ویلنٹائن ڈے: تاریخی پس منظر اور عالمی منظر نامہ

محمد ریاض علیمی

ویلنٹائن ڈے ایک غیر اسلامی تہوار ہے جس کی نسبت محبت کے دن کی طرف کی جاتی ہے۔ یہ تہوار ہر سال فروری کی 14تاریخ کو منایا جاتا ہے۔ اس تہوار کے متعلق متعدد تاریخی روایات پائی جاتی ہے۔ اس تاریخی روایت کے مطابق کہا جاتا ہے کہ اس کا آغاز ایک رومی تہوار لوپر کیلیا(Luper Calia)کی صورت میں ہوا۔ یہ تہوار 13سے 15فروری تک منایا جاتا تھا اور اس روز قدیم رومی باشندے اپنے دیوتاؤں سے بدی کی طاقتوں سے نجات اور معاشرے کو اچھائی کی طرف راغب کرنے اور خوشحالی و زمین کی زرخیزی کی دعائیں مانگتے تھے۔ رومی باشندے یہ تہوار لوپا(Lupa) نامی دیوی کی نسبت سے مناتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ایک مادہ بھیڑیا تھی جس نے 2شیرخوار یتیم بچوں رومولس(Romulus) اور ریمس(Remus)کو اپنا دودھ پلایا تھا۔ رومیوں کی تاریخ کے مطابق بعد میں انہی دونوں نے روم کی بنیاد رکھی تھی۔ لوپرکیلیاکے معنی ہی ’’بھیڑیاکا تہوار ‘‘کے ہیں۔ اس تہوار پر رومی باشندے جو رسومات ادا کرتے تھے وہ سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف تھیں۔ تہوار کے آغاز پر رومی باشندے 2بکرے اور ایک کتا ذبح کرتے تھے۔ اس تہوار کے دوران قدیم روم کی لڑکیاں اپنے نام پرچیوں پر لکھ کر ایک بڑے سے ڈبے میں ڈال دیتی تھیں۔ پھر لڑکے آتے اور ایک ایک پرچی اٹھاتے جاتے، جس کے ہاتھ جس لڑکی کی پرچی آتی تھی وہ اس کے ساتھ جنسی تعلق استوار کر لیتا تھا۔ معروف مورخ ڈاکٹر عبداللہ حکیم کا کہنا ہے کہ ویلنٹائن ڈے قدیم رومیوں کا ایک مذہبی تہوار تھا جو تیسری صدی عیسوی کے دوران منایا جاتا رہا ہے۔

اس تہوار کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قدیم رومی مرد اس تہوار کے موقع پر اپنی دوست لڑکیوں کے نام اپنی قمیضوں کی آستینوں پر لگا کر چلتے تھے۔ بعض اوقات یہ جوڑے تحائف کا تبادلہ بھی کرتے تھے۔ بعد میں جب اس تہوار کو’’سینٹ ویلنٹائن ‘‘ کے نام سے منایا جانے لگا تو اس کی بعض روایات کو برقرار رکھا گیا۔ اسے ہر اس فرد کے لیے اہم دن سمجھا جانے لگا جو اپنے رفیق یا رفیقہ حیات کی تلاش میں تھا۔ اسی طرح سترہویں صدی کی ایک پراُمید دوشیزہ سے یہ بات منسوب ہے کہ اس نے ویلنٹائن ڈے والی شام کو سونے سے پہلے اپنے تکیہ کے ساتھ پانچ پتے ٹانکے اس کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے وہ خواب میں اپنے ہونے والے خاوند کو دیکھ سکے گی۔ بعد ازاں لوگوں نے تحائف کی جگہ ویلنٹائن کارڈز کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اسی طرح ویلنٹائن ڈے کو ’’سینٹ ویلنٹائن ‘‘سے بھی منسوب کیا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں محمد عطاء اللہ صدیقی لکھتے ہیں : ’’ اس کے متعلق کوئی مستند حوالہ تو موجود نہیں البتہ ایک غیر مستند خیالی داستان پائی جاتی ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں ویلنٹائن نام کے ایک پادری تھے جو ایک راہبہ کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہوئے۔ چونکہ مسیحیت میں راہبوں اور راہبات کے لیے نکاح ممنوع تھا۔ اس لیے ایک دن ویلنٹائن نے اپنی معشوقہ کی تشفی کے لیے اسے بتایا کہ اسے خواب میں بتایا گیا ہے کہ فروری کا دن ایسا ہے اس میں اگر کوئی راہب یا راہبہ صنفی ملاپ بھی کر لیں تو اسے گناہ نہیں سمجھا جائے گا۔ راہبہ نے ان پر یقین کیا اور دونوں جوشِ عشق میں یہ سب کچھ کر گزرے۔ کلیسا کی روایات کی یوں دھجیاں اُڑانے پر ان کا حشر وہی ہوا جو عموماً ہوا کرتا ہے یعنی انہیں قتل کر دیا گیا۔ بعد میں کچھ منچلوں نے ویلن ٹائن کوشہیدِ محبت کے درجہ پر فائز کرتے ہوئے اس کی یادمیں دن منانا شروع کر دیا۔ چرچ نے ان خرافات کی ہمیشہ مذمت کی اور اسے جنسی بے راہ روی کی تبلیغ پر مبنی قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سال بھی مسیحی پادریوں نے اس دن کی مذمت میں سخت بیانات دیے۔ بینکاک میں تو ایک مسیحی پادری نے بعض افراد کو لے کر ایک ایسی دکان کو نذرآتش کر دیا جس پر ویلنٹائن کارڈ فروخت ہورہے تھے۔

