نقطہ نظر

ڈاکٹرذاکر نائیک پر حالیہ الزامات اور سیکولرزم کا نفاق

آفتاب عالم فلاحی

سبھی لوگ بخوبی واقف ہیں کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک اسلام کے ایک معروف مبلغ اور داعی ہیں جو پرامن طریقے سے اسلام کاپیغام ساری دنیامیں پھیلارہے ہیں۔ ان کی دعوت کا طریقہ کار اتنا موثر اور پرامن ہے کہ نہ صرف مسلمان بلکہ ہندو، سکھ، عیسائی اور دیگرمذا ہب کے لوگ بھی انھیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کی تقریروں اور ڈیبٹ میں ہر مذاہب کے لوگ مشرف بہ اسلام ہوتے رہے ہیں۔ اپنی انھیں خصوصیات اور داعیانہ صلاحیت کی وجہ سے بہت تیزی سے وہ ایک عالمی شہرت یافتہ داعی بن گئے۔ مگر ان کی اس مقبولیت سے کئی اسلام دشمن ممالک خطرہ محسوس کرنے لگے اور ان کو اپنے ملکوں میں اسلام کے غلبے کا غم ستانے لگا لہذا انھوں نے اپنے ملک میں ڈاکٹر ذاکرنائک کے داخلہ پر پابندی لگادی۔ گذشتہ دنوں بنگلہ دیش کے ایک ریستورینٹ میں دہشتگردانہ حملے کے دو ملزمان کو ذاکر نائک سے جوڑ کر جس طرح انھیں پھنسانے کی کوشش کی جارہی ہے اور ہندوستانی میڈیا جس زور وشور سے ان کے خلاف پروپیگنڈہ کررہی ہے اور ان کے پیس ٹی وی چینل اور تقاریر پر پابندی کا مطالبہ کر رہی ہے، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان بھی دیگر ممالک کی طرح اسلام دشمنی میں کھل کر سامنے آگیا ہے اور اسلام کے خلاف عالمی جنگ میں اپنا مذموم کردار نبھانے کے لئے تیار ہے۔ اور کیوں نہ کرے جب اپنے ہی مسلم ممالک آج اسلام دشمنی میں پیش پیش ہیں ہندوستان تو کہنے کو ایک جمہوری ریاست ہے لیکن ہمیشہ ہی غلبہ و تسلط ہندوں کا رہا ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائک پر دہشتگردی کے فروغ کا الزام لگا کر مسلمانوں کے اندر خوف و بے چینی کا ماحول پیدا کردیا گیا ہے اور ہر وہ داعی جو اسلام کی دعوت پرامن طریقے سے دنیا میں پھیلانے کی کوشش کررہا ہے اس کے لئے ایک نیا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے کیونکہ ابھی تک ان جماعتوں کوہدف بنایا جاتا تھا جومادی طریقہ سے اسلام کے غلبہ کی کوشش کررہی تھیں اور ان افراد کو نشانہ بنایا جاتا تھا جو ان کے نزدیک متشدد نظریات کے حامل ہوتے تھے مگر اب امن پسند اسلامی تحریکیں اور پرامن طریقے سے اسلام کی دعوت دینے والے حضرات بھی اس دشمنی کا شکار ہونے لگے ہیں۔ ڈاکٹر ذاکر نائک صاحب کا یہ نیا ایشو بھی ان ہزار مسائل میں سے ایک ہے جن سے آج ہر اسلام پسند شخص جوجھ رہا ہے۔ آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام پسندوں کے خلاف یہ جدید ہتکنڈے ہے کیا اور ذاکر نائک کے حالیہ ایشو سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

اول:- سکولرزم کی عداوت

 ذاکر نائک کے خلاف یہ سازش ثابت کرتی ہے کہ ہندوستان میں ہندووں کے ظلم وستم کا شکار صرف ایک عام مسلمان ہی نہیں ہے بلکہ مسلم دانشور طبقہ بھی اس کی لپٹ میں آچکا ہے اور میڈیا اوربعض معروف صحافی جس طرح ان کوتنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں ظاہر کرتاہے کہ ہندوستان کا ایک پڑھا لکھا طبقہ بھی مسلمانوں سے بغض وعداوت رکھتا ہے۔  وقتا فوقتا یہ عداوت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ اس لئے جولوگ کہتے ہیں کہ مسلمانوں سے صرف خالی الذہن آرایس ایس کے لوگ دشمنی رکھتے ہیں غلط ہے بلکہ وہ سیکولر افراد بھی رکھتے ہیں جو ہر مذہب خصوصا اسلام سے نفرت کرتے ہیں۔ اس بغض و کینہ پروری سے رویش کمار جیسا روشن خیال صحافی بھی نہیں بچ سکا جو ڈاکٹر ذاکرنائک کی مخالفت کا اظہار اپنے ایک مضمون میں کرچکا ہے۔

