نقطہ نظر

پھرن پہ پابندی، تہذیب پہ حملہ

عداوت اب سیاست ہوگئی ہے

ایم شفیع میر

’’پھرن‘‘ کشمیری لباس کا ایک جزوِ لاینفک ہے جسے تمام کشمیری بلا تمیز مذہب و سکونت، عمر، جنس اورثروت موسم سرما کے دوران خاص طور زیب ِ تن کرتے ہیں۔ پھرن زمانۂ قدیم سے ہی اس خطے میں زیر استعمال چلا آیا ہے۔ یہ ایک ڈھیلا ڈھالاچوغہ نما لمبا چوڑاکر تا ہوتا ہے جسے بعض لوگ’’پیرہن ‘‘ کا مترادف قرار دیتے ہیں۔ دورِ جدید میں اگر چہ شدید سردیوں سے بچنے اور گرمی کا بندوبست کر نے کے لئے بہت ساری برقی چیزیں کشمیر کے گھر گھر میں موجود ہیں مگر اس کے باوجود پھرن کی اپنی کلیدی اہمیت کشمیر کے گوشے گوشے میں روز اول کی طرح اپنی جگہ بر قرار ہے، حتیٰ کہ آج بھی ہرکشمیری دُلہن کے شادی کے جوڑے میں طلائی کشیدہ کاری سے مزین پھرن کاموجود ہونا لازم وملزوم ہے۔ ان ٹھوس حقیقتوں کو نکارنا آسمان کو تھوکنے کے بر ابر ہے مگر ہمارے ارباب ِ حل وعقد کی کرم فرمائی دیکھئے کہ بجائے اس کے کہ یہ عوامی مسائل حل کر یں، لوگوں کی بنیادی ضروریات کا سامان کر یں، کشمیر کے طول وعرض میں ہورہی بد ترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکیں، یہ لوگ پھرن کے استعمال پر پابندی عائد کر نے کا نیا تنازعہ کھڑا کر چکے ہیں۔ کیا ان کا یہ تازہ فرمان کشمیری شناخت کو تکا بوٹی کر نے کی نیت پر دلالت کر تا ہے یا کہ یہ ایک نان ایشو کو ایشو بنانے کی سعی ٔ لاحاصل ہے ؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ ویسے بھی ریاست میں آئے روز کوئی نہ کوئی نیا ڈرامہ رچا کر اکثریتی عوام کوستایا جا تارہا ہے، مثلاً ریاست کی خصوصی آئینی حیثیت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ، افسپا جیسے کالے قانون کی دسیسہ کاریاں، گیسو تراشتی جیسے گھناؤنے جرائم، مساجد میں نمازوں پر قدغنیں، ماردھاڑ وغیرہ وغیرہ۔

ان حرکات سے ریاستی عوام کا نہ صر ف جینا محال کیا جارہاہے بلکہ امن شانتی اور بھائی چارے کا راستہ بھی کھوٹا کیا جارہاہے۔ آج تک حکام کی جانب سے طرح طرح کے ہتک آمیز فار مولوں سے ریاست کے مسلم طبقہ کو ستانے اور زیر کرنے کی ہزاروں داستانیں ہمارے اطراف واکناف میں اتنی بکھری پڑی ہیں کہ شمار کرنا بھی محال ہے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی یہ ہے کہ چند روز قبل اغیار کے اشارے پرحکم محکمہ تعلیم کی جانب سے پھرن پہننے پر پابندی کا حماقت آمیز حکم نامہ صادر کیا گیا۔ محکمہ تعلیم نے کیوں وادیٔ کشمیر کے روایتی لباس پھرن پہننے پر پابندی عائد کر دی، یہ ایک لاینحل گتھی ہے۔ اس پابندی نے کشمیر ی عوام میں ایک نئے تنازعے کی شکل اختیار کر لی۔ لوگ اس بچگانہ حرکت اور غیر سنجیدہ سرکاری فرمان پر شدید تاسف کا اظہار کر رہے ہیں۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ اس طرح کا غیرسنجیدہ فرمان کشمیر کی تہذیب پر راست حملہ ہے جسے کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ محکمہ تعلیم کی طرف سے اس سے قبل گیتا اور رامائن کو اسکولی نصاب کا حصہ بنانے کا منسوخ شدہ فرمان بھی اُس خفیہ حکومتی ایجنڈے کی نشاندہی کر تا تھا جو ہمارے مہربان حکمران ہم پر تھوپنا چاہتے ہیں۔

جموں وکشمیر کی مسلم اکثریت کا اس طرح کی آزمائشوں اور مظالم آمنا سامنا ہونا کوئی نئی بات نہیں لیکن آج کی تاریخ میں اس طرح کے متنازعہ حکم ناموں کا جاری ہونا ریاست پر مسلط حکمرانوں کی سیاسی کھوکھلے پن کا واضح ثبوت ہے۔ حق یہ ہے کہ آج تک ریاستی عوام نے جن سیاسی لٹیروں کو اپنی نمائندگی کیلئے چنا، انہوں نے بھی عوامی جذبات نمائندگی کے بجائے دلی کی دلالی کو ہی ہمیشہ ترجیح دی۔ یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ اگر ریاست کی نام نہاد سیاسی قیادت نے عوامی مسائل کو پہلی ترجیح ہوتی تو آج ریاستی عوام کو اس طرح کی  سنگین صورت حال کا سامنا بالکل نہ ہوتا کہ کشمیر یوں کا پھرن بھی اب راندہ ٔ درگاہ ٹھہرتا۔ انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ ریاستی مسلمانوں کا جینا اب ان کے لئے ایک چیلنج بناہوا ہے۔ پھرن پر پابندی اسی امر کی طرف بلیغ اشارہ ہے۔ اس حکم نامے کے خلاف لوگوں میں حیرت اور نا راضگی قابل فہم ہے  مگراس موضوع پر ریاستی سیاست دانوں کی نوٹنکی بازی بھی قابل ِدیدہے۔ ان لوگوں نے ہمیشہ اسی طرح کی ناٹک بازی سے اقتدار پایا اوراستحصال کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر کے صرف دلی کی جی حضوری کی، نہ ریاست کے حال ا ور مستقبل کی فکر کی، نہ یہاں کی تہذیبی شناخت کا غم کھایا۔  یہ اس طبقہ کی بے ہمتی، بے سمتی، ناعاقبت اندیشی، کم عقلی اور لوٹ کھسوٹ کا شاخسانہ ہی ہے کہ نوبت یہ آن پہنچی ہے کہ ریاستی عوام کو کیا پہننا چاہیے، کیاکھانا چاہیے اور کیا سوچنا چاہیے، یہ سب کچھ اب سرکار کو ہی طے کرنے کا اختیار ملا ہے۔ شایدمعرو ف شاعر راحت ؔاندوری کے یہ اشعار ہم پرہی صادق آتے ہیں    ؎

حادثہ ہو کہ نا ہو اس کی کوئی شرط نہیں
کیا خبر آئے گی اخبار کو طے کرنا ہے
اپنے گھر میں مجھے کیا کھانا پکانا کیا ہے
یہ مجھ کو نہیں سرکار کو طے کرنا ہے

پھرن پر پابندی کو جہاں کچھ ہمارے مفاد پرست سیاست دان غیر سنجیدگی سے لے رہے ہیں، وہیں ا س طرح کا اقدام ایک بڑا تہذیبی تصادم دِ کھتاہے۔ اس تصادم کے اثرات بروقت تاڑتے ہوئے کشمیر یوں کو بیدار ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ شایدجموں و کشمیر کے مسلمانوں کیلئے اس طرح کا اقدام خطرے کی ایک اور گھنٹی ہے۔ جمہوریت کے باوجود علی الخصوص کشمیریوں کے تئیں حکومت کے اس غیر جمہوری رویے کا توڑ نہ کیا گیا تو وہ وقت دور نہیں جب تہذیبی جارحیت سے تمام ریاستی مسلمانوں کا جینا اور بھی دوبھر کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ ریاست کی مسلم اکثریت اپنی تہذیبی شناخت ہی کھو بیٹھے گی۔ ذرا سوچئے اگر لداخ میں پھرن نما غونچے کو بالفرض ممنوعہ قرار دیا گیا ہوتا تو وہاں اس کااتنا  شدید عوامی ردعمل ہواہوتاکہ دلی بھی تھرااُٹھتی۔ سوال یہ بھی ہے اگر مودی نے کشمیر میں اپنی الیکشن ریلی میں فخر اً اُسی طرح پھرن کوپہنا جیسے اندر گاندھی اور سونیا گاندھی کشمیر آکر کشمیری پھرن زیب ِتن کر چکی تھیں تو کیا یہ اُن کی سیاسی ڈرامہ بازی تھی ؟عقل کا تقاضا ہے کہ ریاست کاحکمران ٹولہ اس طرح کی غلط سوچ کو خیر باد کہہ کے لوگوں کے لباس کی وضع قطع اور تراش خراش میں دخل انداز ہونے کے بجائے اُن کے سلگتے مسئلے حل کریں۔ اگر یہاں آر ایس ایس والے نِکر پہن کر اور سرعام تیر و تلوار لئے گھومنے پھرنے میں آزاد ہیں تو پھرن سے صاحبانِ اقتدار کو پریشانی کیوں ہونے لگی ؟ حکمرانوں کو چاہیے کہ ذرا غور فرمائیں کہ اٹل بہاری باجپائی نے بہ حیثیت وزیراعظم آخر کیوں ما ن لیا کہ کشمیر میں دلی سے غلطیاں ہوئیں ؟ انہوں کس وجہ سے ان غلطیوں کے ازالے کی وکالت میں کہا ہمیں اس بارے میں لکیر کا فقیر نہیں بننا چاہیے ؟ خود ریاستی گورنر بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ دلی نے بھی کشمیر کو مس ہینڈل کیا ہے، اس لئے اصلاحِ احوال کا جواز بنتا ہے مگر اس کے علی الرغم اگر پھرن پر پابندی جیسی حرکات کی جائیں تو حالات کیاخاک سد ھر یں گے ؟

تاریخ گواہ ہے کہ جس مغلوب قو م کی تہذیب وثقافت کے خلاف کوئی دوسری غالب قوم سازشیں رچانے میں لگ جائے، تو اس کا نتیجہ بد امنی، شک وشبہ اور تباہی کے سوا کیا کچھ نہیں نکلے گا؟سیاسی سطح پر کشمیر میں اس وقت سیاسی بے چینی اور کھلبلی اپنے عروج پر ہے، یہاں کی ہنستی کھیلتی بستیاں موت اور بربادی کے منہ میں دھکیلی جارہی ہیں، موت کاخونین رقص چاروں جانب جاری ہے اور ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جب پلوامہ جیسے المیوں سے معصوموں کاخون نہ بہتا ہو۔ ایک طرف پوری وادی لہو لہو ہے، دوسری طرف وقت کاحکمران ٹولہ زخم زخم کشمیر کی مر ہم کاری کے بجائے اس کی صدیوں پرانی تہذیبی آثار پر حملہ بولنے میں لگے تویہ انتظامی سطح پر انتہا درجے کی بےحسی ہی قرار پائے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کشمیر اس وقت جس گھمبیر صورت حال سے دوچار ہے، اُس کے پیش نظر انتظامیہ پر لازم ہے کہ امن شانتی کو اولین ترجیح دے، عوام کے ساتھ شریں انداز میں پیش آئے، اُن کا دکھ دردبانٹے، متنازعہ فرامین اور بے حقیقت اقدامات سے  ہر حال میں اجتناب کر ے اورسب سے بڑھ کر لوگوں کی نجی پسندو ناپسند، ان کے لباس کی تراش خراش اور کھانے پینے کی عادات میں دخل در معقولات سے دامن بچائے۔ لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ ریاست کی اپنی مخصوص تہذیب و تمدن اور اس کے رنگا رنگ اور متنوع امتیازات کو ان کے دشمنوں سے بچانے کیلئے ہمیشہ چوکنا رہیں   ؎

کوئی کیا سوچ رہا ہوگا میرے بارے میں
یہ سوچتے ہی ہمسائے سے ڈر لگتا ہے 
اک نئے خوف کا جنگل ہے میرے چاروں طرف
اب مجھے شیر نہیں گائے سے ڈر لگتا ہے…!
(راحت اندوری)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close