نقطہ نظرہندوستان

وقت وقت کی بات

محمد سعد

آج کے مطالعہ میں ایک مختصر مضمون آیا جس کاعنوان تھا وقت وقت کی بات۔اس میں درج تھا کہ ایک درویش بازار میں بیٹھا تھا،وہاں سے بادشاہ کاگزر ہوا تو اس نے درویش سے پوچھا کہ بھائی تم کیاکرہے ہو؟تواس نے جواب دیا کہ بندوں کی اللہ سے صلح کروارہا ہوں۔اللہ تو مان رہاہے مگر بندے نہیں مان رہے ہیں۔کچھ دنوں کے بعد کی بات ہے کہ وہی درویش قبرستان میں بیٹھا ہواتھا ،اتفاق سے بادشاہ کاوہاں سے بھی گزر ہواتو اس نے پھر وہی سوال پوچھاکہ بھائی یہاں کیاکررہے ہو؟تودرویش نے جواب دیاکہ اللہ کی بندوں سے صلح کروا رہاہوں ، لیکن آج بندے تو مان رہے ہیں مگر اب اللہ نہیں مان رہاہے۔‘

بلاشبہ دنیاکی زندگی اللہ کی اطاعت اور اس کے فرمان کی اتباع کرنے کی ہوتی ہے،یہاں توبندوں کی کوتاہیوں کو اللہ معاف کردیتاہے ،اور انہیں پھر سے ایک نیا موقع فراہم بھی کرتاہے ۔لیکن یہاں پر اپنی انا،لاپروائی اور وقتی لذتوں میں مشغولی کے سبب انسان خالق کائنات کی عنایتوں کوسمجھ نہیں پاتاہے اور اپنی ہی دنیا میں مگن رہتاہے۔ جب وقت گزر جاتا ہے اورانسان کی دنیا پوری طرح سے بدل جاتی ہے توپھر اپنی کوتاہیوں کی سزائیں دیکھ کر کے وہ گھبرا جاتاہے اور بڑی مستعدی کے ساتھ اللہ سے معافی کاطلبگار بھی ہوتا ہے لیکن افسو س صد افسوس کہ اب وہ و قت گزر جانے کے سبب اس کی فریاد بھی بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے۔اگر اس حوالے کے ساتھ انسانی زندگی کے حالات کا بھی معائنہ کریں تو معلوم ہوگاکہ دنیاکی زندگی میں بھی وقت گزر جا نے کے بعد کف افسوس ملنے کے علاوہ کچھ بھی ہاتھ نہیں آتاہے، حاصل مطالعہ یہی بات سامنے آتی ہے کہ بروقت اور وقت کے رہتے ہوئے مناسب اقدام کرلینا ہی انسان کو بعد کے کسی بھی طرح کے پچھتاوے سے محفوظ رکھتاہے ،اور پہلے وبعد کی زندگی کی اس کی مرادیں بھی اسی طرح سے برآتی ہیں ۔

آج وطن عزیز میں مسلمانوں کے تعلق سے جو سنگین حالات پیدا ہوگئے ہیں اس کے لئے بجائے غیروں پر الزام رکھنے کے اپنے گریبان میں بھی جھانک کردیکھنے کی شدید ضرورت ہے،اوراس امر کا گہرائی سے مطالعہ کرنا بھی لازمی ہے کہ آج پیچیدہ اور خوفزدہ کردینے والے جو ہزار ہا مسائل مسلمانوں کے سامنے آن کھڑے ہوئے ہیں کیا اس کے لئے مسلمان بھی اتنے ہی ذمہ دار نہیں ہیں جتنے کہ دوسرے؟کیا اس پہلو سے غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ وقت کے اعتبار سے خود کوتیار کرنے اور تیار رکھنے کے لئے مسلمانوںکے اپنے اقدام کیا رہے ہیں؟ کیا ان امورپر واقعی غور نہیں کیاجانا چاہئے؟ آئیے سنجیدگی سے سوچئے ،بھلا اس نوعیت ،اس کی اہمیت اور اس کے تقاضے کو مسلمانوں سے زیادہ کون سمجھ سکتاہے؟کیونکہ ان کے سامنے صرف متذکرہ بادشاہ اور فقیر کاحوالہ ہی نہیں ہے بلکہ ایسے ہزاروںحوالہ جات انہیں وقت پر عمل کرتے رہنے کی دعوت دینے والے موجود ہے۔

یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات میںمسلمانوں کو نظر انداز کرنے والی، ان کی مخالفت کرنے والی اور فرقہ پرستی کی متشابہ تسلیم کی جانے والی سیاسی پارٹی بی جے پی کی فتحیابی کے بعد مسلمانوں میں ایک طرح سے خوف اور دہشت کے ماحول نے جگہ بنالی ہے،اور اس کامیابی کی وجہ سے ملک کے سیکولر لوگوں اور جماعتوں کے درمیان بھی ایک گہری تشویش کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔آئندہ کے حالات کیا ہوں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔لیکن ملک کی دیرینہ تہذیب اور گنگاجمنی روایت کی پاسداری اور اس کی شناخت پر حملے کی جو سنگینی محسوس کی جارہی ہے وہ بھی اپنی جگہ پر کسی حد تک بجاہی ہے۔جواب طلب سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اب تین طلاق کے بہانے اسلامی شریعت پر حملہ اور اس میں دخل اندازی کرنے کی اپنی عجیب وغریب سی مہم نما سازش میں بی جے پی اور آرایس ایس کے لوگ کامیاب ہو جا ئیں گے؟کیا واقعی یونیفارم سیول کوڈ کا نفاذ اب ممکن ہوجائے گا؟ کیا بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر کاکام بھی انجام پاجائے گا؟

کیا بی جے پی اب کشمیر کو دفعہ 370سے محروم کردینے کی چالبازی کے اپنے مقصد میں کامیاب ہو جا ئے گی ؟کیونکہ اب اس کے پاس اترپردیش کی ریاست بھی ہے ،راجیہ سبھا میں بھی عنقریب ہی اس کو اکثریت حاصل ہونے والی ہے۔اب تو وہ وزیراعظم کی رہنمائی میں اندرا گاندھی کے بعد کسی بھی سیاسی لیڈر اور جماعت سے زیادہ بااختیار ہو گئی ہے ،اور اس کے سامنے اپوزیشن جماعتیں اتنی کمزورہوگئی ہیں کہ سنسد سے لے کر سڑک تک ان کا شور تو سنائی دے سکتا ہے لیکن ہرنہج پر ان کی تقریباً ہر آواز بے وزن ہی ثابت ہوتی رہے گی۔آج تقریباًتمام صوبوں میں اسی کے گورنر ہیں ،اوراب یہ بھی تقریباً طے ہوگیاہے کہ شری پرنب مکھرجی کے بعد ملک کا اگلا صدر جمہوریہ بھی اسی پارٹی کا منتخب امیدوار بنے گا۔آج خدشات اور تشویشات کی بنیاد پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اب ان کے جو بھی فیصلے ہوں گے وہ حتمی ہوں گے ،کہنے کوتو اپوزیشن جماعتوں ،سیکولر عوام اور مسلمانوں کی جانب سے جمہوریت اور آئین کی دہائی بھی دی جائے گی ،لیکن برسراقتدار پارٹی کی جانب سے جو بھی فیصلہ ہوگا اس پر قدغن لگانے کی طاقت کسی کے پاس بھی موجود نہیں ہوگی۔

غور طلب پہلو ہے کہ اب ان خدشات کو سینے میں پالتے رہنے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا بلکہ یہ محض اپنے لئے ہی موت کی تیاری کا سامان ہوگا۔اس لئے یہاںاس پہلو پر ضرور غور کیاجانا چاہئے کہ جس طرح ان حالات تک ملک کو پہنچانے میں فرقہ پرست سیاسی جماعتوں ،ان کی تنظیموں اور ان کے لیڈران کا کردار حیرتناک رہا ہے اسی طرح اس سچائی سے بھی انکارنہیں کیا جاسکتاہے کہ سیکولر جماعتوں اور مسلمانوں کا رول بھی اس تعلق سے مایوسی کی ہی سیر کرانے والا ہے۔غور کیجئے ،اگرملک کی سیکولر جماعتوں نے اپنے سیکولر کردار کو عمل کی صورت میں ڈھالا ہوتا اور وقت کے تقاضے کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنے دور اقتدار میں عوام کو ملک کی تہذیب اور اس کے تمدن سے دل وجان سے متعارف کرایا ہوتا توآج ہندوستان کے عوام کے دلوں میں فرقہ واریت کے بیج کو پودے کی شکل میں لہلہانے کا ہرگز بھی موقع نہیں مل رہاہوتا۔ذاتی اغراض اور وقتی لذتوں نے غفلت کی نیند میں سلاکر جب اپنے سیاسی اغراض و مقاصد کے حصول کے لئے نرم گوشہ کو سیکولرسیاسی محاذ پر جگہ دی توفرقہ واریت کو بھی پنپنے کا موقع مل گیا۔ آج وہ چھتنار درخت کی صورت میں اگر کھڑا ہے تو سیکولر سیاست کی جانب سے یہ محاسبہ ضرور کیا جا نا چاہئے کہ آخر وقت کے تقاضے کو ملحوظ خاطر کیوں نہیں رکھا گیاتھا؟

مسلمانو ں کا معاملہ بے حد سنگین ہے۔آج ملک کے حالات نے کسی حد تک یہ ثابت بھی کردیاہے کہ اب ملک میں ان کے ووٹ کی طاقت کی اہمیت پہلے کے مقابلے بہت کم ہوگئی ہے۔کسی حد تک ان کا نام ہی اب الزامات اور خوف و دہشت کے سائے کے لئے کافی تصور کیا جانے لگا ہے۔ایک طبقہ تو میانمار کے مسلمانوں کی حالت زار کی طرح ہی اب ہندوستان کے مسلمانوں کا بھی مستقبل دیکھنے لگا ہے، موجودہ اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد بریلی کے گاو ¿ں کو مسلمانوں سے خالی کرانے کا پوسٹر بھی کچھ ایسے ہی خوفناک اشارے دے رہا ہے ۔بلند شہر کی کچھ مساجد پر بی جے پی کا جھنڈا لگانا بھی ظلم و زیادتی اور فرقہ واریت کے سنگین ترین مستقبل کا ہی غماز ہے۔

حد تو یہ بھی ہوگئی ہے کہ جن مسلمانوں نے وطن عزیز ہندوستان کی شناخت میں بے دریغ قربانیوں کے ساتھ اپنا تعاون دیا تھا آج ملک میں انہیں مسلمانوں کی اپنی ہی شناخت کا پہلو دم توڑنے لگاہے۔اس حوالے سے غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ اس کے لئے کسی حد تک مسلمان بھی قصوروار ہیں۔لیکن بڑی حیرت ہوتی ہے کہ اس کے باوجود بھی ملک کے مسلمانوں میں خود احتسابی کا جذبہ اس حد تک پروان نہیں چڑھ پا رہا ہے کہ جس کا تقاضہ ہے ۔خود احتسابی کے بجائے ایک دوسرے پر ٹھیکرا پھوڑا جارہاہے ۔سب سے پہلے قیادت ہی نشانے پر ہے۔ آج بڑے پیمانے پر اس کے لئے محض مسلم قیادت کی کمزوری کو مورد الزام ٹھہرا کر اپنا دامن جھاڑ لینے کی کوششیں زوروں پرہیں۔بلا شبہ قیادت کی شدیدضرورت بھی ہے ، اورملک میں مضبوط قائد تو ہونا ہی چاہئے،لیکن اس ضمن میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر قائد کس کو تسلیم کیا جائے،کیا اس حوالے سے میری طرح کا ایک عام مسلمان اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھتا ہے کہ وہ بھلاکس کو اپنا قائد ماننے کے لئے رضامند ہے۔غور کیجئے تو حیرانی ہوگی کہ اگر مجھے ’الف‘ قائد پسند ہے تو آپ کو ’ب‘۔پھریہ کیسے طے ہو سکے گا کہ قیادت کون کرے گا؟

اس کے لئے سب سے پہلے ماننے کا جذبہ پیدا ہونا چاہئے جس کا عام مسلمانوں میں فقدان ہے۔ گفتگو کیجئے تو جو بالیدگی نظر آئے گی وہ یقینی طور پر آپ کو حیران کردے گی اور جب میدان کارزار میں اتریئے تو اندازہ ہوگا کہ وہاں صرف سناٹا ہی پسرا ہوا دکھائی دے رہاہے۔ سنجیدہ پہلو یہ ہے کہ مسلمانوں کی جانب سے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے اگر اپنی صلاحیتوں کا بروقت اور مناسب استعمال کیا جائے گا تو مسلمانوں کے حالات کی بہتری کی امید کی جاسکتی ہے۔ملک کا مستقبل بھی ایک بار پھر تابناک اور روشن ہوسکتاہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی آج کے اس سچ کو تسلیم کرنا ہوگا کہ بی جے پی مضبوط پوزیشن میں ہے اس لئے محض اس کو برا کہنے اور کوسنے سے نتائج بہتر نہیں ہوسکیں گے بلکہ اس کے لئے خود کی تعمیر کی کوششوں میں زیادہ زور دینے کی ضرورت درپیش ہوگی۔

غور طلب امر ہے کہ آج اختلافات اور ذاتی اغراض کے حصول کی لذتوں نے مسلمانوں کو بھی اس قدر غافل کردیاہے کہ وقت رہتے مختلف وجوہات کی بناپر ان کا شعور بیدار نہیں ہوپا تا ہے ،اور جب وقت نکل جاتا ہے اورتمام صورتیں تبدیل ہوچکی ہوتی ہیں تو ان کی بے چینیوں میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے ،لیکن اس کے باوجود بھی اختلا فا ت اور ذاتی اغراض و مقاصد کے حصول سے مسلمانوں کا بھی پیچھا نہیں چھوٹتا ہے ۔ اور بڑی تعداد میں مسلمان اپنی ضرورت اور وقت کے تقاضوں کو نہیں سمجھ پاتے ہیں۔

غور کیجئے ،آج کتنے مسلمان والدین ہیں جو اس بات کے لئے متفکر ہیں کہ ان کے بچے کس قدر تعلیم یافتہ ہورہے ہیں ،ان کی تعلیم کا معیار اور نہج کیا ہے۔آج مسلمان نوجوانوں میں بھی یہ شعور کتنا بالیدہ ہے کہ وہ کس حد تک اعلیٰ عہدوں تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کی تیاری میں ان کے انہماک کا فیصد کیا ہے ؟بھلا اس سچ سے کون انکار کرسکتا ہے کہ آج سیاست میں حصہ داری کے ساتھ ہی بلاشبہ مسلمانوں کو مسلمان بننے کی بھی شدید ضرورت ہے۔اپنے اعمال و کردار کا محاسبہ کرتے رہنا بھی تقاضے میں شامل ہے۔اگر اس بیداری کو مسلمانوںکے دل میں جگہ مل جائے گی تو جمہوری ملک میںحالات کے بہتر بننے میں دیر نہیں لگے گی ۔یہاںمسلمانوں کا وقار بھی بحال ہوگا،ملک میں سیکولر کردار ایک چھتنار درخت کی طرح پھر سے کھڑا ملے گا ،اور خوف و تشویش کا ہر بادل چھٹ جائے گا۔گنگا جمنی تہذیب کے بادل برس پڑیں گے اور یہاں کے کھیتوں و باغات میں صدیوں پرانی فصلیں ایک بار پھر سے لہلہا اٹھیں گی۔پھر گزرے وقت کو یاد کرکے یہی کہاجائے گا کہ سب وقت وقت کی بات ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


ٹیگ
مزید دکھائیں

متعلقہ

Close