دوم:- مذہبی آزادی کی حقیقت

جو لوگ یہ گمان کر بیٹھے تھے کہ ہندوستان میں مذہبی آزادی حاصل ہے اور پرامن طریقے سے آپ اپنے مذہب کی تبلیغ کر سکتے ہیں ان کے لئے اس میں عبرت کا سامان ہے، کیونکہ آزادی صرف نماز، روزہ حج تک محدود ہے اس حد کو عبور نہیں کیا کہ آپ پر دہشتگردی کا الزام لگا کر جیل کی کوٹھری میں ڈال دیا جائے گا اور یہی حال رہا تو مستقبل میں نماز اور اذان پر بھی پابندی لگ جائے گی۔

سوم:- عالمی سطح پر سیکولرزم کا رویہ

مغرب اور مسلم ممالک میں موجود سیکولر اورلبرل حضرات ہمیشہ سیکولرزم اور جمہوریت کی وکالت کرتے ہیں اور خود کو روشن خیال اور دنیا کو رواداری کا سبق دیتے ہیں اور دعوی کرتے ہیں کہ جمہوریت میں ہر مذہب کے لوگ اپنے مذہب پر آزادی کے ساتھ عمل کرسکتے ہیں مگر ان کا یہ دعوی جھوٹ پر مبنی ہے یعنی جموریت میں آپ صرف سیکولرزم کے اصولوں پر چل سکتے ہیں اپنے مذہبی اصولوں پر نہیں۔ ورنہ وہ آپ کوقدامت پسند، تنگ نظراور متشدد نظریات کا حامل فرد کہہ کر آپ کی آوازکو دبا دیں گے اور اس سے بھی بس نہ چلا تو مشتبہ شخص کہہ کر انٹلیجنس کے ہاتھوں گرفتار کروادیں گے۔ اس کی مثال ہم ہر یورپی ملک میں دیکھ سکتے ہیں، کسی ملک میں حجاب پر پابندی کامطالبہ ہوتا ہے، کہیں داڑھی پر، کہیں اذان پر تو کہیں پر امن طور پر فکری جدوجہد کرنے والی جماعتوں پر بھی پابندی ہے۔ ذاکر نائک صاحب کا حالیہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ سیکولر حضرات کسی بھی مذہب پسند شخص کو برداشت نہیں کرسکتے خواہ وہ امن پسند ہو یا سخت گیر مذہبی ہو۔ اسی طرح وہ کسی بھی اسلام پسند جماعت کو بھی برداشت نہیں کرسکتے۔ اس کی مثال ہم مصر میں دیکھ چکے ہیں کہ اخوان جیسی جہوریت پسند اور پرامن جماعت کو عوامی حمایت کے باوجود بھی سیکولر حضرات برداشت نہیں کرسکے اور مرسی کے خلاف احتجاج کرنا شروع کردیا جس کا جواز بناکرظالم سیسی نے مرسی حکومت کا تختہ الٹ کر خود آ مر بن بیٹھا اور اقوام متحدہ اورامریکہ سمیت تمام مغربی ممالک جو ہر جگہ جمہوریت اور آزادی کی وکالت کرتے نہیں تھکتے ، مصر میں اخوان کی گرتی جمہوری حکومت کو بچانا تو درکنار ، سیسی کے خلاف ایک مذمتی بیان تک نہیں دیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذہبی آزادی اور جمہوریت مغرب کا وہ ہتھیار ہے جس سے وہ مسلمانوں کوشکست دیتا ہے۔ اسی وجہ سے گذشتہ مہینے ایک امریکی افسر نے اپنے پاکستانی دورہ پر کہا کہ جمہوریت پاکستان میں ہمارا گھوڑا ہے؛ بظاہر یہ ایک مختصر جملہ ہے مگر اپنے اندر بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے اور اس میں عقل والوں کے لئے بصیرت ہے۔

چہارم:- ہمارا سبق

 تمام اسلامی نقطہء نظر کے حامل مسلم دانشوران بشمول پوری دنیا میں موجود اسلامی تحریکوں کے لئے اس میں نصیحت ہے کہ اسلام کے اصل دشمن صرف سخت گیر ہندو ہی نہیں ہیں بلکہ اسلام کی نشاہ ثانیہ میں نظریہء سیکولرزم سب سے بڑی رکاوٹ ہے جو آزادی جیسے میٹھے میٹھے فلسفوں سے سب کی عقل پر تالا لگا دیتا ہے، پھر رفتہ رفتہ مذہب کی تحقیر کرنے لگتا ہے اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ معاشرہ کے اندر صرف لادینی سوچ کے حامل فرد کو قبو ل کرنا پسند کرتا ہے پھر اس نظریہ کے مخالفین کے خلاف ہرطرح کے ہتھکنڈے استعمال کرکے انھیں ختم کردیتا ہے۔ لہذا ہمیں اس نظریہ کی حمایت کے بجائے اس کے کالے کرتوتوں کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیشہ دفاعی اندازاختیار کرنے کے بجائے اس کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ہر دہشتگردانہ حملے کے بعد اس مذمتی بیان کے بجائے کہ ہمارا اور اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں، ان کے مکروہ چہرے کو آئینہ دکھانے کی ضرورت ہے جو ہر مذہب کے مخالف ہیں اور ہندوستان سمیت پوری دنیا میں افراتفری کا عالم برپا کیے ہوئے ہیں۔ جو خود ہر جگہ دہشتگردی کرتے ہیں اوراس کا الزام اسلام اور مسلمانوں کے سرڈال دیتے ہیں۔ ٹونی بلئیر کھلے عام کہتا پھررہا ہے کہ عراق پر حملہ ایک غلطی تھی مگر کوئی سیکولر یہ نہیں سوال کررہا ہے کہ اس غلطی کے نتیجے میں لاکھوں عراقی مسلمانوں کے قتل کی پاداش میں ٹونی بلیئر کوسزادی جانی چاہیئے اورنہ ہی ہمارے نام نہاد مسلم لیڈران اور علماء اس میں اتنی پھرتی دکھارہے ہیں جتنی پھرتی وہ کسی دہشتگردانہ کاروائی کے بعد مذمتی بیان دے کر دکھاتے ہیں۔ ہمیں اپنے طرزعمل کو بدلناہوگا اورہمیں ہر طرح کے ظلم وستم کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی چاہے وہ داعش ہو یا مغربی ممالک یا کوئی اورہو،اور جب یہ ہم سے سوال کریں تو خود ان سے ان کے کالے کرتوتوں اور ظلم وناانصافی کاسوال کریں تاکہ دوسروں پر سوال کرنے سے پہلے وہ خود اپنا چہرہ آئینہ میں دیکھ کر آئیں۔

پنجم:- مغرب کا تحفہ اور ہماری ذمہ داری

برطانیہ اور فرانس نے  دولت عثمانیہ کے سقوط کے بعد اسکایز پیکوت معاہدہ کے رو سے پورے مشرق وسطی کو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کردیا اور ہر مسلم ریاست کو ایک قومی ترانہ دے دیا۔ لہذا آج ہم پچاس سے زیادہ ریاستوں میں منقسم ہوکر رہ گئے ہیں۔ مغرب کی اس تقسیم کے نتیجہ میں ہماری طاقت کا شیرازہ بکھر گیا ہے۔ ہر مسلم ملک قومیت کی بنیاد پر صرف اپنے شہریوں کی فکر کرتا ہے اور دوسرے ملک کے مسلمانوں پر ہورہے مظالم پر خاموشی اختیار کرلیتا ہے۔ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ آج ہم قومیت سے اوپر ا ٹھ کر مسلمانوں کے مسائل کا مستقل حل ڈھونڈیں کیونکہ ساری امت کا مسئلہ یکساں ہے اور نبی کے اس قول کو دوبارہ زندہ کریں کہ مسلمانوں کا صرف ایک امام ہونا چاہیے تاکہ وہ امام پوری امت کے امور کی دیکھ بھال کرے اور ہمارا مستقبل ماضی کی طرح دوبارہ شاندار ہو۔ دنیا کا کوئی بھی حکمراں مسلمانوں پر ظلم کرنے سے پہلے ہزار بار سوچے۔ بظاہر یہ راستہ مشکل ضرور لگتا ہے مگر ناممکن نہیں ہے کیونکہ یوروپ اگر اس دور کی ناقابل شکست عثمانی خلافت کو توڑ کر پچاس سے زائد مسلم ریاستیں بنا سکتا ہے تو ہم دوبارہ ان ریاستوں کو کیوں نہیں جوڑسکتے۔ پرامن طور سے عالمی سطح پر سیاسی اور فکری جدوجہد کے ذریعے اس ہدف کو حاصل کیا جاسکتا ہے، ضرورت صرف حوصلہ اور صبر واستقلال کی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

آفتاب عالم فلاحی

آفتاب عالم فلاحی مضامین ڈاٹ کام کے خصوصی کالم نگار ہیں۔ عالم اسلام اور عالمی سیاست پر تجزیاتی مضامین لکھتے ہیں۔ aftabfalahi@mazameen.com

متعلقہ

Close