وسیم رضوی کے کئی پرزے خراب ہوگئے ہیں

حفیظ نعمانی

ہمارا خیال ہے کہ وسیم رضوی اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے ہوں گے جب بابری مسجد کا رات میں تالا توڑکر اس میں مورتیاں رکھی گئی ہوں گی اور جب وزیر اعلیٰ پنت نے کہا کہ یہ کیا ہوا تو جواب ملا کہ رام للا پرکٹ ہوگئے۔ بات جب پنڈت نہرو کے پاس گئی تو انہوں نے پنت جی سے کہا کہ مورتیاں نکلواکر جہاں سے لائی گئی ہیں وہیں رکھوا دو۔ انہوں نے سچ یا جھوٹ ڈی ایم سے کہا۔ ڈی ایم نے جواب دیا کہ مجمع بہت ہوگیا ہے خون خرابہ ہوجائے گا۔ پنت جی نے یہی پنڈت نہرو سے کہہ دیا اور پنڈت نہرو یہ نہ سمجھ سکے کہ اگر اب نہ ہٹیں تو پھر جب کبھی بھی ہوگا اتنا خون خرابہ ہوگا کہ ملک کی زمین لال ہوجائے گی۔

اور نہ جانے کتنے ہزار مسلمانوں کا خون بہنے کے بعد اب یہ فیصلہ عدالت کو کرنا ہے کہ بابری مسجد کسی مندر کو توڑکر بنائی گئی تھی یا افتادہ زمین پر بنی تھی۔ برسوں کی سمع خراشی کے بعد جب فیصلہ کی منزل آئی تو وسیم رضوی کود پڑے کہ وہ شیعہ مسجد ہے اور اس کے بارے میں صرف شیعہ وقف بورڈ کو فیصلہ کا حق ہے۔ اور انہوں نے ایک بابا کو پکڑا اور اعلان کردیا کہ مسجد کی زمین پر ہم رام مندر بنانے کی اجازت دیتے ہیں اور میرباقی مسجد لکھنؤ میں حسین آباد ٹرسٹ کی زمین پر امن مسجد کے نام سے بنائیں گے۔ اپنی عزت اور ذلت کی طرف سے بے نیاز اس احمقانہ فارمولے کو لے کر وہ سپریم کورٹ جاپہونچے اور شور مچا دیا کہ ان کے فارمولہ کو سپریم کورٹ نے سماعت کے لئے رکھ لیا۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ وہ ردّی میں پھینک دیا تھا۔

سپریم کورٹ سے منھ  کی کھانے اور ذلیل ہونے کے بعد اب اچانک ان کو عربی فارسی مدرسہ بورڈ کے ماتحت چلنے والے مدرسے یاد آگئے۔ ہم نہیں جانتے کہ ان مدرسوں نے انہیں کب بے عزت کیا ہے؟ انہوں نے گیارہ صفحے کا خط اپنے وزیراعظم کو لکھا ہے جس کے ذریعہ ایک تو یہ بتانا ہے کہ وہ بھی وزیراعظم کے نام 11  صفحات کا خط لکھ سکتے ہیں اور انہیں یہ خوش فہمی ہے کہ وہ ان کا خط پڑھ لیں گے ۔ بہرحال یہ تو آپس کے تعلقات پر منحصر ہے۔ بات یہ ہے کہ انہوں نے کہا کیا ہے؟ اس خط کے علاوہ انہوں نے ٹی وی پر بھی اور اخباروں میں بھی بیان دیا ہے کہ مدرسہ بورڈ کو بند کردیا جائے ان مدرسوں سے ڈاکٹر، انجینئر، آئی اے ایس، پی سی ایس اور سائنسداں تیار نہیں ہوتے۔ اور کہیں کہیں بم بنانا سکھایا جاتا ہے اور بعض مدرسوں میں غیرملکوں سے پیسہ آتا ہے اور غیرملکی استاذ پڑھاتے ہیں ۔ وسیم رضوی کے بیانات پر ہر طرف سے لعن طعن ہورہی ہے۔ ہم انہیں معذور سمجھ کر چھوڑ رہے ہیں ۔

وسیم رضوی شاید بھول گئے ہیں کہ لوگ انہیں مسلمان کہتے اور سمجھتے ہیں قرآن عظیم پر پروردگار نے فرمایا ہے۔ ’وَما خلقت الجن ولانس الا یعبدون‘ ہم نے جنات اور انسانوں کو صرف عبادت کرنے کیلئے پیدا کیا ہے۔ اور عبادت شیعہ وقف بورڈ کا چیئرمین بن کر نہیں ہوتی اور نہ اسکولوں میں پڑھ کر بتائی جاتی ہے کہ کیسے ہو؟ اور مسلمانوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’اِناالدینا خلقت لکم و انکم خلقتم للآخرہ‘ بیشک دنیا تمہارے لئے بنائی گئی ہے اور تم کو آخرت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔

ہندوستان میں سرکاری جائزہ کے مطابق سب سے زیادہ غریب مسلمان ہیں ان مسلمانوں میں پانچ فیصدی بھی ایسے نہیں ہیں جو اُن اسکولوں میں اپنے بچوں کو پڑھا سکیں جہاں اپنے خرچ پر تعلیم حاصل کی جاتی ہے۔ این ڈی ٹی وی کے رپورٹر کمال خاں سے وسیم صاحب نے کہا تھا کہ نہ میرے بچوں نے مدرسہ میں پڑھا اور نہ آپ کے بچے پڑھتے ہوں گے۔ وسیم رضوی کی آمدنی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوگا وقف بورڈ کا چیئرمین ہو یا کنٹرولر ان کے آگے پیچھے وقف علی الاولاد کے متولی گھوما کرتے ہیں اور وہ ان کے نوٹ اپنی جیب میں بھرکر اجازت دے دیتے ہیں ۔ اور اگر معمولی آمدنی کا وقف علی الخیر ہے تو وہ بھی متولی چیئرمین کی مہربانی سے کھاجاتا ہے۔ مدرسہ بورڈ اگر پیسے دیتا ہے تو اس کا حساب بھی لیتا ہے نگرانی بھی کرتا ہے اور چھاپے بھی مارتا ہے رجسٹریشن کینسل بھی کردیتا ہے۔ وقف بورڈ چاہے وہ سنی ہو یا شیعہ ان سے بڑا بے ایمان کوئی نہیں اور اگر ختم کرنے کی ضرورت ہے تو وہ دونوں وقف بورڈ توڑ دینا چاہئے اور حکومت کو اپنے کنٹرول میں لے لینا چاہئے۔

مدرسہ بورڈ کے مدرسوں میں شاید پانچ فیصدی شیعہ مدرسے ہیں ان میں سرسی سادات کا وہ مدرسہ بھی ہے جو دو کمروں میں ہے جس کے ایک کمرہ میں بکری بندھتی ہے دوسرے کمرہ میں پانچ ہزار طالب علم مستقل پڑھنے کا مدرسہ والے دعویٰ کرتے ہیں ۔ اور پانچ ہزار فارم امتحان کے جاتے ہیں ۔ سنیوں کے جو مدرسے ہیں ان میں کچھ تو وہ ہیں جو صرف بورڈ کے امتحان دلاتے ہیں ورنہ وہ درس نظامیہ بھی پڑھاتے ہیں ۔ ان میں ہی وہ بھی ہیں جو نیپال کی ترائی میں ہیں جہاں غیرملکی مدرس بھی پڑھاتے ہیں اور جن کی ترقی دیکھ کر وسیم رضوی کے کلیجہ میں آگ لگ گئی۔ وہ سب اہل حدیث ہیں جو کافی حد تک حنبلی مسلک سے قریب ہیں اس لئے سعودی ان کی مدد کرتے ہیں اور مدینہ کا جامعہ اپنے فارغ طلباء کو مشنری کے طور پر دوسرے ملکوں کے اہل حدیث مدرسوں میں پڑھانے کے لئے بھیجتا ہے اور ان کی بہت معقول تنخواہ مدینہ منورہ سے ہی ملتی ہے۔

وسیم رضوی جہالت کی باتیں چھوڑیں اور صرف دنیا کی نہیں دین کی فکر بھی کریں اور کوشش کریں کہ وہ بھی شیعوں کیلئے دارالعلوم دیوبند، دارالعلوم ندوۃ العلماء، مظاہر العلوم، دارالعلوم وقف اور پورے ملک میں اس معیار کے چند مدرسے بنائیں ہر انسان کو ایک زندگی ملی ہے اس میں ہی اُسے وہ سب کرنا ہے جس کے عوض وہ قیادت کے دن سرخرو ہوکر جنت میں جائے۔ یاخدا کی نافرمانی کرکے اور وقف کی جائیدادیں اپنے اختیار سے فروخت کراکے اور جھوٹ کی بنیاد پر فیصلے کرکے دوزخ کا ایندھن بنے۔

ہم مدرسہ بورڈ کے وکیل نہیں ہیں وہاں اچھا کم ہورہا ہے اور برا زیادہ لیکن دونوں وقف بورڈ تو ایسے ہیں کہ وہاں صرف برا ہی برا ہورہا ہے اس لئے ہم تو یہی کہیں گے کہ یہ بورڈ مسلمانوں سے لے لئے جائیں تاکہ ان کی عاقبت خراب نہ ہو رہے مدرسے تو وہ اگر بند ہوتے ہیں تو گھن کے ساتھ گیہوں بھی پس جائیں گے اس لئے بورڈ کو محدود کردیا جائے اور اس کے بہت سے راستے ہیں ۔



⋆ حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

حج سبسڈی

جب ہوائی سفر شروع ہوا تو مرکزی حج کمیٹی اور صوبائی حج کمیٹیاں بنائی گئیں صوبوں نے حج ہائوس بنائے اور ہر درخواست کے ساتھ تین سو روپئے وصول کئے جاتے ہیں جو کئی مہینے پہلے لے لئے جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ عازمین حج سے پورا روپیہ مہینوں پہلے وصول کرلیا جاتا ہے جس کا سود ہی 30  کروڑ سے زیادہ ہوتا ہے۔ یعنی عازمین حج اور عام مسلمان جنہوں نے سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا وہ اس لئے تھا کہ حکومت کا روپیہ سود کی وجہ سے پاک نہیں رہتا۔ اور حج کمیٹیاں عازمین حج کے پاک روپئے کو بینک میں رکھ کر اور اس سے سود لے کر اسے ناپاک کردیتی ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے