں ڈالتا ہے اوراس کا رزق اس پرتنگ کر دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا۔” ( سورہ الفجر آیت 15- 16 )

یہاں دومتضاد باتیں ہیں۔ ایک یہ کہ جب وہ انسان کوعزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دی اورجب وہ اس کا رزق تنگ کردیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کیا۔

قرآن کے اس بیان میں بظاہرایک رویہ شکرکا ہے”خدا نے مجھے عزت دی” اوردوسرا رویہ ناشکری کا  "خدا نے مجھے ذلیل کیا” لیکن قرآن نے ان دونوں رویوں کوناشکری کے خانے میں رکھاہے۔

مثلاً قرآن میں اس بیان کے فوراً بعد آگے بیان ہوا ہے : ” ہرگز نہیں بلکہ تم یتیم سےعزت کا سلوک نہیں کرتے، اورمسکین کو کھانا کھلانے پرایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے، اورمیراث کا سارا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو، اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار ہو۔”

ایسا کیوں ہوا کہ خدا نے بظاہرشکرکے الفاظ بولنے والے اورناشکری کے الفاظ بولنے والے دونوں قسم کے انسان کو ایک ہی خانے یعنی نا شکری کے خانے میں رکھا؟

اصل بات یہ ہے کہ اللہ انسان کی بولیوں پرنہیں جا تا، وہ اس کے عمل پرجا تا ہے۔ ایک شخص جسے خدا نے نعمت اورعزت دی، جسے شہرت اوردولت سے نوازہ گیا، اگروہ کسی مجمع یا تنہائی میں خدا کی طرف سے ملی ہوئی چیزوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہے کہ خدا نے مجھے یہ دیا، خدا نے مجھے وہ دیا، خدا نے مجھے فضیلت دی ، خدا نے مجھے حاجی بنایا، خدا نے مجھے غازی بنایا ، خدا نے مجھے علم والا بنایا تودرحقیقت وہ اپنے رب کی بڑائی بیان نہیں کررہا ہے، وہ خود اپنی بڑائی بیان کررہا ہے۔ بظاہر وہ خدا کا نام لے رہا ہے لیکن درحقیقت وہ اپنا اچیومنٹ بتا رہا ہے۔

یہاں جو یہ کہا کہ ” یتیم کا اکرام نہیں کرتے”، یہ بہت ہی معنی خیزبات کہی ۔ یتیم کون ہوتا ہے؟ یتیم درحقیقت کسی سماج کا سب سے کمزورانسان ہوتا ہے۔ اورسماج کے سب سے کمزورانسان کی عزت وہی شخص کرسکتا ہے جوحقیقی معنوں میں اللہ والا ہو، جس نے اپنے ایگو کو اللہ کے لئے کرش کر دیا ہو، جو فخرو مباہات کی نفسیات سے نکل کر تواضع کی نفسیات میں جی رہا ہو۔ ایسا کوئی بھی شخص جو اپنے سے کمزور کی عزت نہیں کرتا وہ درحقیقت اپنی انانیت میں جینے والا انسان ہے، بظاہروہ زبان سے للاہیت کے جتنے بھی الفاظ بولے خدا کے یہاں ان الفاظ کی کوئی قیمت نہیں۔

یتیم کی تکریم کا حکم دے کرخدا یہ بتا رہا ہے کہ انسان کوچاہئے کہ وہ ہروقت تواضع کی نفسیات میں جئے، وہ سرکشی اور کبر کی نفسیات کو چھوڑدے، اور جب کوئی بات بولے توخوب سوچ لے کہ کہیں وہ شکرکے الفاظ کے پردے میں خود اپنے ایگو (ego)کی فیڈ نگ تو نہیں کررہا ہے؟ کیونکہ ایسا کر کے وہ انسان کودھوکہ دے سکتا ہے لیکن وہ خدا کو دھوکہ نہیں دے سکتا۔ خدا نے پہلے ہی خبردار کردیا ہے” تم چاہے اپنی بات پکار کر کہو، وہ تو چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے مخفی تر بات کوبھی جانتا ہے۔”

وَإِن تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَإِنَّهُ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى

(مضامین ڈیسک)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد آصف ریاض

محمد آصف ریاض ملک کے معروف اسلامی اسکالرہیں۔ ان کی پیدائش 14 جولائی 1977 کو پٹنہ کےایک گائوں حضرت سائیں میں ہوئی۔ انھوں نے پٹنہ یونیورسٹی سے ایم اے کیا اوراس کے بعد صحافت کے پیشہ سے وابستہ ہوگئے۔ انھوں نے بہار کے موقر روزنامہ پندارسے اپنی صحافت کی ابتدا کی۔ پھردہلی سے نکلنے والی میگزین سنڈے انڈین میں ورکنگ ایڈ یرکے عہدے پر فائز ہوئے۔ اب تک موصوف کے سینکڑوں مضامین ملکی اورغیر ملکی رسالے میں شائع ہوچکے ہیں۔ موصوف "امکانات کی دنیا"، "مظفر نگر کیمپ میں"، " موت کے اس پار" نامی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔

متعلقہ

Close