نقطہ نظر

پیٹھ پورب کی طرف پچھم میں سورج کی تلاش

بات بس اتنی ہے کہ جب تک ہر سفر سے  اگلے سفر کی بشارت ملتی رہے انسان خستہ و درماندہ نہیں ہوتا

عالم نقوی

عالم نقوی تم جاہل ہو۔ تم نے آج تک علم کے نام پر اپنی کم علمی، لا علمی اور جہالت کا ڈھنڈورا پیٹنے کے سوا اور کیا ہی کیا ہے۔ کیا تم جھوٹے اور منافق نہیں؟ دیکھو اخباروں میں شایع دوسرے صحافیوں کے کالم  پڑھووہ تو تو بیشتر دنیا کو صرف عملی نمونے دکھاتے ہیں کبھی، تمہاری طرح ہوائی قلعے نہیں بناتے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’’دس ہزار میل لمبی مسافت کا آغاز صرف چھے یا سات  انچ کے پاؤں سے ہوتا ہے‘‘ اور ’’پہلا قدم ہی راہ ِ سفر کا تعیّن کرتا ہے‘۔ بقول شمع اختر کاظمی ’’بات بس اتنی ہے کہ جب تک ہر سفر سے  اگلے سفر کی بشارت ملتی رہے انسان خستہ و درماندہ نہیں ہوتا، بے یقینی پاس نہیں پھٹکتی، ’آزردہ خواہی‘ کا گزر نہیں ہوتا، حوصلوں کے ساتھ ایک دل رُبا رَشک کے اِصرار کی کیفیت، اُسے سرشار رکھتی ہے۔

مگر تم ہو کہ بس خیالی پلاؤ پکایا کرتے ہو۔ کبھی اس سات انچ کے سفر کا آغاز نہیں کرتے حالانکہ دوسروں  کو نصیحت کرنے کے بجائے  تم خود ہی اگر چل پڑے ہوتے  تو کبھی نہ کبھی تو سفرتمام ہو ہی جاتا اور منزل بھی مل جاتی۔ دیکھو، اپنے ہم عصروں کو دیکھو وہ لمبی لمبی باتیں کرنے اور دون کی ہانکنے کے بجائے بس اتنا ہی کہنے پر اکتفا کرتے ہیں کہ ’’اگر حالات بہتر نہیں ہیں تو کیا ہوا، ہم آگے بڑھنے کے بجائے  قدم بہ قدم پیچھے ہٹتے چلے جارہے ہیں تو کیا ہوا، ابھی ہم ان بحرانوں سے کوسوں دور ہیں جو کشمیر میو غزہ اور یمن و سیریا میں درپیش ہیں۔ ‘‘ابھی شام ہونے میں دیر ہے ابھی ہمارا اللہ ہم سے مایوس نہیں ہوا ہے۔ ابھی تو ہمارے غریب عوام کی اکثریت کی رگوں میں غیرت مند لہو، تخلیق کے لیے پسینہ، کوشش کے لیے محنت اور بارگاہ الٰہی میں پیش کرنے کے لیے آنسو موجود ہیں۔ لہٰذا’ آج نہیں تو کل سہی، ہم جیتیں  گے ضرور۔ کیا ہوا جو ہمارے لیڈر جھوٹے منافق اور ظالم ہیں، عام آدمی میں تو ابھی انسانیت کی رمق باقی ہے۔ ہم نے اگر ہمت نہ ہاری، مایوس نہ ہوئے اور اپنے رب سے لو لگائے رکھی تو آنے والے دنوں میں ایک ایسا نجات دہندہ ضرور ملے گا جو ہمیں پھر سے ان کی صف میں کھڑا کردے گا جن کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنے ہمارے سروں سے ٹوپیاں گر گر جاتی ہیں۔ کیونکہ جب  اللہ مقدر بدلتا ہے  تو  وہ بکریاں چرانے والے گڈریوں تک کو پیغمبر بنا کر ان کی بستیوں میں اتار دیتا ہے۔

عالم نقوی تم شیخ چلی کی طرح اپنی خیالی دنیا UTOPIA میں جیتے ہو، جو ہے اُسے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے، جو نہیں ہے، یا جو ہونا چاہیے، اُسی Ought to be کے پیچھے پڑے رہتے ہو۔ لیکن جو تم سے زیادہ باخبر اور اہل علم و عمل ہیں وہ بتاتے ہیں کہ ’’خدا بے خبر نہیں ہے، وہ سو نہیں رہا ہے، وہ دعائیں سنتا ہے۔ ۔ہمیں بس اپنے احساس کمتری سے پیچھا چھڑانا ہے۔ ہمیں صرف اللہ کی دی ہوئی ان دونوں عظیم نعمتوں کا صحیح استعمال کرنا ہے کہ جن  کا کوئی دوسرا متبادل نہیں۔ ایک دماغ اور دوسرے ہاتھ !

دوستو فسکی کا ناول ’ایڈیٹ‘ تو تم نے بھی پڑھا تھا لیکن ٹی بی کے مریض، چند دنوں کے مہمان مریض ’ایپولیت ‘کے اس خط کی طرف توجہ تم نے نہیں تمہارے تم سے بہتر دوسرے ہم عصروں نے دلائی کہ جس میں  اپنی موت کا منتظر ’ایپولیت ‘ کہتا ہے کہ ’’آپ کے پاس ابھی زندگی نام کا ایک ایسا ہتھیار ہے جس کی مدد سے آپ اپنی ساری محرومیوں، ساری کمیوں کو کامیابیوں میں بدل سکتے ہیں، یہاں تک کہ بد صورت ہیں تو خوبصورت بھی ہو سکتے ہیں ‘‘لیکن یہ وہی کر سکتا ہے جس کے پاس زندگی کی دولت بے بہا موجود ہو، جو ٹی بی کی آخری اسٹیج کے مریض ’ایپولیت‘ کے پاس باقی نہیں بچی تھی۔

یہ تم نے نہیں تمہارے ہم عصروں نے لکھا کہ ’’اگر اپنے حواس میں رہ کر دیکھا جائے اور اپنے آپ کو مخاطب کر کے پوچھا جائے کہ جب اللہ نے ایک شخص کو زندگی اور صحت سے نواز رکھا ہے، اس کے پھیپڑے پوری سانس لیتے ہیں، اس کی رگوں کا خون اس کے بدن کا پورا  سفر بلا کسی رکاوٹ کے طے کرتا رہتا ہے اس کا دل، اس کا جگر، اس کا لبلبہ، اس کے دونوں  گردے  اور اس کے تھائرائڈ اور پراسٹیٹ گلینڈ سب اپنا اپنا  کام   پوری تن دہی اور چابک دستی سے کرتے رہتے ہیں، اس کے ہاتھوں  اور پیروں میں طاقت ہے، اس کے بدن میں چستی اور پھرتی ہے تو وہ آخر ہر وقت شکایتوں کے دفتر کیوں کھولے بیٹھا رہتا ہے ؟ کیوں آخر کیوں ؟ وہ اپنی محرومی، اپنی ناکامی، اور اپنی کمیوں کا مقابلہ اپنے حوصلے، اپنی تدبیر اور اپنی محنت سے کرنے کے بجائے، جل کر مرجانے، یا ٹرین کے سامنے چھلانگ لگا  دینے یا زہر پی لینے کے منصوبے کیوں بناتا رہتا ہے ؟

عالم نقوی یہ تم نے نہیں، تم سے بہتر تمہارے دوسرے ہم عصروں نے ہم سدے یہ کہا کہ آخر ہم اپنے ارد گرد ان لوگوں پر نظر کیوں نہیں ڈالتے جو چند برس پہلے تک کچھ نہیں تھے لیکن انہوں نے اپنی انتھک کوششوں سے اپنے برے حالات کو پگھلاکر ایسے سانچے میں ڈھال لیا کہ کہ اب ان کا شمار لینے والوں میں نہیں دینے والوں میں ہوتا ہے۔ ہم دیکھنا چاہیں تو ہمیں اپنے چاروں طرف ایسے درجنوں افراد مل جائیں گے جنہوں نے اپنے سفر کا آغاز ریڑھی، خوانچے، فٹ پاتھ یا پھیری سے کیا تھا لیکن چند ہی برسوں میں وہ کہیں سے کہیں پہونچ گئے !

اگر وہ بھی اپنے برے وقتوں میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کی رحمت، اس کی توفیق ، اس کی مدد، اور اللہ کی دی ہوئی طاقت اور محنت کرنے کی صلاحیت سے مایوس ہو جاتے تو ان کا مستقبلک کیا ہوتا ؟ اگر ہم زندہ ہیں تو یہ ہمارے رب کی بطرف سے ایک کھلا اور واضح پیغام ہے کہ ہم سبھی اپنی محنت اپنی کوشش  کے ہل سے اپنی زندگی کی کیاری میں اپنی پسند کے پھول اگانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں ! بس اس کے لیے ذرا سی مشقت درکار ہے۔ پوچھنے والے نے  نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا ’[]اللہ کے نزدیک کتنے گناہ نا قابل معافی ہیں ؟‘] نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’ دو۔ کسی اور کو اللہ کی ذات میں شریک کرنا  اور اللہ کی رحمت سے مایوس ہو جانا ‘‘!

عالم نقوی یہ تم نے تمہارے ہی دوسرے ہم عصروں نے ہمیں بتایا کہ:

’’دل میں زندہ رہنے کی امید قائم ہو تو سمندر میں تیرتے ہوئے تنکے بھی جہاز کا کام دیتے ہیں‘‘

جسے امنگ ہو خود آفتاب بننے کی

مثال آئینہ جس تس کا منہ تکا نہ کرے

(عالم نقوی کی کتاب’ عذاب ِدانش‘(۲۰۱۸) کے تین صفحات ۵۷۹۔۵۸۱)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

2 تبصرے

متعلقہ

Back to top button
Close