پتھر کا دور

ام ہشام نوریہ

 بیشک دنیا آج ترقی کی اس مقام پرجاکھڑی ہوئی ہے, جہاں سے نہ تواسکی طے شدہ مسافت کو ریکارڈکیا جاسکتاہے,نہ ہی اسکی آئندہ سرگرمیوں وکارکردگی پر نظر بنائے رکھی جاسکتی ہے۔ ہاں بس ظن وقیاس کی عینک سے پل پل رنگ بدلتی اس دنیا کو تبدیل ہوتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ٹیکنالوجی کی بدولت ہماری زندگی کا ہر شعبہ آج ننانوے کی رفتار سے دوڑ رہا ہے، لیکن اس تیز رفتار زندگی سیکیا ہمارے سارے مسائل حل ہوگئے یا ان میں اور اضافہ ہوا ہے؟صورتحال یہ ہیکہ انسان ترقی کے نام پرکسی ایسی جگہ پہنچ گیا ہے جس جگہ کاوہم وگمان بھی اس نے نہیں کیا تھا!

 وہ ”اجالوں” کا شیدائی تھا برقی روشنی اسے ماحول کی تاریکی سے نکال تو لائی،لیکن! دل بجھ گئے,دلوں سے محبت,عزت واحترام غمگساری جیسے جذبات رخصت ہوگئے -کتابیں سمٹ کر الماریوں اور صندوقوں کی زینت بن گئیں ,رشتے ناطوں کی خبر گیری انگلیوں کے پوروں پر ہونے لگی۔ بوڑھے والدین بچوں کے محبت بھرے لمس اور مسکراہٹ کو ترستے ہوئے اپنے کمرے تک ہی محدود ہوگئے – بڑیاپنی باری آنیکا نتظار کرنے لگے کہ کب فون چارج پر لگے گا اور انھیں اپنے بچوں کے ساتھ گفت وشنید کا تھوڑا سا موقع ملیگا – اذکار وتلاوت,درس قرآن اور درس حدیث کی جگہ…”زیادہ سے زیادہ شئیر کریں اور ثواب کے حقدار بنیں ” جیسے فاروڈڈ میسجز نے لے لی- اس قدر ضعیف اور من گھڑت احادیث و اقوال صحابہ کو پھیلایا گیا کہ معاذ اللہ………… بالخصوص دوستی اورعشق و محبت کے تعلق سے جس قسم کے گھٹیا اور بیہودہ جملوں کو حضرت علی سے منسوب کیاگیا وہ نہایت افسوسناک اور قابل گرفت عمل ہے۔

ہر دوسرے ہاتھ میں جدید طرز کا فون یے جس میں ساری دنیا بھر کے رابطے موجود ہیں اور وہ ہر نئے اور انجان رشتے کو نبھاتا بھی ہے۔پھر بھی ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد کء کء دنوں تک ایک ساتھ مل بیٹھ کر باتیں نہیں کرپاتے۔ کسی کو خبر نہیں ہوتی کہ کس کی زندگی میں کیا چل رہا یے,اور گھر کا ایک مکین کن مسائل سے دو چار ہے۔آج کوئی جیے یا مرے،کسی کی عزت و عصمت سر بازار اتاردی جائے یا کسی کو زندہ جلادیا جائے, یا پھرکسی کیچہرہ پر سرعام تیزاب انڈیل دیاجائے – کوئی آگے بڑھکر روکنے والا نہیں ہے،سینکڑوں کی بھیڑ میں ایک عورت اپنے معصوم بچوں سمیت بھوک,غریبی,اور قرض سے تنگ آکر سرکاری دفتر کے سامنیخود کو آگ لگالیتی ہے سارا مجمع خاموش تماشائی بنکر فقط اپنے اپنے ہاتھوں کو اوپر اٹھائے ویڈیو بنانے میں مشغول رہا – ایک دوست کو چڑیا گھر میں شیر کھاگیا دوسرا دوست ویڈیو بنانے میں لگارہا۔اسپتال میں عورت کی تازہ لاش کو کتے بھنبھوڑ کر کھاتے رہے اسپتال کا عملہ ویڈیو بناتا رہا۔ کیا واقعی ہم انسان ہیں ……..

کیا یہ وہی دور ترقی ہے, جسکے لئے انسان نے اپنا سب کچھ نچھاور کردیا ہیاپنا وقت پیسہ،نیند،آرام،چین وسکون،رشتے،ناطے پیار محبت،مروت وہمدردی سب کچھ۔اگر یہی ترقی ہوتی ہے،کہ انسان انسان کی عزت وخون کا پیاسا ہوجائے، تو کیا فائدہ ایسی ترقی کا جس میں انسان جنگلی جانوروں سے بھی بدتر درجہ پر آجائے۔ جنگل کے جانور بھی ہم انسانوں سے حد درجہ اچھے ہوتے ہیں کبھی جانوروں کے جھنڈ سے کسی ایک جانور پر حملہ کرکے نتیجہ دیکھ لیجیے!! سارا قبیلہ پل بھر میں آپکی بوٹیاں نوچ لے گا۔ لیکن یہ انسانوں کاقبیلہ ہے,ماڈرن انسانوں کا یہاں ”بچاو ” اور ”چھپاو ” سے زیادہ ”اپ لوڈ ” کرنے کی ہوڑ مچی ہوئی ہے۔

 خدمت خلق اور انسانیت کی بے لوث خدمت کا جذبہ رکھنے والے بہت سے متوالے اسطرح کے دلدوز,وحشتناک واقعات کو جلد سے جلد بیس پچیس الگ الگ گروپس میں اپ لوڈ کرنے کی انتھک کوششوں میں بھی لگ جاتے ہیں ۔اور یہ فرض کرلیتے ہیں کہ وہ بہت ہی کھلے قسم کے،اعلی سطح کے سماجی خدمت گار ہیں ۔

 یہ دور ترقی نہیں بلکہ” پتھر کا دور ” ہے جہاں انگلیاں چلتی ہیں اور دل ودماغ اسکے اشاروں پر ناچتے ہیں -غور کریں تو سمجھ آتا یے کہ،انسان جہاں سے چلا تھا وہیں آکر ٹھہرگیا ہے۔ اس سے بہتر تو وہ پتھر کا دور تھا جہاں انسان خانہ بدوشی کی حالت میں ہی سہی،لیکن اپنوں کیساتھ گروہ بناکر رہتا اور جہاں ہوتا اسکا قبیلہ اسکے ساتھ ہوتا۔ ہم تو ساتھ رہ کر بھی تنہا ہیں -آج کا انسان ترقی کیزعم میں اتنا آگے بڑھ گیا کہ اب نہ بزرگوں کی دعائیں اور انکی انمول رہنمائی کا وہ خواہشمند اور طلبگار ہے,نہ ہی انکے تجربوں کی روشنی اسے چاہیے,اور تو اور آج اپنی سگی اولاد کے لیے بھی اس کے پاس وقت نہیں بچا, ورنہ والدین کی توجہ اور محبت کے ترسے ہوئے یہ بچے،کیوں اسکول میں اپنی ٹیچر کے سامنیٹی وی, اور اسمارٹ فون بننے کی خواہش کا اظہار کرتے…..

 انسان کے قریبی رشتے دار مزید ”دور ”کے رشتے دار بنتے گئے,اور پڑوسی ازلی دشمن کا روپ دھار گئے۔ ایک ہی بستر پر دراز دو لوگ ہاتھوں میں فون تھامے اجنبیوں کی ماننداپنی اپنی دنیا میں کھوگئے۔انسانیت,محبت,خیر خواہی اور غمگساری جیسے الفاظ اب اس ڈیجیٹل دنیا سے عنقاء ہوچکے ہیں۔ ٹیکنالوجی صرف ایک میڈیم ہے،ایک ذریعہ ہے جو آپکے پیغام،نظریے،صلاحیت کو کم وقت میں دنیا کے سامنے پریزینٹ کرسکتی ہے۔بس اس سے زیادہ کی توقع کرنا فضول ہے۔ا پنی قابل قدر استعداد کو بچاکر رکھیے کیونکہ آپکے اردگرد بھی ایک دنیاہے جسے اصل دنیا کہا جاتا ہے اور اس دنیا کو آپکی زیادہ ضرورت ہے دن بھرسوشل ساٰیٹ پر,بلاوجہ کے بحث ومباحث میں انسان کا شامل رہنا یہ ایک ایسی لاشعوری عادت بن چکی ہے جس نے اچھے اچھوں کی فکرواستعداد کا خون کا کردیا ہے۔ دکھی انسانیت کو اسکے درد کا مداوا چاہیے اور برقی رشتے ناطے اس کا بدل نہیں ہوسکتے ٹیکنالوجی کبھی کسی رشتے کی جگہ نہیں لے سکتی۔ لہذا وقت دیں !!

خود کو بھی اور اپنوں کو بھی یہی زندگی کی اصلی خوبصورتی ہے – اور معاشرتی طور پر اگر کسی کی عزت بحال نہیں کرسکتے تواسکی رسوائی کا ذریعہ بھی نہ بنیں- بلاوجہ اپنے نفس پر ان ناکردہ گناھوں کا بوجھ نہ ڈالیں جو محض آپ کی شیئرنگ اور فاروڈنگ کیوجہ سیآپ پر مسلط کئے جائیں گے- اور آپ ان کے لیے جوابدہ ہوں گے۔



⋆ ام ہشام نوریہ

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے