نقطہ نظر

پروردگار سی بی آئی کو فرض ادا کرنے کی توفیق دے!

حفیظ نعمانی

گذشتہ سال اکتوبر میں بھوپال میں آٹھ مسلمان لڑکوں کو پولیس نے گولیوں سے بھون دیا۔ بعد میں بتایا گیا کہ یہ سی می کے لوگ تھے جو ایک پولیس افسر کو مارکر جیل سے فرار ہوگئے تھے۔ اس قتل پر مدھیہ پردیش کے بدنام وزیر اعلیٰ نے پولیس والوں کی تعریف میں زمین آسمان ایک کردیا۔ وزیر اعلیٰ چوہان کی اُڑائی ہوئی دھول جب صاف ہوئی تو سیکڑوں سوال کھڑے ہوگئے اور ہم نے بھی جو ہمارے اوپر فرض تھا وہ لکھا۔ دس مہینے کی جدوجہد کے بعد خدا خدا کرکے سپریم کورٹ نے حکومت سے معلوم کیا ہے کہ اس کی سی بی آئی جانچ کیوں نہیں کرائی گئی؟ اور جواب کے لئے چار ہفتے کی مہلت دی ہے۔

یہ بات تقریباً 15  سال پرانی ہے کہ جدید عمل نام کے ایک اخبار کی ذمہ داری ہمارے اوپر تھی۔ ہم نے ایک دن مغرب کی نماز کو جاتے ہوئے ایک مسجد کے برابر کی عمارت پر ایک پوسٹر لگا دیکھا۔ 20×30  سائز کا بڑا پوسٹر تھا ہرے اور کالے رنگ سے چھپا ہوا تھا بہت بڑا فوٹو بابری مسجد کا تھا اور اس کے نیچے جلی میں لکھا تھا۔

الٰہی بھیج دے محمود کوئی

آج پندرہ سال کے بعد بھی جب یاد آتا ہے تو کانپ جاتا ہوں اس دن کی مغرب کی نماز تو شاید اس حماقت اور جہالت کی ہی نذر ہوگئی ہوگی۔ ہم نے سی می کے بارے میں جو بھی معلوم تھا وہ سب لکھ دیا اور پوسٹر چھاپنے والوں سے بھی معلوم کیا کہ جب بابری مسجد کو شہید کرنے کے لئے پانچ لاکھ سے زیادہ اسلام کے دشمن پاگل ہورہے تھے تو محمود غزنوی اگر آتے بھی تو کیا کرتے؟ اور وہ جس زمانے میں آتے تھے اس وقت کا ہندوستان کیا تھا اور آج کا ہندوستان کیا ہے؟ ہم جتنا سمجھا سکتے تھے سمجھایا اور جو کہہ سکتے تھے کہا۔ اس مضمون کے چھپنے کے تیسرے دن ٹیلیفون آیا کہ چند نوجوان آپ سے ملنے آئے ہیں ۔ ہم سمجھ گئے ہم نے کہا ان کو بٹھائو پانی پلائو اور کہہ دو کہ ہم عیش باغ میں ہیں آرہے ہیں ۔ آدھے گھنٹے کے بعد ہم آئے تو سب کے تیور ایسے تھے جیسے ہم نے جہاد کے دوران ان کے ہاتھ سے تلوار چھین لی ہو۔ اور اس کے بعد ہم نے ایک باپ یا چچا کی حیثیت سے کافی دیر تک بہت ٹھنڈے انداز سے ان سے کہا کہ بیٹو تم کیا کررہے ہو یہ تو خودکشی ہے؟ خدا کا شکر ہے کہ وہ ٹھنڈے ہوئے اور ان کا جوش جہاد جو صرف ایک پوسٹر اور چند کتابچوں پر منحصر تھا کم ہوا۔ ہم نے چائے پلاکر سب کو رخصت کیا اور کہا کہ ہم بھی دعا کریں گے کہ اس پوسٹر کے عذاب سے اللہ رحیم و کریم تم سب کو محفوظ رکھے۔ لیکن دو دن کے بعد ہی خبر آئی کہ سی می کے ہیڈکوارٹر پر چھاپہ پڑا اور وہاں سے وہ سب نکلا جو ایسے موقعے پر پولیس برآمد کرنے کے لئے اپنے ساتھ لاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ صرف ایک پوسٹر نے نہ جانے کتنی زندگیاں برباد کردیں یہ لڑکے کسی زمانہ میں جماعت اسلامی کا نیا خون تھے۔ جیسے بی جے پی کا وِدیارتھی پریشد اور ہر پارٹی کا اسٹوڈنٹ شعبہ ہوتا ہے۔ ان لڑکوں کے لئے سنا ہے کہ جماعت اسلامی نے ایک کمرہ دے دیا تھا لیکن یہ دین کے صرف ایک رُکن جہاد کے گرد گھومتے رہے۔ انہیں جب راہ راست پر لانا چاہا تو انہوں نے جماعت کو بھی بزدل اور موقع پرست کا طعنہ دے دیا جماعت نے انہیں پیار دلار کے ساتھ رخصت کیا تو وہ اور بے قابو ہوگئے۔ سنبھل سے ایک خبر آئی کہ دو لڑکے القائدہ سے تعلق میں پکڑے گئے۔ ایک کے مالی حالات بہت کمزور ہیں اور وہ ہمارے خاندانی مکان کی پشت پر رہنے والا لڑکا تھا۔ مارچ میں سنبھل گئے تو گہرائی سے معلوم کیا کہ سنبھل میں القائدہ کہاں سے آگئی؟ معلوم ہوا کہ جو تھوڑا سا پڑھنا آتا تھا اس کا خمار یہ تھا کہ فاقے بھی تھے اور حضرت ضرار کی طرح گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر بیٹھ کر ہر وقت جہاد بھی ہوتا تھا۔ زیادہ بک بک کرنا جاہل ہوتے ہوئے عالم بننا اور دوسروں کی دولت سے جلنا اور اپنی قربت کا علاج جہاد سمجھنا اور اسامہ بن لادن کو نہ جانتے ہوئے بھی قصیدے پڑھنا زندگی برباد کرگیا۔

ہر حکومت کے نزدیک مسلمان ہر وقت جہاد کے موڈ میں رہتا ہے ہندو جو چاہیں کریں جو چاہیں کہیں کوئی سنتا بھی نہیں اور مسلمان کو چھینک بھی آجائے اور وہ الحمد للہ کہے تو غور سے دیکھتے ہیں کہ اس نے کیا کہا؟ اب ہم اپنے بچوں کو کیا بتائیں کہ لشکر طیبہ، جیش محمد یا القائدہ جیسی تنظیموں کے لئے ضروری ہے کہ حکومت بھی مسلمانوں کی ہو اس کافرستان میں جہاں مسلمان آبادی کا چھٹا حصہ ہوں وہاں کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے معتبر علمائے دین سے مشورہ کرنا چاہئے۔

سی می نے خودکشی تو اس دن کرلی تھی جس دن ان لڑکوں نے جماعت اسلامی کے منجھے ہوئے اور علم سے بھرے ہوئے اپنے بڑوں کی نافرمانی شروع کردی تھی۔ انہیں جب سمجھایا تھا تو وہ کیوں اسامہ بن لادن بن گئے؟ ہندوستان کا ہر مسلمان جانتا ہے کہ ہندوستان کے ہر ہندو کو محمود غزنوی کے بارے میں کیسی کیسی کہانیاں جاہلوں نے بتائی ہیں ۔ کوئی بھی مسلمان اللہ تعالیٰ، حضور رسول اکرمؐ اور اصحاب کرامؓ کا رات دن نام سے مالا جپے لیکن محمود غزنوی کا نام اگر ایک بار لے لیا تو اس سے بڑا دشمن کوئی نہیں ہے۔ دوسرا نام بابر کا ہے۔ بابری مسجد کا نام اگر بابری مسجد نہ ہوتا تو وہ آج بھی اسی طرح شان و شوکت کے ساتھ مسلمانوں کو دوڑو فلاح کی طرف کہہ کر بلا رہی ہوتی۔

جیل کے بارے میں ہم بہت لکھ چکے ہیں ۔ اگر جیل کا ہر افسر ملا ہوا نہ ہو تو اس کا سوال ہی نہیں کہ کوئی کتا بھی جیل سے بھاگ جائے۔ جو کچھ ہوا وہ سب اس لئے ہوا کہ وہ مقدمہ سے بری ہونے والے تھے انہیں جان بوجھ کر مار دیا گیا۔ سپریم کورٹ کا حکم سلامت اگر سی بی آئی ایمانداری سے تحقیقات کرے گی تو اس لئے سب چھوٹ جائیں گے کہ سی می کے نام سے جو بھی کہا ہے اور جس نے بھی کہا ہے وہ کانگریس کی حکومت ہو، اس کی خفیہ پولیس ہو، اس کی انتظامیہ ہو، سب جھوٹ ہے اور صرف وہ ایک پوسٹر ہے جس میں محمود غزنوی کو بلانے کیلئے اللہ سے فریاد کی گئی ہے۔ اور اسی انداز کے کچھ پمفلٹ ہیں یا جہاد سے متعلق کچھ کتابیں ہوں گی۔ وہ بھی بے ضرر۔

ٹی وی پر بار بار دکھایا گیا کہ ایک آدمی دور ایک تخت پر کھڑا ہے سامنے مائک ہے اور تخت کے کونہ پر ایک مزدور بیٹھا ہے۔ تقریر کرنے والا ہاتھ ہلا ہلاکر کچھ کہہ رہا ہے لیکن کیا کہہ رہا ہے ایک لفظ سننے میں نہیں آتا یہ وہی حرکت ہے جو مئو کے فساد میں کی تھی کہ مختار انصاری جیپ کے بونٹ پر بیٹھے ہیں جیپ چل رہی ہے اور وہ ہاتھ ہلاکر کچھ کہہ رہے ہیں آواز بند ہے۔ پولیس کا الزام ہے کہ وہ مسلمانوں سے ہندوئوں کو مارنے کے لئے کہہ رہے تھے اور مختار انصاری کہتے ہیں اور سچ کہتے ہیں کہ وہ بھائی چارہ بنانے کی ہدایت دے رہے تھے۔ اس کا ثبوت یہ ہے وہ آج بھی مئو سے ایم ایل اے ہیں اور امت شاہ کے دو سو کروڑ پر انہوں نے تھوک دیا۔ خدا کرے سی بی آئی بے ایمانی نہ کرے اور وزیراعظم اسے چھوٹ دے دیں تو چوبان کا منھ کالا اور سی می کا ہر جوان باہر آجائے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close