اسی طرح اس کی تاریخ مسیحی راہب ولنٹینس یا ویلنٹائن سے یوں جڑی ہے کہ جب رومی بادشاہ کلاودیوس کو جنگ کے لیے لشکر تیار کرنے میں مشکل ہوئی تو اس نے اس کی وجوہات کا پتہ لگایا، بادشاہ کو معلوم ہوا کہ شادی شدہ لوگ اپنے اہل وعیال اور گھربار چھوڑ کر جنگ میں چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو اس نے شادی پر پابندی لگادی لیکن ویلنٹائن نے اس شاہی حکم نامے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف خود خفیہ شادی رچالی، بلکہ اور لوگوں کی شادیاں بھی کرانے لگا۔ جب بادشاہ کو معلوم ہوا تو اس نے ویلنٹائن کو گرفتار کیا اور 14فروری کو اسے پھانسی دے دی۔ ایک اور روایت کے مطابق ویلنٹائن ڈے کا آغاز قدیم روم میں ہوا تھا جہاں اسے یومِ تولید یا بارآوری کے طور پر منایا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایک مسیحی تہوار بن گیا۔

ویلنٹائن ڈے کے متعلق سب سے زیادہ مشہور واقعہ کچھ یوں ہے کہ اس کا آغاز رومن سینٹ ویلنٹائن کی مناسبت سے ہوا جس کو مذہب تبدیل نہ کرنے کی وجہ سے قید و بند کی صعوبتوں میں رکھا گیا۔ قید کے دوران ویلنٹائن کو جیلر کی بیٹی سے محبت ہو گئی اور اس کو پھانسی پر چڑھانے سے پہلے اس نے جیلر کی بیٹی کو الودعی دعوت نامہ لکھا جس پر دستخط سے پہلے لکھا تھا ’’ تمہارا ویلنٹائن‘‘۔ یہ واقعہ14فروری 279عیسوی کو پیش آیا اس کی یاد میں اس دن کو منایا جاتا ہے۔

تاریخی روایت کے مطابق سب سے پہلے ویلنٹائن ایک لڑکی ایسٹر ہالینڈ نے منایا جو کہ ماؤنٹ ہولیوک کالج کی طالبہ تھی وہ پہلی انسان تھی جس نے امریکا میں ویلنٹائن ڈے منایا۔ اس نے ربن، رنگین تصویریں اور تسموں سے ویلنٹائن ڈے کو رنگین اور رومانوی بنا یا۔ اس کے بعد یہ دن مختلف ممالک میں حکومتی سطح پر اور عوامی سطح پر منایا جانے لگا۔

مختلف ممالک میں ویلنٹائن ڈے کا جائزہ لیا جائے تو یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ اسلامی ممالک کے علاوہ بعض غیر اسلامی ممالک میں بھی اس تہوار کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ بی بی سی کی تیار کی گئی گذشتہ سال کی رپورٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ویلنٹائن ڈے امریکہ اور یورپ کے صرف چند مخصوص علاقوں میں اہتمام کے ساتھ منایا جاتا ہے جبکہ یورپ کے بھی بعض شہروں میں عیسائی پادریوں کی جانب سے اس تہوار کی پُر زور مذمت کی جاتی ہے۔ جنوبی افریقہ کا جزیرہ ’’ روبن‘‘ افریقی رہنما نیلسن مینڈیلا کے ایامِ اسیری کی نسبت سے مشہور رہا ہے۔ مگر سن 2000ء سے چودہ فروری کو وہاں محبت کے نام پر بڑی بڑی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے جن میں دنیا بھر سے جوڑے حصہ لیتے ہیں۔ اسی طرح تھائی لینڈ میں یہ تہوار باقاعدہ طور پر حکومتی سطح پر منایا جاتا ہے اور وہاں شرح پیدائش میں اضافہ کے لیے شادی شدہ و غیر شادی شدہ جوڑوں کو مفت گولیاں دی جاتی ہیں تاکہ ملک کی گرتی ہوئی شرحِ پیدائش میں بہتری آئے۔ حکام کے مطابق یہ گولیاں فولاد اور فولِک ایسڈ پر مشتمل ہیں۔ گذشتہ سال کی رپورٹ کے مطابق ممکنہ طور پر مائیں بننے کی حامل خواتین کو دی جانے والی ان گولیوں پر 28 ہزار ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کی گئی۔

انڈونیشیا میں بھی اس تہوار کی مذمت کی جاتی ہے اور نوجوانوں کو اس سے روکا جاتا ہے۔ گذشتہ سال انڈونیشیا کے بعض علاقوں میں حکام نے طلبہ کے ویلنٹائن ڈے منانے پر یہ کہہ کر پابندی عائد کی تھی کہ یہ جنسی بے راہ روی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ مکاسر کے شہر میں پولیس نے دکانوں پر چھاپے مار کر کونڈوم کے شیلف توڑ ے۔ انڈونیشیا کے دوسرے بڑے شہر سورابایا میں طلبہ کو تلقین کی گئی کہ وہ اسے ثقافتی اقدار کے خلاف ہونے کی وجہ سے نہ منائیں۔ ملائشیا میں بھی ویلنٹائن ڈے کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیاجاتا ہے۔ گذشتہ سال نیشنل مسلم یوتھ ایسوسی ایشن نامی تنظیم نے خواتین اور لڑکیوں پر زور دیاتھا کہ وہ جذباتی علامتوں اور تیز خوشبو کے استعمال سے اجتناب برتیں۔ تنظیم نے اس موقع پر ویلنٹائن ڈے مخالف پوسٹر بھی آویزاں کیے تھے۔ ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں مذہبی احکام پر عمل درآمد کرانے کے ذمے دارحکام نے ویلنٹائن ڈے سے قبل بڑے ہوٹلوں اور عوامی پارکوں میں چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران متعدد لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا جس میں زیادہ تر نوجوان شامل تھے۔ ملائشیا کے مذہبی حکام نے نام نہاد یوم محبت کے خلاف ایک مہم شروع کی تھی جس کا مقصد لوگوں کو اخلاق باختہ اس مغربی رسم کو منانے سے باز رکھنا تھا۔ انہوں نے ویلنٹائن ڈے کی مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اسلامی تعلیمات کے منافی کسی بھی حرکت کو مسترد کردیں گے۔

جاپان جو کہ بر اعظم ایشیا کا ایک بڑا ملک ہے۔ وہاں بھی ویلنٹائن ڈے منانے سے منع کیاجاتا ہے۔ گذشتہ سال بھی جاپان میں ایک مارکسٹ گروپ نے ٹوکیو میں ایک بڑا بینر آویزاں کیا جس پر لکھا تھا’’ ویلنٹائن ڈے کو پاش پاش کر دو‘‘۔ خواتین کے لیے بے کشش مردوں کا انقلابی اتحاد کے نام سے جانے والے اس گروپ کا کہنا تھا کہ محبت کے برسرِ عام اظہار سے ان کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ اس کے جماعت کے ارکان نے’’برسرِعام بوس وکنار دہشتگردی ہے‘‘ کے بعرے لگائے تھے۔ اس گروپ کے تعلقات عامہ کے سربراہ، تاکایوکی اکیِموتونے اعلان کیا تھا کہ ہم محبت کو سرمایہ نہیں بننے دیں گے۔ یہ تہوار ہمیں کمتر ثابت کرنے کی سازش ہے۔ بحرین اور متحدہ عرب امارات میں ویلنٹائن ڈے کی تقریبات پر زیادہ زور نہیں دیاجاتا۔ میڈیا پر بھی اس تہوار کو اہمیت نہیں دی جاتی، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ خود بخود اس تہوار سے دور رہتے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق چرچ نے بھی ان خرافات کی ہمیشہ مذمت کی اور اسے جنسی بے راہ روی کی تبلیغ پر مبنی قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ 2016ء میں بھی مسیحی پادریوں نے اس دن کی مذمت میں سخت بیانات دیے۔ مسیحی پادریوں کی اس تہوار سے نفرت کا عالم یہ ہے کہ گذشتہ سال بینکاک میں ایک مسیحی پادری نے بعض افراد کو لے کر ایک ایسی دکان کو نذرآتش کر دیا تھا جس پر ویلنٹائن کارڈ فروخت ہورہے تھے۔ سعودی عرب میں اس تہوار پر مکمل طور پر پابندی ہے۔ وہاں پولیس اس دن کی مناسبت سے فروخت ہونے والی اشیاء یعنی پھول اور کارڈ وغیرہ کے بارے میں چوکنا رہتی ہے۔

پاکستان کے پڑوسی ملک اگربھارت کو دیکھا جائے تو وہاں بھی ویلنٹائن ڈے کی مخالفت کی جاتی ہے۔ بھارت میں ویلنٹائن ڈے پر اظہار محبت کرنے کا مطلب ہے: ’’عمر بھر کی قید ‘‘ یعنی محبوب سے شادی۔ انتہاء پسند ہندو تنظیم مہاسبھا نے اعلان کررکھا ہے کہ ویلنٹائن ڈے پر پارک، تاریخی عمارتوں یا دیگر عوامی جگہیں کہیں پر بھی محبت کا کُھلم کُھلا اظہار ہوا تو جوڑے کی زبردستی شادی کروا دی جائے گی۔ جوڑے کے انکار پر ان کے والدین سے رابطہ کیا جائے گا۔ گذشتہ سال اس تنظیم نے اعلان کیا تھا کہ دہلی میں ان کی آٹھ ٹیمیں ویلنٹائن ڈے پر فعال ہوں گی جو اظہار محبت کرنے والوں کو گرفتار کریں گی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں دائیں بازو کی انتہاء پسند تنظیم ہندو مہاسبھا کے قومی صدر چندرا پرکاش کاؤشک سے منسوب ایک بیان میں کہا تھا کہ ہم محبت کے خلاف نہیں ہیں لیکن ہمارا یہ کہنا ہے کہ اگر کنوارے نوجوان ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں تو ہر حال میں اُن کی شادی ہو جانی چاہیے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے بھارت میں بھی ویلنٹائن ڈے کو خاطر خواہ پذیرائی حاصل نہیں ہے۔

پاکستان میں گذشتہ چند سالوں سے ’’روشن خیال‘‘ طبقوں کی جانب سے اس تہوار کو بہت زیادہ اہمیت دینے کے ساتھ ساتھ اس کو مزید پروان چڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پاکستان میں ویلنٹائن ڈے کا تصور نوے کی دہائی کے آخر میں ریڈیو اور ٹی وی کی خصوصی نشریات کی وجہ سے مقبول ہوا۔ گذشتہ کئی سالوں سے مختلف ذرائع ابلاغ اور خصوصاً مغربی میڈیا ویلنٹائن ڈے کے نام سے انسانی معاشرے میں بے ہودگی، آوارگی، ذہنی عیاشی، اخلاقی بے راہ روی اور ناجائز خواہشات کو فروغ دینے میں لگے ہوئے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ دن یعنی 14فروری کو نوجوانوں کے لیے ’’عالمی یوم محبت ‘‘اور ’’ یوم تجدید محبت ‘‘ کے طور پر منایا جاتاہے، نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کو تحائف اور پھول وغیرہ پیش کرتے ہیں، سرخ گلاب دیے جاتے ہیں، نئی نئی دوستیاں کی جاتی ہیں، ناآشناؤں سے شناسائی پیدا کی جاتی ہے اورپھر اس کی آڑ میں شہوت پرستی، عیاشی، ہوس رانی، آبرو باختگی اور جنسی جذبات کی تسکین کا وہ غیر اخلاقی و غیر اسلامی اور ناجائز سامان کیا جاتا ہے جس کو سن کر غیرت مند شخص کی روح کانپ اٹھتی ہے۔ پاکستان میں گذشتہ دو تین سالوں سے اس دن کے جشن منانے کا جذبہ نوجوانوں میں جوش پکڑتا جا رہا ہے۔ لیکن گذشتہ سال پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ہائی کورٹ نے عوامی سطح پر ویلنٹائن ڈے کی تقریبات کو مسلم ثقافت کے منافی قرار دیتے ہوئے پابندی عائد کر دی تھی۔ ویلنٹائن ڈے کو حالیہ برسوں کے دوران مقبولیت ملی ہے تاہم بعض ناقدین اسے مغرب کی ثقافتی یلغار گردانتے ہیں۔ عدالت نے ویلنٹائن ڈے کی تقریبات کی کوریج پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس کے باوجود پاکستان میں یہ تہوار انتہائی جوش و خروش سے منایا گیا۔ حالانکہ یہاں کا ماحول یورپ جتنا سازگار نہیں ہے اور آبادی کا معتدبہ حصہ اس دن کی تقاریب کو قبیح مانتا ہے لیکن میڈیا کی خصوصی نشریات کی وجہ سے اس تہوار کو بہت مقبولیت حاصل ہوجاتی ہے۔ پھولوں اور کارڈ ز کی فروخت میں کئی سو گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پربھی دونوں طرح کے رجحانات پائے جاتے ہیں۔ لیکن اکثرلوگ اس تہوار کی مخالفت اور اس کے بائیکاٹ کی مہم چلاتے ہیں۔

اگر اس تہوار کے معمولات کا جائزہ لیاجائے تو یہ بات روزِروشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اس کا مقصد محبت عام کرنا نہیں بلکہ بے حیائی کے کلچر کو عام کرنا ہے۔ غیر محرم لڑکوں اور لڑکیوں کو آپس میں غیر اخلاقی افعال کی طرف راغب کرنا ہے اور محبت کی آڑ میں جنسی اور شہوانی خواہشات کو تسکین پہنچانا ہے۔ ہمیں بحیثیت مسلمان اس تہوار سے اجتناب کرنا چا ہیے۔ سینٹ ویلنٹائن کی یاد میں جب عیسائی پادری اور چرچ خود اس تہوار کی مخالفت میں بیان دیتے اور اس سے منع کرتے ہیں تو مسلمانوں کو بدرجۂ اولیٰ اس سے باز رہنا چاہیے۔ نیز پاکستان میں بھی حکومتی سطح پر اس تہوار کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔



⋆ محمد ریاض علیمی

محمد ریاض علیمی

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

جنت میں ادنیٰ مومن کا مقام

 اللہ رب العزت نے کائنات بنائی اور اس میں انسانوں کی تخلیق کی تاکہ وہ اللہ کی بندگی کرتے ہوئے اپنی زندگی گزاریں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اچھائی اور برائی دونوں چیزوں کااختیار دیا۔ پھر اس کے بعد یہ بھی متعین کردیا کہ جو لوگ اللہ رب العزت کی بندگی میں اپنی زندگی اچھائی یعنی نیک کاموں میں گزاریں گے، ان کے لیے آخرت میں بہت بڑا اجر اور کثیر انعامات ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ اپنی زند گی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں گزاریں گے ان کے لیے آخرت میں درد ناک عذاب ہوگا۔ یہی سزا اور جزا کا عمل رب کی جانب سے عدل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے